Today News
دہشت گردی کی علانیہ جنگ
پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ اور دوسری طرف بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر سامنے کھڑا ہے ۔اسی بنیاد پر حالیہ دنوں میں پاک افغان سطح پر دونوں اطراف سے جنگ اور کشیدگی کا ماحول یا جنگ جاری ہے۔ حالیہ جنگی ماحول دونوں ممالک سمیت خطہ کے لیے نئے خطرناک رجحانات کو جنم دیتا ہے ۔روسی وزارت خارجہ کی ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے23ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں ۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریبا تین ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔اسی طرح القائدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلارہے ہیں ،افغانستان القائدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔القائدہ کے تربیتی مراکز غزنی،لغمان،کنٹر، ہار، نورستان ،پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔ داعش خراسان سمیت دیگر افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاو کے زریعے نام نہاد خلافت کا قیام ہے ۔
بنیادی طور پر اس وقت پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں سخت بداعتمادی کی لہر پائی جاتی ہے ۔حالیہ دنوں میں جس طرح سے دہشت گردوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے علاقوں پر حملے کیے ہیں اور جس انداز میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کھیل کے پیچھے جہاں اس کے سیاسی مقاصد ہیں وہیں یہ کام دہشت گردوں کی بغیر سہولت کاری کے ممکن نہیں ۔اس کا مقصد جہاں پاک افغان تعلقات کو متاثر کرنا ہے وہیں خطہ کی مجموعی صورتحال میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔اس کے لیے بطور ہتھیار افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے ۔لیکن ان معاملات میں افغان طالبان حکومت کا مسلسل پاکستان کی حمایت نہ کرنا یا اس کے تحفظات کو نظرانداز کرکے تحریک طالبان پاکستان کی عملی سرپرستی کی وجہ سے معاملات میں اور زیادہ کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستان نے معاملات کی بہتری کے لیے سعودی عرب، قطر،ترکی ،چین ،روس سمیت امریکا کی جو سفارتی سطح پر مزاکرات کی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی جو کوشش کی اس کے بھی ابھی تک بہتر نتائج نہیں مل سکے ہیں۔پاکستان کی کوشش تھی کہ افغان حکومت تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی ،مگر افغان حکومت نے اس طرز کی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے پاکستان دشمنی پر مبنی تعلقات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی قیمت پر دہلی کی طرف دیکھ رہی ہے اور اس کا مقصد مسلسل ہمیں غیر مستحکم رکھنے کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ایک طرف پاکستان کو اپنے سیاسی دشمنوں کے ساتھ روائتی جنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اب جو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اس میں جدیدیت کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔اسی طرح جب دشمن اکیلاہی نہ ہوبلکہ اس کے ساتھ اس کی معاونت میں پاکستان دشمنی میں بڑے بڑے سہولت کار ہو ں جو ان کی مکمل سرپرستی کررہے ہوں تو جنگ لڑنا اور بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔
اس وقت اگر ہم پاک افغانستان تناظر میں دیکھیں تو ہمیں چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ان میں سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ڈیورنڈ لائن کی متنازع سرحد اور اس کی موثر نگرانی،اب تک صورتحال میں مسلسل ہمارے جوانوں کی شہادتیں،سرحد پار بندشیں، علاقائی اسٹرٹیجک صورتحال میں بڑھتا ہوا تناؤ اور کشیدگی یا بداعتمادی کا ماحول جیسے امور شامل ہیں ۔ یہ بات تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ اس خطہ میں دہشت گردی کی جنگ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر خطہ اور خطہ میں شامل تمام ممالک کا مشترکہ مسئلہ یا ایجنڈا ہونا چاہیے۔اس لیے اس جنگ سے نمٹنے کے لیے تمام علاقائی اور عالمی ممالک اور ان کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے جو اعتماد سازی اور ایک دوسرے پر بھروسہ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ علاقائی ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے اور بالخصوص اس میں اس وقت بھارت اور افغانستان کا مجموعی کردار دوستی سے زیادہ دشمنی پر مبنی نظر آتا ہے ۔
اسی طرح ہمیں اس محاذ پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔بھارت ایک طرف ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتا ہے تو دوسری طرف اس بات کے شواہد بھی ہیں کہ بی ایل اے کو بھی بلوچستان کے تناظر میں بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔یہ جو حال ہی میں پاکستان کی سینیٹ سے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ قرار داد منظور ہوئی ہے اسے بھی اسی تناظر میں جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور وہاں اربوں ڈالر کے جنگی معاہدوں کے امکانات بھی ان کے خطہ میں جنگی عزائم کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان کو اس وقت داخلی سطح کی سیاست میں خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سرحد پار کاروائیوں کا سامنا ہے اور اس پر پاکستان کو عملی طور پر دو محاذی خطرات یعنی بھارت اور افغانستان کی صورت میں موجود ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے وفاقی حکومت اور کے پی حکومت میں اعتماد کا پہلو دیکھنے کو ملا ہے اور وزیر اعظم، وزیر اعلی ملاقات ،اپیکس کمیٹی میں سب کی شرکت کچھ مثبت اشارے ہیں لیکن اس پر مزید سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر کام کرکے اعتماد سازی کے ماحول کو اور زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ حالیہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا بلکہ اس میں زیادہ تدبر اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ٹکراو سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ یہ ہی حکمت عملی ہمیں کسی نہ کسی سطح پر بلوچستان میں بھی اختیار کرنا ہوگی اور اس میں کچھ نئی جہتوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عالمی دنیا یا علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان پر کوئی بڑا دباو ڈالنے میں ناکامی سے دوچار ہیں مسئلہ محض ناکامی کا ہے یا ان کی طرف سے سخت دباو کی پالیسی کے نہ ہونے کا بھی ہے ۔یہ نقطہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اس جنگ سے نمٹنے میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذپر نہ صرف سرگرم اور متحرک ہونا ہوگا بلکہ کچھ غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر سفارت کاری کے محاذ پر اپنا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ہمارے لیے یہ بات زیادہ تشویش کا پہلو ہے کہ ماضی کے مقابلے میں گزرے برس2025میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 34فیصد اضافہ ہوا ہے ۔یہ ہی وہ چیلنج ہے جو مسلسل پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کررہا ہے اور اس کا براہ راست اثر سیاست اور معیشت کے عدم استحکام کی صورت میںسامنے آرہا ہے ۔کیونکہ بنیادی بات ہے جس ریاست میں دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہویا ہمارے سروں پر کھڑی ہوتو وہاں بیرونی سرمایہ کار تو کجا خود ہمارے اپنے سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہونگے ۔ایک طرف معیشت کا بحران اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام یا سیاسی رسہ کشی یا سیاسی کشیدگی یا سیاسی دشمنی کے کھیل نے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں اور زیادہ چیلنجز کو مشکل بنادیا ہے۔اس لیے ہمیں موجودہ دہشت گردی کی صورتحال میں جو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اس کے لیے سیاست اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر غیر معمولی سیاسی ،انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا ۔کیونکہ یہ جنگ ہماری داخلی سلامتی کے لیے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے ۔
Today News
قابل تصدیق یقین دہانی تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا، سینئر سیکیورٹی اہلکار
ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابل تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور آپریشن کا دورانیہ مکمل طور پر زمینی حقائق اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور بچوں پر مسلط دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ خود کے زمرے میں آتے ہیں۔
بتایا گیا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جنہیں دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
اہلکار نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے اور مکمل شفافیت اختیار کی گئی ہے۔
ان کے مطابق افغان طالبان اور ان کے مبینہ سرپرست سوشل میڈیا اور سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، اس لیے تمام دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں اور کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث یا معاون ہیں۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، یہ افغان عوام کا داخلی معاملہ ہے۔
ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ پاکستان متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات واضح کیے ہیں، تاہم ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد ہے اور پاکستان اپنی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ملک گیر احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور شرپسند عناصر کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آخر میں سینئر سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
Today News
امریکی قونصلیٹ واقعے کے بعد وزیرداخلہ کی پولیس کو سخت ہدایات، غفلت پر کارروائی کا عندیہ
کراچی:
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سی پی او میں اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں گذشتہ روز پیش آنےوالے واقعہ پر آئی جی سندھ نے بریفنگ دی۔
ترجمان کے مطابق وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس میں کہا کہ گذشتہ روز سیکیورٹی لیپس کے واقعہ پر میں بہت سنجیدہ ہوں۔
واقعہ کے تناظر میں افسران کو عہدوں سے ہٹانا وزیر اعلی سندھ اور میرا حکم تھا، نااہلی میں ملوث مذید افسران اگر ہیں تو انہیں بعد از انکوائری عہدوں سے ہٹایا جائے۔
سندھ پولیس پروفیشنل ہے لہذا ایک پیشہ ور کے طور پر کام کرے۔موجودہ حالات کے ایس او پیز پر ہی سختی سے عمل درآمد کیئے جائیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ممکنہ جائے حادثہ یا وقوعے کا ذمہ دار فیلڈ افسر ہی ہوگا۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو گذشتہ روز کی بہادری پر شاباش دیتا ہوں۔ہمارے افسران بہادر ہیں لہذا کٹھن صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
ایس ایس یو اپنا کام کرے اور سیکیورٹی اقدامات میں خود کو پیش پیش رکھیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ آر آر ایف کی تمام نفری کو ابھی اور آج ہی سے کلوز کیا جائے۔
آرآر ایف کی ایس او پی کے تحت ہی ڈپلائمنٹ کی جائے۔کے نائن یونٹ کو فعال کیا جائے۔کے نائن کو درکار وسائل کے حوالے سے سفارشات جلد ارسال کریں۔
حساس اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مذید سخت کی جائے۔ایس ایس پیز آپریشن/ٹریفک متعلقہ علاقوں میں نظر آئیں۔بصورت دیگر سخت انضباطی کاروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
Today News
ہمارا مشن ہے کہ ایران کی بیلسٹنگ میزائل صلاحیت کو تباہ کریں، امریکی وزیر خارجہ
واشنگٹن:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی بلکہ غیر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت بھی آ گئی تو وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور “گینگ آف ایٹ” گروپ کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔
ایک اور سخت بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ ایرانی رجیم عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اور امریکہ ایک ایسے ایران سے محبت کرتا ہے جس پر موجودہ حکومت مسلط نہ ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی عوام کو امریکہ کی مدد درکار ہو تو واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا