Connect with us

Today News

دکاندار خبردار! دبئی میں رمضان کے دوران قیمتوں میں اضافے پر لاکھوں روپے جرمانہ

Published

on


دبئی میں رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناجائز اضافے اور ہیرا پھیری کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق دبئی کی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹیز نے رمضان سے قبل مختلف مارکیٹس اور تجارتی مراکز کے دورے شروع کر دیے ہیں تاکہ قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چاول، دودھ، چینی، کوکنگ آئل اور دیگر بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کنزیومر پروٹیکشن حکام نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ضروری اشیاء کی قیمتیں مقررہ حد سے زیادہ بڑھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

دکانداروں کو باقاعدہ وارننگ جاری کر دی گئی ہے کہ وہ حکومتی مقرر کردہ قیمتوں کی مکمل پابندی کریں اور منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔

حکام کے مطابق عوام بھی قیمتوں میں اضافے یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو شکایت درج کرا سکتے ہیں جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دبئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران منڈیوں میں شفافیت اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کا عمل پورے مہینے جاری رہے گا۔

حکام کے مطابق اگر کسی تاجر یا کاروباری ادارے نے رمضان میں قیمتوں میں غیرقانونی رد و بدل کیا تو اس پر ایک لاکھ درہم (تقریباً 76 لاکھ پاکستانی روپے) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

Published

on


پنجاب میں سال 2026 کے پہلے چار ہفتوں میں خسرے کے 1695 مشتبہ مریض سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق خسرے کے لیبارٹری ٹیسٹ سے کنفرم مریضوں کی تعداد 330 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں خسرے کے 40 آؤٹ بریک الرٹس جاری کیے گئے۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب نے خسرے سے متعلق تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی۔ سال 2024 میں پنجاب میں خسرے کے 23 ہزار 680 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے تھے۔

سال 2025 میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 19 ہزار 913 رہی جبکہ سال 2024 میں خسرے کے 6 ہزار 747 کیسز لیب سے کنفرم ہوئے تھے۔ سال 2025 میں خسرے کے کنفرم مریضوں کی تعداد 4 ہزار رہی۔

سال 2024 میں خسرے سے 16 اموات جبکہ 2025 میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال خسرے کی صورتحال پر محکمہ صحت کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری اور وزیر صحت کی سربراہی میں متعدد اجلاس ہوئے ہیں۔ خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متعلقہ اضلاع میں سرویلنس تیز کر دی گئی ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اور اسپتالوں کی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست

Published

on


ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران بابر اعظم کی پریکٹس سیشن اور میچ میں مختلف مائنڈ سیٹ سے بیٹنگ نے بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک نیٹ سیشن کے دوران نسیم شاہ کی شارٹ گیند کو انہوں نے مڈوکٹ کے اوپر سے کھیلا، جبکہ سلمان مرزا کی آف اسٹمپ سے باہر شارٹ ڈلیوری پر زوردار اپر کٹ لگایا۔

شاداب خان اور ابرار احمد کی لیگ اسپن کے خلاف بھی وہ قدموں کا استعمال کرتے ہوئے شاٹس کھیلتے دکھائی دیے۔

تاہم ایک موقع پر نسیم کی لیگ کٹر پر وہ شاٹ غلط ٹائم کر بیٹھے اور خود پر برہم بھی نظر آئے۔

یہ 20 سے 25 منٹ کا سیشن بابر اعظم کے دو رخ دکھاتا ہے۔

ایک طرف جارحانہ ارادے کی جھلک جبکہ دوسری جانب کسی میچ میں بھی نیٹ جیسی روانی نظر نہیں آئی اور وہی گیندیں میچ میں محتاط انداز سے کھیلی گئیں۔

اپنا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 111.81 ہے، جو سب سے کم اور سابق کپتان محمد حفیظ کے اسٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔

کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا ہے، مگر اب بابر کو میدان میں کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مقبوضہ کشمیر کے فنڈز اترپردیش منتقل؟ بی جے پی پر بڑا الزام

Published

on


مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کو بھارتی ریاست اترپردیش منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اترپردیش منتقل کر دیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ 52 لاکھ روپے میں سے 10 کروڑ 58 لاکھ روپے اترپردیش میں خرچ کیے گئے، جبکہ خطے کو خود شدید اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی یہاں سے منتخب ہو کر بھی دیگر ریاستوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی معاشی مشکلات اور ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے میں فنڈز کی منتقلی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending