Today News
سرخ لکیر اور خطے کا مستقبل
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔
دوسری جانب چین نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں۔
حالیہ دنوں میں افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر’’ سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، دراصل پاکستان کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
کسی بھی ریاست کے لیے اس کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے پہلی ذمے داری ہوتی ہے، اگرکسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی بری طرح متاثرکرتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کسی قسم کی کمزوری دکھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب افغان حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا اور اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات میں بظاہر کشیدگی کم کرنے کی خواہش جھلکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد مرتبہ یہ شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سوویت یونین کی مداخلت سے لے کر خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی موجودگی اور پھر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تک افغانستان نے مسلسل ہنگامہ خیز حالات کا سامنا کیا ہے۔
اس طویل عرصے میں افغان ریاستی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان اس پورے عرصے میں افغانستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج بنے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی کیں۔
تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی جو کوششیں ہوئی ہیں تو یہ ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ عالمی برادری پہلے ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں ملوث ہے تو اس سے اس کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس تناظر میں چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن کے بغیر ترقی کے بڑے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس خطے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو تجارتی اور اقتصادی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ ملک بھی علاقائی رابطوں اور تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
چین اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کو علاقائی اقتصادی نظام میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے اور خطے میں دہشت گردی کو فروغ نہ دے۔افغانستان کو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔اگر افغانستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو افغانستان پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا بیان اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب انھوں نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، اور دوسری جانب انھوں نے اس عزم کا بھی اظہارکیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے علاقائی ممالک کے لیے مسائل نہ پیدا کرے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور باہمی اعتماد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ علاقائی طاقتوں، خصوصاً چین کی سفارتی معاونت بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
میڈیا اور عوامی حلقوں کی ذمے داری بھی اس موقع پر کم نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔افغان حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اگر افغانستان نے ترقی کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے تو اسے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ اور کشیدگی نے پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کر کے پورے خطے میں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس سے امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔
عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور مشترکہ ترقی اب بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر افغانستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مثبت کردار ادا کرے تو نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ بھی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کے بادلوں کو چھانٹ کر ایک روشن اور پرامن مستقبل کی نوید دے سکتا ہے۔
Today News
قومی ٹی ٹونٹی کپ، کراچی وائٹس اور لاہور وائٹس نے سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
پشاور:
قومی ٹی ٹونٹی کپ کے مقابلوں میں کراچی وائٹس اور لاہور وائٹس نے بالترتیب چھ اور پانچ پوائنٹس حاصل کر کے سیمی فائنلز میں جگہ بنا لی ہے۔
ٹورنامنٹ کے شیڈول کے مطابق پہلے میچ میں لاہور وائٹس اور کراچی وائٹس کے درمیان مقابلہ ہونا تھا، جبکہ دوسرے میچ میں پشاور اور بہاولپور کی ٹیمیں آمنے سامنے آنے والی تھیں۔
دوسری جانب آج گروپ بی کے میچوں کے بعد سیمی فائنل کی مزید دو ٹیموں کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔
آج کے میچز میں ایبٹ آباد کی ٹیم لاہور بلیوز کے مدمقابل ہوگی جبکہ سیالکوٹ اور ملتان کی ٹیمیں بھی آمنے سامنے آئیں گی۔
ان مقابلوں کے نتائج کے بعد قومی ٹی ٹونٹی کپ کے سیمی فائنلز کی چاروں ٹیمیں مکمل ہو جائیں گی۔
Today News
سیفی جیسا کوئی نہیں – ایکسپریس اردو
گھر کی بالکونی کا دروازہ کھلا اور ایک شخص نمودار ہوا، وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھا لیکن پوری گلی اس کی ایک جھلک دیکھتے کیلیے بھری ہوئی تھی، جیسے ہی اس نے ٹرافی تھامے ہاتھ اوپر اٹھائے ہزاروں افراد خوشی سے جھوم اٹھے، فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
وہ نوجوان سرفراز احمد تھا جس کی قیادت میں ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی2017 جیتی تھی،اس وقت کراچی کے ہر نوجوان کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح سرفراز کے گھر بفرزون پہنچ جائے۔
یہ کارنامہ بھی بہت بڑا تھا پاکستان ٹیم نے لندن میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی، عمران خان کے بعد سرفراز دوسرے کپتان بنے جنھوں نے 50 اوورز کا کوئی آئی سی سی ٹائٹل جیتا۔
اس سے پہلے سرفراز ٹیم کو2006 میں انڈر 19 ورلڈ چیمپئن بھی بنوا چکے تھے،ان کی کپتانی میں پاکستان نے مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتیں، ٹیسٹ اور ون ڈے میں بھی کارنامے سرانجام دیے،اب بھی لوگ ان کے دور قیادت کو یاد کرتے ہیں۔
جب سے انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا ہماری ٹیم دوبارہ سیٹ نہ ہو سکی، کئی کپتان آئے گئے لیکن سیفی والی بات کسی میں نہ تھی، خود غرض نہ ہونا ان کی سب سے بڑی خوبی رہی جو بعد میں خامی بن گئی، وہ ٹیم کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر بیٹنگ آرڈر میں تاخیر سے آنے لگے۔
فارم متاثر ہوئی تو مخالفین کو تنقید کا موقع مل گیا، ان کی سب سے بڑی’’غلطی ‘‘ ورلڈ کپ میں سامنے آئی، جب ایک اعلیٰ شخصیت نے کوئی مشورہ دیا جس پر عمل نہ ہوا تو انھیں کپتانی سے ہٹانے کا حکم صادر ہو گیا۔
سرفراز کو چیئرمین احسان مانی کے نائب وسیم خان نے ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کہا کہ ’’ہم آپ کو قیادت سے ہٹا رہے ہیں، خود استعفیٰ دے دیں تو اچھا رہے گا‘‘ شاید وہ پہلا موقع تھا جب سرفراز نے بورڈ نے بات نہ مانی اور جواب دیا کہ وہ خود مستعفی نہیں ہوں گے، اگر ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، اسی شام ان کی برطرفی کا پروانہ جاری ہو گیا۔
پاکستان کرکٹ کیلیے وہ یوم سیاہ تھا اور ٹیم اب تک اس غلط فیصلے کے نتائج بھگت رہی ہے، سرفراز کو قریبی دوست یہی مشورے دیتے رہے کہ اپنے کھیل پر بھی توجہ دو، اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرو جب تک ٹیم جیت رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہے گا جہاں ایک سیریز ہارے سب ڈنڈا لے کر پیچھے پڑ جائیں گے۔
لیکن انھوں نے کسی کی بات نہ سنی اور یہی کہتے رہے کہ ٹیم کیلیے جو اچھا ہے وہی کروں گا،اس کا انھیں نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان میں کھلاڑیوں کو زبردستی کپتان بنایا جاتا ہے لیکن سرفراز نیچرل کپتان تھے، انھوں نے جونیئر لیول سے ہی قیادت سنبھالی ، پھر پاکستان ٹیم کو نئی بلندیوں پر لے کر گئے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل میں بھی اچھا پرفارم کیا اور ٹائٹل بھی جیتا، اگر آپ شاداب خان، حسن علی یا اس وقت ڈیبیو کرنے والے کسی اور کرکٹر سے پوچھیں تو وہ سرفراز کو ہی اپنا پسندیدہ کپتان قرار دیں گے۔
بابر اعظم کو گروم کرنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے رہے لیکن جب مشکل آئی تو کوئی ساتھ کھڑا نہ ہوا، ’’بچے‘‘ بڑے ہو کر خود کپتان بننے کے خواب دیکھنے لگے اور سیفی بھائی کے احسان بھول گئے۔
لیکن انھوں نے کبھی کوئی شکوہ نہ کیا اور ہمیشہ مسکرا کر سب سے ملتے رہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ’’بھیا بھیا‘‘ کہنے والے لوگوں نے بھی سلیکٹر بن کر آنکھیں پھیر لیں۔
خیر یہ سرفراز کا بڑا پن ہے کہ آج بھی کسی کیخلاف کوئی بات نہیں کرتے، کرکٹ کی جتنی سمجھ انھیں ہے شاید ہی کسی اور کو ہو، آج کل کرکٹرز جیسے ہی تھوڑا نام بنائیں کلب کرکٹ تو دور کی بات ہے ڈومیسٹک میچز بھی نہیں کھیلتے۔
البتہ سرفراز نے ہمیشہ کھیل کو عزت دی، اعظم خان نے جب انھیں پاکستان کرکٹ کلب کے میچ کا بتایا وہ ہمیشہ حاضر ہوتے، کپتانی میں سرفراز کا جارحانہ انداز بھی اکثر موضوع بحث رہتا۔
وہ فیلڈ میں کھلاڑیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پلیئرز ان کا مزاج سمجھتے تھے، انھیں پتا تھا کہ ابھی سیفی بھائی سے ڈانٹ پڑی ہے تو رات کو وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر گانے سناتے ہوئے کھانا کھلانے بھی لے جائیں گے،اسی لیے آج بھی ان کی عزت ہے۔
پاکستان میں کوئی کھلاڑی ایک بار اچھا پرفارم کرلے تو اس کا انداز ویراٹ کوہلی والا ہو جاتا ہے لیکن سرفراز ہمیشہ عوامی شخصیت رہے، بقرعید کے دنوں میں اکثر وہ گلیوں میں گائے ٹہلاتے نظر آتے، عام دنوں میں موٹر سائیکل پر گھومتے دکھائی دیتے۔
آپ نے کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا کہ سرفراز نے بدتمیزی کی، وہ سب سے خندہ پیشانی سے ہی ملتے ہیں، پاکستان میں بڑے کرکٹر اور اچھے انسان کا کمبی نیشن کم ہی نظر آتا ہے، سرفراز ان چند افراد میں سے ایک ہیں۔
ان کی ایک خامی جارحانہ بیٹنگ سے ہم آہنگ نہ ہونا بنی، ندیم عمر جیسی قریبی شخصیات انھیں پاور ہٹنگ میں مہارت لانے یا اوپننگ کرنے جیسے مشورے دیتی رہیں لیکن انھوں نے ان پر عمل نہ کیا، خیر سرفراز نے جتنی کرکٹ کھیلی عزت سے کھیلی، پاکستان کے بہترین کپتانوں کا جب بھی نام لیا جائے وہ نمایاں ہی ہوں گے۔
سرفراز نے جونیئر لیول کے کرکٹرز کی رہنمائی تو شروع کر دی تھی،اب انھیں ٹیسٹ ٹیم کا کوچ بنانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو اچھے لوگوں کی پرکھ ہے، سرفراز جیسے ایماندار اور بے لوث افراد انھیں پسند ہیں، اسی لیے وہ ان کو قومی سیٹ اپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
وہ پیسے کی پیچھے نہیں بھاگتے، سادہ لائف اسٹائل ہے، پاکستان میں کسی کے پاس تھوڑا سا پیسہ آ جائے وہ ڈیفنس کی طرف بھاگتا ہے سرفراز اب بھی بفرزون کا وہی لڑکا ہے جو گلی میں بچوں کے ساتھ ٹیپ بال سے بھی کرکٹ کھیلتا ہے، ہر کرکٹر کو ایک نہ ایک دن ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے سرفراز کے کیریئر میں بھی وہ وقت آ گیا۔
امید یہی ہے کہ جس طرح انھوں نے بطور وکٹ کیپر بیٹر اور کپتان ملک کیلیے کارنامے سرانجام دیے اسی طرح سلیکٹر اور کوچ کی حیثیت سے بھی نام کمائیں گے اور لوگ یہی کہیں گے کہ ’’سیفی جیسا کوئی نہیں‘‘۔
Today News
ایران؛ اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں 20 افراد گرفتار
ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد کو اسرائیل تک حساس معلومات پہنچانےکے الزام میں 20 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبائی پراسیکیوٹر کے دفتر کے الزامات پر 20 افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر ایران کی فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات کے مقام کی تفصیلات اسرائیل کو بھیجنے کا الزام ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل اور امریکا کے فضائی حملوں سے بڑی حد تک محفوظ شمال مشرقی ایران میں10 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں کچھ پر حساس مقامات اور اقتصادی انفرا اسٹرکچر کی معلومات جمع کرنے کا الزام ہے۔
خبرایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کے خفیہ ادارے نے بتایا کہ جب صیہونی دشمن (اسرائیل) اور امریکا ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وہ ایک ہی وقت میں کرائے کے فوجیوں اور جاسوسوں کو بھی فعال کرتے ہیں تاکہ اگلے مرحلے کے طور پر ہنگامے کروائیں۔
ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبہ لورستان میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ عوامی کو اشتعال دلانے اور اہم علامات کو جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
Source link
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video