Connect with us

Today News

دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست جاری، ایلون مسک کی دولت کا نیا ریکارڈ

Published

on



الیکٹرک کاریں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے کی طرف گامزن ہیں جبکہ دنیا کے ریکارڈ 3 ہزار 428 ارب پتی افراد کی مجموعی دولت 20.1 کھرپ ڈالر ہوگئی ہے جو تاریخ کا بلند ترین حجم ہے۔

فوربز ورلڈ بلینئرز کی فہرست کے مطابق ایلون مسک کی دولت کا حجم بڑھ کر 839 ارب ڈالر ہوگیا ہے جو گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً 500 ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کی قدر میں اضافے کی وجہ ہے۔

ایلون مسک دنیا کے پہلے فرد ہیں جس کی دولت 800 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بننے کے قریب ہیں۔

فوربز کی فہرست کے مطابق مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری، غیر مستحکم مالیاتی منڈیاں اور معاون مالیاتی پالیسیاں دولت میں اضافے کا باعث بن گئی ہیں اور اس کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً400  نئے افراد اس فہرست میں شامل ہو گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافے کے نتیجے میں سال بہ سال دولت کا حجم 4 کھرب ڈالر اضافے سے ریکارڈ 20.1 کھرب ڈالر ہوگیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ اب 20 افراد کم ازکم 100 ارب ڈالر کی دولت کے مالک بن گئے ہیں جو دنیا کے امیر ترین افراد کے اثاثوں میں اضافے کے رجحان کی عکاسی ہے۔

فوربز فہرست میں ایلون مسک مسلسل دوسرے سال پہلے نمبر پر ہیں اور ان کی دولت میں مسلسل ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔

دنیا کے دوسرے امیر ترین گوگل کے شریک بانی لیری پیج ہیں، جن کی دولت ایک اندازے کے مطابق 257 ارب ڈالر ہے، جس کے بعد گوگل کے شریک بانی سیرگی برن 237 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

ایمیزون کے جیف بیزوز کی دولت 224 ارب ڈالر ہے جبکہ میٹا کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کی دولت 222 ارب ڈالر ہے اور دونوں امیر ترین افراد بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔

ملکی حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ امیر ترین افراد امریکا میں مقیم ہیں جہاں مجموعی طور پر 989 افراد ارب پتی ہیں اور سرفہرست 20 سے 15 افراد بھی امریکی ہیں۔

چین کے 610 افراد ارب پتی ہیں، جس میں ہانگ کانگ بھی شامل ہے، اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے جہاں 229 افراد ارب پتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ کرپٹو کرنسی اور ان کے خلاف بنائے گئے فراڈ کیسز کے جرمانوں کا خاتمہ ہے اور وہ 6.5 ارب ڈالر دولت کے ساتھ دنیا میں 645 ویں نمبر پر ہیں۔

دنیا کے امیرترین افراد میں کئی مشہور شخصیات بھی شامل ہوگئی ہیں، جن کا تعلق شوبز، کھیل اور دیگر شعبوں سے ہیں، مشہور سنگر بیوئنس اور سابق ٹینس اسٹار روجر فیڈر بھی فہرست کا حصہ ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

’’ذاتِ اُودروازۂ شہرِ علوم‘‘

Published

on



تاج دار اقلیم فقر و غنایت، نازش میدان جرأت و بسالت، سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے فضائل و کمالات، بے پایاں محامد و محاسن اور لامحدود اوصاف خصائص سے انکار یا پہلوتہی وہی کرسکتا ہے جسے روز محشر سرکار رسالت مآب ﷺ کی شفاعت کا انکار ہو، جو حضور سرور کائناتؐ سے محبت نہ رکھتا ہو، جو آقا ﷺ کی قُربت کا خواہش مند اور تمنائی نہ ہو، جو آپؐ کی زلف واللیل کی خُوش بُو سے مشام جاں معطر نہ کرنا چاہتا ہو، جو آپ ﷺ کے رخ والضحیٰ کی رعنائی سے تاریک دل کو منور کرنے کا آرزو مند نہ ہو، جو آپؐ کی چشم التفات سے محروم رہنا چاہتا ہو اور جو آپؐ کے اعزہ سے بہ باطن مخاصمت و عداوت رکھتا ہو۔ کیوں کہ حضور سیّد المرسلینؐ کا یہ واضح فرمان ذی شان اس بات کی عکاسی کررہا ہے: ’’علی ؓ سے محبت رکھنے کا مطلب اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت رکھنا اﷲ اور رسول ﷺ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘

غزوۂ خیبر کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی جبین ارض و سما پر تابندگی بکھیر رہا ہے : ’’میں کل عَلمِ اسلام ایسے شخص کو دوں گا جو اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھتا اور اﷲ اور رسول ﷺ اس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘

آپؐ نے یہ بات شام کو اس وقت ارشاد فرمائی جب جیّد صحابہ ؓ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود قلعہ یہود فتح نہیں ہو رہا تھا۔ یہ رات صحابہ کرام ؓ نے بڑے تذبذب میں گزاری کہ وہ خوش نصیب کون ہے، جس کے ہاتھ میں دست نبوت ﷺ علَم اسلام تھمائے گا۔ صبح ہوتے ہی آپؐ نے علی ابن ابی طالبؓ کو بلایا۔ اس وقت آپؓ کو آشوب چشم کا عارضہ تھا۔ رسول کریمؐ نے اپنا لعاب دہن علیؓ کی آنکھوں میں لگایا۔ تکلیف فوراً کافور ہوگئی اور پھر اہل دنیا نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ذی شان کتنا سچا، کتنا معتبر و محتشم ٹھہرا کہ ذوالفقار حیدری کی ایک ہی ضرب سے عَلم یہودیت ہمیشہ کے لیے سَر نگوں ہوگیا۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، علی ؓ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس پُرجلال فرمان سے حرمت و شوکت علی المرتضیٰ طلوع آفتاب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی، جس کا صاف مطلب ہے کہ سیدنا علی ؓ سے عداوت بہ راہ راست حضور ﷺ سے عداوت رکھنا ہے اور آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کا صاف مطلب حضور ﷺ سے ارادت و محبت رکھنا ہے اور حضور ﷺ سے محبت رکھنا ازروئے قرآن خالق کائنات سے محبت رکھنا ہے۔ گویا اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ اور علی ؓ سے محبت کی تکون اہل اسلام کے ایمان کا جز و لاینفک ہے۔ اسی لیے اقبال ؒ نے کہا ہے :

مُسلمِ اوّل شہہِ مرداں علیؓ۔ ( پہلے مسلمان اور مَردوں کے سردار علیؓ ہیں)

عشق را سرمایۂ ایماں علیؓ۔ (عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ علیؓ ہیں)

اقبال نے اپنا ذاتی تعارف پیش کرتے ہوئے بانگ درا کی معروف نظم ’’زہد اور رندی‘‘ میں یہ کہا ہے:

ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا

تفضیل علی ؓ ہم نے سنی اُس کی زبانی

تو فطرت و حقائق کے عین مطابق تھا کیوں کہ فضائل و مناقب علیؓ کا بیان سنت رسول مکرم ﷺ ٹھہرتا ہے۔ اقبالؒ نے سیدنا علیؓ کی ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت کے حضور اپنے کلام میں جا بہ جا کیوں خراج عقیدت پیش کیا ؟ اس ضمن میں دو تین امور بڑے اہم نوعیت کے ہیں جس سے کوئی صاحب فہم و ذکاء اور حامل تدبر کسی صورت انکار نہیں کرسکتا۔ ایک تو یہ کہ علی ابن ابی طالبؓ کو عہد طفولیت سے ہی آغوش رسالت مآبؐ کی زینت بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔ جب جناب عبدالمطلب کے بعد حضور سیدالکونینؐ کو والد گرامی علی المرتضیٰ جناب ابوطالب کا سایۂ عاطفت میسر آیا اس وقت سے چشم علیؓ حضور ﷺ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہوگئی۔ حضور سیدالمرسلینؐ کے دل نواز اور سرتا پا شفقت و محبت چچا جناب ابوطالب حضور ﷺ کواپنے بستر پر لٹا لیتے، گلیوں میں چلتے ہوئے اس بات کی احتیاط اور خیال رکھتے کہ کہیں کوئی معمولی سا سنگ ریزہ یا نوک خار آپؐ کے نرم و نازک تلوؤں کے لیے موجب آزار نہ بنے، کوئی چشم بد میرے پاک باز و نفیس بھتیجے کو زخم حسد سے گزند نہ پہنچائے۔ باد سموم کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی حضورؐ کے لطیف و نازک اندام جسم اطہر کے لیے باعث حدت نہ بنے، تمازت آفتاب کی غایت کہیں امانت عبدالمطلب کو رنج و غم میں مبتلا نہ کرے، آفات و بلیات زمن کہیں اس لکّہ حسن کبریا کو پریشان نہ کردیں۔ ریگ زار عرب کی دل خراش ہوائیں آمنہ کے دُرّیتیم اور جگر گوشہ عبداﷲ کی زلف عنبریں کے پیچ و خم کو الجھا نہ دیں۔

حضور ﷺ سے جناب ابوطالب کی کیف آور محبت ان کے صاحب زادے سیدنا علیؓ کے دل و دماغ میں گھر کرتی رہی۔ حضرت علی ؓ اس کیفیت محبت کا نظارہ گہرے غور و فکر سے کرتے رہے اور اسے اپنی زندگی کا جزو بناتے رہے۔ بعد ازاں ابوطالب کی وفات کے بعد حضور کے یہ چچازاد (علیؓ) بہ راہ راست آپؐ کے سایۂ باراں کی لطافت سے مفیض ہونے کے لیے آپؐ کے ہاں فروکش ہوگئے۔ اس لیے سیدنا علی ؓ کا یہ اعزاز و اکرام حضرت علامہ اقبالؒ کے لیے باعث کشش و محبت بنا کہ آپ کا عرصہ قربت نبوت سب سے زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا علیؓ کا قربت نبوتؐ کا یہ اعزاز و عظمت تحرم و تقدم کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ یہ تو عہد طفولیت کی بات ہے حضورؐ کے وصال مبارک کے وقت بھی آقا کے وجود اقدس کو لحد میں اتارنے کا بھی عز و شرف آپؓ کو حاصل ہے۔ اس طرح یہ ہستی حضور ﷺ کے وصال مبارک تک آپؐ کے ساتھ رہی اور پھر حق رفاقت بھی بے مثال طریقے سے ادا کرتی رہی۔

حضرت علی ؓ کی ایک اور فضیلت و شان جو آپؓ کو اس کائنات ارضی کے ہر فرد سے ممیز کرتی ہے وہ جگر گوشہ رسولؐ سیدہ فاطمۃ الزھراءؓ کا شوہر نام دار ہونا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قابل صد فخر و مباہات اور قابل صد احترام جوڑے کے نکاح کا مژدۂ جاں فزا آسمان سے حضرت جبرائیل لے کر آئے تھے اور حکم خداوندی سے آپؐ نے اس کا اہتمام فرمایا تھا۔ اسی لیے مثنوی میں اقبالؒ نے اسی امتیاز و شرف کی جانب اشارہ کیا ہے۔

بانوے آں تاج دار ھل اتیٰ

مرتضیٰ، مُشکل کُشا، شیرِخدا

حضرت علامہ کے کلام کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو آپ کے نزدیک تفضیل علی کا ایک تاب ناک سبب ذوالفقار حیدری کی چمک ہے۔ اس ضمن میں ایک خصوصی بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ معرکۂ خیر و شر کے دوران بڑی سے بڑی ابتلا بھی آپؓ کے پائے ثبات میں ذرا سی جنبش پیدا نہ کرسکی اور آپ ؓ کی ہمیشہ کوشش یہ رہی کہ دشمنوں کی طرف سے پھینکا گیا معمولی سا ناوک نیم کش بھی بانی تحریک حق ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دین محمد عربی ﷺ کی ترویج و اشاعت اﷲ کے فضل و رحمت، حضور کے وجود مسعود کے تصدق اور آپ کے موقر و محترم رفقاء کی اعانت کی رہین منت ہے مگر بدر و احد و خندق و خیبر کی صورت میں معرکہ ہائے حق و باطل میں ذوالفقار حیدری کچھ اس طرح سے چمکی کہ اس کی ہیبت سے دشت و جبل لرز اٹھے۔ باطل شکنی کے اعتبار سے سیدنا علیؓ کی تیغ براں کتاب جرأت و بسالت کا دل پذیر عنوان بن گئی۔ قدوم علیؓ جس طرف اٹھتے معاندین اسلام کے اجسام ریت کے ذرّوں اور نخل خزاں کے پتوں کی طرح فضائے بسیط میں اڑتے نظر آتے۔ بالخصوص فتح خیبر مسلمانان عالم کی کتاب زیست کے اوراق کو ابد الآباد تک جگ مگاتی رہے گی۔ ہجرت کی شب بستر نبوت پر دراز ہونا گویا اپنی متاع حیات کواپنے ہاتھوں دشمنوں کے سپرد کرنا تھا مگر سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں:

’’میں نے اپنی زندگی کی سب سے تسکین آمیز شب حضورؐ کے بستر پر گزاری۔‘‘

علامہ اقبال کے نزدیک سیدنا علی ؓ کے بے عدیل محاسن میں ایک آپ ؓ کا فقر و غنا تھا۔ تہذیب علی المرتضیٰ کا یہ پہلو پرتو نبوت کی صحیح تصویر تھا۔ آپ ؓنے چوں کہ اوائل ہی سے فقر و غناء کے بوریا نشین شہنشاہ حضور سیّد المرسلین ﷺ کی حیات طیبہ کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر رکھا تھا اس لیے آپؓ میں بھی خاک نشینی جھلکتی تھی اسی لیے آقا ﷺ نے ایک بار آپؓ کو بے تکلفانہ ابُوتراب کے پرجلال و پُروقار لقب سے نوازا۔



Source link

Continue Reading

Today News

مصالحت نہ سکھاجبرِ ناروا سے مجھے

Published

on


اِس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے، دنیا بھرکی ایوی ایشن اور ٹورازم انڈسٹری برباد ہوچکی، اسرائیل، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا،سیاحت اور شاپنگ کے عالمی مراکز ویران ہوچکے اور ہر ملک کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، کیا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا ہدف یہی تھا کہ دنیا کا نقشہ ایسا ہوجائے۔ نہیں وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔

اگر سُپر پاور کی ہر خواہش پوری ہوتی تو آج ویت نام پر امریکی پرچم لہرا رہا ہوتا، افغانستان پر اس کا قبضہ ہوتا، کیوبا اس کی ریاست ہوتا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کا کوئی کٹھ پُتلی حکومت کررہا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ سُپر پاور سے بڑی سپریم پاور بھی موجود ہے کہ پورے کرۂ ارض کا کنٹرول جس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس جہانِ رنگ و بو میں بالآخر وہی ہوتا ہے جو اُس سپریم پاور کو منظور ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی رہائشی آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے، سیکڑوں معصوم طالبات کو بھی خاک وخون میں نہلا دیا ہے، ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی سمیت صفحۂ اوّل کے سول اور عسکری لیڈروں کو شہید کردیا ہے، مگر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس لیے کہ نہ ایران میں حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے، نہ وہاں پھوٹ ڈالی جاسکی ہے اور نہ ہی کوئی کٹھ پتلی مسلّط کیا جا سکا ہے۔ ایرانی قوم نے آہنی عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ اکیسویں صدی کے چنگیز خان اور ہٹلر نہیں جانتے تھے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے، اُن کا سامنا بدرو حنین کے ان سرفروشوں کی اولاد سے ہے جو اپنے سے دس گنا بڑی سپر پاور کو پیغام بھیجتے تھے کہ ’’یاد رکھو تمہارا مقابلہ اسلام کے ان جانثاروں سے ہے جنھیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی۔‘‘ نیتن اور ٹرمپ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا پالا شہدائے کربلا کے وارثوں سے پڑا ہے جن کے لیے شہادت زندگی سے بڑا اعزاز ہے اور جن کا بچہ بچہ اب بھی پکار رہا ہے کہ

مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے

اہلِ ایران کی بہادری اور ثابت قدمی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر ان کی ناکامیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ ان کی اپنی صفوں کے اندر دشمنوں کے آلۂ کار گھسے رہے اور وہ اپنے راہبر اور عسکری کمانڈروںاور ایٹمی سائنسدانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اس کمی پر قابو پانا ہوگا اور security lapses کے خطرناک شگافوں کو بھرنا ہوگا۔

کھربوں ڈالر کے خطرناک ترین بم اور میزائل گرانے کے باوجود آج کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ ایران کی حکومت چل رہی ہے، وہاں روز مرہ زندگی رواں دواں ہے اور عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں شہید راہبر اور ان کی فیمیلی اور ان کی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر اس وقت ایرانیوں کے دل میں کسی کے لیے سب سے زیادہ نفرت ہے تو وہ اسرائیل اور امریکا ہے۔ ایران میں بغاوت کے کوئی آثار نہیں اور سابق شاہ کے بیٹے کوکسی کی حمایت حاصل نہیں۔ امریکی صدر نے طاقت کے گھمنڈ، تکبّر اور پوری دنیا کے وسائل کا مالک بننے کے جنون میں، جمہوریّت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ تصوّرات اور ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کے تقدّس کو روند ڈالا ہے اوروہ اکیسویں صدی میں بھی  Might is Right کے صدیوں پرانے نظریئے کی تلوار اُٹھاکر دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑا ہے۔ افسوس ہے کہ کوئی ملک اس کو روکنے والا نہیں ہے۔ روس اور چین بھی حملہ آور کو سامنے آکر روکنے سے گریزاں ہیں۔ یورپی ممالک تماشہ دیکھ رہے ہیں مگر اسے روکنے کی جرات نہیں کرپائے۔ اقوامِ متحدہ تو اس کی باندی ہے، وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر معمولی سی قرارداد پاس نہیں کرسکی۔

ایران میںسکول کی معصوم طالبات کے بہیمانہ قتل پر ہمارے ملک کی این جی اوز یا دین بیزار لبرلز میں سے کسی نے اس کی مذمّت کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسرائیل اور امریکا کی ننگی جارحیّت نے ہمارے ملک کے نام نہاد سوڈو لبرلز کا کردار بھی بالکل بے نقاب کردیا ہے۔ انھوں نے اسرائیل اور امریکا کے بلا جواز حملے کے نتیجے میں ایک خودمختار ملک کے سیاسی اور روحانی قائد سیّد علی خامینائی کے وحشیانہ قتل پر چپ سادھ رکھی ہے، یعنی ان کے نزدیک کسی ملک کے انسانی حقوق اور جغرافیائی سرحدوں کے تقدس کی کوئی اہمیّت نہیں۔

اس جنگ میں پاکستان کا کردار انتہائی نازک، حسّاس اور ہم ہے، اس کا کردار ایک Tight Rope  پر چلنے کے مترادف ہے، ان حالات میں پاکستان کو جرات مندانہ مگر دانش مندانہ کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمارا بھائی بھی ہے اور ہمسایہ بھی، اس لیے اس پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ہمیںکسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیئے۔

ایران کے خلاف جارحیت پر پاکستان نے اس کی مزمت کی ہے۔ ادھر ہم یہ بات بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں چالیس ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ (جو ہماری لائف لائن ہے) ہمارے وہ اوورسیز پاکستانی بھیجتے ہیں جو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کررہے ہیں، ان میں سے نوّے فیصد سعودی عرب اور یو اے ای میں ہیں۔ اگر کوئی ملک (چاہے ایران ہی کیوں نہ ہو) اگر ان ممالک پر حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ کوئی بڑا ملک ہو یا چھوٹا، سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے، جس طرح ماضی میں ایران نے اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہوئے کئی بار پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا (امید ہے کہ اب بھارت کے گھناؤنے کردار نے ایران کی آنکھیں کھول دی ہوںگی اور انھیں اپنے دوست اور دشمن کی پہچان ہوگئی ہوگی) اسی طرح پاکستان کی حکومت کو فیصلہ کرتے وقت پاکستان کا مفاد پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ابھی تک ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمی دور کرانے میں پاکستان کا مصالحانہ کردار قابلِ تحسین ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران کے صدر نے معذرت کرلی، اور سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک نے جنگ میں اسرائیل اور امریکا کا اتحادی بننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اپنے وی لاگ میں حالیہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کے لیے امریکا یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام، اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی‘‘یونیٹی آف کمانڈ’’سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی جی پی ایس پر انحصار کم کر کے چینی سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستگی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ اصل ہتھیار اب ’’سگنل‘‘ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں، تو بغیر روایتی فضائی برتری کے بھی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

 ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں وہ تباہی مچائی ہے جس کا کوئی تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ فرسٹرٹیڈ اور مایوس ٹرمپ اب فیس سیونگ کی تلاش میں ہے۔ اس ضمن میں اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا اور مصر کو بڑا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھیں چاہیے کہ روس اور چین کو ساتھ ملاکر ٹرمپ کو جنگ بندی پر مجبورکریں۔ ایسا نہ ہوا تو پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کی ضرورت

Published

on


افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ جاری رہے گا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں افغانستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، البتہ افغانستان حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہے، یوں تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو مکمل حل کرنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔کچھ مبصرین اپنے تبصروں میں اس نکتے کو اہمیت دے رہے ہیں کہ افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے، مگر یہ حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب، چین اور روس ،افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوجائے مگر یہ جنگ بندی پھر عارضی ہوگی۔

طالبان حکومت کے قیام کے وقت اسلام آباد پر تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو عظیم فتح قرار دیا تھا۔ سابقہ حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں ہتھیاربند لوگوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی تھی، یوں ان لوگوں کو سابقہ فاٹا کے مختلف شہروں میں اپنی رٹ قائم کرنے کا موقع دیا گیا، اس بناء پر ان دہشت گردوں نے اس علاقہ میں متوازی حکومت قائم کرلی تھی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں خودکش حملے شروع ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بہت سے افسران اور جوان طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ کے تمام شہر مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں کا شکار ہیں۔ وادئ تیراہ میں آپریشن کے لیے آبادی کا انخلا کرایا گیا ۔ ان طالبان دہشت گردوں نے خیبر پختون خوا میں تو دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہی تھے، اب مسلح افواج کے جوابی حملے میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتارکر کے سرحد پار پہنچانے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ اب تک کئی ہزار افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے تجارت بند ہے۔ افغانستان نے 1948ء میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہوئیں۔ امریکا اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی، یوں سوویت افواج واپسی پر مجبور ہوئیں اور افغان مجاہدین کابل پر قبضے میں کامیاب ہوئے مگر یہ افغان مجاہدین وار لارڈ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا کی افغانستان سے دلچسپی ختم ہوگئی۔ افغانستان میں وار لارڈ کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ طالبان کی اس حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ طالبان کے پہلے دور میں خواتین کو گھروں میں بند کیا گیا۔

ان سے تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی حکومت کو ریگولیٹ کرنا شروع کیا۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا اور اتحادی فوجوں نے طالبان کی پہلی حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کیا۔ حامد کرزئی کو کابل کی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے دوسرے صدر بنے۔ان کی صدارت کا خاتمہ موجود طالبان حکومت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی افغان پالیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے حق میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارآباد کر کے اور افغان طالبان کی حکومت کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان کے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے طالبان حکومت کی مدد کرنا شروع کی۔ چین اور روس نے بھی افغانستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔

روس پہلا ملک ہے جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی بناء پر افغانستان کی معیشت کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ پاکستان روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کو اس بات پر قائل کرے کہ طالبان کی حکومت کی جارحیت روکنے کے لیے اس کی سرزنش ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس بیانیے کے ساتھ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، بھارت کی رائے عامہ کو یہ بات باور کروانی چاہیے کہ اگر طالبان کے طوفان کو نہ روکا گیا تو پاکستان کے علاوہ بھارت بھی اس طوفان کی زد میں آجائے گا۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر پاکستان ڈپلومیسی کے جدید طریقے استعما ل کرے اور افغانستان کو تنہا کردیا جائے تو افغانستان میں پیدا ہونے والے طوفان کے دباؤ سے طالبان کی حکومت خود ہی گرجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت کسی گروہ کو دہشت گردی کے لیے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کی سرزنش بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کا اولیت ایجنڈا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending