Today News
ری برتھ آف مڈل ایسٹ
بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے دورہ اسرائیل کے موقع پر کہا ہے کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ پورے یقین اور مضبوطی سے کھڑا ہے ۔7اکتوبر2023 کو حماس کے حملے کا درد محسوس کرتے ہیں ۔ اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ میں اپنے ساتھ بھارتی عوام کی جانب سے ہر اس جان کے ضیاع اور اس خاندان کے لیے گہری تعزیت لایا ہوں۔ جس کی دنیا 7اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملے میں تباہ ہو گئی تھی۔ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں ۔ ہم آپ کے دکھ میں شریک ہیں ۔ بھارت اس لمحے اور اس کے بعد بھی کامل یقین کے ساتھ مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق وزیراعظم نیتن یا ہو نے دونوں ممالک کے درمیان ’’حقیقی دوستی‘‘کو سراہا ۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں اس ملاقات کو ’’ عمدہ ‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا ہے ، ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو گہرااور مضبوط بنانے کے مقصد سے وسیع پیمانے پر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ جب کہ دوسری طرف بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس دورے کو بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی کے اصولوں کے ساتھ غداری اور ’’ اخلاقی بزدلی‘‘ قرار دیا ہے ۔ کانگریس پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی پر اخلاقی بزدلی دکھلانے کا الزام لگایا کہ وہ ایسے وقت میں اسرائیل اُڑ کر چلے گئے جب دنیا کا ایک بڑا حصہ غزہ میں اس کی نسل کشی پر تنقید کررہا ہے ۔ اورجب کہ مودی اسرائیلی وزیر اعظم کو گلے لگارہا ہے ۔
کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا نے دلیل دی کہ یہ دورہ نیتن یا ہو کی اس حکومت کو ’’ جواز ‘‘ فراہم کرے گا جسے اس نے ’’ قاتلانہ ‘‘ حکومت قرار دیا تھا۔ بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کی سینئر رہنما پریانکا گاندھی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ وہ اُمید کررہی تھیں کہ مودی اسرائیلی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے دوران غزہ میں ہزاروں مردوں ، عورتوں اور بچوں کے قتل کا ذکر کریں گے جو کہ انھوں نے نہیں کیا۔ عالمی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیلی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک کی معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی کی احتراع میں اسرائیلی قیادت نے ہماری مستقبل کی حامل شراکت داری کے لیے ایک فطری بنیاد تشکیل دی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان کوانٹم ٹیکنالوجیز سیمی کنڈیکٹر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں بہت زیادہ ہم آہنگی ہے ۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی کا اسرائیل کا یہ دوسرا دور ہ ہے ۔ مودی کی آمد کے موقعہ پر بن گوریان ہوائی اڈے پر ریڈ کارپٹ بچھایا گیااور جہاز سے اترتے ہی اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہو نے گلے مل کر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا استقبال کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کے دفتر کی ترجمان شوش بیدرو سیان نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلق ایک طاقتور اتحاد ہے کیونکہ ہم سلامتی اور مشترکہ ’’ا سٹریجیک ویثرن‘‘ میں شراکت دار ہیں ۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ دونوں دائیں بازو کے رہنماؤں نے استقبالیہ تقریب کے بعد ایک نجی ملاقات کی جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک ’’ حقیقی دوستی‘‘ کوسراہا ۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ہم دونوں نے خطے کی بڑی پیشرفتوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ 2023میں نئی دہلی میں انڈیا، مڈل ایسٹ ،یورپ اکنامک کوریڈور کے لیے عظیم الشان منصوبوں کی نقاب کشائی کی گئی تھی۔ تاکہ ریلوے بندرگاہوں ، بجلی ، ڈیٹا نیٹ ورکس اور پائپ لائنوں کو باہمی طور پر منسلک کیا جائے ۔ لیکن یہ منصوبے اسرائیل پر حماس کے 7اکتوبر کے حملے سے تعطل کا شکار ہو گئے تھے ۔ کینسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ )میں نریندر مودی کے خطاب پر دنیا بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ۔ غزہ پر مودی کی خاموشی تنقید کی ذد میں ہے ۔ سوشل میڈیا پراسرائیل سے یکجہتی کے بیان پر اٹھنے والے سوالات پر صارفین نے اسے بدترین اخلاقی تنزل قرار دیا ہے ۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران دونوں ملکوں میں مشترکہ اسٹراٹیجک ویژن میں شراکت داری اور دونوں رہنماؤں میں خطے کی بڑی ’’پیشرفتوں ‘‘ کے بارے میں تفصیلی گفتگو میری اس پیشن گوئی اورتجزیے کی تصدیق ہے جو میں نے آج سے ڈھائی برس پیشتر کی تھی ، ’’ خطے کی بڑی پیشرفتوں کے بارے میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ جس کا مطلب اسرائیل اور بھارت کا امریکی آشیرباد سے مشرق وسطی کے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔‘‘
ری برتھ آف مڈل ایسٹ یعنی نئے سرے سے مشرق وسطی کی پیدائش اب زیادہ دور نہیں رہ گئی ۔۔۔اﷲ ہی خیر کرے ۔ ٹائمنگ ملاحظہ فرمائیں ! مودی کے دورہ اسرائیل کے خاتمے کے فوراً بعد ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ۔ جس کا ذکر اسرائیلی وزیر اعظم نے خطے کی بڑی ’’ پیشرفتوں‘‘ کے نام سے کیا جس کا مطلب ایران پر حملہ اور رجیم چینج ہے ۔
3مارچ ـکے انتہائی خطرناک چاند گرہن کے اثرات امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے کی شکل میں سامنے آگئے ۔ آنے والا وقت خطے کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگا۔۔۔وقت دعاہے ۔
Today News
کراچی، کچی شراب سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ناظم آباد نمبر ایک میں مبینہ طور پر کچی شراب پینے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جاوید عالم اوڈھو نے اقلیتی تہوار کے پیش نظر کچی اور زہریلی شراب سمیت دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت دی ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
Today News
دو غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن بحال کر دیا
کراچی:
دو غیر ملکی ایئرلائنز سلام ایئر اور فلائی ناس نے پاکستان کے لیے اپنا فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسقط کی سلام ایئر کی پرواز OV 507 مسافروں کو لے کر سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ واپسی کی پرواز OV 508 سیالکوٹ سے مسقط کے لیے روانہ بھی ہو گئی ہے۔
اسی طرح مسقط سے کراچی کا فلائٹ آپریشن بھی بحال کر دیا گیا ہے اور مسقط سے کراچی آنے والی پرواز علی الصبح 4 بجے تک جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام ایئر نے مسقط سے پاکستان کے لیے فضائی آپریشن بحیرۂ عرب کے روٹ کے ذریعے شروع کیا ہے۔ تاہم تاحال سلام ایئر کا ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے فضائی آپریشن معطل ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی نجی ایئرلائن فلائی ناس نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بحال کر دی ہیں۔
فلائی ناس کی پرواز 315 سعودی دارالحکومت ریاض سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی اور بحیرۂ عرب کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔
Today News
سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی داستان
پہلے امریکا نے رواں برس کے طلوع ہوتے ہی وینزویلا کے صدر ( مادورو) اور اُن کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرکے امریکا پہنچا دیا ۔ ساری دُنیا امریکی سامراجیت اور امریکی زیادتی و ظلم پر ششدر رہ گئی تھی۔ دُنیا اور اقوامِ متحدہ مگر خاموش رہنے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے۔ واقعہ یہ ہے کہ رُوس ، امریکا اور اسرائیل نے مل کر دُنیا میں من پسند قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔ یہ تینوں بے لگام طاقتیں جب چاہتی ہیں ، دُنیا کے کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتی ہیں ۔
یہ طاقتیں اب تک صدر صدام حسین اور کرنل قذافی کو سزائے موت بھی دے چکی ہیں ۔ اور اقوامِ متحدہ ہر بار ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔پچھلے دو برس سے رُوس اپنے ہمسائے ، یوکرین ، پر ناجائز یلغار کیے بیٹھا ہے۔ اِس دوران ہزاروں یوکرینی شہری اور فوجی موت کے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں ۔ رُوس کا بھی کم نقصان نہیں ہُوا ہے ۔ پچھلے دو برس کے دوران صہیونی اسرائیل نے کمزور اور ناتواں ’’غزہ‘‘ کے بیگناہ مسلمانوں کا 80ہزارکی تعداد میں جو بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام کیا ہے ، اِس پر بھی طاقتور دُنیا اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اِسی عرصے میں بھارت نے بھی (مئی 2025 میں) پاکستان پر یلغار کرنے کی جسارت تو کی مگر افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت، شکست اور ذلّت اُٹھا کر بھاگ اُٹھا ۔ بھارت پچھلے چند برسوں سے BLAاور TTPکی شکلوں میں پاکستان کے خلاف جو خونریز پراکسی جنگ لڑ رہا ہے ،یہ دراصل بھارت ، افغان طالبان اور صہیونی اسرائیل کے باہمی گڑھ جوڑ کی شرمناک داستان ہے ۔اور اِس امر کا ثبوت بھی کہ یہ تینوں عناصر درحقیقت ’’حزب الشیطان‘‘ کی عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ احسان ناشناس افغان طالبان رجیم نے ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نصف درجن سرحدی علاقوں پر ، بِلا اشتعال ، جس شرمناک جارحیت کا اقدام کیا ہے، یہ بھی ساری دُنیا نے ملاحظہ کر لیا ہے۔
یہ جارحیت بھی’’حزب الشیطان‘‘ کی کارستانی کہی گئی ہے۔ افواجِ پاکستان نے ترنت ، پلٹ کر جس عزم اور طاقت سے بے مہار اور احسان فراموش افغان طالبان کو دندان شکن جواب دیا ہے ، مثالی بھی ہے اور طالبان رجیم کے لیے عبرتناک بھی ۔ بھارت کی پراکسی افغان طالبان، کے خلاف یہ سطور لکھتے وقت بھی بھرپور کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بھارتی پراکسی ( افغان مقتدر مُلّا طالبان) نے پاکستان کے خلاف تازہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہُوئے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی بھی پروا اور حیا نہیں کی ۔
رمضان شریف ہی کے دوران صہیونی اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا (گویا طالبانی، بھارتی اور اسرائیلی ذہنیت یکساں ہے ) ُپہلے یہ خبر آئی کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ پھر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے خبر جاری کی کہ ’’نہیں ، ایران پر یہ حملہ امریکا نے کیا ہے ۔‘‘اور پھر یہ خبریں منصہ شہود پر آئیں کہ اسرائیل اور امریکا ، دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے بھی ، حسبِ وعدہ، پلٹ کر، ردِ عمل میں ، اور اپنے حقِ دفاع میں ، اسرائیل پر حملے کیے ہیں ۔ یہ جوابی حملے اب بھی جاری ہیں اور اسرائیل کو خاصا نقصان پہنچا چکے ہیں ۔ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو بھی ہدف بنایا ہے ۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کے500سے زائد مقامات کو اپنے خونریز حملوںکا نشانہ بنایا ہے ۔
مغربی ایشیا تا جنوبی ایشیا ، اور مشرقِ وسطیٰ و خلیجی ممالک سے لے کر مغرب میں یوکرائن تک پھیلا آگ و خون کا یہ تازہ افسوسناک سلسلہ کیا تیسری جنگِ عظیم کا آغاز کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تیسری جنگِ عظیم کسے کہا جائے گا؟ جب ساری دُنیا خس و خاشاک کا سلگتا ڈھیر بن جا ئے گی؟ اب اس المناک خبر کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ ’’ ایرانی سپریم لیڈر ، جناب آیت اللہ خامنہ ای اب اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔‘‘ یہ دردناک خبر ساری دُنیا کا میڈیا بھی نشر کررہا ہے ، مگر ہمیں ہنوذ یقین نہیں آرہا لیکن کیا کریں ، حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایرانی حکام نے بھی اپنے سپیریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کردی ہے اور یہ بھی خبریں ہیں کہ ایت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اُن کی فیملی کے کئی قریبی ساتھی اور ایرانی فوج کے افسر بھی شہادت کے مرتنے پر فائز ہو چکے ہیں۔ ایرانی و عراقی مقدس مقامات سرخ روشنیوں ( شہادت کی نشانی) میں نہا چکے ہیں ۔ایسا عظیم نقصان تو دوسری جنگِ عظیم میں بھی کسی دشمن کا نہیں ہُوا تھا ۔ کیا اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادی رَل مل کر کامیاب و کامران رہے ہیں؟ ایران پھر بھی سامراج امریکا و صہیونی اسرائیل اور عالمی قوت کے سامنے کامل سرنڈر کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ یہ اقدام اس کے قومی سطح پر اولوالعزم ہونے کا نشان ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ایران پر اسرائیل و امریکی حملے نے پوری دنیا بالخصوص عالمِ اسلام کو ایک نئے پریشان کن اور سخت آزمائشی دَور میں داخل کر دیا ہے۔ایران مخالف سارے فریق اور پارٹیاں یکجا ہو چکی ہیں ۔
احسان فراموش افغان طالبان بھی اِس اتحاد کا ایک فعال رکن بن کر اسلامی جمہوریہ پاکستان پر، کئی رُخوں ، سے حملہ آور ہُوا ہے ۔ پاکستان پر طالبان رجیم نے ہلّہ بول کر اپنی ہی کمزوریوں اور بزدلیوں کو عیاں کیا ہے ۔ اب ساری دُنیا میں انتہاپسند افغان طالبان رسوا ہور ہے ہیں ۔ پاکستان کی جری افواجِ کے ہاتھوں 300 سے زائد دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات بھی اِن جہنمیوں کی عبرتناک اموات کی تصدیق کر چکے ہیں ۔ اگرچہ شیطانوں کا مقابلہ کرتے ہُوئے ہمارے درجن بھر جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیے ہیں ۔وطن پر قربان ہونے والے ہمارے اِن جوانوں اور افسروں کو ہمارا محبت و احترام بھرا سلام و سیلوٹ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی سیلوٹ ، جن کی پُر عزم قیادت میں ’’حزب الشیطان‘‘ کو عبرتناک سبق سکھایا گیا ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب کی شاندار فوجی قیادت میں پچھلے برس یہ سبق بھارت کو بھی سکھایا گیا تھا۔ اب طالبان، کو بھی یہ سبق سکھا دیا گیا ہے ۔ اب خود ہی طالبان سیز فائر کا اعلان کر بھی رہے ہیں اور پاکستان سے بھی سیز فائر کی درخواستیں کررہے ہیں ۔ پاکستان نے مگر بجا طور پر اِن احسان فراموشوں کو گھر تک پہنچانے کا عہد کررکھا ہے۔ جارح اور احسان فراموش طالبان اب اپنے جلی و خفی دوستوں اور سرپرستوں کی جانب بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئی مگر اُن کے وعدوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ طالبان کی وعدہ شکنیاں ایک ثابت شدہ کہانی ہے ۔
اِسی دوران ہمارے وزیر دفاعِ خواجہ محمد آصف، کا طالبان عبوری وزیر داخلہ ( سراج الدین حقانی) کے نام ایک ٹوئٹر پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اِس پیغام میں طالبان اور حقانیوں کی کہہ مکرنیاں ، احسان فراموشیاں اور دغا بازیاں بیان کر دی گئی ہیں۔ خواجہ صاحب موصوف نے سراج الدین حقانی کو یہ کہا ہے کہ ’’ پاکستان نے تمہاری دو تین نسلوں کو پالا پوسا، تم پر احسانات کیے، ہم سے جب تمہاری لوکیشن بارے پوچھا گیا تھا تو ہم نے لوکیشن نہ بتا کر تمہاری جان بچائی۔ اور اب تم بھی ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانیوں کے درپے ہو ؟‘‘خواجہ صاحب نے کابل و قندھار پر قابض قبضہ گیر ٹولے ، طالبان، کے سنگی ساتھی، سراج الدین حقانی، کے پاکستان سے پیسے مانگنے کی داستان بھی بیان کر دی ہے۔ یہ کہانی روپے پیسے کے لالچی اور بلیک میلر طالبان کی داستان بھی بیان کرتی ہے ۔ یہ افغان طالبان کے سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی بھی ناقابلِ فراموش کہانی ہے ۔ شرم مگر طالبان کو نہیں آتی ۔ شائد کبھی آئے گی بھی نہیں ۔ یہ تو بھارت سے متنوع بھیک مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا