Connect with us

Today News

رحیم یار خان: گنے کی کاشت میں غیر معمولی اضافے سے کپاس کی پیداوار بُری طرح متاثر

Published

on



کراچی:

قیام پاکستان سے تقریباً 15سال قبل تک ملک میں کپاس کی پیداوار میں سرفہرست ضلع رحیم یارخان  میں گنے کی کاشت میں غیر معمولی اضافے نے کپاس کی پیداوار اور معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

رحیم یار خان میں گنے کی کاشت میں پہلے ہی اضافے کا رحجان ہے لیکن اس کے باوجود یہاں ایک اور شوگر ملز قائم ہونے اطلاعات زیرگردش ہیں۔

ماضی میں پنجاب کاٹن بیلٹس میں کپاس کی پیداوار سندھ کی نسبت 352فیصد زائد تھیں لیکن اب پنجاب میں گنے کی ریکارڈ پیداوار کی وجہ سے گزشتہ 2 سال سے سندھ میں کپاس کی پیداوار حیران کن طور پر پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے۔

گرتی ہوئی مقامی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے تاکہ کپاس کی کاشت بہتر ہونے سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات کم ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوسکیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق قیام پاکستان سے لے کر  تقریباً 15سال قبل تک ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہونے والی کپاس نہ صرف پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی بلکہ قدرتی طور پر اس ضلع میں پڑنے والی سورج کی منفرد کرنوں سے بہترین معیار کی کپاس نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ یورپین ممالک میں ”خان کاٹن“ کے نام سے معروف تھی اور دنیا کے کئی معروف کاٹن ملبوسات کے برانڈز خان کاٹن کے ٹیگ کے باعث انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے لے کر 2011-12 تک ضلع رحیم یار خان پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والا ضلع تھا اور یہ ضلع کپاس کی مجموعی ملکی  پیداوار کا 11سے 13فیصد تک کپاس پیدا کرتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2011-12 میں جب پاکستان میں کپاس کی پیداوار ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک کروڑ 48لاکھ روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوئی تھی تو اس سال ضلع رحیم یار خان میں 15لاکھ 18لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، سال 2004-05 میں جب پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار  ایک کروڑ 43لاکھ گانٹھ ہوئی تھی، اس سال ضلع رحیم یار خان میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ 18لاکھ 40ہزار روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوئی تھی لیکن اس اہم ضلع میں سیاسی بنیادوں پر نئی شوگر ملوں کے قیام اور ان کی پیداواری صلاحیت میں ریکارڈ اضافے کے باعث یہاں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2012-13 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کپاس کی پیداوار ضلع رحیم یار خان کے مقابلے میں بڑھ گئیں اور یہ تسلسل تاحال برقرار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع رحیم یار خان میں اس وقت 6 شوگر ملز قائم ہیں لیکن ان کی پیداواری صلاحیت 8 شوگر ملز کے مساوی ہے جو کہ تقریباً 150میٹرک ٹن یومیہ ہے جبکہ جب بعض وجوہات کی بنا پر ضلع رحیم یار خان کی حدود میں بعض سیاسی  خاندانوں کو نئی شوگر ملز کے قیام کی اجازت نہ ملی تو پھر انہوں نے سندھ پنجاب بارڈر سے ملحقہ ایریاز میں 2 نئی شوگر ملز قائم کیں جنہیں رحیم یار خان سے سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ سندھ کے 2 بڑے سیاسی خاندانوں نے بھی سندھ پنجاب بارڈ پر 2 نئی شوگر ملز قائم کی ہیں جس سے ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت جو پہلے 8لاکھ ایکڑ تک کاشت ہوتی تھی وہ اب کم ہو کر 3لاکھ ایکڑ سے بھی کم ہو گئی ہے اور اس میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رحیم یار خان میں ظاہرپیر کے مقام پر اب ایک نئی شوگر مل قائم ہونے کی اطلاعات زیرگردش ہیں جبکہ سندھ پنجاب بارڈر پر بھی ایک نئی شوگر مل کے قیام کی اطلاعات ہیں جس کے باعث ضلع رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت میں مزید کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 2011-12 میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 21لاکھ گانٹھیں  تھیں جبکہ سندھ میں یہ پیداوار صرف 26لاکھ 82ہزار گانٹھیں تھیں اور اسی طرح 2012-13 میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار 95لاکھ  09ہزار گانٹھ اور سندھ میں صرف 34لاکھ 7ہزار گانٹھ تھی اور پنجاب میں کپاس کی پیداوار سندھ کے مقابلے زیادہ ہونے کا سلسلہ 2023-24 تک جاری رہا۔

 پنجاب میں گنے کی کاشت میں ریکارڈ اضافے کے باعث ملکی تاریخ میں پہلی بار 2024-25 میں سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب سے بڑھ گئی ہے اور اس سال کے دوران سندھ میں کپاس کی پیداوار 28 لاکھ 7ہزار گانٹھ رہی جبکہ پنجاب میں یہ پیداوار صرف27لاکھ 18ہزار گانٹھ تک محدود رہی جبکہ 2025-26 کے دوران سندھ میں کپاس کی پیداوار 29لاکھ 15ہزار گانٹھ اور پنجاب میں 26لاکھ 93ہزار گانٹھ تک محدود رہی اور خدشہ ہے کہ آئندہ سالوں میں بھی سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں زیادہ رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ایسے علاقے جن میں بلوچستان اور سندھ پنجاب کے چولستان والے اضلاع شامل ہیں وہاں گنا نہ ہونے کے باعث آج بھی وہاں پیدا ہونے والی کپاس معیار کے حوالے سے بہت بہتر  ہے جو دیگر کپاس کے مقابلے میں بہت مہنگی فروخت ہونے کے ساتھ اس کے بیج کا اگاؤ بہتر ہونے اور اس میں تیل کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں کپاس زیادہ پیدا ہونے سے ملکی معیشت بھی بہتر ہوسکے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نیشنل سرٹ آرمی سائبر ڈویژن و پی ٹی اے سے منسلک، تمام اداروں میں سافٹ اور ہارڈویئر کا آڈٹ لازمی قرار

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے انضمام اور تبادلے کا نظام قائم کردیا، نیشنل سرٹ کا مقامی طور پر چلنے والا نظام پی ٹی اے اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے جس کے تحت سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نیشنل سرٹ کا نظام مالویئر انفارمیشن شیئرنگ پلیٹ فارم کے ذریعے قائم کیا گیا ہے نیشنل سرٹ کا نظام پاکستان آرمی سائبر ڈویژن اور پی ٹی اے کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ تینوں اداروں کے درمیان معلوماتی تبادلے سے مربوط قومی سائبر دفاع یقینی ہوگیا ہے تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے قومی سائبر سیکیورٹی مزید مستحکم ہوگئی۔

مقامی طور پر چلنے والا ایم آئی ایس پی سسٹم ملک کی سائبر خودمختاری مضبوط بناتا ہے، مرکزی تھریٹ انٹیلی جنس سے سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی ہے بیرونی انٹیلی جنس پر انحصار کم اور جدید خطرات کے خلاف ریاستی تیاری میں بہتری، اہم قومی، سرکاری اور ٹیلی کام نظام کے نشانہ بنانے کے خطرات سے بروقت آگاہی ملے گی۔

ریئل ٹائم میں خطرات کی تیز رفتار نشاندہی اور ردعمل سے سائبر حملوں کا پھیلاوٴ محدود ہوگا، تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم ہوگی، مشترکہ انٹیلی جنس سے تھریٹ ہنٹنگ اور پیشگی خطرات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

دریں اثنا نیشنل سرٹ نے سافٹ ویئر و ہارڈ ویئر کے فوری آڈٹ اور سخت نگرانی کی ہدایت کردی ہے اور نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دے دیا۔

نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کو محفوظ نہ بنانے کی صورت میں بجلی، بینکاری اور دفاعی نظام متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ کمیونی کیشن ڈیوائسز، نیٹ ورک مینجمنٹ ٹولز اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ قومی انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی جامع اسکیننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے نیشنل سرٹ کی جانب سے ایڈوائری بھی جاری کی گئی ہے جس میں نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دیتے ہوئے وینڈرز کی ملکیت، لاجسٹکس سسٹم اور سپلائی چین کے مکمل جائزے کی ہدایت کی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق سافٹ ویئر کی ٹیسٹنگ ایک ہفتے جبکہ ہارڈ ویئر کی جانچ دو ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی خرابی یا مشکوک سرگرمی کی نشاندہی پر متاثرہ ہارڈ ویئر کو فوری طور پر الگ کرنے اور شواہد محفوظ بنانے کے ساتھ وینڈر کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔

نیشنل سرٹ کا کہنا ہے کہ غیر شفاف وینڈرز، غیر محفوظ لاجسٹکس اور غیر تصدیق شدہ سافٹ ویئر ریاستی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں جبکہ عالمی سپلائی چین اب سائبر تخریب کاری اور جاسوسی کا اہم محاذ بن چکی ہے۔

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کو محفوظ نہ بنانے کی صورت میں بجلی، بینکاری اور دفاعی نظام متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ کمیونیکیشن ڈیوائسز، نیٹ ورک مینجمنٹ ٹولز اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

جب قوانین مقصد کو کچل رہے ہوں

Published

on



جب دنیا میں ایڈز کی بیماری تیزی سے پھیل رہی تھی، ہزاروں لاچار مریض علاج کی راہ تک رہے تھے۔ اس دوران امید کی کرن دوا زیڈوویڈین پر تحقیق جاری تھی مگر اس وقت کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کے ضابطے سخت اور سست رفتار تھے کہ منظوری کوسوں دور نظر آتی تھی۔ مریضوں کی بے چینی میں شدت کا پھیلنا اور ڈاکٹروں میں اضطراب و کوفت اپنے عروج پر تھا۔

تحقیقی اداروں کا مؤقف تھا کہ مکمل سائنسی ثبوت کے بغیر دوا کو عام استعمال کی اجازت دینا خطرناک ہوگا۔ دوسری طرف مریضوں کا سوال یہ تھا کہ جب بیماری مہلک ہے اور متبادل علاج موجود نہیں تو کیا ضابطوں کی سختی انسانوں کی فوری ضرورت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

اس کشمکش نے بالآخر ریگولیٹری نظام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہر صورتحال کے لیے ایک ہی قسم کا ضابطہ مناسب طریقہ ہے۔ بعد میں اسی دباؤ کے نتیجے میں فاسٹ ٹریک اور ہمدردانہ استعمال کی اجازت جیسے راستے تراشے گئے، جنہوں نے شدید بیماریوں کے علاج میں نئی ادویات تک رسائی کو نسبتاً تیز کیا۔

یہ ہمیں ایک قدیم استعارے کی یاد دلاتا ہے۔ یونانی دیومالا کا تصوراتی کردار کچھ یوں ہے کہ پروکرسٹس اپنی چارپائی کے سائز کے مطابق مسافروں کو زبردستی ڈھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جو مسافر چارپائی سے زیادہ لمبا ہوتا اس کے پاؤں کاٹ دیتا اور جو چارپائی سے چھوٹا ہو اسے کھینچ کر لمبا کرتا۔ اسی سے پروکرسٹین اپروچ کی اصطلاح پیدا ہوئی، یعنی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک پہلے سے طے شدہ سانچے میں سمونے کی کوشش۔

ادویاتی اور حیاتی علوم کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ استعارہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوا کی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کا عمل یقیناً انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ انسانی صحت سے جڑے معاملات میں ذرا سی لاپرواہی سنگین اور ناقابل تلافی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں سخت ریگولیٹری نظام مریضوں کے مفادات کے تحفظ کےلیے کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضابطے مقصد کے بجائے خود مقصد بن جائیں۔

سائنس کی فطرت مسلسل تبدیلی اور دریافت پر مبنی ہے۔ نئی بائیولوجیکل تھراپیز، جین پر مبنی علاج اور ذاتی نوعیت کی ادویات پرسنالائنز میڈیسن جیسے میدان روایتی فریم ورک سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اگر ہر نئی تحقیق کو پرانے پیمانوں میں ناپنے پر اصرار کیا جائے تو بعض اوقات تحقیق کی رفتار غیر ضروری طور پر سست ہوجاتی ہے۔

ایک پیشہ ور کی حیثیت سے یہ احساس بار بار سامنے آتا ہے کہ ضابطوں کا اصل مقصد تحقیق کو روکنا نہیں بلکہ اسے محفوظ اور ذمے دار بنانا ہے اور یہی رہنا چاہیے۔ جب قوانین لچکدار ہوں، سائنسی فہم کے ساتھ ترقی کریں اور مختلف حالات کے مطابق ڈھل سکیں تو وہ علم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ ترقی کی ضمانت کے محافظ بن جاتے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ادویاتی علوم تک محدود نہیں۔ تعلیم، معیشت، شہری منصوبہ بندی اور انتظامی ڈھانچوں میں بھی اکثر یہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی طریقہ ہر مسئلے پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظام بظاہر منظم نظر آتا ہے مگر حقیقت کی پیچیدگیوں کو سنبھال نہیں پاتا۔ شاید اسی لیے پروکرسٹس کی کہانی آج بھی ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ 

ضابطے ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد زندگی اور علم کو ایک تنگ بستر میں فٹ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ نظام، حقیقت کے مطابق ڈھلے، کیونکہ جب حقیقت کو نظام کے مطابق کاٹا چھانٹا جاتا ہے تو نہ صرف تحقیق متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی فلاح کا مقصد بھی کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے اوزار یا معیار استعمال نہ کریں۔ ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کو دوسرے کی معیار میں گڈمڈ نہ کریں۔ پرندوں کی آنکھ سے اونچائی پر جاکر مشاہدہ کریں، مطالعہ کریں، گفت و شنید کریں، نکتے جوڑ کر بڑی تصویر کے مصور بنیں اور دانشمندانہ فیصلے میں شواہد و معقولیت کو جگہ دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے چینی کی درآمد پر رعایتی ٹیکس کی مدت میں اضافہ کردیا جس کا اطلاق 28 فروری 2026 تک درآمد کی گئی چینی پر ہوگا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس قوانین میں ترامیم کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق رعایتی مدت نومبر 2025ء سے بڑھا کر فروری 2026ء کردی گئی ہے، ٹریڈنگ کارپوریشن، متعلقہ کمپنیاں درآمدی چینی پر 0.25 فیصد ٹیکس دیں گی۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کا اصل اسٹینڈرڈ ریٹ 18 فیصد ہے، رعایت میں تین ماہ کی توسیع کا مقصد چینی کی مقامی قیمتیں کنٹرول کرنا ہے، ٹیکس چھوٹ میں توسیع وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending