Today News
دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں
پاکستان کی افواج افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔
افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کو مسلسل پناہ بھی دیئے ہوئے ہے اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دوحہ معاہدے سے بھی انحراف کر رہی ہے اور نہ صرف دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کو دوسرے ملکوں میں برآمد کرنے میں بھی ملوث ہے۔
اگلے روز بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کوششیں ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 6 ڈرونز مار گرائے ہیں۔
وفاقی وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے راولپنڈی میں افغان طالبان کی زیرسرپرستی فتنہ خارج کی طرف سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکارہ بنا دیا۔
کسی فوجی تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ان ڈرونزکا ملبہ گرنے سے معمولی نقصان ہوا۔ یہ ڈرونز دیسی ساختہ بتائے جاتے ہیں۔ بہرحال افغان طالبان کی ان حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی ماسٹر پراکسی ہیں۔
وہ جو دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز استعمال کیے۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جب کہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔
افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کسی ذمے دار حکومت کا کام نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغانستان کے طالبان ہوش مندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے لیکن افغان طالبان نے ان نازک حالات میں بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کو جاری رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔
انھوں نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمے داریوں سے فرار ہورہی ہے اور افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔
صدر نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ انھوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
افغانستان میں چاہے کوئی بھی حکومت ہو، اس کے خمیر میں پاکستان کی مخالفت گندھی ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں افغان طالبان مکمل طور پر بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں۔
بلاشبہ افغانستان کی حکومت کو اپنے غیرملکی تعلقات بنانے میں آزادی حاصل ہے لیکن کسی کی پراکسی یا ایجنٹ بن کر ہمسایہ ممالک میں گڑبڑ پھیلانے کی انھیں کسی طرح بھی اجازت حاصل نہیں ہے۔ یہ شرپسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔
اگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میںایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم سڑک کنارے نصب کر رکھا تھا، پولیس حکام کے مطابق علاقے شادی خیل بیٹنی میں اس وقت پیش آیا جب پولیس موبائل رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب معمول کے گشت پر تھی۔ اسی دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تھانہ صدر کے ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جن میں انسداد دہشت گردی فورس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جو پولیس کے ساتھ گشت پر تھے۔
ضلع کوہاٹ کے ڈی پی او نے اگلے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 4 ڈرونز کو جام کر کے ناکارہ بنادیا ، اینٹی ڈرون سسٹم اور فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت نہ صرف دشمن کے مضموم ارادے خاک میں ملے بلکہ کسی قسم کا نقصان بھی نہیں ہوا۔
سیکیورٹی حکام گرائے گئے ڈرونز کے ملبے کا تکنیکی جائزہ لے کر اس کی ساخت اور دیگر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے ضلع باجوڑ سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا۔ یہ پولیس اہلکار چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ شہید اہلکار تراویح کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے اپنے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مقامی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا کر بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ ادھر سی ٹی ڈی بنوں ریجن نے ضلع لکی مروت تھانہ گمبیلا کی حدود شاگئی کے علاقے میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 6دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی ٹیم کو شاباش دی۔
خیبرپختونخوا کی پولیس کی کارکردگی روزبروز بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی مقامی سطح پر بروقت انٹیلی جنس کے سسٹم کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
جب تک مقامی سہولت کاری کا خاتمہ نہیں ہوتا، دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ بہرحال پاک فوج کا آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کیے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور دہشت گردوں کے 4 ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا۔
قندھار میں تراوو دہشت گرد کیمپس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔
اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں۔
ادھر ایک اور فضائی حملے میں صوبہ پکتیا میں شیرِنا دہشت گرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک 663افغان طالبان کے کارندوں کو جہنم واصل کیا جاچکا ہے، 249افغان پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، 44پوسٹیں افواج پاکستان کے قبضے میں ہیں جب کہ افغان طالبان کے 224ٹینک مسلح گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان جس انداز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے، اس سے پاکستان کی برتری واضح ہو جاتی ہے تاہم ابھی پاکستان کو بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی دن بہ دن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے جب کہ پاکستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی پاکستانی عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف دوٹوک اور غیرمبہم مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیل کی مزید کھیپ راستے میں ہے، ذخائر مزید مضبوط ہوں گے، ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانااور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش قرار دیئے گئے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی میں کسی تعطل کا خدشہ نہیں ہے اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاوٴ کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت توانائی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر ممکنہ حد تک بوجھ کم رکھنا اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے جس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موٴثر رابطہ ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور مزید کارگوز راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اضافی درآمدی انتظامات بھی کئے جارہے ہیں۔
کمیٹی کی جانب سے ریفائنریز اور آئل کمپنیوں میں قریبی رابطے کی ہدایت کی گئی، ڈیزل، پٹرول، ایل پی جی اور جیٹ فیول سپلائی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں تیل کے استعمال میں بچت کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا پٹرولیم سپلائی مانیٹرنگ کیلئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی صورتحال پر کمیٹی کا روزانہ اجلاس جاری رہے گا۔
Today News
ماں – ایکسپریس اردو
ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن یہ لفظ اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔
ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بھی انسان سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ماں ہی کو مثال بناتا ہے۔
ماں مجسم محبت اور تحفظ ہے۔ میری والدہ محترمہ 29 رمضان المبارک 2015 (جمعتہ الواع) کو تہجد کے وقت تقریباً پونے دوبجے صبح اس جہاں فانی میںایک سو ایک سال، چھ ماہ اور سولہ دن گزار کر ابدی زندگی کے لیے روانہ ہوئیں۔
رب ذوالجلال و اکرام ان کی مغفرت فرمائے اور درجات کی بلندی سے نوازے۔ ( آمین) ماں سے جدائی ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔
ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کا نعم البدل دنیا بھر میں کوئی نہیں۔ ماں کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ماں اٹھارہ، بیس سال کی بھی ہوتی ہے اور سو سال کی بھی۔ اولاد کی جنت ماں کے قدموں میں قرار دی گئی ہے۔
ایک صاحب نظربتا رہے تھے کہ ’’حسد کی آگ کو کوئی وظیفہ نہیں کاٹ سکتا حتیٰ کہ مرشد کی دعائیں بھی حسد کا علاج نہیں لیکن ماں کی دعا میں یہ تاثیر ہے کہ وہ حسد کی آگ کو بھی بجھا سکتی ہے۔‘‘
اولاد کے لیے ماں کے مقام اور احترام کے حوالے سے محدثین نے بیان کیا ہے کہ نبی پاکؐ نے فرمایا میری ماں چھ سال کی عمر میںرحلت فرما گئیں۔
اگروہ زندہ ہوتیں اور مجھے کسی کام سے آواز دے کر بلاتیں اور میں نماز کی ادائیگی کر رہا ہوتا تو نماز توڑ کر ان کی بات سنتا۔ پھر آ کر دوبارہ نما زکی نیت کرتا۔ نبی پاکؐ کا یہ فرمان ماں کے درجے اور اس ہستی کے احترام کے لیے ابدی پیغا م ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔
آپ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ آپ نے دیکھا کہ اس قصاب نے جب اپنا کاروبار ختم کرلیا تو نرم گوشت کے ایک ٹکرے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
حضرت موسی علیہ السلام نے بطور مہمان اس کے گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا اور روٹی کے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔
قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک ایک لقمہ کر کے اسے کھانا کھلایا اور اس کا منہ صا ف کیا۔
بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں ایسا کیا کہا کہ جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا یہ بوڑھی عورت میری ماں ہے۔
گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں۔ یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں۔
بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ، تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔
ماں خود بھوکا رہ کر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی ہے۔ سرد راتوں میں جب اس کا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے، وہ ساری رات گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔
بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اس کی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہو جاتی ہے۔ والدین جب بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو اولاد کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔
وہ لوگ خوش نصیب کہلاتے ہیں جنھیں والدین کی خدمت کا موقع ملے۔ بڑھاپے میں دل وجان سے ماں باپ کی خدمت کرنے والے لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔
قرآن پاک میں ہے کہ جب تم اپنے والدین کو بڑھاپے میں پاؤ تو ان کو اُف تک نہ کہو۔ ان کا اس طرح خیال رکھو جس طرح انھوں نے بچپن میںتمہارا خیال رکھا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو رشتے بنائے ہیں ان میں سب سے عظیم رشتہ ماں ہی کا ہے۔ رشتے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو ہمیں پیدائش سے ہی وراثت میں ملتے ہیں۔
پیدائشی رشتے خون کے رشتے ہوتے ہیں، ماں، باپ، بہن، بھائی یہ رشتے بنے بنائے ہوتے ہیں۔ یہ رشتے نہ جوڑنے سے جڑتے ہیں اور نہ توڑنے سے ٹوٹتے ہیں۔
یہ دائمی رشتے ہیں۔ دوسرے رشتے ہم خود بناتے ہیںجن میں ہمارے دوست،ہمارے کلاس فیلو آفس فیلو، کاروباری تعلقات، سیاسی رفقاء، مخالف، مداح، اساتذہ، ہمارے شاگرد۔ اس طرح ہماری زندگی ان رشتوں میں بٹی ہوتی ہے۔
ہم باراتوں اور جنازوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور ایک دن خود بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ان رشتوں کا احترام کریں اور خاص طور پر ماں کے رشتے کا کہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
مفسرین کا کہنا ہے کہ اگر والدین اس عمر کو پہنچ جائیں کہ جب وہ چلنے اور بولنے کی سکت کھو دیں تو یہ ایام اولاد کے لیے انتہائی قیمتی ہوتے ہیں۔
ان ایام میں ان کی خدمت دین اور دنیا، دونوں جہانوں میں اولاد کے لیے انعام و اکرام کو بڑھا دیتا ہے۔ ان ایام میں ماں، باپ کے حضور حاضری بھی آپ کے مسائل اور مشکلات کو کم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کی خدمت کے لائق رکھے۔ (آمین)
Today News
امریکا، اسرائیل، ایران جنگ: عالمی نظام اور پاکستان
امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اپنی تباہ کاریوں کے ساتھ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی۔ رعونت اور کروفر کے ساتھ روزانہ بیان ہوتا ہے کہ اب تک اتنے ہزار ٹارگٹ بمباری ہو چکی۔
اب کوئی خاص ٹارگٹس بچے نہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے مزاحمت نے جارح حکومتوں سمیت دنیاکو بھی حیران کر دیا ہے۔
امریکی اڈوں کے میزبان ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں نے انرجی مارکیٹ اور ان ممالک کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل نے دوسری جانب بیروت کو غزہ 2 بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔
امریکا کو واحد پشیمانی یا رکاوٹ عالمی انرجی مارکیٹ کی سپلائی چین تہ و بالا ہونے سے ہوئی کہ امریکی شہریوں کو تیل کی قیمتوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔
فنانشل مارکیٹوں کے اضطراب نے امریکا کو پریشان ضرور کیا ہے لیکن اب تک بدقسمتی سے دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں نمایاں نہیں ہیں۔
جنگ میں ایران تو تباہی کا شکار ہوا ہے لیکن عالمی نظام بھی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ رول بیسڈ ورلڈ کا ڈھانچہ بھی لڑکھڑا رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کی ترجیحات، ان کی اوڑھی ہوئی انسانی حقوق، عالمی قوانین کی اوڑھنی اور عالمی اداروں کی تقدیس کے سالہاسال کے بھاشن بھی بارود کی نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تاریخی شعور کے مطابق عالمی سیاست کے مضبوط نظر آنے والے ڈھانچے اکثر بڑے بحرانوں کے دوران اپنی کمزوریاں دکھا دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بھی یہی منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی جیوپولیٹیکل نظام کی عیاریوں اور منافقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔
توانائی کی سپلائی چین سے لے کر عالمی مالیاتی منڈیوں تک ہر سطح پر بے یقینی ہے اور اس کا اثر پاکستان جیسے ممالک تک براہِ راست ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کا مرکز ہے۔
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی مائع گیس بھی اسی راستے سے ایشیا اور یورپ تک جاتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے پر عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب اور بے یقینی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ تیل مہنگا اور ترسیل مشکل ہو رہی ہے۔
عالمی معیشت جہاں پہلے ہی بلند شرح سود اور سست روی کا شکار ہے، وہاں بڑھتی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انرجی بحران سے امریکا بھی محفوظ نہیں۔
گیسولین کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، بنیادی خوراک کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ چکی ہیں، یوں امریکی شہریوں کے روزمرہ اخراجات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
یورپ کا سیاسی اور سیکیورٹی معاملہ پیچیدہ ہے۔ وہ جنگ میں شامل نہیں، مگر امریکا کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے مکمل غیرجانبدار بھی نہیں۔
روس، یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران سے پہلے ہی دوچار ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے مزید غیریقینی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین کے گیس ذخائر گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتیں یورپ میں بھی بلند ہیں۔
اس پس منظر میں معروف فرانسیسی ماہر معاشیات Thomas Piketty نے معروف اخبار Le Monde کے اپنے حالیہ مضمون میں عالمی نظام کی موجودہ کمزوریوں پر روشنی ڈالی۔
پکیٹی، جو اپنی کتاب Capital in the Twenty First Century کے ذریعے عالمی معاشی عدم مساوات پر بحث لے کر آئے، کہتے ہیں کہ یورپ کو محض تماشائی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی اقتصادی اور سیاسی قوت کو منظم کرنا ہوگا تاکہ عالمی نظام میں متوازن کردار ادا کر سکے۔
پکیٹی کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حکومت کی پالیسی تک محدود نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
بڑی طاقتیں جب داخلی دباؤ اور سیاسی تقسیم اور انتشار کا شکار ہوں، تو اکثر بیرونی محاذوں پر طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لمحات میں عالمی توازن میں نئی ترتیب بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اثرات یکساں نہیں۔ China اور India سمیت ایشیا کی بڑی معیشتیں وقتی طور پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کی بے یقینی سے متاثر ضرور ہوئی ہیں مگر خاموشی سے اپنی صنعتی و تجارتی ترقی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی نمو کا دوتہائی حصہ اب ایشیا سے آ رہا ہے۔ اگر امریکا طویل عرصے تک جنگوں میں الجھا رہا، تو عالمی توازن غیرمحسوس انداز میں ایشیا کے حق میں مزید تیزی سے جھکے گا۔
جدید معیشت کی اصل قوت صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی حکمت عملی ہے اور اس کے لیے پائیدار امن ضروری ہے جس کا اصل فائدہ ایشیائی ممالک اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات کئی جہتوں میں ہیں۔ توانائی کی ضروریات کا تقریباً ستر فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ ملک پہلے ہی بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی توازن کے مسائل سے دوچار ہے۔
مزید برآں پاکستان ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی توازن سنبھالنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں جن میں پینتیس فیصد یورپی یونین اور اٹھارہ فیصد امریکا کو جاتی ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر خلیجی ممالک سے تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان عالمی اقتصادی جال میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ ممالک کے ساتھ تعلقات بہت قریبی بھی ہیں اور ضرورتوں کے ساتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یوں خطے میں طویل کشیدگی توانائی، سفارت اور تجارت تینوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف جنگ نہیں بلکہ عالمی نظام کے نئے مرحلے کی علامت ہے۔ توانائی کی منڈیوں کی بے چینی، مالیاتی غیریقینی اور بڑی طاقتوں کی عسکری کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو سیاسی، علاقائی اور معاشی توازن کر برقرار رکھنا لازمی ہے جو عملاً اتنا آسان نہیں۔ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی تنازع میں الجھنے سے بچا جا سکے۔
اندرونی سطح پر بھی ضروری ہے کہ سیاسی استحکام، بہتر گورننس، اقتصادی استحکام اور سرحدوں پر امن و سکون ہو۔
ان اقدامات سے پاکستان نہ صرف مزید محفوظ ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، فعال اور متوازن عالمی کھلاڑی کے طور پر اپنا وجود منوانے اور کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport