Connect with us

Today News

سفارتی سرگرمیاں مزید تیز، اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

Published

on



 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں مشرق وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی سے گفتگو میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے کردار کو اجاگر کیا۔

جاپانی وزیر خارجہ نے خطے میں مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اسی سلسلے میں پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ پاؤلو رینجل سے گفتگو کے دوران بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ پرتگال نے پاکستان کے سفارتی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔

برطانیہ کے وزیر مملکت حمیش فالکنر سے گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال زیر بحث آئی برطانوی حکام نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دریں اثناء کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ گفتگو میں بھی کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک نے پاکستان-کینیڈا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان تمام رابطوں میں پاکستان نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بزرگ والدین اور ان کے مسائل

Published

on


اس وقت بھارت میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ بھارت میں پہلے ہی مینٹی ننس اینڈ ویلفئیر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سیٹیزن ایکٹ 2007 موجود ہے جس کے تحت بچے والدین کی مالی کفالت کے پابند ہیں،بزرگ عدالت سے مدد لے سکتے ہیں۔

اس کے باوجود انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ،جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی ،نیزاس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔

اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر بھی ہو گا۔قانون کے تحت ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ بالا قسم کے قوانین موجود ہیں تاہم اس کے باوجودعالمی سطح پر بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے بجائے اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ چین میں اولڈ ہومز میں رہنے والے بزرگوں کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے، جاپان جو دنیا کی سب سے مہذب قوم سمجھی جاتی ہے وہاں چار فیصد کے قریب، برطانیہ میں چار فیصد،یورپ میں چار فیصد سے زائد اور امریکا میں یہ شرح پانچ فیصد کے قریب ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔

بچوں کی اپنے بزرگ والدین سے دوری اور بے اعتنائی کے سبب دنیا میں بزرگوں کی تنہائی (Loneliness of elderly) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گیاہے اور اسی وجہ سے کچھ ممالک نے اس کے لیے خاص وزارت یا سرکاری عہدہ بھی قائم کیا ہے۔

برطانیہ دنیا کا پہلا ملک جس نے 2018 میں Minister for Lonelinessمقرر کیا اس کے بعد2021 میں جاپان نے بھی یہی عہدہ متعارف کرایا۔ دوسری طرف بزرگوں میں خودکشی کی شرح بھی زیادہ ہے۔عالمی سطح پر خودکشی کی اوسط شرح ایک لاکھ آبادی پر تقریباً نو سے بارہ افراد ہے جب کہ بزرگوں میں یہ شرح بیس سے انیس افراد ہے۔ یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔

غور کیا جائے تو مغرب یا ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں، اب پاکستان اور بھارت جیسے سب ہی ممالک میں بزرگو ں کے مسائل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو جہاندیدہ افراد کو نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

انھوں نے اسمبلی میں یہ بھی کہاکہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔ اب یہ رجحان بھی نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو کمانے کے لیے اور اچھے مستقبل کے لیے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں اور خود تنہا یہاں اپنے گھر میں زندگی گزارتے ہیں گو کہ بچے بیرون ملک سے خرچہ تو بھیج دیتے ہیں مگر بڑھاپے میں اور بیماری کی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال کے لیے اولاد یہاں موجود نہیں ہوتی صرف ویڈیو کال پر خیر خیریت معلوم کر لی جاتی ہے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض گھرانوں میں بچے والدین کو عزت تو دیتے ہیں،خرچہ بھی دیتے ہیں لیکن وقت نہیں دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے والدین کا حق ادا کر دیا جب کہ بزرگوں کو پیسوں سے زیادہ بچوں کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بات کرے، تنہائی ان بزرگ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔

غور کیا جائے تو اس وقت کسی ایسے گھر میں جہاں بزرگ والدین رہتے ہوں، دو بڑے مسائل ہیں، ایک مسئلہ بزرگوں کا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے اور وہ کسی کو تلاش کرتے ہیں کہ کوئی بات کرنے والا، گفتگو کرنے والا مل جائے، ان میں جو بزرگ چل پھر سکتے ہیں وہ کسی کلب میں، ہوٹل میں یا چوراہے پر اپنے ہم عمر لوگوں میں بیٹھ کر وقت گزار تے ہیں لیکن جو بزرگ چل پھر نہیں سکتے، صرف گھر پر رہتے ہیں انھیں گھر میں وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ عموماً گھر کا ہر فرد مصروف ہوتا ہے۔

موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بے پناہ مصروفیت بھی ہے، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا اور اگر کچھ وقت میسر آجائے تو وہ موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو گھر آئے مہمان کو بھی وقت دینا مشکل ہوگیا ہے، ایک جگہ بیٹھے لوگ آپس میں بھی بات نہیں کرتے بلکہ موبائل میں لگے رہتے ہیں، سو ایسے میں گھر کے بزرگوں کو کہاں سے وقت دیا جائے؟ یوں ہمارا ہاں بھی تنہائی، ہمارے بزرگوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی طرح بہت سے گھروں میں بچے اپنے والدین سے لڑتے ہیںکہ انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اس ضمن میں بعض اپنے والدین سے ہفتوں اورمہینوں بات نہیں کرتے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین غلط ہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ والدین غلط بھی ہوں تو والدین ہوتے ہیں، ان سے ناراضگی کیوں، جب کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں ’’اف ‘‘ بھی نہ کہو۔ظاہر سی بات ہے جب کسی انسان کو کوئی بات بری لگتی ہے یا غلط لگتی ہے تبھی وہ ’’اف‘‘ کہے گا تو اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھاپے میں والدین کی غلط بات کو بھی برداشت کرنا چاہیے ، یہی دین اسلام کا ہم سے مطالبہ ہے۔ بہر کیف بزرگوں کے مسائل ہمارے ہاں بھی توجہ چاہتے ہیں۔ آئیے! اس پر توجہ دیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا چین کامیاب ثالثی کا کردار ادا کرسکے گا؟

Published

on


پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری محض دو ممالک کے بہتر تعلقات تک محدود کہانی نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس میں خطہ کے استحکام کا حل موجود ہے۔اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو جنگی کشیدگی ،ٹکراؤ کا ماحول ہے، اس میں بات چیت کے ماحول کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں ۔

دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی سطح پر بات چیت کے دروازے بند ہونا حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے اور ایسے میں حالات کی بہتر ی کو ممکن بنانے کے لیے یہ ہی راستہ بچتا ہے کہ دوست ممالک کوئی راستہ نکال کر کشیدگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں ۔سعودی عرب ،قطر اور ترکیہ نے جو مذاکرات کا راستہ نکالا تھا لیکن کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی سرزمین پردہشت گردی پر مبنی کارروائیوں پر تحریری ضمانت نہ دینا تھا جس سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکا اور افغان حکومت کسی بھی صورت میں تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگی کشیدگی کے خاتمہ میں چین کی ثالثی کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔چین اس علاقائی اور عالمی سطح کی سیاست میں اب ایک بڑا فریق ہے۔

یہ بات پہلے بھی ان ہی صفحات پر لکھی تھی کہ اگر پاکستان اور چین کے درمیان حالات کی بہتری کا کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا تو اس میں چین کی ثالثی کا بڑا کردار ہوگا۔کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو سہولتیں دے رہی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھا کر بلیک میل کررہی ہے جب کہ افغانستان کی قیادت بھارت کو ساتھ ملا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں پھر چین ہی کردار ادا کرسکتا ہے جو پاکستان یا علاقائی استحکام کی ضرورت ہے ۔چین کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار ملک ہے اور اس کی ثالثی کو کوئی ملک آسانی سے نظرانداز نہیںکرسکتا۔چین اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک میں چین کی بڑی سرمایہ کاری سی پیک اور دیگر منصوبوں کی صورت میں موجود ہے ۔اسی طرح اس خطہ میں دہشت گردی کا ہونا یا عدم استحکام کی موجودگی یا سرحدی کشیدگی چین کے مفادات کے برعکس ہے ۔

ایسے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری اور براہ راست بات چیت چین کے سیاسی اور معاشی مفادات کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔چین اس وقت شٹل ڈپلومیسی کے تحت اسلام آباد اور کابل میں بات چیت کے لیے موجود ہے جہاں براہ راست بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی ہورہی ہے اور چین کے نمائندے اس میں کافی متحرک اور فعال نظر آتے ہیں ۔یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ تین فریقی مذاکرات کے مختلف سیشن بھی ہوچکے ہیں جس میں ورکنگ لیول میٹنگز بھی شامل ہیں تاکہ تاکہ سازگار بات چیت کا ماحول پیدا کیا جاسکے ۔

اسی طرح چین کی فعالیت پر مبنی ثالثی اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک کی جانب سے اوپن وار جیسے الفاظ اور عمل کا آغاز ہوا اور اسی بنیاد پر چین کو ثالثی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی میں کمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ چین کا فوری مقصد اعتماد سازی،کشیدگی کم کرنا اور تعاون بڑھانے پر زور دینا ہے کیونکہ چین چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کی بنیاد پر سرحدی تنازعات کا پرامن حل،دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون جس میں ٹی ٹی پی جیسے مسائل بھی شامل ہیں،اقتصادی روابط کی بحالی ،تجارت اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع،علاقائی سطح کا استحکام اور بی آر آئی منصوبوں کی حفاظت،چین کی طاقت اور حدود جیسے امور شامل ہیں ۔اس لیے بہت سے ماہرین کے بقول دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں چین کی ثالثی کافی اہمیت رکھتی ہے اور دونوں ممالک کا اس ثالثی کو نظرانداز کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔کیونکہ چین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے حل کو ون ان ون صورتحال میں لاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو ان کے معاملات پر راضی کرسکتا ہے ۔

افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے چین کو ضمانت دے سکتا ہے اور ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا۔ چین جس وقت ایک بڑے ثالثی کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا تو یہ کردار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہوگا اور دہشت گردی کو باقاعدہ بات چیت کا حصہ بنایا جائے گا اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی کو عملا اختیار کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہوگی ۔ چین کی ثالثی میں جو بھی معاہدہ ہوگا، اس کے تحت چین کو مختلف نوعیت کی ضمانتیں دینی ہوگی ۔اصل میں بنیادی نقطہ دہشت گردی کا ہے اور جب تک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم یا فریم ورک نہیں بنیں گے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان جسے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے فوری طور پر دہشت گردی جیسے مسئلہ سے باہر نکلنا ہے تو اس کا علاج بھی افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے ۔خود افغان طالبان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ یک طرفہ طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کو جاری رکھتے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر ان کے لیے بھی مشکلات بڑھیں گی۔

چین کی ڈپلومیسی کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ان معاملات میں میڈیا کی سطح پر گرم جوشی کو نہیں دکھاتا بلکہ اس کی بیشتر ڈپلومیسی خفیہ ڈپلومیسی یا پس پردہ عمل کی بنیاد پر جاری رہتی ہے ۔خود افغان حکومت میں بھی یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ان کو بھی اب لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان سے مذاکرات اورتعلقات کی بہتری کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے پچھلے کچھ دنوں سے ہمیں افغان حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کے تناظر میں مثبت بیانات دیکھنے کو مل رہے ہیں جو امید کے پہلو کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔ ایک مسئلہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں یہ بھی ہے اگر چین کی ثالثی کی مدد سے دونوں ممالک کی سطح پر کچھ طے ہوتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوسکے گا۔کیونکہ ماضی میں طالبان حکومت نے پاکستان حکومت سے جو بھی وعدے یا عہد کیے، اس پر شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکا جس میں بالخصوص ٹی ٹی پی کا معاملہ سرفہرست ہے۔

اس لیے یہ بھی چین کے لیے اہم مسئلہ ہوگا کہ جو کچھ طے ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کا میکنزم بھی تیار ہو اور دونوں ممالک اس پر عمل کریں کیونکہ اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر پاکستان نے افغانستان کے تناظر میں تین مطالبات پیش کردیے ہیں ۔اول کابل باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم تسلیم یا اس کو قرار دے،دوئم اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرے ۔سوئم، اس کارروائی کا قابل قبول ثبوت فراہم کرے ۔اس لیے گیند افغان حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہائے !یہ مہنگائی مار دے گی

Published

on


ایک جانب ہرن تھا جس کے لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔ دوسری جانب شکاری تھا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ اب شکاری کو ظالم لکھنا تو فضول کی سی بات ہوگی۔ بات صاف ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے۔ جس کو سامنے شکار نظر آرہا ہو اور وہ نشانہ لگانے کے لیے بے تاب بھی تو پھر وہ ظالم ہی کہلائے گا۔ چنانچہ کیفیت یہ تھی کہ ہرن جنگل میں نکلا تھا کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے، یعنی اپنی خوراک کا انتظام کرسکے۔

وہ جنگل میں سرگرمی سے گھوم رہا تھا اور خوراک کی تلاش کررہا تھا۔ ممکن تھا کہ وہ خوراک تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا کہ ایک شکاری جس کے ہاتھ میں بندوق تھی ،اس شکاری کی نظر اس ہرن پر پڑی جب کہ شکاری بے حد خوش ہوا کہ آج تو شکار بڑی آسانی سے ہاتھ آنے والا ہے، چنانچہ شکاری نے بندوق سیدھی کی اور ہرن کو نشانے پر لے لیا جب کہ ہرن نے بھی دیکھ لیا کہ شکاری اس کا نشانہ لے چکا ہے چنانچہ ہرن نے پوری قوت کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا جب کہ شکاری بھی یہ سوچ کر کر ہاتھ آیا شکار چھوڑنا نہیں، اس ہرن کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا۔ بھاگنے میں دونوں اپنی اپنی پوری قوت استعمال کررہے تھے کہ ایک مقام پر جاکر ہرن تھک کے نڈھال ہوکر کھڑا ہوگیا گویا اب اس کے اندر مزید بھاگنے کی قوت جواب دے گئی تھی۔

اس کیفیت میں شکاری بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں آ پہنچا مگر یہ کیا جیسے ہی شکاری نے ہرن کا نشانہ لیا تو بے بس ہرن پکار اٹھا کہ ’’شکاری گولی مت چلانا ورنہ قیامت آجائے گی۔‘‘ شکاری پہلے تو سوچ میں پڑگیا کہ میرے گولی چلانے سے قیامت کا کیا تعلق ؟بالاخر اس شکاری نے گولی چلا دی جو کہ ہرن کی ٹانگ پر جا لگی۔ اس کیفیت میں ہرن زمین پر گرا اور تڑپنے لگا ۔ شکاری نے ہرن سے کہا ’’ دیکھو میں نے گولی چلا دی جو کہ تیری ٹانگ میں جاکر لگ بھی گئی مگر تیرے کہنے کے مطابق قیامت تو نہیں آئی۔‘‘ شکاری کی بات سن کر ہرن درد کی شدت سے کراہتے ہوئے بولا’’ میرے لیے تو قیامت آچکی ،اول تو تم مجھے زندہ چھوڑوگے نہیں، دوئم۔ اگر تم مجھے زندہ چھوڑ بھی دو جو کہ ناممکن سی بات ہے تو اس صورت میں بھی مجھے باقی ساری زندگی ایک ٹانگ کی معذوری کے ساتھ گزارنا ہوگی۔‘‘

تو دوستوں ہمارے حکمران یقین کریں یا نہ کریں، عوام کے لیے قیامت برپا ہوچکی ہے گو کہ عوام کے لیے پہلے ہی سے قیامت صغریٰ برپا ہوچکی تھی مگر اب حکومت وقت نے قیامت کبریٰ برپا کردی ہے۔ عوام کے لیے پہلے ہی مسائل کے سبب جسم و جان کا ناتا برقرار رکھنا ناممکن تھا، اب تو حالات ہی دگرگوں ہوگئے ہیں۔ یہ اسی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جس کے لیڈران کہہ رہے تھے کہ اگر دو روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے تو قوم کے حقیقی لیڈر و قوم کے ہمدردوں کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔

ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، بلکہ شکایت نہ ہوگی اور غدار وطن ٹھہرائے جائیں گے، کیونکہ عصر حاضر میں حکمرانوں پر تنقید کرنے کا مطلب لیا جاتا ہے وطن پر تنقید۔ بلاشبہ ہماری سب سے قیمتی متاع حیات بھی ایک بار نہیں، دو بار نہیں ہزار بار قربان ہے حالاں کہ موجودہ وزیراعظم صاحب جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 2018 میں اپنا دس سالہ دور حکومت مکمل کرنے کے بعد انتخابی مہم پر نکلے تو شاعر انقلاب حبیب جالب کی نظم دستور جلسۂ عام میں لوگوں کو سنا رہے تھے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سے

ظلم کی بات کو جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

حبیب جالب صاحب کی یہ نظم ذرا طویل ہے، اسی باعث اس نظم دستور کے چند اشعار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔گویا موجودہ حکمران اسی دستور سے بغاوت کا اعلان کررہے تھے جس دستور کے تحت وہ حکومت میں آتے رہے اور جس دستور کے تحت وہ آج بھی حکمران ہیں مگر جو طرز حکومت انھوں نے اختیار کیا ہے اس طرز حکمرانی نے قوم کی چیخیں نکال دی ہیں گویا دو چار دس بیس روپے نہیں 137 روپے یکمشت پٹرول پر اور 182 روپے ڈیزل پر بڑھا دیے۔ ایک لمحے کو فقط ایک لمحے کو تو غور کرتے کہ ہزاروں مشکلات کا شکار قوم یہ اس قدر اضافہ کیسے برداشت کرے گی اگرچہ پورے ملک میں بے روزگاری ہے ۔

اب اگر فقط کراچی ہی کی بات کریں تو جو محنت کش کورنگی، شیرشاہ، بلدیہ ٹاؤن یا گڈاپ یا اورنگی ٹاؤن سے صدر یا ملیر یا قائد آباد سے پورٹ قاسم جاتے ہیں وہ محنت کش کم سے کم یک طرفہ کرایہ 150روپے اور دو طرفہ 300 روپے کرایہ ادا کریں گے اور پھر ایک ہزار روپے کماسکیں گے اور جو لوگ روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان کا گزارا کیسے ہوگا جب کہ لاہور میں کیفیت یہ ہے کہ وہاں دیہی علاقوں سے لوگ روزانہ محنت کرنے آتے ہیں اور شام کو واپس جاتے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان حالات میں جب مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا تو وہ کیسے گزارا کریں گے کیوں کہ قیمتیں صرف پٹرول یا ڈیزل کی نہیں بڑھیں بلکہ اب تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی۔

آٹا، دال، چاول، سبزیاں ، بسوں کے کرائے سمیت تمام چیزوں کے دام بڑھیں گے ۔ دوسری جانب حکومت کے حاشیہ بردار صحافی و میڈیا کے لوگ حکومت کے ان اقدامات کو حالات کا تقاضا وقت کی مجبوری قرار دیں گے اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کریں گے، ہم ابھی تک انھی سطور تک رسائی حاصل کرپائے تھے کہ درمیان میں جمعۃ المبارک کی ادائیگی کا وقت آگیا چنانچہ جب نماز جمعہ سے فراغت پائی تو یہ خبر ہماری منتظر تھی کہ ٹرانسپوٹرز نے فوری طور پر بسوںکے کرایوں میں 65 فیصد تک اضافہ کردیا ہے یہ اضافی کرایہ فوری طور پر نافذ العمل بھی کردیاگیا ہے ابھی لاہور سے دیگر شہروں کے لیے اضافی رقم بڑھائی گئی ہے وہ تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد سابقہ کرایہ 3000  روپے ایک ہزار اضافہ کرائے کی یہ رقم ہوگی چار ہزار روپے۔ مری کا کرایہ سابقہ 3500 روپے اب یہ کرایہ ہوگا 4500 روپے کردیاگیا ہے گویا 11سو روپے بڑھادیاگیا۔

لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھا کر 12ہزار روپے کردیاگیا جب کہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں کا بسوں کا کرایہ بھی لازمی بڑھے گا جب کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے بلکہ قابل فکر ہے کہ ریلوے کے کرائے بھی لازمی بڑھائے جائیں گے گویا اب جو لوگ ایک برس میں ایک بار کراچی سے خیبرپختون خوا یا پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے پیاروں کے پاس خوشی غمی میں شرکت کرلیتے تھے اب وہ ریلوے کے سفر سے بھی محروم ہوگئے ہیں، یوں بھی گزشتہ چار برسوں میں جس قدر کرائے بڑھائے گئے ہیں وہ اضافی کرائے ہیں لوگوں کے لیے ناقابل برداشت تھے ۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا ہی ذکر کیا، اگر ذکر کریں اہل پی جی گیس کا تو وہ جان لیں کہ اب وہ لوگ جو ایل پی جی گیس استعمال کرتے ہیں وہ لوگ اب کلہاڑیاں تھام لیں اور جنگلوں کی طرف چلے جائیں اور جلانے کے لیے لکڑیوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجائیںکیونکہ موجودہ صورت حال میں آٹا، دال کا حصول ایک ناقابل عمل محسوس ہوتا ہے بہرکیف آنے والے دوچار روز میں تمام صورتحال واضح ہوجائے گی ،اپنی بات کا اختتام صد قابل احترام حبیب جالب کے ان اشعار پر کریں گے کہ

بپا ہے کربلا مہنگائی ہے تخریب کاری ہے

وزارت پھر بھی قائم ہے حکومت پھر بھی جاری ہے

جدھردیکھو ادھر پانی نہ گھر پانی نہ در باقی

یہاں پر ہم رہا کرتے تھے یہ بستی ہماری ہے

حکومت ذات پر جو خرچ کرتی ہے انھیں دے دے

کہ جن کے دن گراں کٹتے ہیں جن پر رات بھاری ہے





Source link

Continue Reading

Trending