Today News
زرخیز موتی – ایکسپریس اردو
مجھے اپنی فیلڈ کو سمجھنے کے لیے کم از کم دو سال لگے تھے۔ الیکٹرانکس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سے منسلک کوئی اور فیلڈ نہ تھی لہٰذا مجھے یہی لینا پڑا۔
مجبوری تھی پھر اس کو میں نے سمجھنا شروع کیا تو جا کر مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنے آپ کو ہی کمتر سمجھا تھا میں تو بہت بہتر ہوں اور یہ بات مجھے فیلڈ میں اترنے سے پتا چلی ہے۔
جب تک ہم فیلڈ میں کسی کام کو لگن اور شوق سے نہیں کرتے تب تک ہمیں اس میں مزہ نہیں آتا ۔ کسی بھی اچھے سے اچھے کام کو بغیر دلچسپی اور بددلی سے کیا جائے تو وہ انسان کو کوئی خوشی نہیں دیتا۔ خوشی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب کوئی بھی کام پورے شوق اور دل جمعی سے کیا جائے۔
’’کیا طالب علم اپنی پسند کی فیلڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟‘‘
اس کی ایک مثال میری اپنی ایک کلاس فیلو تو نہیں، اسکول فیلو کی ہے اسے لٹریچر سے انتہا کی حد تک عشق تھا، اسکول میں وہ ایسی باتیں کرتی تھی کہ ہم کہتے تھے کہ بہن ذرا آسان زبان میں بات کرتاکہ دوسرے بھی آسانی سے سمجھ سکیں‘اتنی مشکل زبان میں بات کرو گی تو دوسروں کو خاک سمجھ آئے گی۔
بہرحال اس نے پہلی پوزیشن لی اور اس نے ڈگری لے کر گھر میں لا کر اپنے والدین کو پکڑائی اور کہا کہ یہ ڈگری حاصل کرنا آپ کا شوق تھا تو میں نے حاصل کر لی، اب میں وہ کروں گی جو میرا دل چاہتا تھا۔
لہٰذا اس نے وہ کام پروفیشنلی اختیار کیا، وہ کالج کے زمانے سے ہی بلاگز لکھتی تھی، پھر اس نے باہر کے میگزین کے لیے کام کرنا شروع کر دیا، وہی شوق جو وہ اسکول کے زمانے میں رکھتی تھی۔ اس کی زبان ایسی لٹرل تھی اور ایسا ہی وہ لکھتی تھی۔
’’کس یونیورسٹی سے پڑھا اس لڑکی نے؟‘‘ سوال پوچھا گیا تو جواب نے ششدر کر دیا۔ کراچی کی نمبر ون سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی۔
اسی کے سیکنڈ پوزیشن ہولڈر کی بات سنیں وہ بھی ہمارے اسکول کا ہی تھا (کراچی کا مایہ ناز اسکول جس کا نظام کئی اسکولوں میں رائج ہے) اسے سرکار کے محکمے میں نوکری ملی تھی، پھر اسے ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب ملی۔
اس نے فوراً سرکاری کنٹریکٹ کی جاب چھوڑ کر انجینئرنگ کمپنی میں نوکری اختیار کر لی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک ٹاپر کو انجینئرنگ کی جاب ملی ہوگی، جی نہیں، اسے ٹیکنیکل سیلز میں جاب ملی ہے اور وہ کر رہا ہے۔
یہ تو حیران کن بات ہے کہ ہمارے یہاں کے ٹاپرز کو بھی اس طرح کی جابس کرنا پڑتی ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ بڑے سرکاری اداروں میں نااہلی، کرپشن کی باتیں سنتے ہیں، ایسے ذہین بچوں کے ساتھ ایسا سلوک سمجھ نہیں آتا۔
صرف یہی نہیں ایسے ایسے ذہین نوجوان کہ ان کے ٹیچرز ان سے گھبراتے ہیں۔ میں اپنے ایک سینئر کی بات بتاتا ہوں، وہ تین سال تک بے روزگار رہے، اب جا کر کہیں جاب کر رہے ہیں، وہ بھی ان کی اہلیت کے لائق نہیں۔
میں نے خود ان سے ایک مضمون پڑھا تھا، انھوں نے مجھے بہت اچھی طرح سمجھایا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں کون ٹیچر پڑھا رہا ہے، میں نے نام لیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے اس ٹرم کا مطلب پوچھنا اور اگر وہ بتا دیں تو مجھے ضرور بتانا۔
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا آخر؟
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا، دراصل ان موصوف کو اس کا علم نہیں تھا اور اسی بات پر ان سے بحث ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں فیل کردیا گیا۔ یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر طالب علموں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کیوں ہوتا ہے سوال یہ ہے۔
آپ ان کی قابلیت کے بارے میں ایسے اندازہ لگائیں کہ فلاں ( ایک نجی نامی گرامی یونیورسٹی) میں ان سے لوگ ہل جاتے ہیں۔
ہلنے کا مطلب؟ مطلب یہ کہ لوگ کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب یہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لے کہ جس کا جواب ہمیں نہ آتا ہو۔ ایسے ذہین طالب علموں کو بھی جاب نہیں ملتی۔
اس کی کیا وجہ ہے؟ ( جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا)۔ اس لیے کہ جو انٹرویو لیتے ہیں انھیں بھی اپنی سیٹ بچانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اور ہمارا سلیبس بہت پیچھے ہے۔
اب جو باہر کی دنیا کو فالو کرتا ہے کیونکہ بہت کچھ آپ کو انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے تو جن کے ذہن کو پالش ہونا ہی ہوتا ہے وہ ہو جاتے ہیں، ان کا معیار بڑھ جاتا ہے جب کہ ہمارے پڑھانے والے اپنے پرانے تعلیمی نظام اور سلیبس کو پڑھ کر آتے ہیں تو دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کیا ایک ڈگری یافتہ نوجوان ایک اچھی نوکری کا اہل ہوتا ہے؟
بالکل ہوتا ہے بشرطیکہ اس نے عملی طور پر بھی کام کیا ہو، صرف رٹو طوطا اور لکیر کے فقیر بن کر آپ اچھی جی پی لے کر نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن پڑھائی اور پریکٹیکل دو الگ الگ معیار ہیں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ پڑھائی میں اچھے ہیں اور اسے اپنے پریکٹیکل میں اپلائی کرتے ہیں تو کامیاب ہیں لیکن صرف کتابیں پڑھ لینا خاص کر سائنس اور ٹیکنیکل میدان میں کارگر نہیں۔
یہ ایک نوجوان کے خیالات تھے۔ ہمارے ہاں طالب علم کے ذہن کو نہیں دیکھتے کہ اس کا رجحان کس طرف ہے، وہ اپنے والدین کی خواہشات کے مطابق ہی فیلڈ اختیارکرتا ہے، پڑھتا ہے اس طرح ہم ناکارہ سسٹم تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اوسط درجے کی ذہانت والے لوگ ہر فیلڈ میں گھسے نظر آئیں گے۔
کچھ عرصہ قبل ایک صاحبہ اردو کے حوالے سے نظر آئیں، ان کی سرکاری ملازمت کے گریڈ کا کیا ہی کہیں لیکن جب ان کے املا کی عام سی غلطیاں دیکھیں تو دل پر ملال تھا۔ ایسا کیوں؟ انگریزی کے ٹیچر انگریزی تو کیا اردو بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، اسی طرح اردو اور دوسرے مضامین کی کہانی ہے۔
ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں بلکہ بے باک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک ہیرا تھے، جن کی ذہانت، قابلیت اور حب الوطنی جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن کیا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد ہم ان جیسے ذہین پاکستانی کی تلاش ترک کردیں جو اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کہیں ہم اپنے زرخیز ذہنوں کو ڈپریشن، مایوسی اور ناکامی کے کانٹوں میں الجھا کر ناشکری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟
Today News
ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی
مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔
سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔
منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔
وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔
دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔
دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔
مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟
اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔
لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔
ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟
لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔
براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔
ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔
اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔
پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔
دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔
دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔
کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔
کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔
Today News
افغانستان میں یکے بعد دیگرے فضائی حملے، ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ
کابل:
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پکتیکا کے بعد صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی معلومات سامنے نہیں آ سکی، تاہم مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
Today News
ملکی معیشت اور اس کے مسائل
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر گزرے دو تین برس کا جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت میں قدرے استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔
معیشت کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بند ہو چکی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ شرح سود میں بھی خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔
پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اگلے روز کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی اور جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔
یہ انکشاف آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔
انھوں نے اعتراف کیا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کی ہیں، سرکاری خریداری کی نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے۔
پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔قوانین میں موجود پیچیدگیوں اور ابہام کا خاتمہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکس کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔
خصوصاً کم آمدنی والا ایسا طبقہ جو انکم ٹیکس کی سلیب کے تحت ٹیکس نیٹ میں آ جاتا ہے، اسے اپنا گوشوارہ جمع کروانے کے لیے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ گوشوارہ خود سے تیار نہیں کر سکتا۔
اگر یہ سادہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا دکاندار وکیل کی فیس دینے سے بچ سکتا ہے اور وہ خود ہی اپنا گوشوارہ تیار کر کے ایف بی آر کو بھجوا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025میں ملک نے 14سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔
آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔
جیولی کوزیک کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہے، البتہ آئی ایم ایف نے کئی معاملات میں اپنی سفارشات پیش کی ہیں جو کہ قابل غور ہونی چاہئیں۔
ادھر جمعہ کو سرکاری سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سروے رپورٹ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔
سال2018-19ء سے 2024-25کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت کی عدم مساوات 32.7 تک پہنچ چکی ہے۔
اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998 میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔ پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔
اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جب کہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔
لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔
لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7 فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جب کہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔
لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ بھی ہوا ہے تو مہنگائی نے اسے ختم کردیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کا بھی لوگوں کی عام زندگیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا کیونکہ مہنگائی کی بلند شرح،توانائی کی بڑھتی قیمتوں،روپے کی شرح مبادلہ گرنے ،بھاری ٹیکسوں خاص طور پربراہ راست لگنے والے ٹیکسوں نے لوگوں کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس سے لوگوں کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔احسن اقبال نے غربت بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلی بارتو2018 میں اقتصادی ترقی کا سفر متاثر ہوا اس کے بعد 2022 میں ملکی معیشت کریش کرگئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ،اس کے لیے ہمیں معاشی گروتھ اور دولت کی پیدا واریت کی طرف جانا ہوگا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔
جب ان سے ملکی معیشت کی بدحالی میں وفاقی حکومت کے کردارکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہمیں پہلے تین سال تو پی ٹی آئی کی تباہی کے اثرات دور کرنے میں ہی لگے ہیں۔
انھیں امید ہے کہ اب اگلے مرحلے پر ہم اقتصادی شرح نمو بڑھانے اور غربت کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
انھوں نے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل ازوقت نکلنے کی باتوں کو مسترد کردیا اور کہا کو حکومت زراعت او رآئی ٹی سیکٹرز کو فروغ دے کرمشکلات سے نکل سکتی ہے۔
حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔
پاکستان میں گراس روٹ لیول پر جو معاشی مسائل نظر آ رہے ہیں، ان کی وجوہات میں ایک وجہ غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا خصوصاً سابقہ فاٹا کا ایریا، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے وفاقی ٹیکسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کی شرح میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad