Connect with us

Today News

رمضان، امداد اور جدید ٹیکنالوجی

Published

on


ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا ایک استعمال عوام میں شعور بلند کرنے کے حوالے سے بھی دیکھنے میںآ رہا ہے۔ اس ضمن میں رمضان کے موقع پر خیرات، صدقات و زکوٰۃ کے حوالے سے ایک مہم دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مہم میں لوگوں کی امداد کرنے والوں کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ بغیر تحقیق کے امداد دینے سے پیشہ ورگداگروں کو امداد مل جاتی ہے جب کہ اصل مستحقین اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔

 بلاشبہ پیشہ ورگداگر اور جرائم پیشہ ور افراد رمضان کے مہینے میں امداد دینے والوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شہر میں بڑی تعداد میں آتے ہیں اور خواہ افطاری ہو، مفت دسترخوان ہو یا کوئی اور نقد امداد وغیرہ، ان کی پہنچ ہر جگہ ہوتی ہے جس میں یہ ہزاروں نہیں، لاکھوں روپے کماتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ ایک اچھی مہم ہے کہ جس میں لوگوں کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ امداد دینے کے لیے پہلے اچھی طرح معلومات کریں،کوشش کریں کہ پہلے اپنے قریبی رشتے داروں، عزیزواقارب، پڑوسی اور مستحق دوستوں کی امداد کریں۔ راقم کے خیال میں سوشل میڈیا پر جو لوگ اس قسم کی مہم چلا رہے ہیں، وہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اس قسم کی خبریں ہم سب کے سامنے ہیں کہ پیشہ ور گداگر ایک مڈل کلاس فرد سے زیادہ قیمتی موبائل بھی استعمال کرتا ہے اور اپنا بینک بیلنس لاکھوں، کروڑوں میں بھی رکھتا ہے۔

دیکھا جائے تو اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں اپنے قریبی لوگوں، پڑوسیوں کے حالات سے آگہی اور ان کی پہلے امداد کا درس ملتا ہے، لیکن یہاں دو اہم مسئلے ہیں، ایک یہ کہ پتہ کیسے چلے کہ کون مستحق ہے؟ دوسرا یہ کہ ان کی مدد کیسے کی جائے کہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو؟ آج کل یہ معلوم کرنا کہ کسی کے حالات کیسے ہیں کوئی مشکل کام نہیں اور نہ ہی ان کو تلاش کرنا کوئی مشکل کام ہے۔ مثلاً کسی دوست، پڑوسی وغیرہ سے باتوں باتوں میں اگر یہ سوال پوچھ لیا جائے کہ اس نے اس سال زکوٰۃ نکالی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہو تو یہ تصدیق ہو جائے گی کہ یہ صاحب نصاب نہیں ہے اور یہ کہ اس کو زکوٰۃ کا پیسہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دوران گفتگو بچوں کی اسکول کی فیس سے متعلق بات کرکے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی بچے کی فیس ہر مہینے باقاعدگی سے جاری ہے یا اس میں تعطل واقع ہو رہا ہے۔ (ویسے فیس والی معلومات کسی اسکول سے بھی لی جا سکتی ہے کہ وہاں کتنے طلبہ کی فیسیں واجب الادا ہیں۔)

اسی طرح اگرکوئی گھرکا واحد کمانے والا ہے اور وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے تو یہ بات بھی عیاں کرتی ہے کہ اس کی مالی مشکلات بہت زیادہ ہونگی،کیونکہ آج کل آدھی تنخواہ توگھرکے کرائے میں چلی جاتی ہے اور جو آدھی بچتی ہے۔ اس کا مزید آدھا حصہ یوٹیلیٹی بلزکی ادائیگیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ آٹے، پیٹرول جیسی چیزوں کے لیے کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی کیونکہ روز ہی کھانا اور روز ہی کام پر جانا بھی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ایسی صورتحال میں رمضان اور عید جیسے تہوار آجائیں توکسی کا گزارا کیسے ہو سکتا ہے؟ گویا کرائے کے مکانات میں رہنے والے بھی مشکل ترین وقت گزار رہے ہوتے ہیں مگر ہماری توجہ اس طرف نہیں ہوتی۔

آج کل جس قدرکم تنخواہیں ہیں اور جس قدر مہنگائی بڑھ چکی ہیں اور اس میں صبح و شام اضافہ ہو رہا ہے، اس کے مطابق تو صرف نچلا طبقہ ہی نہیں، متوسط طبقہ بھی بری طرح پریشان ہے۔ متوسط طبقہ بھی جیسے تیسے عام دنوں میں تو زندگی گزار ہی رہا ہوتا ہے مگر رمضان اور عید جیسے تہوار آجائیں تو حالات اس کے قابو میں نہیں رہتے۔ یہ طبقہ تو زکوٰۃ، خیرات بھی لینا پسند کرتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کی مدد نہ کی جائے؟ او ر اگر کی جائے تو کیسے کی جائے؟ یہ طبقہ دفتروں میں درمیانہ درجے کی ملازمت کرتا ہے، کسی فیکٹری، کارخانے وغیرہ میں بھی یہی حال ہے یا پھر پارٹ ٹائم بائکیا چلاتے، دیگر پارٹ ٹائم کام کرتا نظر آتا ہے۔

اس قسم کے تمام لوگوں کی امداد سب سے احسن انداز میں ان کے آجر (یعنی کام لینے والے مالکان یا سیٹھ) کرسکتے ہیں۔ کوئی کمپنی ہے تو اس کا مالک اپنے ایسے ملازمین کو بونس، عیدکے تحائف، جوڑے، عید ایڈوانس یا عیدی وغیرہ جیسی سہولت دے سکتا ہے۔

ہمارے ہاں بڑے بڑے کاروباری افراد اپنی زکوٰۃ کی ایک بہت بڑی رقم کے علاوہ بھی بڑی، بڑی رقم کے امدادی چیک فلاحی تنظیموں کو دیتے ہیں اگر یہی رقم وہ لوگوں کو براہ راست دے دیں تو فوراً ہی مستحقین تک پہنچ سکتی ہے۔ مثلاً اپنے ملازمین کو بونس، عید کے تحائف، جوڑے اور عیدی وغیرہ جب کہ اسی طرح زکوٰۃ کے مستحقین کو زکوٰۃ کی رقم بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔ عموماً ایسے لوگ فلاحی تنظیموں کو بڑی رقم دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان تنظیموں کا آڈٹ ہی نہیں ہوتا اور جن کی ایمانداری مشہور ہے ان کا اور تمام تنظیموں کا تقسیم کا جو طریقہ کار ہے وہ پیچیدہ اور طویل نوعیت کا ہوتا ہے جس سے ایک سفید پوش اور عزت دار فرد تک امداد پہنچنا کچھ مشکل ہی ہوتا ہے جب کہ براہ راست امداد فوراً ہی کسی مستحق کو مل جاتی ہے۔

کسی کی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے، اس کی مدد کرنا دورحاضر میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی ادارے میں کام کرنے والوں کا ذاتی ڈیٹا دیکھ کر ان کی الگ الگ یعنی انفرادی معاملات معلوم کی جا سکتی ہیں، اگر ڈیٹا نہیں ہے تو بھی کسی کے شناختی کارڈ سے اہل خانہ کی پوری تفصیل معلوم کی جا سکتی ہے کہ اس کے گھر میں کتنے لوگ کمانے والے ہیں،کتنے صرف کھانے والے ہیں، کتنے زیر تعلیم ہیں وغیرہ۔ یوں تمام ملازمین کی مالی پوزیشن سامنے آجائے گی۔ فلاحی تنظیمیں بھی نادرا وغیرہ کے ذریعے اس قسم کی معلومات حاصل کرکے مستحقین کی فہرست مرتب کر سکتی ہیں جن کو وقتاً فوقتاً مختلف قسم کی امداد دی جا سکے۔

اس کے علاوہ مستحقین کا ڈیٹا سوشل میڈیا کے ذریعے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً امداد کرنے والی تنظیمیں اور مخیرحضرات اپنا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، پورٹل یا فارم وغیرہ سوشل میڈیا پر فراہم کردیں جس کو مستحقین گھر بیٹھے بھردیں اور پھر امداد دینے والے اپنی انکوائری کرکے مستحقین کو ایزی پیسہ یا ان کے فراہم کردہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے رقم فراہم کردیں۔ یوں مستحقین گھر بیٹھے امدادی رقم وصول کرلیں گے اور ان کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی۔ ویسے بھی ہماری حکومتیں بھی غریبوں کو اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ہر ماہ رقم فراہم کرتی ہیں۔ اب ہماری فلاحی تنظیموں اور امداد دینے والے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس جدید طریقے کو اپنائیں۔

 امداد کے پرانے طریقے لوگوں کی عزت نفس کو بھی ٹھیس پہنچانے کا باعث بنتے ہیں اور عموماً کسی جانی ومالی نقصان کا بھی باعث بن جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے ماضی کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جب امداد دینے والے مستحقین کے مجموعہ اور بھیڑکو منظم نہیں رکھ سکے اور دھکم پیل کے باعث امداد لینے کے لیے آنے والی خواتین اور مرد اپنی جان گنوا بیٹھے۔ جو نہایت افسوس ناک بات ہے، لٰہذا راقم کی گزارش ہے امداد دینے والے مذکورہ بالا اہم باتوں پر غورکریں اور امداد کے اس نیک عمل کو اور بہترین بنائیں۔ زکوۃ دینے اور لینے والے کی شرائط کی بہت سی باریکیاں ہوتی ہیں جنھیں مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امدادی تقریب میں مسلمان خواتین کو صاف انکار، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

Published

on


نئی دہلی: بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست راجستھان میں ایک امدادی پروگرام کے دوران چند مسلمان خواتین کو مبینہ طور پر امدادی سامان دینے سے انکار کر دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بی جے پی کے مقامی رہنما سکبھیر سنگھ ایک تقسیمِ کمبل پروگرام میں شریک تھے۔

اخبار کے مطابق متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ جب منتظمین کو ان کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو انہیں امدادی فہرست سے الگ کر دیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رہنما نے مبینہ طور پر کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں امدادی سامان لینے کا حق نہیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور نفرت انگیز واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم اس معاملے پر متعلقہ رہنما یا حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے واقعات ملک میں سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان شفاف تحقیقات اور مساوی سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا طالبان دور میں افغانستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا؟ افغان جریدے کا بڑا دعویٰ

Published

on


کابل: افغان جریدے ہشت صبح نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت کو دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی کے باعث سفارتی اور عسکری سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طالبان حکام بالواسطہ طور پر افغانستان میں شدت پسند عناصر کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔

جریدے کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ براہ راست عسکری تصادم افغانستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک طالبان اقتدار میں رہیں گے، افغانستان کو عالمی سفارتکاری میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا اور عوام بھی ملک میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحد پار حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں کیسے پہنچ سکتا ہے؟ اگر مگر کا کھیل شروع

Published

on



کراچی:

پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔

انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کو اپنے آخری میچ میں فتح حاصل کرنا ہوگی اور دیگر میچوں کے نتائج بھی پاکستان کے حق میں جانے چاہئیں۔

پاکستان سپر 8 مرحلے کا اپنا آخری میچ 28 فروری کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایک پوائنٹ ہے جبکہ انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے سری لنکا کو شکست دینا ضروری ہے تاکہ تین پوائنٹس مکمل ہو جائیں۔ تاہم صرف جیت کافی نہیں، نیوزی لینڈ کے نتائج بھی اہم ہوں گے۔ اگر نیوزی لینڈ دونوں بقیہ میچ ہار دیتا ہے تو پاکستان دوسرے نمبر پر سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے۔

اگر پاکستان جیت جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ ایک میچ جیت لیتا ہے تو دونوں ٹیمیں تین تین پوائنٹس پر پہنچیں گی اور سیمی فائنل کی جگہ نیٹ رن ریٹ کے حساب سے ملے گی۔

دوسری طرف اگر پاکستان سری لنکا سے ہار جاتا ہے یا میچ ملتوی ہو جاتا ہے تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر 8 کے دیگر گروپ میں انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے جگہ یقینی بنا لی ہے، اس لیے پاکستان کے امکانات اب اپنے آخری میچ اور نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending