Connect with us

Today News

رمضان ، طلبہ کی مشکلات اور تعلیم میں توازن

Published

on


رمضان المبارک صرف عبادت اور روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، برداشت، ہمدردی اور معاشرتی تربیت کا بھی مقدس وقت ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان کی اہمیت صرف عبادت میں نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات، تعلیمی نظام اور سماجی رویوں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔

گھروں کی روایات بدل جاتی ہیں، سحری اور افطار کے اوقات معمولات پر اثر ڈالتے ہیں، اور بچوں کے لیے یہ مہینہ خوشی اور روحانی سکون کا سبب بنتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام خصوصاً نجی سیکنڈری اسکول رمضان کی ضرورتوں اور بچوں کے حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس وقت ملک کے کئی اسکولوں میں رمضان کے دوران امتحانات اور صبح سویرے کے اوقات کار جاری ہیں، جو بچوں اور والدین دونوں کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔

بچے رات کے وقت عبادات، تراویح اور سحری میں حصہ لیتے ہیں، جس کے باعث دیر سے سوتے ہیں۔ صبح امتحان یا کلاس کے لیے جلدی اٹھنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔

نتیجتاً نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ والدین اکثر پریشانی کے عالم میں بچوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو روزہ چھوڑیں یا امتحان کے لیے دیر سے جا کر تھکان سہیں۔

تعلیم کا مقصد صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ صحت مند اور متوازن شخصیت کی تربیت بھی ہے، اگر طالب علم ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی تھکن کا شکار ہو تو تعلیم کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی مسلم ممالک رمضان میں اسکول کے اوقات کم یا دیر سے شروع کر دیتے ہیں تاکہ طلبہ عبادت، صحت اور تعلیم کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔

چند ہفتے قبل موسمِ سرما میں طلبہ کی سہولت کے لیے سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اسکول کے اوقات صبح نو بجے مقرر کیے تھے، جسے والدین، اساتذہ اور طلبہ نے سراہا۔

یہ قدم اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر پالیسی ساز طلبہ کی فلاح اور آسانی کو ترجیح دیں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسی سوچ کو رمضان میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

خصوصاً رمضان میں دیر سے اسکول شروع کرنا (صبح 10 یا 11 بجے) ایک عملی اور متوازن حل ہے۔ اس سے بچے مکمل نیند لے سکیں گے، روزے کے دوران جسمانی توانائی برقرار رہے گی اور عبادات میں بھی شریک رہ سکیں گے۔

امتحانی شیڈول کو مختصر کرنا یا نصف دن کے اوقات مقرر کرنا بھی ایک متوازن حل ہے۔

اساتذہ بھی روزے کی حالت میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ طویل اوقات کار ان کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں، جس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑتا ہے۔

اصلاح نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ پورے تعلیمی ماحول کے لیے ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کی صحت اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

آج کے بچے ہی کل کا مستقبل ہیں، اگر ہم ان کی جسمانی توانائی اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں گے تو مستقبل کی بنیاد کمزور ہوگی۔

نجی اسکولوں کی طرف سے اکثر کہا جاتا ہے کہ تعلیمی سال مکمل کرنا ضروری ہے اور امتحانات ملتوی نہیں کیے جا سکتے۔

مگر کیا واقعی یہ ممکن نہیں کہ رمضان کے دوران امتحانات یا کلاسز کے اوقات کو مؤخر کیا جائے؟ کم از کم صبح دیر سے شروع کرنا اور روزانہ کے دورانیے کو نصف دن رکھنا نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ تعلیم کے معیار کے لیے بھی مفید ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ رمضان میں صرف بچے ہی نہیں بلکہ اساتذہ بھی روزے کی حالت میں کام کرتے ہیں۔

طویل اوقات کار اور سخت امتحانی شیڈول ان کی تدریسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ آف سندھ رمضان المبارک کے لیے واضح اور یکساں پالیسی ترتیب دے۔

نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جس کے تحت دیر سے اسکول کا آغاز، مختصر اوقات اور امتحانات کے مناسب شیڈول کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف طلبہ بلکہ پورے سماج کے لیے مثبت پیغام ہوگا۔

رمضان ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کی مشکلات سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی بچوں کی نیند، صحت اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں تو رمضان کی اصل روح سے دور ہو جائیں گے۔ بچوں کی خوشی، صحت اور تعلیم میں توازن ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔

تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف طلبہ بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔

اسکول کے اوقات میں نرمی، امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی اور طلبہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کی پہچان ہے۔آخر میں کہنا چاہتی ہوں کہ رمضان کو بچوں کے لیے امتحان نہیں بلکہ آسانی، تربیت اور رحمت کا مہینہ بنایا جانا چاہیے۔ جب بچے خوش، صحت مند اور مطمئن ہوں گے تو تعلیم اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی؛ نارتھ ناظم آباد میں گیس سلنڈر دھماکہ سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی

Published

on



کراچی:

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع بسم اللہ ریزیڈنسی میں رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

دھماکے کی زوردار آواز کے بعد عمارت میں رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اطلاع ملتے ہی تھانہ نارتھ ناظم آباد پولیس موقع پر پہنچا اور حفاظتی اقدامات شروع کیے، جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیم اور ایمبولینسز کو بھی طلب کیا گیا۔

فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ایک باؤزر آگ بجھانے کے لیے تعینات کیے گئے، اور عمارت میں موجود رہائشیوں کی محفوظ منتقلی کا عمل جاری ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری طور پر پولیس حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے کا حکم دیا، جبکہ متاثرہ عمارت اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوا۔ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد آگ لگنے کی مکمل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ مزید معلومات موصول ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی سفیر کے بیان پر سعودی عرب کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

Published

on



ریاض:

سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بیان میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے خیالات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے اجتناب کرے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد میں موٹر سائیکلوں پربھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

Published

on



اسلام آباد:

شہر اقتدار کی ضلعی انتظامیہ نے موٹر سائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت شہری اپنی بائیک، ملکیتی کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ چند منٹ میں ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ڈی سی اسلام آباد نے اپنے پیغام میں کہا کہ شہر بھر میں قائم 13 مخصوص پوائنٹس پر موٹر سائیکلوں کیلئے ایم ٹیگ سروس فراہم کی جا رہی ہے، جہاں شہری صرف 5 منٹ میں ٹیگ لگوا سکتے ہیں۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہر میں سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانا اور جرائم کی روک تھام میں مدد فراہم کرنا ہے۔ 

جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جلد از جلد اپنی بائیکس پر ایم ٹیگ لگوائیں۔





Source link

Continue Reading

Trending