Connect with us

Today News

رمضان، عید اور پٹرول بم

Published

on


وہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ اہلِ ایمان پر سایہ فگن رہ کر رخصت ہونے کو ہے جسے اللہ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا، رمضان اللہ کے قریب ہونے، گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے، مغفرت کے دروازوں کھلوانے، رب کو راضی کرنے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔

خوش نصیبوں نے رمضان کو اس کی شان کے مطابق گزارا ہوگا، روزوں کے اہتمام اور فرض عبادات کے ساتھ قیام الیل سے منور کیا ہوگا۔ قرآن عظیم الشان کی تلاوت کو معمول بنایا ہوگا، صدقات و خیرات کے ذریعے مستحق مخلوق کا سہارا بن کر خالق کا قرب حاصل اور اپنی لغزشوں کو معاف کروایا ہوگا۔ رمضان کا حق ادا کرنے والوں کے لئے رمضان یقیناً مغفرت، رحمت اور جہنم سے نجات کا پروانہ بن کر آتا ہے۔ رمضان باطن کی تطہیر اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان کے روزے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، یہ صبر و شکر، تقویٰ، ایثار، تحمل اور ہمدردی کو زندگی کا حصہ بنانے کا سالانہ عملی تربیتی کورس ہے۔ رمضان کو رضا الہی کا طالب بن کر گزار جایا تو روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

رمضان کی آخری ساعتیں ہیں، سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟ کہ ہماری زندگیوں میں عبادت، اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کا رنگ گہرا ہوا ہے کہ نہیں اور ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، انصاف اور خیر کی بنیادوں پر استوار کرنے اور اس کیفیت کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں اور معاشرہ دونوں کو فلاح و کامیابی کی طرف لے جائے گا انشاء اللہ۔

عید الفطر کی آمد آمد ہے، رمضان اور عیدالفطر دونوں قرب الہی حاصل کرنے، معاشرے میں اخوت و محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا ایک بڑا طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہو تو رمضان اور عید دونوں آزمائش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی نے غریبوں کی زندگی تو پہلے سے اجیرن کی تھی مگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط طبقے کا بھی جینا دوبھر کردیا گیا۔قیمتوں میں پہلے8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اورٹھیک ایک ہفتے کے بعد 55 روپے لیٹر کا ظالمانہ اضافہ کیا گیا یوں فی لیٹر قیمت میں 63 روپے اضافہ ہوا تو ماہ رمضان میں مہنگائی کا بے قابو جن دستک دیئے بغیر غریبوں کے گھروں میں دھما چوکڑی کرنے داخل ہوا تو رمضان اور عید کی خوشیاں نگل گیا۔اسلام میں ریاست صرف انتظامی ادارہ نہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ادارہ بھی ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا درخشاں دور جس کی بہترین اور واضح مثالیں ہیں۔ خلیفہ دوم امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے دو واقعات اسلامی ریاست اور حکمرانی کے تصور کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک رات مدینہ کے اطراف گشت کے دوران حضرت عمرؓ نے ایک خیمے میں بچے کے رونے کی آواز سنی۔ تو پوچھا بچے پر کیوں ظلم کرکے رولا رہے ہیں آپ لوگ؟ مجبور ماں نے اندر سے جواب دیا کہ ظالم ہم ہیں کہ خلیفہ؟

امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے پوچھا کہ خلیفہ نے کیا ظلم کیا؟ عورت نے جواب دیا کہ امیرالمومنین دودھ پیتے بچوں کو روزینہ نہیں دیتے، ہم غربت و افلاس کے مارے ہیں اس لئے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ اس کا روزینہ شروع ہوجائے، گھر میں بچے کو کھلانے کے لئے کچھ اور ہے نہیں بچہ اس لئے رو رہا ہے۔ اگر یہ واقعہ آج کے کسی حکمران کے ساتھ پیش آتا تو شاید اس غریب عورت کی جھونپڑی جلا دیتا مگر امیر المومنین بہت غمگین ہوئے اور فوراً بیت المال سے بچے کے پیدائش کے ساتھ روزینہ شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک بار کسی گھر سے بچوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم کیا تو ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال کر بھوکے بچوں کو بہلا رہی کہ سو جائیں، عمرؓ بہت غمگین ہوئے بیت المال گئے اور آٹا اور دیگر سامان عمرؓ نے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر پہنچایا۔ خادم نے بوجھ اٹھانا چاہا تو عمرؓ نے جواب دیا کہ “قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بیت المال کے نظم و نسق اور معاشی انصاف کی وجہ سے اکثر اوقات زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوجاتا تو کوئی غریب بھوکا سوتا نہ حکمرانوں کے لیے استثنا کے قوانین بنتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی پالیسیاں تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ پیٹرول بم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ شریعت مطہرہ میں حکمرانوں کو عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن یہاں ہر مشکل میں غریب کا سر ہی چکی میں دیا جاتا ہے، ریاستی جبر، بے رحمانہ اور ظالمانہ فیصلے آئیں گے تو پھر غریبوں، لاچاروں اور بے بس لوگوں کی ذمہ داری معاشرے کے آسودہ حال لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ رمضان اور عید کے مواقع پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں یہ معاشرتی ہم آہنگی ، مساوات اور خوشیاں بانٹنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر غریبوں کو مانگنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔

اگر خدانخواستہ آسودہ حال لوگ مدد نہیں کرینگے تو ان کی عید کی تیاریاں بنیادی ضروریات سے محروم غربا کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے مواقع پر غریبوں کا خیال رکھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر واضح کریں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں، مگر حقیقت ہے کہ یہ فلاحی اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں اور مستقل حل ایک متوازن شرعی معاشی نظام کے نفاذ میںہے مگر ہمارے سودی اور استحصالی معاشی نظام میں غریب کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں پٹرول بم بہت سارے بموں کی ماں بن کر غریبوں کے آنگن میں گرتا ہے، جس کے اثرات صرف کرایوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

جس ملک میں لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، روز ہزاروں گر رہے ہوں اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہو وہاں اس طرح کے پیٹرول بم عوام الناس کو جبری طور پر خط غربت سے نیچے دھکیل کر گرانے کے مترادف ہے۔ پٹرول بم، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو جنم دیتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت و معاشرت دونوں کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرایوں میں اضافے کا بم اچانک گرتا ہے، ترسیل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ کر مہنگائی بم گرانے میں دیر نہیں لگتی۔

پٹرول بم بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن کر بجلی بم گرانے میں دیر نہیں لگاتا، بجلی بم گرنے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ بھی آخرکار صارفین پر دوسرے مہنگائی بم کی شکل میں گرتا ہے۔ جو متوسط اور غریب طبقہ کے تنخواہ دار، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کی جیبوں کے ساتھ دماغ میں جاکر پھٹتا تو نوبت فاقوں سے خود کشیوں تک پہنچ جاتی ہے۔یا ریاستی معاشی بمباری کی وجہ سے ناقابل برداشت  مہنگائی مزید بڑھنے سے عوام میں بے چینی و مایوسی بڑھنے لگتی ہے جو بعض اوقات انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی مجبوریوں کی صورت میں سارے ڈاکے عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بجائے، معاشی پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیتی تو شاید عوام کو کچھ ریلیف ملتا۔ معاشی پالیسیوں میں توازن وقت کا تقاضا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو بھی جینے کا بہانہ مل جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قطرنے ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

Published

on



دوحا:

قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دوحہ حکومت نے سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، دوحہ میں موجود ایرانی سفارتخانے کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطر نے اپنے آئل فیلڈز پر ایرانی حملوں کا الزام عائد کیا۔

ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں توانائی سیکیورٹی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاک افغان تعلقات اور چین کا کردار

Published

on


پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔اس ماحول نے اب ایک باقاعدہ کھلی جنگ کی صورتحال اختیار کرلی ہے۔دو طرفہ بات چیت کے جتنے بھی امکانات تھے یا جو بھی بڑی بڑی سیاسی بیٹھکیں سجائی گئیں کہ دو طرفہ مکالمہ کی بنیاد پر مسائل کا حل نکل سکے وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ۔

اس وقت جنگ کا ماحول ہے ۔ یہ ماحول پورے خطے کی سیاست کے لیے بھی مستقبل میں اچھے امکانات پیدا نہیں کررہا جو خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ۔قطر، دوحہ اور سعودی عرب نے جو کوششیں کیں وہ بھی فوری طور پر کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں اور اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے تحفظات پر کسی بھی طرز کی تحریری ضمانت نہ دینے کا فیصلہ تھا جو ڈیڈ لاک کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں ایک بڑے موثر کردار ادا کرنے کے لیے فرنٹ فٹ پر ہم چین کے کردار کو دیکھ رہے ہیں ۔یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ موجودہ حالات میں یہ بات سمجھ آرہی تھی کہ امریکا اور چین کی ثالثی کے بغیر پاکستان افغانستان تعلقات میں فوری طور پر بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ آج کی دنیا میں طاقت اور سفارت کاری یا بڑی معیشت کی حکمرانی ہے ۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چین اپنی سیاسی اور معاشی سطح پر موجود طاقت کی بنیاد پر ایک فعالیت پر مبنی کردار ادا کرسکتا ہے ۔

حالیہ کچھ عرصہ میں ہم نے اس کردار کی کچھ اہم جھلکیاں بھی دیکھی ہیں۔ ایک طرف چین کی معاشی طاقت تو دوسری طرف دونوں ممالک کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی اپنی سطح پر اسٹرٹیجک ضرورت بھی ہے۔چین کی قیادت اس وقت شٹل ڈپلومیسی اور یا پس پردہ ڈپلومیسی کی بنیاد پر دونوںممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتی ہے اور اسی تعلقات کی بہتری میں چین کے اپنے معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے خصوصی نمائندے اس وقت دونوں ممالک کی قیادت سے رابطوں میں ہیں اور جو کچھ بات چیت ہو رہی ہے اس میں چین کا کردار ہی شامل ہے۔

چین سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو جہاں چین کے معاشی مفاد کو فائدہ ہوگا وہیں یہ دونوں سطح کے ممالک کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹوسے پاکستان کی سیکیورٹی ، افغانستان کو سرمایہ کاری اور معدنیات کی ترقی میں فائدہ پہنچ سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ اگر دونوں ممالک بہتر تعلقات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو اس خطہ میں چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی اور اس کا فائدہ دونوں ممالک کو معاشی ترقی کی صورت میں ہوگا۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں تو خود افغان حکومت بھی چین کے ساتھ نہ صرف بہتر تعلقات رکھے ہوئے ہے بلکہ افغان حکومت معاشی ترقی کے عمل میں چین پر بڑا انحصار کر رہی ہے۔

اس لیے چین اس پوزیشن میں نظر آتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیا ن تعلقات کی خرابی کو کم کرنے میں بہت کچھ کرسکتا ہے۔اسی طرح یہ جو افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے اور جس کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے اس کو بھی کم کرنے میں چین کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ افغانستان کو یہ باور کروا سکتا ہے کہ اس کے بھارت سے تعلقات کی بنیاد پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے اور جو پاکستان کے تحفظات ہیں اسے ہر صورت افغان حکومت کو بات چیت کی مدد سے دور کرنا چاہیے۔

چین نے زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں دونوں ممالک میں سخت کشیدگی ہے تو پہلے مرحلے میں دونوں ممالک ایسے عملی اقدامات اٹھائیں جو ماحول کو ابتدائی طور پر سازگار بنانے میں مدد کرسکیں ۔کیونکہ سخت کشیدگی ، الزامات یا جنگ کے ماحول میں بات چیت کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں ۔چین کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ بہت زیادہ کسی ایک طرف جھکاؤ رکھ کر آگے بڑھنے کا حامی نہیں بلکہ اس کی پالیسی کو توازن کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اور ان میں معیشت کو اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح چین یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس خطہ میں اس کی معاشی ترقی کا ایک بڑا انحصار علاقائی بہتر تعلقات اور بالخصوص بہتر سیکیورٹی کے مسائل کی بنیاد سے جڑے ہوئے ہیں۔چین جتنی بھی علاقائی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں ہیں چاہے وہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر کام کررہی ہیں ان کو اپنا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے۔اسی طرح پاکستان بھی داعش سمیت ٹی ٹی پی کو اس خطہ کی سیاست میں دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ۔اصولی طور پر تو اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمے میں تمام ممالک کی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی ،میکنزم اور فریم ورک کی ضرورت ہے اور اس اہم کام میں چین بڑا کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کے اس کردار سے انکار کرنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

یہ جو پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغانستان ہمیں ٹی ٹی پی کی جانب سے ان کی سرزمین دہشت گردی میںاستعمال نہ کرنے کی تحریری ضمانت دے اس میں بھی چین یہ کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر افغانستان براہ راست پاکستان کو یہ ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تو وہ یہ ضمانت چین کو بھی دے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے۔اسی طرح سے افغانستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر اسے عالمی سطح پر اپنے کردار کو بڑھانا ہے یا اپنی قبولیت کو ممکن بنانا ہے تو یہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان چاہے گا کہ افغانستان اس عمل میں ان کے دشمن ٹی ٹی پی کو ختم کرے اور ان کو ختم کیا جائے ۔چین کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اسے اس عمل میں بھارت، ایران اور سعودی عرب کی حمایت بھی درکار ہے اور چین کبھی یکطرفہ پالیسی کی بنیاد پر کسی کی حمایت اور مخالفت میں سامنے نہیں آئے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں طوفانی بارش، مختلف حادثات میں ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ نے فوری نوٹس لے لیا

Published

on



کراچی:

کراچی میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثات میں بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 11 میں عمارت گرنے اور مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔

وزیراعلیٰ نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ریسکیو اور ریلیف ادارے موقع پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

شرجیل میمن کے مطابق بعض علاقوں میں درخت اور بجلی کے پول گرنے کے باعث بجلی کی بندش نے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا کیں، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بلدیہ مدینہ کالونی مواچھ گوٹھ پہنچے جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حکام سے بریفنگ لی۔

اس موقع پر انہوں نے ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور تمام متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

ادھر اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے بھی شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔





Source link

Continue Reading

Trending