Connect with us

Today News

سانحہ گل پلازہ: 20 منٹ میں پانی ختم اور مناسب آلات نہیں تھے، تنویر پاستا کا کمیشن کو تحریری جواب

Published

on


سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کو تنویر پاستا نے کمیشن کے 45 سوالات پر مشتمل سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا۔

جواب میں اعتراف کیا گیا کہ دکانوں کے ٹائٹل کی دستاویزات کا ریکارڈ جمع نہیں کرایا گیا جبکہ دکانداروں سے ماہانہ بنیاد پر مینٹیننس کے نام پر 1500 روپے جمع کرنے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ سوالنامے میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ایسوسی ایشن کسی سرکاری ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھی اور عمارت کے دروازے صدر کی ہدایت پر بند رکھے جاتے تھے۔

جواب میں تنویر پاستا نے سانحے میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو قرار دیا۔ ان کے مطابق فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی 10 بج کر 55 منٹ پر پہنچی جبکہ بیس منٹ کے اندر فائر ٹینڈر میں پانی ختم ہوگیا تھا۔ مزید دو ٹینڈر ساڑھے گیارہ بجے پہنچے لیکن اس وقت تک آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا اور ابتدائی گھنٹوں میں وہ عمارت میں داخل ہو کر پھنسے افراد کو نکالنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کے مطابق فائر فائٹرز کے پاس فوم یا کیمیکل بھی دستیاب نہیں تھا۔

بیان کے مطابق مارکیٹ انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نجی ٹینکرز کا انتظام کیا جبکہ واٹر کارپوریشن کے ٹینکرز فجر کے بعد فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ریسکیو کارروائیاں سست رہیں اور امدادی سرگرمیاں فجر کے بعد متحرک ہوئیں، اس وقت تک آگ شدت اختیار کر چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں پھنسے افراد کی لوکیشن ملنے پر کچھ لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نکالا گیا تاہم مناسب ریسکیو سہولیات نہ ہونے کے باعث کئی افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔

تنویر پاستا کے مطابق سانحے کے وقت گل پلازہ میں تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر کو باہر نکال لیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمارت کے تمام 16 راستے کھلے تھے اور ہزاروں افراد انہی راستوں سے باہر نکلے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معائنے کے دوران دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا تاہم اس میں تالہ نہیں تھا اور ممکنہ طور پر آگ کی شدت سے اسپرنگ متاثر ہونے کے باعث شٹر بند ہوا۔

جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس، اسپرے اور دیگر آتش گیر سامان موجود تھا جبکہ عمارت کی چھت پر سات ڈیزل جنریٹر تھے جن میں سے پانچ فعال تھے۔

ان کے مطابق جاں بحق 72 افراد میں سے 51 افراد مارکیٹ سے وابستہ تھے۔

کمیشن کے سوالنامے میں 45 سوالات پرمشتمل سوالنامہ تھا۔ دکانوں کے ٹائٹل کی دستاویزات کا ریکارڈ جمع نہیں کرایا۔

کمیشن کے مطابق دکانداروں سے ماہانہ بنیادپر مینٹنسس کےنام پر1500 روپےجمع کرنے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ جواب میں اعتراف کیا گیا کہ کسی بھی سرکاری ادارے سےغیررجسٹرڈ ایسوسی ایشن کام کررہی تھی۔ یہ بھی اعتراف کیا گیا عمارت کے دروازے صدرکی ہدایت پر بندرکھے جاتے تھے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آپریشن غضب للحق، پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائی، طالبان کے اہم ٹھکانے اور فوجی تنصیبات تباہ

Published

on



اسلام آباد:

پاکستانی افواج نے آپریشن “غضب للحق” کے تحت 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افواج نے افغانستان کے شہر قندھار میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ بعض فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں دہشت گردوں کے ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق تباہ کیے جانے والے انفراسٹرکچر اور اسٹوریج مراکز افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے استعمال کیے جا رہے تھے جہاں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی جاتی تھی۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو مکمل طور پر یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ؛ امریکا کے مشکل دن شروع ہوگئے

Published

on


ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو رہا ہے اور شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس سے پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں۔ جس سے امریکا بھی متاثر ہوا ہے۔

امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ملک بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 3.68 ڈالر فی گیلن ہو گئی جو جنگ شروع ہونے سے قبل سے اب تک تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔

آج کے روز عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 2.67 فیصد اضافے کے بعد 103.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.11 فیصد اضافے کے ساتھ 98.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس ہفتے ڈیزل کی اوسط قیمت 4.85 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایران پر ابتدائی حملوں سے پہلے یہ قیمت تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے شپنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مثال کے طور پر بڑی کوریئر کمپنی فیڈایکس ڈیزل کی قیمت 3.55 ڈالر فی گیلن سے اوپر جانے پر اضافی سرچارج عائد کرتی ہے۔

ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، سکتی ہیں کھاد کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کے کئی اہم اجزا کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

امریکا بین الاقوامی پروازوں کا حب ہے۔ ایران جنگ کے باعث ہوائی سفر مہنگا ہو رہا ہے کیونکہ جیٹ فیول کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ جس سے امریکا کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جس کے باعث صدر ٹرمپ پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں امریکی کانگریس سرگرم ہورہی ہے وہیں جی سیون ممالک نے صدر ٹرمپ سے جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیا ہے۔

 

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

کفایت شعاری مہم، کس کی تنخوا سے کتنی کٹوتی ہوگی؟ نوٹی فکیشن جاری

Published

on



وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مزید اقدامات نافذ کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ ڈویژن کی 9 اور 10 مارچ 2026 کی جاری کردہ ہدایات کے تسلسل میں مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نئے اقدامات کی منظوری دی ہے۔

ان اقدامات کے تحت سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔

کتنی تنخواہ پر کتنی کٹوتی ہوگی؟

نوٹیفکیشن کے مطابق تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 5 فیصد، دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 15 فیصد، بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے تنخواہ والوں سے 25 فیصد جبکہ تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والوں سے 30 فیصد کٹوتی دو ماہ تک کی جائے گی۔

 اسی طرح سرکاری نامزد افراد کو سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈ اجلاسوں میں ملنے والی 100 فیصد فیس بھی آئندہ دو ماہ کے لیے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔

وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 23 مارچ 2026 کو بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں تقریبات کے بجائے سادہ پرچم کشائی کی جائے گی، علاوہ ازیں بیرون ملک مشنز کے بجٹ میں بھی چوتھی سہہ ماہی کے لیے 20 فیصد کمی اور افسران کی دو روزہ تنخواہ کی کٹوتی لاگو ہوگی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق ادائیگیاں جاری رہیں گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ریونیو ڈویژن پر ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی تاکہ محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

اسی طرح کسٹمز انفورسمنٹ اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے آپریشنل گاڑیوں پر ایندھن میں کمی اور گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو نہیں ہوگی تاہم مجموعی طور پر ایندھن کی بچت کے اہداف پورے کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز کو بھی سکیورٹی ضروریات کے باعث ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم وہ شعبے جو براہ راست فیلڈ آپریشنز میں شامل نہیں ہیں ان پر ایندھن میں پچاس فیصد کمی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو ہوگی۔

حکومت نے آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے البتہ ایسے تربیتی پروگرام جو مکمل طور پر بین الاقوامی اداروں کے فنڈ سے ہوں اور جن کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو، انہیں اس پابندی سے استثنی حاصل ہوگا۔

مزید برآں سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو صرف سرکاری امور تک محدود کرنے، حساس شخصیات کے سکیورٹی قافلوں کو محدود کرنے اور اجلاسوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو لنک اور ٹیلی کانفرنسنگ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت نے ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہفتہ وار رپورٹ ایک ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی جبکہ انٹیلی جنس بیورو ایندھن میں کمی اور سرکاری گاڑیوں کی بندش کے اقدامات کا آڈٹ کرکے وزیر اعظم کو ہفتہ وار رپورٹ پیش کرے گا۔

اس کے علاوہ کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔



Source link

Continue Reading

Trending