Connect with us

Today News

روزے کی طبّی سائنس – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان کے مقدس مہینے دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمان مسلسل تیس روزے رکھ کر اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کی حدود آزمانا شروع کرتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان اس بات سے تو آگاہ ہیں کہ پورے مہینے کے دوران صبح سے شام تک روزہ رکھنے سے بیش قیمت مذہبی و روحانی فوائد ملتے ہیں، لیکن انھیں کم ہی علم ہے کہ یہ روزے جسم اور دماغ پر کس قسم کے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو روزہ ایسی جسمانی و روحانی حالت ہے جس میں ایک شخص مخصوص وقت تک کیلوریز یا حراروں کی کھپت سے گریز کرتا ہے۔ نتیجے میں اس کے میٹابولزم اور جسمانی افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ یاد رہے، فاقہ کشی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تھراپیوٹک فاسٹنگ، انٹرمٹینٹ فاسٹنگ اور مذہبی روزہ شامل ہیں۔ ہر ایک کے اپنے مخصوص جسمانی و روحانی اثرات ہیں۔

ڈاکٹر محمد محروس کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال ریسرچ سینٹر، سعودی عرب میں کنسلٹنٹ اور کلینیکل ریسرچ سائنسدان ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ 30 دن تک روزہ رکھنے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔اس ضمن میں انھوں نے خاص تحقیق کی ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’’روزے کا پہلا بڑا فائدہ یہ ہے، وہ ہمارے نظام انہضام کے لیے آرام کا سنہرا وقت فراہم کرتا ہے ۔اس سے جسم کو اپنی مرمت اور زہریلے مادے دور کرنے یعنی ڈیٹاکسیفیکیشن پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجے میں جسم میں انسولین اور گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے جلنے کا عمل بڑھ جاتا ہے۔ جب گلیکوجن جو گلوکوز کی ذخیرہ شدہ شکل ہے، ختم ہو جاتا ہے تو جسم توانائی پانے کے لیے چربی پر انحصار کرتا اور اسے جلاتا ہے۔ یہ عمل ’’کیٹوسس‘‘(ketosis) کہلاتا ہے۔

درج بالا خصوصیات کے پیش نظر طبّی لحاظ سے روزہ اکثر حالات میں موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور میٹابولک بیماریوں کا علاج میں بہت مفید ہے۔ 2019 ء میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ یعنی روزہ رکھنے کا عمل انسانی جسم میں میٹابولزم بڑھاتا اور انسولین کی مزاحمت کم کرتا ہے جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس روکنے کا مؤثر طریقہ سامنے آتا ہے۔

ڈاکٹر محمد محروس بتاتے ہیں’’جب رمضان میں متوازن غذا تسلسل سے کھائی جائے، تو روزہ میٹابولک کارکردگی بڑھاتا ہے جو جسم کو فوائد بخشتی ہے۔ روزوں کے فوائد صرف اس صورت حاصل ہوتے ہیں جب روزہ رکھنے کے بعد متوازن اور صحت بخش غذا استعمال کی جائے۔‘‘ یاد رہے، روزہ کھولتے وقت غیر صحت بخش کھانوں کا زیادہ استعمال جیسے پروسیس شدہ چینی، ہائیڈروجنیٹڈ چکنائیاں اور فاسٹ فوڈ فوائد کم کرنے کے علاوہ صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

روزہ انسانی خلیوں کی تجدید اور صحت مند مدافعتی نظام کی بڑھوتری میں مدد دینے والے ایک خلویاتی عمل ’’آٹو فیگی‘‘(autophagy) کو بھی بڑھاتا ہے جیسا کہ جاپانی حیاتیات داں، یوشینوری اوہسومی کی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے۔ اسی تحقیق پر انھوں نے 2016 ء میں فزیالوجی یا طب کا نوبل انعام جیتا۔

اسلام میں روزے رکھنے کا عمل جس میں ایک مسلمان سورج نکلنے سے غروب ہونے تک تمام کھانے اور پینے سے پرہیز کرتا ہے، اپنی روحانی اور نفسیاتی گہرائی کے لیے ممتاز ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے ’’یہ عمل خود پر قابو پانے کو فروغ دیتا ہے اور قوت ارادی مضبوط کرتا ہے … اس سے ذہنی صفائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ صحت کے لیے قیمتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔‘‘

ایک اہم سوال یہ ہے کہ 30 دن تک مسلسل روزہ رکھنے سے جسمانی ردعمل میں کیا فرق آتا ہے جب کہ مختصر مدت والے روزے کے دوران کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اس ضمن میں محروس بتاتے ہیں’ایک دن روزے کے دوران جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ گلیکوجن استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس کے علاوہ انسولین کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی کا جلنا آسان ہو جاتا ہے اور گروتھ ہارمونوں کا اخراج بڑھتا ہے جو بافتوں کی مرمت کرتے اور میٹابولزم بہتر بناتے ہیں ۔ اگرچہ خون میں شوگر کی سطح میں تبدیلیوں کی وجہ سے تھکاوٹ اور بھوک کے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔”‘‘

2021 ء میں جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ مختصر مدت کے روزے سے ایک پروٹین’’ برین ڈیریو نیوروٹروفک فیکٹر‘‘ کی پیداوار ہوتی ہے جو ذہنی طاقت بہتر بناتا اور الزائمر جیسی خطرناک بیماریاں چمٹنے کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔ محروس مزید کہتے ہیں، ایک دن کا روزہ بھی مضر صحت کولیسٹرول کی سطح کم کرتا اور بلڈ پریشر بہتر بناتا ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لینے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

’’جب ایک مسلمان متواتر 30 دن تک روزے رکھے تو اس کا جسم طویل مدتی انطباقی مرحلے(adaptation phase) میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے میٹابولک کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔‘‘ محروس کا کہنا ہے۔ انسولین کی حساسیت میں بھی بہتری آتی ہے جس سے ذیابیطس قسم دوم چمٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ دائمی سوزش کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے دل اور مدافعتی نظام کی صحت میں بہتری آتی ہے۔تیس روزے آٹو فیگی کو بھی متحرک کر دیتے ہیں جس سے خراب شدہ خلیے ختم کرنے اور بافتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

2014 ء میں سیل اسٹیم سیل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزہ انسان کا مدافعتی نظام کا مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ یہ سفید خون کے خلیوں کی پیداوار بڑھاتا اور بیماریوں کے خلاف جسمانی مزاحمت میں اضافہ کرتا ہے۔اگر روزے کے بعد افطار میں متوازن غذا کھائی جائے تو بتدریج وزن کم ہو سکتا ہے۔

جہاں تک روزے کے ذہنی اور روحانی پہلوؤں کا تعلق ہے، اس سے بھی ممکنہ فوائد وابستہ ہیں۔ نفسیاتی طور پر روزے منفی عادات اور رویّوں پر قابو پانے کی بہتر صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔روزے رکھنے سے ’’اسٹریس ہارمون‘‘ کورٹیزول کے اخراج میں کمی آتی ہے۔اس وجہ سے ذہنی دباؤ اور اضطراب کم ہو جاتا ہے اور انسان کو کامیابی اور خود پر قابو پانے کا احساس ملتا ہے۔

روحانی طور پر روزہ خود احتسابی اور ذہنی صفائی کے عمل میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔رکھنے والے میں شکرگزاری اور قدر کا احساس پیدا کرتا ہے۔ صبر کی دولت عطا کرتا اور ذاتی عادات کا دوبارہ جائزہ لینے اور بہتری لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر محروس کہتے ہیں ’’ یاد رہے، تاہم روزہ کچھ مخصوص حالات میں نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جب جسم کو ضروری مائعات اور غذائیت سے دوبارہ نہ بھرا جائے تو اس سے پانی اور وٹامن کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔اسی طرح افطار کے وقت زیادہ کھانا کھانا اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال وزن میں اضافے اور میٹابولک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔‘‘

’’روزہ ایک پیچیدہ فزیولوجیکل عمل ہے جو جسمانی، نفسیاتی اور روحانی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے۔ ’’تاہم اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھنے کے بعد صحت مند غذا استعمال کرنا ضروری ہے۔ خراب غذائی عادات روزوں سے حاصل شدہ فوائد الٹ سکتی ہیں یا ناپسندیدہ ضمنی اثرات کا سبب بنتی ہیں۔‘‘اس کے علاوہ جو لوگ دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس یا بلند فشار خون میں مبتلا ہیں، انہیں روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، محروس مشورہ دیتے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

Published

on


امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اوسط قیمت 3.25 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ تقریباً 11 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قیمت ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 27 سینٹ زیادہ ہے۔ جس کی وجہ ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ہے۔

امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ایران جنگ کے بعد سے عالمی تیل کی منڈی شدید بے یقینی کا شکار ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی اوسط پیٹرول قیمت میں ایک ہی دن میں11 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا جو چار برس میں سب سے بڑا روزانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں 3.25 سے 3.50 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں تیزی اس لیے بھی آئی ہے کیونکہ عالمی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں خصوصاً اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔

اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کا اثر فوری طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

mobile phones banking cyber attacks increased 56 percent in 2025

Published

on


سائبر سیکیورٹی کمپنی نے ملک میں گزشتہ برس (2025) کے دوران اینڈرائیڈ فونز کے ذریعے بینکاری پر سائبر حملوں میں 56 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی  کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر بینکاری معلومات چوری کرنے والے میلویئر حملوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 56 فیصد اضافہ ہوا، یہ خطرناک سافٹ ویئر آن لائن بینکاری، الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات اور کریڈٹ کارڈ نظام سے صارفین کی خفیہ معلومات چوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائبر مجرم عموماً ایسے میلویئر کو پیغام رسانی کی ایپس اور نقصان دہ ویب صفحات کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

کیسپرسکی  کی رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ کے لیے اس میلویئر کی نئی تنصیب فائلوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھی اور دو لاکھ 55 ہزار 90 تک پہنچ گئی ہے جو 2024 کے مقابلے میں 271 فیصد زیادہ ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ سائبر مجرموں کے لیے بہت زیادہ مالی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

کیسپرسکی میں میلویئر تجزیہ کار ٹیم کے سربراہ اینٹون حیفا کے مطابق اسمارٹ فونز کے لیے بینکاری معلومات چوری کرنے والا میلویئر تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور تشویش ناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، پہلے سے نصب خفیہ رسائی کے پروگرام جیسے ٹریاڈا اور کینادو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض اوقات لوگ نیا اینڈرائیڈ فون خریدتے ہیں لیکن وہ پہلے ہی میلویئر سے متاثر ہوتا ہے اور صارف کو اس کا علم نہیں ہوتا جب ایسے پروگرام ڈیوائس کے بنیادی نظام میں شامل ہو جائیں تو حملہ آور متاثرہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، جس سے فون میں موجود تمام معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے میلویئر کو ختم کرنا بھی کافی مشکل ہوتا ہے۔

کیسپرسکی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ایپس صرف سرکاری ایپ اسٹورز جیسے  ایپل سٹور اور  گوگل پلے سے ہی حاصل کریں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری اسٹورز سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا بھی ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔

مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قابل اعتماد سیکیورٹی سافٹ ویئر جیسے کیسپرسکی پریمئیم  استعمال کریں، ایپس کو دی جانے والی اجازت کا بغور جائزہ لیں اور اپنے موبائل نظام اور اہم ایپس کو باقاعدگی سے  اپڈیٹ حالت میں رکھیں کیونکہ اکثر حفاظتی مسائل تازہ سافٹ ویئر نصب کرنے سے حل ہو جاتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران اسرائیل جنگ کے کشیدہ ماحول میں نارتھ کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی میمز وائرل

Published

on



ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جہاں عالمی سیاست میں ہلچل مچادی ہے، وہیں سوشل میڈیا صارفین نے اس صورتحال کو طنز و مزاح کا رنگ دیتے ہوئے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کو بھی بحث میں گھسیٹ لیا ہے۔

حالیہ دنوں مختلف پلیٹ فارمز پر کم جونگ اُن سے متعلق دلچسپ اور طنزیہ میمز تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ یہ میمز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شدید فوجی کارروائیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اس تنازعے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اس ساری صورت حال میں سوشل میڈیا صارفین نے کم جونگ اُن کو ایک الگ زاویے سے پیش کیا ہے۔

"Did he just say launch, it was was lunch sir, lets check well"😂😂😂 pic.twitter.com/bi2dBHdZ8r
— Kl@xon🦅 (@lonelylonerk) March 2, 2026

اگرچہ موجودہ تنازع براہِ راست ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہے، مگر انٹرنیٹ پر کم جونگ اُن کو ایک ایسے ’’تماشائی‘‘ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو عالمی ہنگامہ آرائی کو دور بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں۔ بعض میمز میں انہیں ’’فومو‘‘ یعنی موقع گنوانے کے خوف میں مبتلا مبصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، گویا وہ عالمی منظرنامے سے باہر رہ جانے پر پریشان ہوں۔

"Sir, still no missiles headed our direction"

"Refresh it again" pic.twitter.com/DLY81nWkXp
— First Of His Name (@SoupLorrd) March 2, 2026

کئی صارفین نے طنزیہ انداز میں یہ بھی لکھا کہ میزائل تجربات اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کے لیے مشہور رہنما اس وقت عالمی میدانِ جنگ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔

ایک وائرل میم میں کم جونگ اُن کو دوربین سے دیکھتے ہوئے یا اسکرین پر نظریں جمائے دکھایا گیا ہے، جس کے ساتھ کیپشن درج ہے: ’’بیٹا، کیا تم صورتحال کی نگرانی کر رہے ہو؟‘‘ اس انداز نے انہیں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو فاصلے سے دیکھنے والے متجسس ناظر کے طور پر پیش کیا ہے۔

Everyone is scared of Kim Jong Un expect his tailor 😭 pic.twitter.com/Edc33WKbC4
— TOIS🌴 (@sammie_boi20) March 1, 2026

اسی طرح بعض میمز میں یہ تاثر دیا گیا کہ جدید ہتھیاروں کے ’’بہترین کھلونوں‘‘ کے باوجود انہیں موجودہ کشیدگی میں شامل نہ کیے جانے پر شاید نظر انداز کیے جانے کا احساس ہو رہا ہوگا۔ سوشل میڈیا کی یہ تخلیقی مگر طنزیہ لہر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاسی بحران بھی آن لائن دنیا میں مزاحیہ انداز اختیار کر لیتے ہیں۔

Kim Jong Un when one missile mistakenly lands in North Korea pic.twitter.com/xnoFSKTyl0
— Katatumba (@ninyeKatatumba) March 2, 2026

 



Source link

Continue Reading

Trending