Connect with us

Today News

رمضان الکریم ؛  رحمت کا، مغفرت کا پیغام لے کر آیا

Published

on


ماہِ رمضان بہت ہی برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں اﷲ کی رحمت گویا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند ہو جاتی ہے اور ہر نیک عمل کا اجر ستّر گنا بڑھ کر ملتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انسان کسی بھی مشق کے بغیر منصوبہ بندی اور ذہنی تیاری کے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ انسان کی اسی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اﷲ کے رسول ﷺ نے بھی شعبان کے آخری روز ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا تھا، جس میں رمضان کے فضائل کے ساتھ اس کی خصوصیات کا بھی ذکر فرمایا اور اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی تلقین بھی کی۔ حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ ماہِ شعبان کے آخری دن رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں ایک اہم خطبہ دیا اور اس میں آپؐ نے فرمایا، مفہوم:

’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

سورۃ البقرۃ میں بھی اس مہینے کے روزے کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے، مفہوم:

’’ تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔‘‘

اس مہینے میں روزہ رکھنا تو فرض ہے‘ جب کہ رات کا قیام نفل ہونے کے باوجود بہت ہی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ قیام اللیل کا اطلاق سورۃ المزمل کی آیات کی روشنی میں کم سے کم ایک تہائی رات پر ہوتا ہے‘ لیکن خلفائے راشدینؓ کے دور سے ہی اس کا کم سے کم نصاب اُمت کے اندر رواج پاگیا ہے اور وہ ہے نظامِ تراویح۔ یہ قیام اللیل بہت اجر و فضیلت کا باعث ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

’’جو شخص اس مہینے میں اﷲ کی رضا اور اس کا قُرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (سنّت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔ ‘‘

انسان جو بھی نیکی کرے وہ خالصتاً اﷲ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اس لیے کہ اگر نیّت ریا کاری اور شہرت کی ہو تو وہ نیکی برباد ہوجائے گی۔ اس ماہ میں خلوصِ نیّت سے ادا کیے گئے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستّر فرضوں کے برابر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس ماہ کو نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔

اس ماہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے:

’’یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ ‘‘

یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے، اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔ یہ رکنا دراصل صبر اور تقویٰ کی تربیت ہے۔ انسان کی نفسانی خواہشات میں حدود کو پھلانگنے کا رجحان پایا جاتا ہے‘ جب کہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان سارا سال اپنے آپ کو حرام سے روکے رکھے‘ گناہ سے باز آجائے اور منکرات سے اجتناب کرے، اسی کا نام صبر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلینا ہی صبر ہے‘ جب کہ حقیقت میں صبر کا مفہوم بہت جامع اور ہمہ گیر ہے۔ چناں چہ امام راغب اصفہانیؒ نے صبر کے تین درجے مقرر کیے ہیں۔ پہلا: گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا۔ دوسرا: اطاعت، بندگی اور دینی فرائض کی ادائی پر کاربند ہونا۔ اور تیسرا: مشکلات اور سختیوں میں صبر کرنا۔ خاص طور پر اقامت دین کی جدوجہد کے مراحل میں آنے والی سختیوں کو جھیلنا‘ برداشت کرنا اور پھر استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ اس اعتبار سے گویا پورا دین صبر کی تشریح میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کو جنّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں غم گساری اور ہم دردی کے احساسات انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ خوش حال اور کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ جب روزہ رکھتے ہیں تو انہیں کم از کم ان لوگوں کا احساس ضرور ہوتا ہے جو فاقوں میں زندگی گزارتے ہیں۔

اس ماہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے: ’’اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔‘‘ عام طور پر روزہ رکھنے سے کچھ لوگ اس لیے بھی کتراتے ہیں کہ سارا دن مشقت نہیں ہوسکے گی تو ہماری کارکردگی پر فرق پڑے گا اور اس طرح ہماری کمائی میں کمی آسکتی ہے۔ اس اندیشے کا ازالہ کردیا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بندۂ مومن کو یقین ہونا چاہیے کہ روزے کی وجہ سے اس کے رزق میں کوئی کمی نہیں آئے گی، چاہے کارکردگی عام دنوں سے کم ہوجائے۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’جس نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا‘ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘

یہاں ایک لمحے رک کر سوچنا چاہیے کہ ہماری ہم دردی اور غم گساری کے سب سے زیادہ مستحق کون لوگ ہیں۔۔۔ ؟ اس کا جواب یقیناً یہ ہے کہ ہماری ہم دردی کے مستحق معاشرے کے وہ لوگ ہیں جنہیں عام دنوں میں دو وقت کی روٹی بھی میسّر نہیں آتی۔ اگر آپ ان کا روزہ افطار کرائیں تو اس سے معاشرے کے اندر جو بھائی چارے کی فضا بنے گی اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔

رسول اکرمؐ کا انتہائی پُرمغز خطبہ جاری تھا کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے گویا درمیان میں یہ سوال پوچھ لیا: ’’اے اﷲ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا۔‘‘ اس پر آنحضورؐ نے فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی پر یا ایک کھجور پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے۔ اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا کہ جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تاآںکہ وہ جنّت میں پہنچ جائے گا۔‘‘

یہاں بین السطور یہ پیغام پنہاں ہے کہ جس کو کچھ میسر نہیں ہے وہ اپنے ساتھ کسی کو پانی‘ دودھ یا لسّی کے ایک گلاس میں بھی شریک کرلیتا ہے تو یہ بہت اجر و ثواب کی بات ہے۔ لیکن اگر معاملہ یہ ہو کہ خود اپنے لیے تو پکوان سجے ہوئے ہوں اور دوسروں کو صرف شربت یا لسّی کے دو گھونٹ پر افطار کروایا جا رہا ہے تو یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اس حوالے سے اصل بات یہ ہے کہ اس کی عملی تعبیر سامنے آنی چاہیے اور ہمیں اس پر بالفعل عمل بھی کرنا چاہیے۔

رسول اکرمؐ نے اس ماہ کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے ہوئے ہر عشرے کی الگ خصوصیات کا ذکر فرمایا: ’’اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔‘‘

رمضان المبارک کے حوالے سے انتہائی اہم خطبے کے آخری الفاظ یہ ہیں: ’’اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف و کمی کر دے گا‘ اﷲ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔‘‘

یہ بھی گویا ہم دردی اور غم گساری کا ایک مظہر ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کی ذمے داریوں میں تخفیف کردی جائے۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ انہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ ایک حدیث میں اس کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے: ’’جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹی بات بنانا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اﷲ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ اصل میں روزہ وہی ہے جو مکمل آداب اور شرائط کے ساتھ رکھا جائے۔

رمضان واقعی نیکیوں کی برسات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اگر ہم صحیح معنوں میں محنت کرکے اپنے نفس کی تربیت کرلیں تو اس کا اور کوئی بدل نہیں ہوسکتا اور اگر ہم اس ماہ میں بھی اﷲ کی رحمت سمیٹنے اور اپنی بخشش کرانے سے محروم رہ جائیں تو پھر ہم سے بڑا بدنصیب اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

درحقیقت رمضان المبارک کے دو متوازی پروگرام ہیں، ایک ہے دن کا روزہ اور دوسرا ہے رات کا قیام۔ رسول کریمؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے‘ اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے گئے‘ اور جو لیلۃ القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور اجر و ثواب کی امید کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: روزہ اور قرآن (قیامت کے روز) بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے ربّ! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس سے روکے رکھا‘ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! اور قرآن یہ کہے گا: اے پروردگار! میں نے اسے رات کے وقت سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا‘ لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما! چناں چہ (روزہ اور قرآن) دونوں کی شفاعت بندے کے حق میں قبول کی جائے گی اور اس کے لیے جنّت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا۔‘‘





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ

Published

on


1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔

اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔

طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔

جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔

ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔

1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔

صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی والوں کیلئے اچھی خبر، مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ کا ایک ٹریک چند دن میں کھولنے کا اعلان کر دیا

Published

on



کراچی:

میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور شہریوں کے لیے اچھی خبر دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایک ٹریک کو آئندہ چند دنوں میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔

معائنے کے دوران میئر کراچی نے کہا کہ انہیں عوام کو درپیش مشکلات اور تکالیف کا مکمل اندازہ ہے، اسی لیے وہ ہر ہفتے خود ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے آتے ہیں تاکہ کام کی رفتار کو تیز رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پورا شہر ان کی ذمہ داری ہے اور اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جو ان کی جماعت کی قیادت اور چیئرمین سے کیے گئے وعدوں کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں شہر بھر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور اب ہر کام شفافیت اور عوامی جوابدہی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کام میں سستی ہوئی تو ایسے افسران کی ضرورت نہیں، وہ کوئی اور کام تلاش کر لیں۔

میئر کراچی نے مزید اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے عوام سے براہِ راست تجاویز بھی حاصل کرے گی تاکہ شہریوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی جا سکے۔

بعد ازاں میئر کراچی نے سر غلام حسین ہدایت اللہ روڈ پر جاری کارپٹنگ کے کام کا بھی دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی ٹی ایس بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

چینی کمپنی کی 10ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی

Published

on



اسلام آباد:

چینی ایرو اسپیس کمپنی نے پاکستان میں 5 سے 10 ارب ڈالر مالیت تک کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ سے چینی کمپنی ایرو اسپیس ڈیولپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد نے لو جنہائی کی قیادت میں ملاقات کی۔

وفد نے پاکستان میں 5 تا 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔چینی وفد نے معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو خواہش کا اظہار کیا۔ 

انھوں نے پاکستان میں ہنر مندی کی ترقی کے پروگراموں پر کام کرنے اور ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں طویل المدتی شراکت کے اپنے وژن پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر نے چینی وفد کو سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کرینگے ۔





Source link

Continue Reading

Trending