Connect with us

Today News

سری لنکا نے سابق پاکستانی کوچ کی خدمات حاصل کرلیں

Published

on



سری لنکا کرکٹ نے جنوبی افریقا کے سابق کھلاڑی گیری کرسٹن کو مینز ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا۔

گیری کرسٹن اپنی ذمہ داریاں 15 اپریل سے سنبھالیں گے اور دو سال تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

واضح رہے سابق سری لنکن بلے باز سنتھ جے سوریا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی وجہ سے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

گیری کرسٹن نے 2011 میں بھارت کی فتح میں بطور کوچ اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ جنوبی افریقا نے ان کی کوچنگ میں ٹیسٹ فارمیٹ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، ماہ صیام میں بھی لٹیرے بے لگام، شہری سے ڈکیتی کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ماہ رمضان کے دوران بھی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رک نہ سکیں، ماڈل کالونی کے علاقے نشتر پارک کے قریب موٹرسائیکل سوار شہری سے ڈکیتی کی واردات پیش آئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی ہے۔

فوٹیج کے مطابق دو موٹرسائیکلوں پر سوار تین مسلح ڈاکوؤں نے سڑک پر جاتے ہوئے موٹرسائیکل سوار شہری کو روکا اور اسلحے کے زور پر لوٹ لیا۔

ایک ملزم نے شہری سے موٹرسائیکل چھیننے کی بھی کوشش کی تاہم شہری کی مزاحمت کے باعث ڈاکو موٹرسائیکل چھیننے میں ناکام رہے۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان شہری کا پرس چھین کر موقع سے فرار ہو گئے جبکہ واردات چند لمحوں میں انجام دی گئی۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان میں یومیہ کتنے لیٹر پیٹرول استعمال ہوتا ہے؟ جانیے

Published

on



لاہور:

پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد فی لیٹر قیمت 322 روپے سے زیادہ ہو گئی جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت کتنی ہے اورحکومت کو اس میں سے کتنی آمدن ہوتی ہے. 

حکومت کے ٹیکس اور لیوی تقریباً 95 روپے فی لیٹر،آئل مارکیٹنگ کمپنی مارجن تقریباً 7.87 روپے،پٹرول پمپ ڈیلر کمیشن تقریباً 8.64 روپے،ترسیلی اخراجات،ان لینڈ فریٹ مارجن تقریباً 8 سے 10 روپے بنتا ہے. 

حکومت کو ایک لیٹر پیٹرول سے حاصل ہونے والی آمدن درج ذیل مدات پر مشتمل cہوتی ہے جس میں پٹرولیم لیوی تقریباً 78 روپے فی لٹر،کسٹم ڈیوٹی تقریباً 14 روپے فی لیٹر،کلائمیٹ یا کاربن لیوی تقریباً 2.5 روپے فی لیٹر ہے، یوں ایک لٹر پیٹرول سے حکومت کو تقریباً 95 روپے حاصل ہوتے ہیں. 

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی فروخت تقریباً 21 ہزار میٹرک ٹن روزانہ ہے،اس حساب سے ملک میں پٹرول کی یومیہ کھپت تقریباً،27 ملین کے حساب سے   95 روپے اگر فی لیٹر وصول کی جائے تو یہ مالیت روزانہ 2 ارب 56 کروڑ روپے جبکہ سالانہ 930ارب روپے بنتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مفاہمت ہی واحد آپشن – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ایک طرف داخلی مسائل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل ہیں تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ جنگ ہے ،امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ اور خلیجی ممالک تک اس جنگ کا پھیلاؤ ہے جو ہمارے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔یہ حالات فوری طور پر بہتر نہیں ہوں گے اور ان کے براہ راست اثرات ہم پر مرتب ہوں گے۔ایسے میں پاکستان کی قیادت کو زیادہ تدبر کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیںغیر معمولی فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے بھی موجودہ صورتحال پر نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بقول قومی سیاست میں مفاہمت، مصالحت اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور یہ ہی استحکام نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام فریقین کو مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کریں ۔یہ جو بھارت ، اسرائیل اور افغانستان پر مبنی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے، ایسے میں ہمیں زیادہ حکمت کے ساتھ اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا جس میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور متفقہ طور پر حالات کا مقابلہ کریں ۔جنرل )ر(ناصر جنجوعہ نے جو باتیں کی ہیں اس میں فہم اور تدبر کی جھلک ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ قومی مفاہمت کا عمل کیسے شروع ہوگا اور کیسے مکمل ہوگا؟

 ادھر پی ٹی آئی کی کوٹ لکھپت جیل میں موجود قیادت نے بھی ایک خط کے ذریعے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی کے بانی سے ان کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم بات چیت کی مدد سے سیاسی راستہ نکال سکتے ہیں لیکن اس خط کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔

اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی قیادت مطمئن ہے کہ موجودہ حالات میں بھی ملک بہتر چل رہا ہے اور بعض وفاقی وزرا کے بقول نہ تو ملک کی سطح پر کوئی سیاسی تقسیم ہے اور نہ سیاسی محاذآرائی یا سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔ ان کی سوچ اپنی جگہ ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات نے پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس کا درست ادراک نہیں ہے۔اس حکومت نے حالات کی بہتری کے لیے جتنے بھی بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، وہ تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ جنگی ماحول نے معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں ۔

مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب سیاسی لچک پیدا کرکے درمیانی راستہ پیدا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے حالات جلد نارمل ہوجائیں گے تو یہ اندازہ درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کھیل جاری ہے یہ محض طاقت کی حکمت عملی، ڈکٹیشن یا مسلط کردہ ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل ہے جو امریکا ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے تیار کیا ہے۔ ہم یہ مشق پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز عراق ، یمن ، لیبیا، شام اور غزہ سے ہوا تھا اور یہ ایران تک پہنچ گیا ہے مگر ہم اب تک سوائے خاموش تماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکے ۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیںمگر حکومت کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس کا جائزہ کون لے گا۔کیونکہ حکومت اندرونی طور پر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ علاقائی ماحول ٹھنڈا ہوا ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور ہم مجموعی طور پر اسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

 حکمران طبقات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ مشیروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں توان کو سب اچھا لگتا ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار کافی مضبوط ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اقتدار پر گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہے اور ان کے اپنے اندر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے ، معیشت جو پہلے بھی زیادہ اچھی نہیں تھی مزید کمزور ہو رہی ہے۔اب تھوڑا سا ملک کی سیاست پر بات ہوجائے۔حکومت کے اہم راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول بانی پی ٹی آئی کو سیاسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ممکن ہو ایسا ہی ہو تاہم انھوں نے اپنی بات کی تردید بھی کردی ہے کہ کسی کو کوئی آفر نہیں کی گئی ، مفروضے کی حد تک یہ سوال بنتا ہے اگر کوئی آفرہوئی بھی تھی تو اس کا ایجنڈا اور نکات کیا تھے ؟تاکہ سب ہی جان سکیں کہ مفاہمت کے کھیل میںکس فریق کا کیا ایجنڈا ہے ۔

لیکن اب اس پر بات کرنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہے کہ مبینہ ڈیل آفر کو کوئی فریق تسلیم نہیں کررہا ہے۔ بہرحال مسئلہ محض حکومت اور پی ٹی آئی کا نہیں ہے جیسے سابق لیفٹیننٹ جنرل)ر( اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور معاشی سطح کا استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ملک کے داخلی سیاسی حالات مستحکم ہوں گے۔ کیونکہ معیشت کی ترقی براہ راست سیاسی استحکام ہی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ حالات کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں بلکہ ان حالات میں ہمارے لیے سیکیورٹی اور دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending