Today News
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی
آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔ دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے مذکورہ عناصر کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پیچیدہ سرحدی پٹی ایسے عوامل سے متاثر رہی ہے جنھوں نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بارہا نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے سرحدی علاقوں کا دورہ، وہاں تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے کو سراہنا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا نہ صرف ایک روایتی عسکری عمل ہے بلکہ اس بات کا واضح اظہار بھی ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔
جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ قبائلی خطے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے اہم ترین میدان رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاورکی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے کیونکہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستانی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہرکرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف دراصل پاکستان کی ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے آنے والے خطرات کو نظر انداز کرے۔ اگر دہشت گرد عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کریں تو اس کا جواب دینا ریاست کا بنیادی حق اور ذمے داری ہے۔
آپریشن غضب للحق اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کسی بھی قیمت پر پنپنے نہیں دے گا۔ ان علاقوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی قابل قدر ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون ہی خطے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پورے ملک کی جنگ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی حمایت کریں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دہشت گردی ان حربوں میں سے ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سرحد پر باڑ کی تعمیر، جدید نگرانی کے نظام کا قیام اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بعض عناصر دراندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔آپریشن غضب للحق اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں دراصل اسی حکمت عملی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج ملک کی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ایک پرامن خطہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری بھی لاتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر کوئی بھی قوت پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔آخرکار یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے قومی عزم، عسکری صلاحیت اور سیاسی بصیرت سب کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ اور آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہیں گی۔
Today News
راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، 19 تا 21 رمضان خصوصی تھریٹ ایڈوائزری جاری
راولپنڈی:
شہر بھر میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ 19 سے 21 رمضان المبارک کے دوران سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
یہ مراسلہ تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس پی سیکیورٹی، سرکل افسران اور تھانوں کے سربراہان کو بھجوا دیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق شہر بھر میں اہم تنصیبات، جوائنٹ چیک پوسٹس، ون ویلنگ پکٹس اور رمضان المبارک کے حوالے سے مساجد، امام بارگاہوں اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
تمام ڈویژنل ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیک پوسٹس اور دیگر سیکیورٹی پوائنٹس پر تعینات اہلکاروں کو ہر دو گھنٹے بعد چیک کریں اور سیکیورٹی صورتحال سے بریف کریں۔
اسی طرح اہم سرکاری عمارتوں، نور خان ایئر بیس چکلالہ، پولیس لائنز، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بھی مسلسل چیک کرنے اور فورس کو ہائی الرٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے میں بس اسٹینڈز اور مصروف ٹرانسپورٹ اڈوں پر بھی اضافی نگرانی کے لیے فورس تعینات رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تمام پولیس دفاتر، تھانوں اور چوکیوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
ایس پی اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس لائنز کی سیکیورٹی ڈیوٹی کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور ایک افسر کو 24 گھنٹے کے لیے تعینات کیا جائے جو ہر گھنٹے ڈیوٹی چیک کر کے رپورٹ پیش کرے۔
مزید برآں رمضان المبارک کے دوران رمضان سہولت بازاروں، دسترخوانوں، شاپنگ مالز اور رش والے مقامات پر بھی مناسب سیکیورٹی ڈیوٹی تعینات رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے میں سحری اور افطاری کے بعد ون ویلنگ کی روک تھام کے لیے قائم پکٹس پر تعینات اہلکاروں کو مکمل بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ایس پی سیکیورٹی کو ضلع کچہری، نیو جوڈیشل کمپلیکس، انسداد دہشت گردی عدالت اور ہائی کورٹ کی سیکیورٹی کا بذات خود جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
Today News
7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے، ایران
تہران:
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔
دوسری جانب ایرانی صدر نے جنگی صورتحال کے دوران قوم سے خطاب اور سوشل میڈیا پیغام میں کردستان کے عوام کا ایران کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ شہداء اور زخمیوں کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
ایرانی صدر نے گورنرز اور مسلح افواج کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کو سختی سے کچلا جائے اور قومی سلامتی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ علیحدگی پسند عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔
Today News
امریکی فوج نے فضا اور سمندر پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا، پینٹاگون
واشنگٹن:
امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی آپریشن اب ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جبکہ میدان جنگ میں امریکی فورسز کو نمایاں برتری حاصل ہو رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی منصوبے کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور امریکی افواج بتدریج ایرانی فضائی اور بحری حدود پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کو امریکی فوجی طاقت کے بارے میں شدید غلط فہمی تھی اور ایران کو یقین تھا کہ امریکا اس جنگ کو آگے نہیں بڑھا سکے گا تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی فوج کے پاس جدید ہتھیاروں اور اسلحے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس کی بدولت مزید کارروائیوں کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے ایران کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ امریکا اس جنگ میں پھنس چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی رفتار اور دورانیہ امریکا خود طے کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنازعہ چار ہفتے بھی جاری رہ سکتا ہے، آٹھ ہفتوں تک بھی جا سکتا ہے یا اس سے زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں تقریباً 83 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو امریکی کارروائیوں کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans