Connect with us

Today News

سرحد پارگٹھ جوڑ اور دہشت گردی

Published

on


باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 13 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شہر قائد ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب شاہ لطیف ٹاؤن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید مقابلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

 ملک بھر میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی اور منظم لہر نے سر اٹھا لیا ہے، حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض چند منتشر کارروائیاں نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کے تحت جاری مہم کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کی ذمے داری جن عناصر پر عائد کی گئی اور جن کے بارے میں سرکاری سطح پر کہا گیا کہ انھیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے، وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی یہ لہر داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت کا بھی نتیجہ ہے۔ داخلی کمزوری یہ تھی کہ خیبرپختون خوا کی تمام شاہراہیں احتجاجی سیاست کی وجہ سے بند تھیں جس کی وجہ سے دشمن کو وار کرنے کا موقع ملا۔

 گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین یا وہاں موجود نیٹ ورکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کا ایٹمی طاقت ہونا، چین کے ساتھ اس کے تزویراتی تعلقات، اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے منصوبے بعض قوتوں کے لیے باعثِ تشویش رہے ہیں۔

ایسی صورت میں کسی ملک کو براہِ راست جنگ میں الجھانے کے بجائے پراکسی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے انھیں اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، سکیورٹی تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنائیں، تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہو اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔

باجوڑ حملے میں خودکش دھماکہ خیز گاڑی کا استعمال، چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچانا اس بات کی علامت ہے کہ مقصد صرف عسکری نقصان نہیں بلکہ سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی تھا۔ دہشت گردی کی حکمت عملی میں نفسیاتی جنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا پیغام دور دور تک پہنچتا ہے کہ دشمن ہر جگہ موجود ہے۔ یہی وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو سرمایہ کاری، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں دہشت گردوں کی موجودگی اور بارودی مواد کی تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری مراکز کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش جاری ہے، اگر کراچی جیسے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ بندرگاہی سرگرمیاں، بین الاقوامی تجارت، مالیاتی ادارے اور صنعتی یونٹس سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل ہدف محض جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ریاستی و معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔

اس نئی لہر کے اسباب و محرکات کو سمجھنے کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ خارجی سطح پر سب سے اہم عنصر علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ ہے۔ اگر واقعی پاکستان مخالف عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے تو یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو سفارتی، عسکری اور معاشی محاذوں پر دباؤ میں رکھنا ہے۔

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت اور قبائلی روابط دہشت گردوں کے لیے نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنا پاتی تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں، باہمی اعتماد کی فضا کو کمزور رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ اور سرحدی جھڑپیں ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں پراکسی عناصر کے استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دہشت گرد گروہوں کو مالی یا لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، کے فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے تاکہ عالمی دباؤ کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔داخلی عوامل بھی کم اہم نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، مگر نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

شدت پسند بیانیہ، مذہبی یا نسلی جذبات کا استحصال، اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب تک ان فکری جڑوں کو نہیں کاٹا جائے گا، دہشت گردی کی نئی شکلیں سامنے آتی رہیں گی، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری کارروائی کافی نہیں۔ ایک ہمہ جہت حکمت عملی ناگزیر ہے جس کے چند بنیادی ستون ہوں۔ پہلا ستون انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا مربوط نظام ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر مانیٹرنگ کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تکمیل اور جدید آلات کے استعمال سے دراندازی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرا ستون نظریاتی محاذ ہے۔ علما، دانشور، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو انتہا پسندی کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرے۔ مذہب کے نام پر تشدد کو بے نقاب کرنا اور آئینی و جمہوری اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں تنقیدی سوچ، برداشت اور مکالمے کی ثقافت کو شامل کرنا طویل المدتی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور قومی دھارے میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شدت پسند عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں۔تیسرا ستون معاشی و سماجی ترقی ہے۔

قبائلی اضلاع اور سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ مقامی عمائدین اور کمیونٹی لیڈرز کو امن کمیٹیوں کے ذریعے شامل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

چوتھا ستون سفارت کاری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور واضح پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اختلافات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی، خواہ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں، بیک چینل یا رسمی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور الزامات کی سیاست کے بجائے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر بات آگے بڑھے۔

پانچواں اور سب سے اہم ستون قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو ہوا دینا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جائے تو دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کے بجائے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔آج کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک سیکیورٹی چیلنج کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی بقا اور مستقبل کے تناظر میں سمجھا جائے۔

اگر ہم نے مربوط حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سفارت کاری، نظریاتی اصلاح اور معاشی ترقی کو یکجا کر لیا تو دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر، وقتی کامیابیاں بھی مستقل امن میں تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے، اور قوم کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ہر سطح پر دشمن کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ

Published

on



کراچی:

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔

گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔

کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع

Published

on



پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔

اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔

کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔ 

چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔

سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔

ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔

گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔

کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟

ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔

چیف فائر آفیسر  ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔ 

جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع  پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،

ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔

آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔

پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔

جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔

جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟

چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔

کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔

محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔

کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔

گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔

فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،

گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟

تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔

وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔





Source link

Continue Reading

Trending