Connect with us

Today News

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ مذاکرات میں شرکت کے بعد وطن روانہ

Published

on



اسلام آباد:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اپنے اپنے وطن روانہ ہو گئے ہیں۔

تینوں وزرائے خارجہ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز اسلام آباد میں اہم بیٹھک میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے تھے جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیر خارجہ خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پہنچے۔

بعدازاں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا۔

یہ اجلاس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں مشرق وسطی میں جنگ بندی اور قیام امن کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ختم ہوگیا اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میں دی گئی تجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تبریز میں امریکا اور اسرائیل کا پیٹروکیمیکل پلانٹ پر حملہ، ایرانی سرکاری میڈیا

Published

on


ایران کے شہر تبریز میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

رپورٹس کے مطابق ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو کنٹرول میں لینے کی کوششیں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی، جس سے بڑے ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ٹل گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ نے ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کا عندیہ دے دیا

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ایرانی تیل پر قبضے بلکہ اہم تنصیبات کو آسانی سے حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خارگ جزیرہ جیسے اہم برآمدی مرکز کو بہت آسانی سے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس مقام پر مؤثر دفاع نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد جنہیں ایران نے اجازت دی اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے ایک براہ راست فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔

یہ حساس ذخائر اصفہان اور نطنز جیسے اہم مقامات پر موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دنوں تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئیں

Published

on


عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں نے خطرناک حد تک چھلانگ لگا دی جہاں برینٹ کروڈ ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔

صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔

جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔

ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جنگ کی آگ بجھانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز پاکستان میں ملاقات کی۔

چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending