Connect with us

Today News

سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے، علیمہ خان

Published

on



پاکستان تحریک کے بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سرکاری رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور حکومتی ڈاکٹروں پر یقین نہیں ہے، اب ہمیں عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل ماربل فیکٹری ناکے کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج جیل کے باہر رمضان کی آخری افطاری تھی، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں کہ کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ بانی کا علاج ہے، فیملی کا اصل مسئلہ بانی کا علاج ہے، سرکاری رپورٹ کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور سرکاری ڈاکٹروں پر یقین نہیں کرتے۔

علیمہ خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک ایسی رپورٹ منظور کی جو پیش کی گئی، کیا اسکو میڈیکل رپورٹ کہتے ہیں، ہائیکورٹ میں جج اچھے تھے، جنھوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے اچھے سوال کیے جس پر انہوں نے بتایا کہ بانی کو اسپتال لے جانے سے امن وامان کی صورتحال خراب ہو گی۔  یہ کس قسم کا بہانہ بنایا یہ ماننے والی بات ہے ؟ ایسا لگتا ہے فیصلہ کہیں اور سے لکھا ہوا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی کو جان کر جیل کے اندر رکھا جا رہا ہے تاکہ انکی آنکھ ضائع ہو جائے،یہ مجرمانہ عمل ہے، چیف کمشنر انہی دو نامعلوم ڈاکٹروں کا بورڈ بنائیں گے جنکو ہم جانتے نہیں، ہم چیف کمشنر کی بات پر کیسے یقین کریں کیونکہ وہ خود محسن نقوی کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ اب ڈاکٹر عظمی کی پٹیشن ہمارے وکیل لیکر سپریم کورٹ جائیں گے،ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، بانی کی ملاقات اسلئے بند ہے تاکہ ہمیں پتہ نہ چلے کہ بانی کی آنکھ کیسی ہے، ہمیں انکی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بشری بی بی کی فیملی کو بھی نہیں ملنے دیا گیا کیونکہ اس سے قبل بشری بی بی کی فیملی نے دو مرتبہ بانی کی صحت کا پیغام دیا تھا۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،اعتزاز احسن کے شکر گزار ہیں وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ، عید کے بعد اگر ایسا جاری رکھا گیا تو حالات بدلیں گے، ہم انکو اچھے طریقے سے کہہ سکتے ہیں کہ بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

’چیٹوزارڈ‘ ریکارڈ قیمت میں نیلام

Published

on



گینیز ورلڈ ریکارڈزکا کہنا ہے کہ ’چیٹوزارڈ‘ (چیٹو کی شکل کا پوکیمون چیزرڈ) کی نیلامی نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

ادارے بتایا کہ گولڈن آکشنز نے مارچ 2025 میں چیٹوزارڈ کی فروخت 87 ہزار 840 ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں کی۔

تین انچ لمبا چیٹو ایک کسٹم ’چیٹوزارڈ‘ پوکیمون کارڈ پر جڑا ہوا ہے اور اسے ایک شفاف ڈبے میں محفوظ کیا گیا ہے۔

گولڈِن آکشنز کے ہیڈ آف کنسائنمنٹ ڈیو امرمنت نے بتایا کہ گولڈِن کی خاصیت نایاب اور اپنی نوعیت کی انوکھی اشیاء جمع کرتی ہے اور چیٹوزارڈ بالکل ایسا ہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پلاسٹک کی بوتل سے خطرناک بیماری کی دوا تیار

Published

on



ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک بیکٹیریا کا استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک کی بوتلوں سے ایک دوا بنائی گئی ہے جو پارکنسنز (رعشہ) بیماری کا علاج کرے گی۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پلاسٹک کچرے کو قدرتی حیاتیاتی عمل سے تلف کرتے ہوئے اعصابی بیماری کے لیے ایک دوا بنایا گیا ہے تاکہ اس کیفیت میں مبتلا افراد کی زندگی بہتر بنائی جا سکے۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنس دانوں نے ای کولی نامی بیکٹیریا کو انجینئر کر کے ایسا بنایا جو غذا اور مشروبات کی پیکجنگ کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک (پولی ایتھیلائن ٹریفتھالیٹ، پی ای ٹی) کو ایل-ڈی او پی اے میں بدل دیا جاتا جس کو پارکنسنز کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پارکنسنز کی ادویات بنانے کے لیے روایتی طریقے فاسل فیول پر انحصار کرتی ہے۔ لہٰذا پلاسٹک کے دوبارہ استعمال کو زیادہ پائیدار سمجھا جاتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاک-افغان کشیدگی؛ غیر مسلح افراد کی جانوں کی قدرہرحال میں مقدم ہونی چاہیے، جنرل (ر) سعید

Published

on



لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کابل میں شہری مقام کو نشانہ بنائے جانے کے افغان طالبان حکومت کے دعوؤں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرمسلح افراد کی قدرہر حال میں مقدم ہونی چاہیے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ افغان طالبان کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جنگی کارروائیوں میں شہریوں کا نقصان ہمیشہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی قوانین کے لیے باعث تشویش رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر مسلح افراد کی جانوں کی قدرہرحال میں مقدم ہونی چاہیے، افغان طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پرافغانستان سے کام کرنے والے گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 5 ہزار پاکستانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ان گروپس میں شامل 60 سے 70 فیصد تک عناصر افغان شہریوں پر مشتمل ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ افغان طالبان کے کابل میں حالیہ حملے سے متعلق دعوؤں پر شکوک پائے جاتے ہیں، کیا صرف ایک فریق کا بیان حتمی ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کسی بحالی مرکز یا شہری مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے تو افغان حکام کو چاہیے کہ غیر جانب دار بین الاقوامی میڈیا کو موقعے پر لے جا کر حقائق دنیا کے سامنے رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسلسل دھماکوں اور آگ بھڑکنے کے مناظر دیکھے گئے، جو مبینہ طور پر اسلحہ ذخیرہ گاہ کو نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اوراسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر واقعی سیکڑوں شہری ہلاکتوں کا دعویٰ درست ہے تو اجتماعی جنازے یا واضح شواہد کیوں پیش نہیں کیے گئے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) سعید نے کہا کہ اس طرح کے دعوؤں اور جوابی بیانات کے درمیان حقیقت تک رسائی کے لیے شفاف تحقیقات اور غیرجانب دار ذرائع کی تصدیق ناگزیر ہے تاکہ شہری جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا پروپیگنڈے سے بچا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Trending