Connect with us

Today News

رمضان ہماری تربیت کا ایک نادر موقع

Published

on


ہمارے ہاں رمضان عبادت کے اعتبار سے جس طرح سے گزارا جاتا ہے اس میں تین بڑے نمایاں حصے نظر آتے ہیں۔ جس میں پہلا حصہ شروع میں 10 روزہ تراویح کا اہتمام، آخری حصے میں اعتکاف میں بیٹھ کے عبادت کرنا جب کہ پورے رمضان میں نماز تراویح میں شرکت کرنا شامل ہے۔ یوں دیکھا جائے تو عوام کی ایک بڑی تعداد اپنا رمضان اس طرح سے گزارتی ہے۔ یہ وہ موقع ہے کہ جہاں ہماری بہترین تربیت ہو سکتی ہے جس سے ہم ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے شہری بن سکتے ہیں۔

 عموماً پہلے حصے میں 10 روزہ تراویح میں ایک پورا قرآن پاک، نماز تراویح میں پڑھا جاتا ہے اور لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس میں شرکت کرتی ہے۔ یہ تراویح عربی زبان میں ہوتی ہے، جو ظاہر ہے ہر ایک نہیں جانتا۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ جہاں تراویح کا اہتمام کرنے والے منتظمین یا علماء اپنے کردار اور بیان سے عوام کو معاشرے میں موجود ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں اور قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے کیا مطالبہ کر رہا ہے، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سے پورے رمضان کچھ اسلامی تنظیمیں باقاعدہ قرآن کے ترجمے، درس اور اس کے ساتھ تراویح کا اہتمام کرتی ہیں جس میں وہ لوگوں کی توجہ قرآن کے پیغام کی طرف مبذول کراتی ہیں، یوں پورے رمضان ایک قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام دیا گیا ہے، لوگوں کو ان کی ہی زبان میں بیان کر دیا جاتا ہے بلکہ بعض جگہوں پہ تو اس کی تشریح کر کے پڑھنے والوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا اور ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تنظیم اسلامی اور دیگر تنظیمیں مختلف مساجد میں ترجمہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی ایک اچھی کوشش کرتی ہیں جو قابل ستائش ہے۔ یقیناً اس قسم کی تراویح میں لوگوں کے ضمیروں کو بھی جھنجوڑا جاتا ہے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں اور چونکہ قرآن میں ہر قسم کے موضوعات شامل ہیں لہذا آج جو مسائل ہمارے سامنے ہیں اس ضمن میں بھی لوگوں کی رہنمائی ہو جاتی ہے۔ یوں ناپ تول میں کمی کا معاملہ، کاروبار میں ایمانداری کامعاملہ، شوہر اور بیوی کے تعلقات کے معاملات وغیرہ جیسے موضوعات پر لوگوں کو اچھی آگہی فراہم کی جاتی ہے جس سے لوگوں کے کردار میں یقینا فرق بھی پڑتا ہے۔ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ آج کل طلاق کی شرح ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی طریقے سے آخری عشرے میں تقریباً ہر مسجد میں ہی اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کو مختلف سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی تربیت کے حوالے سے پروگرام بھی تربیت دیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا عمل ہے عموماً نوجوانوں کو زندگی گزارنے سے متعلق اسلامی طور طریقے بھی تفصیل سے بیان کیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا سلسلہ ہے۔ اس طرح جو نوجوان اعتکاف میں بیٹھتے ہیں وہ مستقبل کے لیے ایک نیک اور اچھے انسان ثابت ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان نسل بھی اعتکاف کے بیٹھنے کے عمل میں بڑھ چڑھ کے حصہ لے۔ بعض مساجد میں اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے سخت شرائط رکھی جاتی ہیں، مثلاً شناختی کارڈ کا ہونا۔ اس عمل سے بہت سارے نوجوان مساجد میں اعتکاف کرنے سے رہ جاتے ہیں اور ظاہر ہے پھر ان کا ٹائم کہیں اورگزرتا ہے، اگر ہم اسلامی اصول کے مطابق صرف بالغ ہونے کی شرط رکھیں تو نئی نسل کی بڑی تعداد اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے۔ ایسے والدین یا لوگ جن کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کہنا نہیں مانتی، یا بگڑ رہی ہے، ان کے لیے رمضان میں یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ اپنے بالغ بچوں کو مساجد میں اعتکاف کے لیے بھیجیں۔

بہرحال ہمارے ہاں رمضان میں یہ تمام اہتمام بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس سلسلے میں حصہ لینے والے لائق تحسین ہیں۔ اس موقع پہ ہم اپنے معاشرے کے چند اہم مسائل کے حوالے سے اسلامی تعلیمات لوگوں تک پہنچا کر اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان اہم مسائل میں ایک مسئلہ صبر و تحمل اور ایمانداری کا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہمیں نہ تو کوئی قابل اعتبار اور قابل بھروسہ مکینک ملتا ہے نہ کوئی مستری نہ ہی سرکاری دفتروں میں ایسے افراد جو ایمانداری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہوں۔ رشوت لیے بغیرکوئی کام نہیں کرتا، اس بارے میں ہم قرآن کی مختلف تعلیمات کا حوالہ دے کر ذہن سازی کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف رشتہ داری کے معاملے میں دیکھیں تو اسلام ہمیں صلہ رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلق کا درس دیتا ہے جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ سگے بہن بھائی بھی آپس میں نہیں ملتے اور ایسے بھی ہیں جو عید کے موقع پر بھی ملنا نہیں چاہتے، ایک دوسرے کی جائیداد تک پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، ترکہ کا حصہ ایک دوسرے کو دینا نہیں چاہتے، کوئی اپنے والدین سے ناراض ہے۔ یہ ہمارے اہم مسائل ہیں اگر ان پر دوران رمضان قرآنی آیات کے حوالے دے کر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے تو یقیناً اس کا کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ قرآن میں تو ناپ تول کی کمی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور قوموں پر عذاب تک کا ذکر موجود ہے۔

اسی طرح اگر ہم سنت کی طرف آئیں تو ہمیں حضرت محمد ﷺ سے لے کر اہل بیت کے خاندان تک تمام لوگوں کا لائف اسٹائل جس طرح نظر آتا ہے، ہم اس سے بالکل مختلف زندگی گزار رہے ہیں۔ دکھاوا، شادیوں پر بے جا اخراجات یہ سب ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں جب کہ ہم اپنے اسلامی رول ماڈلزکو دیکھیں تو وہ انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً خلیفہ وقت کے پاس بعض اوقات پہننے کے لیے دو جوڑے بھی نہیں ہوتے تھے جب کہ ان کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے اور اگر کوئی ضرورت مند کچھ مانگنے آجائے تو اپنے حصہ سے ہی کچھ نکال کر دیتے تھے۔ اس وقت کے عام مسلمانوں کا طرز زندگی بھی انتہائی سادہ ہوتا تھا۔ مثلاً مسلم خواتین شادی کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی شادی کا جوڑا ایک رات کے لیے مانگ کر لے جاتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا نکاح ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم حج، عمرہ اور نماز وغیرہ کے حوالے سے تو بہت مذہبی لگتے ہیں مگر عملاً ہمارا طرز زندگی مذکورہ بالا بیان کردہ مسائل سے بھرا پڑا ہے۔ اس کا ایک بہترین علاج یہی ہے کہ دوران رمضان اس قسم کے اجتماعات میں لوگوں کے ضمیروں کو جھنجوڑا جائے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں، نیز ہمیں بطور مسلم بھی قرآن کو سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنا چاہیے کہ جس ذات نے ہمیں زندگی گزارنے کا پیغام بھیجا ہے وہ پیغام دراصل ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ ہم سے آخر چاہتا کیا ہے؟ آئیے!ٰ اس پر غور کریں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

Published

on



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کےاجلاس میں پیٹرولیم و گیس کے شعبے میں جاری اور مکمل منصوبوں، کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور بجلی کے شعبے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے ملک میں موجود ذخائر کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کے لیے کافی تھے۔

چیئرمین کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔

انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ منصوبہ عدم پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے 0.04 ملین امریکی ڈالر سود کی مد میں ادا کر چکی ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے قرضے کے عدم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ یہ صورتحال منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے ایس ایس جی سی ایل کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکےاجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن ایفیشنسی امپروومنٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ارکان کمیٹی نے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری میں تاخیر اور کنسلٹنٹس کی تقرری کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر 18 ماہ لگے کمیٹی نے زور دیا کہ خریداری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جائے اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کے عمل اور کنسلٹنٹ کی تقرری کی تفصیلات پر مشتمل ایک صفحے کی۔

رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائےکمیٹی نے 765 کے وی اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے میں ٹھیکیدار کو ٹیکسز کی مد میں کی جانے والی ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے متعلق اپنی سابقہ سفارش پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔

نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کیا جبکہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آ چکا ہے اور آئندہ اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

رقم کی مسلسل عدم وصولی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے رقم کی وصولی کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عید سے قبل رقم وصول کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا جائے گا۔

وزارت کو ہدایت کی گئی کہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی کمیٹی کو فراہم کی جائےاجلاس میں اے ڈی بی 401B-2022 لاٹ ٹو اے (اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر) سے متعلق سفارش پر بھی غور کیا گیا اور وزارت توانائی کے سیکریٹری کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے اور آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق جاری منصوبہ ایکشنز ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار اِنکلوسیو اینڈ رسپانسیو ایجوکیشن (سے ایس پی آئی آر ای) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پسماندہ اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے صوبوں کو 24 ارب روپے فراہم کیے ہیں صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمیٹی نے پنجاب میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کی غیر تکنیکی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیاجس پر بتایا گیا کہ ایس ایم سی پالیسی میں حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور محفوظ کلاس رومز کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔

خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے صوبے میں (سے ایس پی آئی آر ای)  منصوبے کی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کیاکمیٹی نے تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان کے نمائندے کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔



Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان سے دہشت گردی دنیا بھر کے امن وسلامتی کیلئے خطرہ ہیں، عاصم افتخار

Published

on



نیویارک:

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

اپنے بیان میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے جو خطے میں خطرناک سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ 26 فروری کو طالبان رجیم نے پاکستان پر بلاجواز حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔

عاصم افتخار کے مطابق افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جن کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک محفوظ اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کے لیے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد میں پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک

Published

on



حیدرآباد:

ٹنڈو یوسف میں فتح باغ کے قریب پولیس اور منشیات فروشوں کے درمیان مبینہ مقابلے میں بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کی لاش سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ اس کے قبضے سے پستول اور بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق لال بخش عرف نانو کرسٹل آئس اور چرس کا نامی گرامی ڈیلر تھا اور وہ منشیات فروشی، پولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین نوعیت کے 14 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending