Today News
’’ذاتِ اُودروازۂ شہرِ علوم‘‘
تاج دار اقلیم فقر و غنایت، نازش میدان جرأت و بسالت، سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے فضائل و کمالات، بے پایاں محامد و محاسن اور لامحدود اوصاف خصائص سے انکار یا پہلوتہی وہی کرسکتا ہے جسے روز محشر سرکار رسالت مآب ﷺ کی شفاعت کا انکار ہو، جو حضور سرور کائناتؐ سے محبت نہ رکھتا ہو، جو آقا ﷺ کی قُربت کا خواہش مند اور تمنائی نہ ہو، جو آپؐ کی زلف واللیل کی خُوش بُو سے مشام جاں معطر نہ کرنا چاہتا ہو، جو آپ ﷺ کے رخ والضحیٰ کی رعنائی سے تاریک دل کو منور کرنے کا آرزو مند نہ ہو، جو آپؐ کی چشم التفات سے محروم رہنا چاہتا ہو اور جو آپؐ کے اعزہ سے بہ باطن مخاصمت و عداوت رکھتا ہو۔ کیوں کہ حضور سیّد المرسلینؐ کا یہ واضح فرمان ذی شان اس بات کی عکاسی کررہا ہے: ’’علی ؓ سے محبت رکھنے کا مطلب اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت رکھنا اﷲ اور رسول ﷺ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘
غزوۂ خیبر کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی جبین ارض و سما پر تابندگی بکھیر رہا ہے : ’’میں کل عَلمِ اسلام ایسے شخص کو دوں گا جو اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھتا اور اﷲ اور رسول ﷺ اس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘
آپؐ نے یہ بات شام کو اس وقت ارشاد فرمائی جب جیّد صحابہ ؓ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود قلعہ یہود فتح نہیں ہو رہا تھا۔ یہ رات صحابہ کرام ؓ نے بڑے تذبذب میں گزاری کہ وہ خوش نصیب کون ہے، جس کے ہاتھ میں دست نبوت ﷺ علَم اسلام تھمائے گا۔ صبح ہوتے ہی آپؐ نے علی ابن ابی طالبؓ کو بلایا۔ اس وقت آپؓ کو آشوب چشم کا عارضہ تھا۔ رسول کریمؐ نے اپنا لعاب دہن علیؓ کی آنکھوں میں لگایا۔ تکلیف فوراً کافور ہوگئی اور پھر اہل دنیا نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ذی شان کتنا سچا، کتنا معتبر و محتشم ٹھہرا کہ ذوالفقار حیدری کی ایک ہی ضرب سے عَلم یہودیت ہمیشہ کے لیے سَر نگوں ہوگیا۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، علی ؓ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس پُرجلال فرمان سے حرمت و شوکت علی المرتضیٰ طلوع آفتاب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی، جس کا صاف مطلب ہے کہ سیدنا علی ؓ سے عداوت بہ راہ راست حضور ﷺ سے عداوت رکھنا ہے اور آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کا صاف مطلب حضور ﷺ سے ارادت و محبت رکھنا ہے اور حضور ﷺ سے محبت رکھنا ازروئے قرآن خالق کائنات سے محبت رکھنا ہے۔ گویا اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ اور علی ؓ سے محبت کی تکون اہل اسلام کے ایمان کا جز و لاینفک ہے۔ اسی لیے اقبال ؒ نے کہا ہے :
مُسلمِ اوّل شہہِ مرداں علیؓ۔ ( پہلے مسلمان اور مَردوں کے سردار علیؓ ہیں)
عشق را سرمایۂ ایماں علیؓ۔ (عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ علیؓ ہیں)
اقبال نے اپنا ذاتی تعارف پیش کرتے ہوئے بانگ درا کی معروف نظم ’’زہد اور رندی‘‘ میں یہ کہا ہے:
ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا
تفضیل علی ؓ ہم نے سنی اُس کی زبانی
تو فطرت و حقائق کے عین مطابق تھا کیوں کہ فضائل و مناقب علیؓ کا بیان سنت رسول مکرم ﷺ ٹھہرتا ہے۔ اقبالؒ نے سیدنا علیؓ کی ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت کے حضور اپنے کلام میں جا بہ جا کیوں خراج عقیدت پیش کیا ؟ اس ضمن میں دو تین امور بڑے اہم نوعیت کے ہیں جس سے کوئی صاحب فہم و ذکاء اور حامل تدبر کسی صورت انکار نہیں کرسکتا۔ ایک تو یہ کہ علی ابن ابی طالبؓ کو عہد طفولیت سے ہی آغوش رسالت مآبؐ کی زینت بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔ جب جناب عبدالمطلب کے بعد حضور سیدالکونینؐ کو والد گرامی علی المرتضیٰ جناب ابوطالب کا سایۂ عاطفت میسر آیا اس وقت سے چشم علیؓ حضور ﷺ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہوگئی۔ حضور سیدالمرسلینؐ کے دل نواز اور سرتا پا شفقت و محبت چچا جناب ابوطالب حضور ﷺ کواپنے بستر پر لٹا لیتے، گلیوں میں چلتے ہوئے اس بات کی احتیاط اور خیال رکھتے کہ کہیں کوئی معمولی سا سنگ ریزہ یا نوک خار آپؐ کے نرم و نازک تلوؤں کے لیے موجب آزار نہ بنے، کوئی چشم بد میرے پاک باز و نفیس بھتیجے کو زخم حسد سے گزند نہ پہنچائے۔ باد سموم کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی حضورؐ کے لطیف و نازک اندام جسم اطہر کے لیے باعث حدت نہ بنے، تمازت آفتاب کی غایت کہیں امانت عبدالمطلب کو رنج و غم میں مبتلا نہ کرے، آفات و بلیات زمن کہیں اس لکّہ حسن کبریا کو پریشان نہ کردیں۔ ریگ زار عرب کی دل خراش ہوائیں آمنہ کے دُرّیتیم اور جگر گوشہ عبداﷲ کی زلف عنبریں کے پیچ و خم کو الجھا نہ دیں۔
حضور ﷺ سے جناب ابوطالب کی کیف آور محبت ان کے صاحب زادے سیدنا علیؓ کے دل و دماغ میں گھر کرتی رہی۔ حضرت علی ؓ اس کیفیت محبت کا نظارہ گہرے غور و فکر سے کرتے رہے اور اسے اپنی زندگی کا جزو بناتے رہے۔ بعد ازاں ابوطالب کی وفات کے بعد حضور کے یہ چچازاد (علیؓ) بہ راہ راست آپؐ کے سایۂ باراں کی لطافت سے مفیض ہونے کے لیے آپؐ کے ہاں فروکش ہوگئے۔ اس لیے سیدنا علی ؓ کا یہ اعزاز و اکرام حضرت علامہ اقبالؒ کے لیے باعث کشش و محبت بنا کہ آپ کا عرصہ قربت نبوت سب سے زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا علیؓ کا قربت نبوتؐ کا یہ اعزاز و عظمت تحرم و تقدم کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ یہ تو عہد طفولیت کی بات ہے حضورؐ کے وصال مبارک کے وقت بھی آقا کے وجود اقدس کو لحد میں اتارنے کا بھی عز و شرف آپؓ کو حاصل ہے۔ اس طرح یہ ہستی حضور ﷺ کے وصال مبارک تک آپؐ کے ساتھ رہی اور پھر حق رفاقت بھی بے مثال طریقے سے ادا کرتی رہی۔
حضرت علی ؓ کی ایک اور فضیلت و شان جو آپؓ کو اس کائنات ارضی کے ہر فرد سے ممیز کرتی ہے وہ جگر گوشہ رسولؐ سیدہ فاطمۃ الزھراءؓ کا شوہر نام دار ہونا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قابل صد فخر و مباہات اور قابل صد احترام جوڑے کے نکاح کا مژدۂ جاں فزا آسمان سے حضرت جبرائیل لے کر آئے تھے اور حکم خداوندی سے آپؐ نے اس کا اہتمام فرمایا تھا۔ اسی لیے مثنوی میں اقبالؒ نے اسی امتیاز و شرف کی جانب اشارہ کیا ہے۔
بانوے آں تاج دار ھل اتیٰ
مرتضیٰ، مُشکل کُشا، شیرِخدا
حضرت علامہ کے کلام کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو آپ کے نزدیک تفضیل علی کا ایک تاب ناک سبب ذوالفقار حیدری کی چمک ہے۔ اس ضمن میں ایک خصوصی بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ معرکۂ خیر و شر کے دوران بڑی سے بڑی ابتلا بھی آپؓ کے پائے ثبات میں ذرا سی جنبش پیدا نہ کرسکی اور آپ ؓ کی ہمیشہ کوشش یہ رہی کہ دشمنوں کی طرف سے پھینکا گیا معمولی سا ناوک نیم کش بھی بانی تحریک حق ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دین محمد عربی ﷺ کی ترویج و اشاعت اﷲ کے فضل و رحمت، حضور کے وجود مسعود کے تصدق اور آپ کے موقر و محترم رفقاء کی اعانت کی رہین منت ہے مگر بدر و احد و خندق و خیبر کی صورت میں معرکہ ہائے حق و باطل میں ذوالفقار حیدری کچھ اس طرح سے چمکی کہ اس کی ہیبت سے دشت و جبل لرز اٹھے۔ باطل شکنی کے اعتبار سے سیدنا علیؓ کی تیغ براں کتاب جرأت و بسالت کا دل پذیر عنوان بن گئی۔ قدوم علیؓ جس طرف اٹھتے معاندین اسلام کے اجسام ریت کے ذرّوں اور نخل خزاں کے پتوں کی طرح فضائے بسیط میں اڑتے نظر آتے۔ بالخصوص فتح خیبر مسلمانان عالم کی کتاب زیست کے اوراق کو ابد الآباد تک جگ مگاتی رہے گی۔ ہجرت کی شب بستر نبوت پر دراز ہونا گویا اپنی متاع حیات کواپنے ہاتھوں دشمنوں کے سپرد کرنا تھا مگر سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی زندگی کی سب سے تسکین آمیز شب حضورؐ کے بستر پر گزاری۔‘‘
علامہ اقبال کے نزدیک سیدنا علی ؓ کے بے عدیل محاسن میں ایک آپ ؓ کا فقر و غنا تھا۔ تہذیب علی المرتضیٰ کا یہ پہلو پرتو نبوت کی صحیح تصویر تھا۔ آپ ؓنے چوں کہ اوائل ہی سے فقر و غناء کے بوریا نشین شہنشاہ حضور سیّد المرسلین ﷺ کی حیات طیبہ کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر رکھا تھا اس لیے آپؓ میں بھی خاک نشینی جھلکتی تھی اسی لیے آقا ﷺ نے ایک بار آپؓ کو بے تکلفانہ ابُوتراب کے پرجلال و پُروقار لقب سے نوازا۔
Source link
Today News
ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وائٹ ہاؤس
واشنگٹن:
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ مقررہ اہداف جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔
واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کی میزائل تنصیبات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اور ان کی توانائی ٹیم عالمی تیل منڈیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اہداف حاصل ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ امریکا نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کی براہِ راست مدد نہیں کی تاہم خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
Today News
باب العلم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیؓ
آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ کے والد ابُوطالب رسول کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول کریم ﷺ کو اعلان نبوت سے لے کر وصال تک، خلوت و جلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو، جسم اطہر کے ہر ایک انداز کو اپنے دل و اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بل کہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
حضرت علیؓ، نبی کریم ﷺ کے دست و بازو تھے، اور مصائب و آلام کی ہر گھڑی میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔
آپؓ فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اور میرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ ’’امین‘‘ کہلاتے تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)
اسی طرح غزوۂ بدر میں حضرت علیؓ کی شجاعت لوگوں کے سامنے آئی جب آپؓ نے نام ور قریشی سردار عقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔ جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اور اپنے قومی و خاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہُوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کیا۔ اس دن رسول اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت علیؓ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کردیا۔ سیدنا علی ؓ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر و خیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے علم بردار رہے۔
غزوۂ بدر کے بعد حضرت علیؓ کو ایسا اعزاز حاصل ہُوا جس نے ان کی عظمت کو چار چاند لگا دیے۔ یہ اعزاز حضرت علیؓ کی رسول کریم ﷺ کی چہیتی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی خانہ آبادی کا تھا۔ اور اﷲ تعالی نے روز ازل سے ان کے لیے یہ عظمت و نعمت مقدر کررکھی تھی۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگی امت کے لیے لازوال نمونہ تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ آپؓ فقیہہ، مجتہد اور مفسر قرآن ہونے کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیؓ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔ آپ ؓنے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لیے آپؓ کی معلومات و روایات کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓکے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خود تعریف فرمائی۔ آپؓ کی فقہی مہارت اور اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجا تھا کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انھیں ’’اقضاکم‘‘ (تم میں سے اچھے، سب سے بڑے قاضی) قرار دیا۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپؓ لوگوں کو حضرت علیؓ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔
رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔ چناں چہ آپؓ اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے: ’’اے علیؓ! اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالحؑ کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا۔‘‘
امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیؓ کی عادت تھی کہ نماز کے لیے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بس جیسے ہی آپ ؓ وہاں پہنچے اس نے آپؓ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا جو دماغ تک جا پہنچا اور آپؓ خون سے نہا گئے اور داڑھی مبارک خون سے تر ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھا یکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی اور میں نے امیرالمومنینؓ کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا :
’’قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی۔‘‘
اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ ابن ملجم کو حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؓ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ فرمایا! یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہی اسے کھلانا۔ پھر فرمایا: اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیار ہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اس کو ایک ضرب ہی لگانا۔ پھر اپنے صاحب زادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلا کر وصیت لکھوائی اور دو دن انتہائی کرب کی کیفیت میں گزارنے کے بعد اکّیس رمضان المبارک کی صبح اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔
Today News
وزیر داخلہ سندھ، آئی جی اور میئر کراچی کا مرکزی جلوس کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
کراچی:
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ، کراچی پولیس چیف آزاد خان اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔
بعدازاں نمائش چورنگی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 28 فروری کو جو واقعہ ہوا اس کی انکوائری ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کچھ بھی کہنا اس وقت قبل از وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں ایڈمنسٹریشن میں کمی نظر آئیگی پولیس افسران کا تبادلہ کیا جائیگا، پولیس ہائی الرٹ ہے جبکہ میئر کراچی بھی خود وزٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کی ٹیم بھی متحرک ہے۔
دریں اثنا پولیس کی جانب سے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے سیل کر دیئے۔
آج یوم شہادت حضرت علیؓ کے سلسلے میں مرکزی جلوس دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔
اس حوالے سے پولیس کی جانب سے رات گئے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والی مارکیٹوں ، دکانوں اور راستوں کو بم ڈسپوزل یونٹ سے سوئپنگ کے بعد سیل کیے جانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایم اے جناح روڈ ، گرومندر سے ٹاور تک جبکہ صدر دواخانہ ایمپریس مارکیٹ سے ریگل چوک تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیوں کی مدد سے سیل کر کے نفری کو بھی تعینات کر کے انھیں ہدایات بھی جاری کر دی گئیں۔
سیل کیے گئے راستوں سے نہ تو کسی کو جلوس میں داخل اور وہاں سے باہر جانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی ، آخری اطلاعات آنے تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو سیل کیے جانے کا عمل جاری تھا۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus