Today News
رمضان کے بعد ضبطِ نفس کا امتحان
قرآن مجید کی زبان میں روزے کا مقصد خاص تقوی کا حصول ہے۔ تقوی ضبط نفس سے عبارت ہے، پیٹ اور نفسانی خواہشات گناہ کے سب سے بڑے دروازے ہیں، ہر گناہ کا سلسلہ انھی دو محرکات سے ملتا ہے۔
چوری اور ڈکیتی، قتل و غارت گری، دوسروں کے مال پر ناجائز قبضہ، دوسروں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا، رزق میں حرام و حلال کی تمیز نہ کرنا۔ ان سارے گناہوں کا سرچشمہ پیٹ کے سوا اور کیا ہے؟ زنا، بد نگاہی اور بدکاری کی تمام صورتیں اور ان کے لیے قتل و خون ریزی اور آبرو ریزی ان تمام گناہوں اور فتنوں کی اساس نفسانی خواہشات ہی تو ہیں! روزے کا بنیادی مقصد اور حکمت ان دو چیزوں کا کنٹرول اور توازن میں لانا ہے، کیوں کہ جو بندہ مسلسل ایک ماہ اپنے آپ کو اس طرح نفس کے دام ہم رنگ سے بچانے میں کام یاب رہے گا اور وقتاً فوقتاً نفل روزں کی صورت میں اﷲ سے محبت کے عہد کی تجدید کرتا رہے گا یقیناً اس میں اپنے آپ پر کنٹرول اور ضبط کی صلاحیت پیدا ہوگی اور وہ اپنے آپ کو ہمیشہ گناہوں سے بچا سکے گا، اسی کا نام تقوی ہے۔
تاہم اس کیفیت کے حصول کے روزے کے تمام آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ روزہ تو صرف صبح تا شام بھوکے پیاسے کا نام ہرگز نہیں ان کے پیچھے تو معاشرے کا سدھرنا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ روزہ تو گناہوں سے بچنے کا نام ہے اس مقصد سے عاری بھو ک و پیاس کی تو باری تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کاموں کو نہ چھوڑے تو اﷲ تعالیٰ کو اس بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حدیث پاک سے معلوم ہُوا کہ اﷲ کے ہاں روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ گناہوں سے بھی اجتناب برتے۔ اب اگر کوئی شخص روزہ تو رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اﷲ تعالیٰ کو اس روزے کی کوئی پروا نہیں، یعنی درحقیقت اس کو اجر و ثواب نہیں ملے گا کیوں کہ اجر و ثواب تو روزے پر ہے نہ کہ بھوکے پیاسے رہنے پر اور یہ گناہ والے اعمال کے ہوتے ہوئے جب روزہ مقصد سے خالی ہوا تو ظاہر ہے کہ روزہ باقی ہی نہیں رہا صرف یہ شخص بھوکا و پیاسا رہا جس کو باری تعالی کو کوئی ضرورت نہیں۔
لہذا اس اہم نکتہ سمجھنے کے بعد سب پہلے تو اس بات کا پختہ عزم کیجیے کہ رمضان کے بعد بھی پاکیزہ اور محتاط زندگی گزاریں گے۔ آنکھوں کا غلط استعمال نہ ہونے پائے، کانوں سے گناہ والی باتوں کو نہ سنے ، بے کار کاموں اور لایعنی کاموں میں مشغول نہ ہو۔ اسی طرح کسی کو دل میں کینہ، حسد اور غصہ رکھنا یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ کینہ رکھنا یہ اتنی بڑی بدبختی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا شخص شب قدر کی تجلیات مغفرت اور قبولیت دعا سے محروم رہے گا۔ لہذا رمضان کے برکات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ پر ایک نظر ڈالو کہ اور دیکھو کہ کسی کے ساتھ کینہ اور غصہ تو نہیں ہے۔ کسی کی حق تلفی تو نہیں ہوئی ہے، کسی کو ہماری ذات سے تکلیف تو نہیں پہنچی ہے۔
اﷲ پاک اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کی مخلوق ہم سے راضی نہیں ہوجاتی۔ لغو اور فضول باتوں سے پر ہیز کریں کیوں کہ ان سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح رمضان کے بعد بھی عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تلاوت کلام پاک کی کثرت ہو۔ تلاوت سے ہم بہت سارے فوائد سمیٹ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح درود شریف کی بھی کثرت رکھیے۔ رمضان کے بعد بھی دفتر میں کام کرتے ہو تو اس بات کا خاص اہتمام ہو کہ تمہارے ہاتھ، زبان اور قلم سے خدا کی مخلوق کو کوئی پریشانی نہ ہو کسی ناجائز غرض سے اس کا کام نہ روکو۔ آنکھیں گناہوں کی پہلی سیڑھی ہیں ان پر خاص خیال رکھیں۔ ہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بدنگاہی اور آنکھوں کی گناہ صرف کسی پر بُری نظر ڈالنا نہیں ہے بلکہ کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، حسد کی نظر سے دیکھنا بھی بدنگاہی ہے۔ معمولی بات پر غصہ آتا ہے یہ بات اچھی نہیں، اپنے اندر شائستگی اور عاجزی پیدا کیجیے۔
ایک افسوس ناک اور خطرناک رجحان بالخصوص نوجوانوں میں ابھرتا ہوا دیکھنے میں آرہا ہے کہ ساری رات جاگتے ہیں، بازاروں میں رونق اور چلت پھرت اور سرے سے رمضان کے اثرات بھی دکھائی نہیں دیتے۔ یہ انتہائی افسوس ناک پہلو ہے۔ لہذا اس بات کا خاص کر اہتمام لازم ہے کہ جس طرح رمضان میں محتاط تھے تو اب مزید تقوی اختیار کیجیے۔ باجماعت نماز کا اہتمام خود پر لازم کرلیں۔ لہذا ماہ رمضان کے بعد بھی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مخلوق خدا کو زیادہ سے زیادہ خیر ہی پہنچائے۔ ضروری ہے کہ رمضان المبارک کے اثرات ہماری زندگی کے ہر شعبے میں نظر آنے چاہییں تاکہ رمضان المبارک کی برکات اور ثمرات سے ہم اپنی بقیہ زندگی میں بھی مستفید ہوسکیں۔
Today News
مہنگائی گزیدہ پاکستانیوںاور جنگ زدہ ایرانیوں کی عید!
رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔خوش بخت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی مقدور بھر کوششیں کیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے رمضان شریف کی برکات کون سمیٹ سکے گا اور کون اِن کے فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔ عید مگر آ رہی ہے۔ شائد آج بروز جمعہ عیدالفطر ہو ہی جائے ۔ یہ’’ شائد‘‘ کا بھی عجب معاملہ ہے۔پکی بات نہیں ہے کہ آج 20مارچ 2026کو عید ہو گی یا نہیں ۔ ہر سال عید الفطر کی آمد آمد پر ایسا ہی ’’شائد‘‘ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ۔
شائد اِسی لیے 16مارچ کو اسلام آباد کے ایک شہری ( عبداللہ شفیق)نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک انوکھی درخواست دائر کی ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ’’ روئتِ ہلال کمیٹی کو عید الفطر کا چاند نظر آنے پر جَلد اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے کہ عید کے اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے کے باعث بازاروں میں اچانک رَش بھی بڑھ جاتا ہے اور انتظامیہ کے لیے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘
دیکھا جائے تو عدالتِ عالیہ کے رُو برو یہ درخواست اتنی بے جا بھی نہیں ہے ۔ مگر کیا کِیا جائے کہ ہماری عید جناب چاند صاحب کے طلوع ہونے سے مشروط ہے ۔ مگر یہ عید بھی کیا عید ہے ؟ بے لگام اور بے انتہا مہنگائی نے اگر اکثریتی پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو ایرانیوں اور اہلِ غزہ کو جنگ نے پریشان حال اور در بدر کر رکھا ہے ۔ امریکی و اسرائیلی طاغوت نے مل کر ایران اور غزہ پر جنگوں کے مہیب اور مہلک سائے مسلّط کر رکھے ہیں ۔ غزہ کی راکھ اور کھنڈرات پر مظلوم و برباد شدہ فلسطینی عید منائیں بھی تو کیسے ؟ یہی حال ایرانی بھائیوں کا ہے ۔
اِس وقت عالمِ اسلام کی جو مجموعی صورتحال ہے ، اِس پر کچھ عرصہ قبل ممتاز عالمِ دین و مفکر و مصنف علامہ یوسف القرضاوی( جو تھے تو مصری، مگر اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ قطر میں گزارا اور وفات کے بعد بھی قطر ہی میں دفن ہُوئے )نے عید کی آمد پر کہا تھا:’’ہم عید کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم عید کیسے منائیں؟ جب کہ ہماری اُمت اِس حال میں ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل اور ذبح کیا جارہا ہے ، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزررہی ہیں ، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِن مصیبت زدگان کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم زندگی اور عیدین سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؟ہم کیسے ہنس اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں؟۔‘‘
علامہ یوسف القرضاوی مرحوم نے ٹھیک اور درست ہی تو لکھا اور کہا تھا۔ہم اِس عید کے موقع پر بھی سرکش و غاصب صہیونی اسرائیل اور منہ زور و انتہائی طاقتور امریکا کی جانب دزدیدہ و خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عید ایسے حال میں آئی ہے جب اسرائیل و امریکا متحد و متفق ہو کر ایران کے سب سے بڑے اور بزرگ ترین روحانی رہنما، 86سالہ جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای کو (اُن کے کئی فیملی ممبرز سمیت) شہید کر چکے ہیں ۔17مارچ 2026کو صہیونی اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ، علی لاریجانی ، اور اُن کے صاحبزادے ( مرتضیٰ لاریجانی) کو بھی شہید کر ڈالا۔ اِس عید پر ہم سب اِنہیں شدت سے یاد کر رہے ہیں ۔
تہران و اصفہان ایسے مرکزی ایرانی شہر صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی بموں اور میزائلوں کے دھماکوں سے تقریباً کھنڈر بن رہے ہیں ۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی ناجائز جنگ کو مسلّط ہُوئے آج تیسرا ہفتہ ہو چکا ہے ۔ تقریباً دو ہزار ایرانی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ 36لاکھ ایرانی گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مگر شاباش دینی چاہیے دلیر ایرانی حکام اور ایرانی عوام کو کہ پوری ہمت کے ساتھ جارح و قاہر قوتوں کے خلاف ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ایرانی افواج و اسٹیبلشمنٹ نے آبنائے ہرمز کی شہ رَگ پکڑ کر پاکستان سمیت امریکا و یورپ اور عالمِ عرب کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے (سابق) سربراہ ، علی لاریجانی شہید، نے کہا تھا : ’’آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر بند رہے گی ۔‘‘
پاکستان تو ایران کے دشمنوں میں سے نہیں ہے ۔ الحمد للہ۔ ایران کے وزیر خارجہ ( جناب عباس عراقچی) نے تو 16مارچ کو اپنے’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبتوں اور تعاون کی تعریف بھی کی ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ اِس سے قبل پچھلے سال ( جب جون میں صہیونی اسرائیل نے ایران پربے جا حملہ کیا تھا) بھی ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا تشکر کیا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خطرے اور کسی کی بھی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہُوئے ایران کی زبردست حمائت کی تھی۔
پاکستان جاری پُر خطر حالات میں شاندار سفارتکاری کرتے ہُوئے مستحسن کوششوں میں ہے کہ کسی طرح امریکا اور ایران میں سفارتی اور مکالماتی تعلقات بحال ہو جائیں اور دُنیا جاری بڑے جنگی عذابوں اور مالی بحرانوں سے نجات پا جائے ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان اور پاکستانی عوام بجا طور پر توقعات رکھتے ہیں کہ بہادر اور غیور اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں اُن پاکستانی ٹینکروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو پاکستان کے لیے تیل اور گیس لا رہے ہیں ۔
ہم یہ عید کیسے منائیں جب حملہ آور صہیونی اسرائیل و امریکا کے ہاتھوں ہمارے ایرانی اسلامی بھائیوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہو ۔ جب ایران کے چپے چپے پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہو ۔ہم یہ عید خوشی ، مسرت اورامن کے ساتھ کیسے منا سکتے ہیں جب خلیجی ریاستیں جنگ کے مہیب سایوں میں اپنا امن و چَین کھو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں دینی فریضہ سمجھ کر عید الفطر تو بہرحال منانی ہی ہے۔یہ عید ایسے حالات میں پاکستانیوں پر طلوع ہُوئی ہے جب نئی مہنگائی کے شکنجے نے سارے پاکستانیوں کو بے بسی اور بے کسی کے آہنی چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔
جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رُوح فرسا اور کمر شکن اضافہ ہو چکا ہے ۔ جب خورو نوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا گراف بے تحاشہ بلند ہو چکا ہے اور اِس گراف کے نیچے آنے کی کوئی صورت و شکل سامنے نہیں آ رہی ۔ بلکہ یہ ہوشربا خبریں گردش میں ہیں کہ ابھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ مطلب غریب اور چند نوالوں کے محتاج عوام کی محتاجیاں اور عسرتیں مزید قیامت خیز ہونے والی ہیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں پاکستانی عید منائیں بھی تو بھلا کیسے ؟
عید تو خوشیوں اور مسرتوں کا نام ہے ،مگر جب جیب مطلوبہ روپوں سے خالی ہو ، جب ہاتھ تہی ہو گئے ہوں تو کیسی عید ؟محدود سی تنخواہ اور مزدوری پانے والے بھی عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر دینا چاہتے ہیں ۔ مگر بازار میں آسمان سے لگی قیمتیں دیکھ کر دل تھام کر اور نظریں جھکا کر رہ جاتے ہیں۔ مایوسیوں اور دل گرفتگی کی کوئی حد نہیں ہے۔دوسری طرف وطنِ عزیز کے اعلیٰ سرکاری مراعات یافتہ طبقات ، اعلیٰ ترین جملہ سرکاری افسران و بیوروکریسی ، خود ساختہ اشرافیہ اور بے مہار کاروباری طبقات کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں اور دماغوں پر مہنگائی اور گرانی کی جو بجلیاں گررہی ہیں۔
اِن سے اِن طبقات کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ اورنہ ہی کوئی سروکار۔ہر محلے، ہر گلی ،ہر شہر میں کئی سماجی خلیجیں جنم لے چکی ہیں ۔ محروم و محتاج تر ہوتے طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے ۔ سماجی پریشر کُکرمیں بھاپ روز افزوں ہے ۔ مراعات یافتہ سرکاری طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے اللے تللے دیکھ کر عوام کئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔ مگر حکمران قوانین کا سہارا لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں : خبردار ، کوئی سوال مت پوچھنا ، وگرنہ دَھر لیے جاؤ گے !وفاقی وزیر قانون اور پنجاب کی ایک سینئر وزیر نے ابھی اگلے روز ہی ہم سب کو متنبہ کیا ہے ۔ شاد لکھنوی نے کہا تھا:نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے /گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے !!
Today News
ایران کا اسرائیل کی آئل ریفائنری پر بڑا میزائل حملہ، حیفہ کو بجلی کی فراہمی معطل
ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیبات پارس گیس فیلڈ پر صیہونی حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ نقصان معمولی نوعیت کا ہے اور کسی بڑے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے منصوبوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور تہران کی جانب سے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو “زیرو ریسٹرینٹ” کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔
Today News
سرخ لکیر – ایکسپریس اردو
پاکستان اور افغانستان اپنی طویل تہذیبی روایات کی تاریخ رکھتے ہیں۔ پشتون قوم دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار برسوں سے آباد ہے۔ ان کی ثقافت، لباس، موسیقی اور جرگہ جیسی روایات بھی یکساں ہیں۔ ایک طویل مشترک تاریخ اور مشترکہ مفادات رکھنے کے باوجود بدقسمتی سے یہ دونوں ممالک گزشتہ تین چار دہائیوں سے نہ صرف یہ کہ حقیقی دوستانہ اور برادرانہ مراسم کے پرخلوص جذبے سے عاری ہوتے جا رہے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو پاک افغان تعلقات کشیدگی و دشمنی کی انتہا کو چھونے لگتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی دشمنی اور مخالفت کا آغاز پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں 30 ستمبر 1947 کے اجلاس میں کیا گیا جب افغان مندوب حسین عزیز نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کے حوالے سے واحد مخالف ووٹ ڈالا۔ جولائی 1949 میں افغان پارلیمنٹ نے یہ اعلان کر دیا کہ ’’وہ کسی فرضی لائن کو خواہ وہ ڈیورنڈ لائن یا کوئی اور تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ اس پروپیگنڈے کو افغان میڈیا نے خوب اچھالا اور قبائلیوں کو پختونستان کے نام پر انقلاب برپا کرنے پر خوب اکسایا۔ 17 جولائی 1977 کو جب سردار داؤد نے افغانستان کی عنان حکومت سنبھالی تو اپنی پہلی ہی تقریر میں پاکستان کے ساتھ اختلافات کو موضوع بنایا ساتھ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی۔ اس نے صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانا شروع کر دیا۔ جب اسے کامیابی نہ ملی تو اس نے دیگر مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو خطوط لکھے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں۔
افغانستان کی حکومتوں کے مسلسل معاندانہ رویے سے پاکستان میں اس تصور اور سوچ کو تقویت ملی کہ افغانستان کی تواتر کے ساتھ پاکستان کی مخالفت درحقیقت بھارت کی اس دشمنی پر مبنی ہے جس کے تحت وہ (بھارت) کشمیر اور شمالی علاقہ جات حاصل کر کے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا الحاق چاہتا ہے جیساکہ آین اسٹیفن نے نشان دہی کی ہے کہ اگر قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت اپنی اسکیموں کے نتیجے میں کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر اور افغانستان پختون علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو پاکستان کو وجود میں آتے ہی ختم کر دیا جاتا کیوں کہ افغانستان اور بھارت اسے دونوں طرف سے چمٹے کی طرح پکڑ کر ختم کر دیتے۔ آپ غور کیجیے کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی دشمنی کی بنیاد شمالی علاقوں پر قبضے کی خواہش نظر آتی ہے۔افغانستان کے بغض و عناد کے باوجود پاکستان برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے تعلقات کو نبھانے کے لیے کوشاں رہا۔ دسمبر 1979 میں افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے ہجرت کرکے پاکستان میں پناہ لینے داخل ہوئے تو انھیں اسلامی روایات کے مطابق مہمان بنایا گیا۔ آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین وطن عزیز میں موجود ہیں۔ افغان مہاجرین کی آمد سے ملک میں ہتھیاروں سے مسلح رہنے کا کلچر بھی در آیا اور آہستہ آہستہ کلاشنکوف کلچر پورے ملک میں پھیلنے لگا جس نے بدامنی کو جنم دیا۔
امریکا میں ہونے والے 9/11 کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکا کی سربراہی میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا تو دھونس و دھمکیوں کے ساتھ پاکستان کو اس عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بننا پڑا۔ امریکا تقریباً 20 سال افغانستان میں جنگ لڑنے کے بعد اپنے دامن میں ناکامیاں سمیٹے افغانستان کی سرزمین سے رخصت ہوا۔ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان جو امن معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ طے پایا تھا کہ طالبان حکومت اس بات کی سختی سے پابند رہے گی کہ وہ افغان سرزمین القاعدہ یا کسی بھی دوسری شدت پسند تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے روکنے میں ناکام رہے بلکہ ایک خاص مفہوم میں دیکھا جائے تو بھارت کی مودی سرکار کی پاکستان دشمن پالیسی کی سہولت کاری کرتے ہوئے افغان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان نے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بار بار طالبان قیادت کو باور کرایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد عناصر سرحد پار کرکے پاکستان دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، لہٰذا طالبان قیادت اس فتنہ الخوارج کو روکے، ساتھ ہی ہندوستان کی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بیخ کنی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اعلیٰ ترین سطح پر تمام تر سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد پاکستان نے چار و ناچار افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ٹریننگ کیمپوں اور ان کے بارود کے ذخائر کو نشانہ بنارہی ہے۔ سیکڑوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ صدر زرداری نے درست کہا کہ طالبان نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کر ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، نتائج بھگتنا ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دو ٹوک لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ دوسری جانب چین نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کریں۔ خطے میں امن کے لیے چین اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ چینی قیادت کو طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ دوحہ امن معاہدے کی پاسداری کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ ’’سرخ لکیر‘‘ مزید گہری ہو جائے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Today News2 weeks ago
mobile phones banking cyber attacks increased 56 percent in 2025