Connect with us

Today News

زکوٰۃ کی رقم اور اس کے مستحقین شریعت میں متعین ہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی

Published

on


اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ میں بنیادی فرق ہے، زکوٰۃ کی رقم اور اس کے مستحقین شریعت میں متعین ہیں جبکہ صدقہ نفلی خیرات ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کسی بھی مقدار میں دیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ صدقہ انسان کی جان اور مال دونوں کا ہوتا ہے اور اس کا مقصد مشکلات اور مصیبتوں کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدقہ صرف رقم کی صورت میں ہی نہیں بلکہ کپڑوں، اشیائے ضرورت، طلبہ کی کتابوں یا کسی شخص کو روزگار کے لیے مشین یا سامان فراہم کرنے کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کے مستحقین کا ذکر قرآن مجید میں آٹھ طبقات کی صورت میں کیا گیا ہے جن میں مساکین، فقراء، قرض دار، اللہ کی راہ میں کام کرنے والے افراد اور دیگر مستحق طبقات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ انہی افراد کو دی جانی چاہیے جنہیں شریعت نے مستحق قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ ناجائز ذرائع سے کمائے گئے مال سے کی جانے والی نیکی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص حرام آمدن سے خیرات یا زکوٰۃ دیتا ہے تو اس سے ثواب حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ گناہ کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں یہ رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ صرف اس وجہ سے امداد لے لیتے ہیں کہ چیز مفت مل رہی ہے، حالانکہ وہ اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ دینے والے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحقین کی درست جانچ پڑتال کریں تاکہ زکوٰۃ صحیح لوگوں تک پہنچ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص خود صاحب حیثیت ہو اسے زکوٰۃ نہیں لینی چاہیے، البتہ نفلی صدقہ ضرورت کے مطابق لیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پیشہ ور بھکاریوں کو صدقہ اور زکوٰۃ دینے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے سفید پوش افراد کو تلاش کرنا چاہیے جو اپنی ضرورت کے باوجود لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

فطرانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ جو بچہ عید کی نماز سے پہلے پیدا ہو جائے اس کا فطرانہ بھی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً باپ اپنے زیر کفالت بچوں کی طرف سے فطرانہ ادا کرتا ہے جبکہ عورت اپنا فطرانہ خود ادا کر سکتی ہے، تاہم اگر شوہر ادا کر دے تو وہ بھی درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ فطرانہ دراصل روزوں کی کوتاہیوں کی تلافی اور مستحق افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ بھی کھانے پینے اور ضروریات زندگی کا بندوبست کر سکیں۔

سرکاری نظام زکوٰۃ کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ حکومت کے زکوٰۃ نظام کے بارے میں بعض تحفظات پائے جاتے ہیں، تاہم زکوٰۃ کی رقم مختلف اداروں، ہسپتالوں اور فنی تربیت کے مراکز کے ذریعے مستحق افراد تک پہنچائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی زیادہ اور زکوٰۃ کی مجموعی رقم محدود ہونے کے باعث فی کس امداد کم محسوس ہوتی ہے، جس سے لوگوں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم صحیح طریقے سے تقسیم نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کی رقم بینکوں کے ذریعے جمع ہو کر صوبوں اور مقامی کمیٹیوں تک پہنچتی ہے جہاں آبادی کے تناسب سے اسے تقسیم کیا جاتا ہے، اس لیے اس نظام پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے تجاویز دینا بھی ضروری ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا: اجنبی کے مشورے نے شہری کو بڑا انعام جتوا دیا

Published

on



امریکا میں ایک اجنبی کے مشورے سے شہری نے بڑا انعام جیت لیا۔

ریاست میری لینڈ کے شہر حیاتس ول سے تعلق رکھنے والے شہری کو ایک دکان پر ایک اجنبی نے نئی لاٹری میں قسمت آزمانے کا مشورہ دیا۔

مشورے پر عمل کرتے ہوئے شہری نے لاٹری کا ٹک لیا اور اسکریچ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس نے انعام میں ایک لاکھ ڈالر جیت لیے ہیں۔

انعام لینے کے لیے شہری کے ساتھ آئی ان کی اہلیہ نے لاٹری انتظامیہ کو بتایا کہ ان کے شوہر کو انعام جیتنے پر یقین نہیں آ رہا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

میٹا کی ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی تیاری

Published

on



ٹیکنالوجی کمپنی میٹا مبینہ طور پر ہزاروں ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اپنے 20 فی صد تک ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو تقریباً 16 ہزار کی تعداد بنتی ہے۔

اگر کمپنی رپورٹ کے عین مطابق کرتی ہے تو یہ 2022 کے بعد سے یہ ملازمین کو فارغ کرنے کا سب سے بڑا دور ہوگا۔ 2022 میں کمپنی کی جانب سے 11 ہزار افراد کو نوکری سے نکالا گیا تھا جبکہ اس کے اگلے برس 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔

دو سینئر ملازمین نے اس متعلق بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ ملازمین کی برطرفیوں کا عمل ایک مہینے میں شروع ہو سکتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چائے یا کافی دماغی بیماری کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے: تحقیق

Published

on



ایک طویل المدتی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی مشروبات پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔

جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ مطالعے کے آغاز پر یہ افراد کینسر، پارکنسن کی بیماری یا ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھے۔

اس مطالعے میں 1980 سے 2023 تک نرسز ہیلتھ اسٹڈی میں 86 ہزار سے زائد خواتین اور 1983 سے 2023 تک ہیلتھ پروفیشنلز فالو اپ اسٹڈی میں 45 ہزار سے زائد مرد شرکا کو شامل کیا گیا۔ خواتین شرکا کی اوسط عمر 46 سال تھی، جبکہ مرد شرکاء کی اوسط عمر 54 سال تھی۔

کافی اور چائے کے استعمال اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے شرکا سے دو سے چار سال میں ایک مرتبہ غذائی سوالنامے جمع کیے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا میں 11 ہزار سے زیادہ ڈیمینشیا کے کیسز سامنے آئے، لیکن زیادہ کیفین والی کافی پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی اور ذہنی زوال کے سبجیکٹیو علامات میں کمی دیکھنے کو ملی۔

اس کے علاوہ، نرسز ہیلتھ اسٹڈی کے شرکا میں زیادہ کافی پینے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی سے بھی تھا۔ اسی طرح، کیفین والی چائے کے زیادہ استعمال کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سے جوڑا گیا۔



Source link

Continue Reading

Trending