Connect with us

Today News

راولپنڈی سے کراچی آنے والی گرین لائن کو حادثہ

Published

on


راولپنڈی سے کراچی جانے والی گرین لائن ایکسپریس کے خالی ریک کو حادثہ پیش آیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گرین لائن مارگلہ اسلام آباد سے پیسنجرلیکر واپس راولپنڈی اور پھر کراچی جاتی ہے کہ بیکری چوک کے قریب حادثہ پیش آیا۔

 ٹریک کی خستہ حالی اور تیز رفتاری کے باعث انجن اورتین بوگیاں ٹریک سے زمین میں دھنس گئیں جس کے بعد اپ لائن پر ٹریفک کو عارضی طور پر بند کرکے  ٹرینوں کو ڈاؤں لائن سے گزارا جائے گا۔

حادثے کی اطلاع پرڈی ایس ریلوے نور الدین داوڑ موقع پر پہنچے جبکہ ریلوے کی امدادی کرین اور ہنگامی اسٹاف نے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

راولپنڈی سے کراچی کے لیے گرین لائن 3 بجکر 40 منٹ پر روانہ ہوتی ہے تاہم حادثے کے بعد اب اس کی روانگی میں تاخیر ہوگی جبکہ دیگر ٹرینوں کا شیڈول بھی متاثر ہوگا۔

ریلوے حکام کے مطابق حادثے میں خوش قسمتی سے کوئی شخص بھی زخمی نہیں ہوا، وقوعہ کے وقت ٹرین میں صرف اسٹاف موجود تھا جنہیں خراش تک نہیں آئی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسلام آباد میں غیررجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی دارالحکومت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم نجی اداروں کو فوری رجسٹریشن کے لیے دو ماہ کی مہلت اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے رجسٹریشن کی تجدید میں تاخیر والے اداروں کو ون ٹائم ایمنسٹی دیتے ہوئے رینول فیس میں 30 اپریل تک توسیع دے دی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اہم اجلاس میں غیر رجسٹرڈ اور تجدید کے منتظر نجی تعلیمی اداروں کے مسائل اور اسلام آباد بھر کے نجی اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کے اعداد و شمار کی تیاری و تجزیے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور پیرا کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنانا اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنانا تھا۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے شفافیت کے فروغ، باخبر فیصلوں اور مؤثر ضابطہ کاری کے لیے مستند اور تصدیق شدہ ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے درخواست کی کہ تجدید کے معاملات میں تاخیر کے باعث عائد جرمانوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ کی عام معافی دی جائے، مزید یہ کہ ایسے اداروں کو رجسٹریشن یا تجدید رجسٹریشن کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ آئی سی ٹی پیرا نے تاخیر سے تجدید کی درخواستیں جمع کرانے والے نجی تعلیمی اداروں کو ایک مرتبہ کی عام معافی دے دی ہے، یہ معافی یکم مارچ 2026 سے 30 اپریل 2026 تک مؤثر ہوگی تاکہ ایسے اداروں کو ضابطہ جاتی دائرے میں لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنائی جا سکے اور اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان اپنے اپنے علاقوں میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کی فہرستیں فراہم کریں گے تاکہ انہیں ضابطہ جاتی نظام میں شامل کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کی تجدید ہر سال 30 اپریل تک دی جائے گی، چاہے رجسٹریشن یا تجدید کی سابقہ تاریخِ معیاد کچھ بھی ہو۔

چیئرمین نے متنبہ کیا کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نجی تعلیمی ادارہ جات (رجسٹریشن و ریگولیشن) ایکٹ 2013 کی دفعہ 19 بمعہ دفعہ 13 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

کیا سلمان علی آغا کپتان نہیں رہیں گے؟بڑی پیشگوئی سامنے آگئی

Published

on



سابق کرکٹر محمد عامر نے پیشگوئی کی ہے کہ سلمان علی آغا ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد کپتان نہیں رہیں گے۔

گزشتہ روز انگلینڈ سے شکست کے بعد سابق کرکٹر محمد عامر نے ایک پروگرام میں  پیشگوئی کی ہے کہ سمان علی آغا کی کپتانی جانے والی ہے۔

میزبان کے سوال کے جواب میں محمد عامر نے کہا کہ میرے خیال میں سلمان علی آغا اس ورلڈ کپ کے بعد ٹی 20 کے کپتان نہیں رہیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری نظر میں اس وقت کوئی اور اس کا حقدار بھی نہیں ہے، جیسا کہ حالات ہیں مجھے اس وقت کوئی مناسب متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے یہ ٹی 20 ورلڈ کپ آخری ہوگا۔پروگرام میں راشد لطیف نے کہا کہ بابر اعظم اب چھوٹے فارمیٹ کے کھلاڑی نہیں رہے ہیں، انہیں اسٹرائیک ریٹ کم ہونے پر ڈراپ کرنے کے چھ ماہ بعد واپس کیوں بلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ نے پہلے کہا تھا کہ بابر کا اسٹرائیک ریٹ بہتر ہوگا تو واپسی ہوگی، اس میں کہاں بہتری آئی اور اسے واپس کیوں لائے؟

سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ جو بیٹر 20 سے 25 گیندیں کھیل کر اتنے ہی رن بناتا ہے تو دوسرے آنے والے بیٹر کو ہائی رسک اسٹروک کھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

Published

on


سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری بھرپور مہم کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تیز رفتار اور مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 34 دہشت گرد جہنم واصل کردئے، کاروائیوں کا ہدف بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان تھے

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے، 24 فروری کو خیبر پختونخوا میں چار علیحدہ کارروائی میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 26 خارجی ہلاک کیے گئے۔

بیان کے مطابق جبکہ بلوچستان کے علاقے سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی سے وابستہ 8 دہشت گرد مارے گئے، شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل کے بالمقابل پاک–افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خارجیوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت پکڑ لی، مؤثر کارروائی میں ایک خارجی ہلاک ہوا،خارجی کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لکی مروت میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 خارجی ہلاک کیے گئے، اسی دوران بنوں کے علاقے نرمی خیل میں دو علیحدہ جھڑپوں میں 10 خارجی مارے گئے، جبکہ میر علی، شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 12 خارجی ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقوں میں کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جبکہ قومی ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” وژن کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending