Connect with us

Today News

سفارت کاری کی سطح پر درپیش چیلنجز

Published

on


پاکستان کو اس وقت داخلی ، علاقائی اور عالمی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ جو چیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنگ کے عملی مناظر ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کو ایک ہی وقت میں سیاسی ، سیکیورٹی ،دفاعی ، خود مختاری اور معاشی چیلنجز کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے یا ان کو جنگوں کی حمایت اور مخالفت میں دھکیلا جا رہا ہے ۔

پاکستان بھی علاقائی اور عالمی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس کشیدگی اور جنگ سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔یہ ہی وجہ ہے ان حالات سے سفارت کاری کی سطح پر نمٹنے کے لیے خود پاکستان کو ایک مربوط طرز کی سیاسی ، سفارتی اور دفاعی حکمت عملی درکار ہے ۔پاکستان کو حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جو 28 فروری 2026کو شروع ہوئی ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور مزید افراد کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری ہے۔

اس جنگ کے نتیجہ میں خلیجی ممالک پر اس کے اثرات جیسے اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش،تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ،معاشی نقصانات اور ایرانی جوابی حملوں سے سعودی عرب ،قطر اور یو اے ای کے حالات میں خرابی سمیت پاک افغان کشیدگی ،پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور افغا ن جوابی حملوں سے ’’اوپن وار ‘‘جیسی صورتحال میں ہمیں سفارت کاری پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔

پاکستان نے اب تک جو پالیسی امریکا اسرائیل اور ایران یا خلیجی ممالک کے بارے میں اختیار کی ہے وہ توازن پر مبنی ہے ۔کیونکہ اس وقت ہماری پالیسی کا اختیار کرنا خود ہمارے لیے ایک نازک کھیل ہے اور ہمیں بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے سفارت کاری کے کارڈز کھیلنے ہیںاور اسی میں خود ہمارے ریاستی مفاد بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ ایک طرف حالیہ کچھ عرصوں میں پاک امریکا تعلقات میں بہتری کا پیدا ہونا اور خود امریکا کی طرف سے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی کردار کی تعریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم کے امریکا سے دو طرفہ تعلقات میں گرم جوشی ،امریکا اور آئی ایم ایف پر معاشی انحصار، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ،خلیجی ممالک سے ترسیلات زر،جب کہ ایران سے سرحدی قربت، ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر بڑھتا ہوا دباؤ جیسے سنگین مسائل ہمارے سامنے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ اب تک کی پالیسی میں ہم نے کوئی براہ راست سطح پر کسی بھی ممالک کے خلاف کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی۔ آج بھی ہماری سیاسی اور عسکری حکمت عملی فوری جنگ بندی کا خاتمہ، ایران اور سعودی سطح یا خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ کا خاتمہ اور خلیج کے ممالک پر مزید حملے نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا دورہ سعودی عرب اور وہاں کی قیادت سے براہ راست ملاقات اور دیگر خلیجی ممالک بشمول ایران کے وزرائے خارجہ سے مسلسل ٹیلی فونک باہمی رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ صورتحال سے غافل نہیں ہیں۔

اسی طرح پاکستان افغان کشیدگی کو کم کرنے میں چین کی سہولت کاری یا ثالثی کا نیا بھرتا ہوا کردار ،سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی معاونت جیسے امور بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ بات پہلے بھی لکھی تھی کہ چین اور بڑی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہوسکے گی اور کچھ ایسے ہی حالات پاکستان کے حق میں بن بھی رہے ہیں۔خود افغان طالبان حکومت کو اندازہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہی ان کے مفاد میں ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہیں ہوتی اور جس انداز سے جنگ کا دائرہ کار یا دورانیہ میں اضافہ ہورہا ہے اس سے معاشی حالات اور سیکیورٹی کے معاملات میں غیرمعمولی خرابیاں پیدا ہونگی اور خود پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی اور پاکستان کی ترسیلات،درآمد اور توانائی خطرے میں ہیں۔بالخصوص خلیجی ممالک میں ایران کے حملے وہاں کے انتظامی ڈھانچہ کو بری طرح سے متاثر کررہے ہیں۔اسی طرح یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ہم اپنی سفارت کاری کی مدد سے امریکا کو ایران کے خلاف روک سکیں گے اور جو کچھ خلیجی ،ممالک بشمول سعودی عرب میں ہورہا ہے کیا ہم ایران کو بھی روک سکیں گے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم بھی کوئی بہت زیادہ آپشن نہیں رکھتے اور ہمیں کمزور معیشت سمیت سیاسی داخلی اور سیکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ویسے بھی دنیا کی سفارت کاری میں بڑی طاقتوں کا ہی قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹے ممالک کو خود کو بڑی طاقتوںکے ساتھ ہی کھڑا کرنا ہوتا ہے۔اس بات کا اندازہ خود پاکستان کو ہے اور یہ جو بہت زیادہ تحمل یا احتیاط کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ہمیں ایک ہی وقت میں مشرقی وسطیٰ کا بحران، پاک افغان کشیدگی اور پاک بھارت تعلقات میں موجود بگاڑ یا بھارت افغان گٹھ جوڑ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر ایک سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو پردہ اسکرین پر ہورہی ہوتی ہے اور جب کہ دوسری پردہ کے پیچھے جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان کو ان حالات میں بہتری کے لیے ان دونوں چینلز کو استعمال کرنا ہوگا ۔اس میں وہ لوگ جو آج یا ماضی میں بہتر سفارت کاری کے ماہر رہے ہیں ان کی خدمات سے ہمیں ان دونوں چینلز پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔جب کہا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں عالمی دنیا میں سفارت کاری کے میدان میں کافی پذیرائی ملی ہے تو اب وقت ہے کہ اس پذیرائی کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔

ہمیں سعودی عرب ایران اور امریکا ایران کے درمیان بات چیت کے امکانات کو بڑھانا ہوگا بالخصوص سعودی عرب اور ایران تعلقات کی بہتری ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔اس وقت ہماری موجودہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا یہ نقطہ ہے کہ اب ہم دنیا میں کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی توجہ علاقائی تعلقات کی بہتری اور نئے معاشی ترقی کے امکانات تک محدود رکھیں گے۔ اس لیے کسی کے ساتھ جنگ کی حمایت اور مخالفت میں الجھنے کو کم سے کم کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ یقین دہانی سعودی عرب اور ایران سے لینی ہوگی کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ریڈ لائن کراس نہ کریں اور ایک دوسرے کی خود مختاری کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی ہے تو کئی اسلامی ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،پاکستان کو دیگر ممالک بالخصوص چین ،روس، برطانیہ ،جرمنی ،ترکی کی مدد سے اقوام متحدہ اور او آئی سی پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نازک موڑ پر جنگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مستحقین کا پیسہ ہڑپ ہونے کا انکشاف، ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، اہم شواہد برآمد

Published

on



کراچی:

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ کرپشن اور مستحقین کا پیسہ ہڑپ کرنے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے بڑے پیمانے پر سرچ اور سیزر آپریشن کیے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل کراچی نےانکوائری نمبر 13/2026 کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔

انکوائری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ منظم کرپشن سے متعلق تھی،ایف آئی اے ٹیم نے بی آئی ایس پی کے ملیر اور کورنگی دفاتر میں سرچ اور سیزر آپریشن کیے۔

کارروائی کے دوران متعدد اہم ریکارڈ اور شواہد برآمد کیے گئے،برآمد شدہ اشیاء میں موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہیں،

غیر قانونی کٹوتیوں سے متعلق چھپائی گئی شکایات بھی برآمد ہوئیں،کچھ مستحقین کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس بھی تحویل میں لے لیے گئے۔

ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک منظم گروہ بی آئی ایس پی کے مستحقین کا استحصال کر رہا تھا،تمام برآمد شدہ مواد کو قانونی تقاضوں کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

مزید تفتیش جاری ہے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،ایف آئی اے عوامی فلاحی فنڈز کے تحفظ اور مستحق افراد تک شفاف انداز میں پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک جان لیوا خونی حادثات میں 19 افراد زندگی سے محروم

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں ہیوی اور دیگر نامعلوم گاڑیوں سے بڑھتے ہوئے جان لیوا خونی حادثات میں 11 مارچ سے 16 مارچ تک 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔

جس کے بعد رواں سال ٹریفک کے جان لیوا ٹریفک حادثات میں زندگی سے محروم ہونے والوں کی مجموعی تعداد 225 ہوگئی جس میں 10 افراد ہیوی گاڑیوں کے بے رحم پہیوں سے کچلے گئے۔ 

حادثات میں خواتین ، بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں ، ٹریفک پولیس افسران کی جانب سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے دعوے تو ضرور سامنے آتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے بلکل ہی برعکس دکھائی دیتے ہیں جس میں شہری ہیوی ٹریفک سمیت دیگر نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر اور ان کے بے رحم پہیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

 رواں ماہ 11 مارچ کو چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات کے اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جس میں شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے دوران خواتین ، بچوں اور بچیوں سمیت مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق اور 2080 افراد زخمی ہوئے۔

جبکہ ہیوی گاڑیوں سے 67 افراد لقمہ اجل بنے تاہم 11 مارچ سے 16 مارچ (5) روز میں شہر میں جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مزید 19 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔ 

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات میں 225 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں 162 مرد ، 31 خواتین ، 23 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں۔

جبکہ ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 2 ہزار 254 افراد زخمی ہوئے جس میں 1768 مرد ، 363 خواتین ، 90 بچے اور 33 بچیاں شامل ہیں۔

ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے 75 روز میں اب تک ہیوی گاڑیوں کے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 76 افراد لقمہ اجل بن گئے جس میں سب سے زیادہ 36 جان لیوا حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے۔

جبکہ واٹر ٹینکر سے 21 افراد ، بس کی ٹکر سے 8 افراد ، مزدا کی ٹکر سے 7 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 4 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔ 

ایک جانب ٹریفک پولیس کے افسران ٹریفک قوانین پر عملدر آمد کے دعوے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جزیرہ خرگ خلیج کا سب سے خطرناک مقام ہے

Published

on


جس طرح آبنائے ہرمز عالمی معیشت رواں رکھنے والی توانائی کی شہہ رگ ہے اسی طرح خلیج میں ساحل سے اٹھائیس کیلومیٹر پر واقع جزیرہ خرگ ایران کی اقتصادی شہہ رگ ہے (ایران مشرقِ وسطی کا پہلا ملک ہے جہاں انیس سو آٹھ سے تیل کی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جب برٹش پٹرولیم نے یہاں پہلا کنواں دریافت کیا تھا۔جزیرہ نما عرب میں انیس سو تیس کے عشرے میں تیل نکلا)۔

موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران یومیہ تینتیس لاکھ بیرل خام تیل پیدا کر رہا تھا۔سب سے زیادہ پیداوار صوبہ اہواز کے تین بڑے آئل فیلڈز ( ابو زر ، فیروزاں ، درود ) سے نکلتی ہے۔ان آئل فیلڈز سے تیل پائپ لائنوں کے ایک گنجلک نظام کے ذریعے جزیرہ خرگ پہنچایا جاتا ہے۔یہاں سمندری گہرائی اتنی اچھی ہے کہ سپر ٹینکرز بھی باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔یہاں سے ہی نوے فیصد ایرانی تیل ٹینکرز میں بھر کے باقی دنیا کو بھیجا جاتا ہے۔

اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کے تیس ٹینکوں کی گنجائش تین کروڑ بیرل ہے۔ عموماً یہاں دس سے بارہ دنوں کی ایکسپورٹ کا تیل (اٹھارہ ملین بیرل) ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔یعنی سالانہ ساڑھے نو سو ملین بیرل تیل اس جزیرے سے گذر کے دنیا تک پہنچتا ہے۔ذرا سوچئے اگر اس ذخیرے پر براہِ راست بمباری ہو جائے تو خلیج کے دونوں طرف کا کم ازکم آدھا ساحل کیا انسانی رہائش کے قابل رہے گا ؟

جزیرہ خرگ کو کوئی بڑا نقصان پہنچانا اتنا حساس معاملہ ہے کہ جب انیس سو اناسی میں صدر جمی کارٹر نے تہران میں یرغمال بنائے گئے باون امریکی سفارت کاروں کی رہائی کے آپریشن کی منظوری دی تو اس وقت بھی جزیرہ خرگ کی تیل تنصیبات پر حملے کا خیال مسترد کر دیا گیا۔کارٹر کے بعد آنے والے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والے آئل ٹینکرز کو مسلح بحری تحفظ ضرور فراہم کیا مگر جزیرہ خرگ پر قبضے کا انھیں بھی خیال نہ آیا۔

عراقیوں نے انیس سو اسی تا اٹھاسی جاری رہنے والی جنگ میں ایران کی ہر بندرگاہ اور جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر خرگ پر آٹھ برس میں صرف ایک بار بمباری ہوئی۔تاہم اس حملے سے ہونے والے نقصان کی فوری بھرپائی کے سبب ایرانی تیل کی برآمد بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔

مگر مسٹر ٹرمپ اور ان کی کچن کیبنٹ کو شائد کسی نے نہیں بتایا کہ جزیرہ خرگ تیل پیدا کرنے والے تیسرے بڑے عالمی ملک کے لیے کیا اقتصادی معنی رکھتا ہے اور اگر اس جگہ کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو ساحل کے دوسری جانب واقع خلیجی تیل تنصیبات کے ساتھ جوابی کارروائی میں ایسا کیا کیا نہیں ہو سکتا جس کے بعد پوری دنیا توانائی کے عظیم بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچی رہے۔ان تمام نزاکتوں سے بے نیاز ٹرمپ ٹیم نے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی خرگ کو ناکارہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا اور ٹھیک ایک ہفتے بعد خرگ میں موجود ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کر دی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ انھوں نے اس بار تو تیل تنصیبات کو چھوڑ دیا مگر ایران نے اگر جلد آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم نہ کیا تو اگلے حملے میں جزیرہ خرگ پر کوئی مہربانی نہیں ہو گی۔ویسے بھی بقول ٹرمپ اس جزیرے پر کارروائی ایک مزیدار تجربہ ہو گا۔اس سے قبل ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمت جتنی بڑھے گی امریکا کا منافع بھی بڑھے گا کیونکہ امریکا اس وقت تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔( اب تو دنیا کا سب سے بڑا تیل ذخیرہ وینزویلا بھی امریکا کے ہتھے چڑھ چکا ہے )۔

خرگ ایک تاریخی جزیرہ ہے۔معروف ایرانی ادیب جلال آلِ احمد کی ایک سطر ہے کہ ’’ خرگ خلیجِ فارس کا یتیم موتی ہے ‘‘۔ایرانی صوبہ بوشہر کے بالمقابل واقع ایرانی معیشت کے اس بائیس مربع کیلومیٹر کے دھڑکتے دل میں اس وقت سوائے تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں اور ان کے محافظوں کے کوئی نہیں رہتا۔

اس جزیرے میں قدرتی میٹھا پانی بھی ہے۔ یہاں انسانی آبادی کے دو ہزار برس قدیم آثار پائے گئے ہیں۔یہاں ساتویں صدی کے دو بزرگوں میر آرام اور میر محمد کے مزارات بھی ہیں۔آس پاس زرتشتی ، مسیحی اور ساسانی ادوار کی نشانیاں اور قبروں کے آثار بھی بکھرے پڑے ہیں۔تیل کی صنعت سے پہلے خرگ خلیج کے تقریباً وسط میں واقع ہونے کے سبب چھوٹی سی زرعی و تجارتی منڈی بھی رہا اور تاجر و ملاح یہاں کچھ دیر رک کے تازہ دم بھی ہوتے تھے۔

یورپی سامراج نے سولہویں صدی میں پر پرزے نکالنے شروع کیے تو پرتگیزیوں نے خرگ اور اس کے قریب واقع دو دیگر چھوٹے جزیروں تمب ِ اکبر اور تمبِ اصغر پر بھی جھنڈا گاڑ دیا۔مگر اٹھارہویں صدی کے وسط میں ( سترہ سو سینتالیس ) ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس جزیرے پر قلعہ بندی کر دی۔اس قلعے اور اس سے متصل باغ کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سترہ سو چھیاسٹھ میں ایرانیوں نے تجارتی معاہدہ منسوخ کر کے ڈچ کمپنی کو یہاں سے نکال باہر کیا۔

جب انیس سو بیس کے عشرے میں کرنل رضا خان نے رضا شاہ پہلوی اول کا لقب اختیار کر کے ایران پر اپنی بادشاہت قائم کی تو انھوں نے سیاسی قیدیوں کو جزیرہ خرگ میں رکھنا شروع کیا۔مگر ان کے بیٹے رضا شاہ دوم کے زمانے میں انیس سو اٹھاون سے اس جزیرے کو تیل کی برآمد کے لیے وقف کر دیا گیا۔خرگ سے پہلا تیل بردار جہاز اگست انیس سو ساٹھ میں روانہ ہوا۔اس سے پہلے ایرانی تیل کی ایکسپورٹ آبادان کی بندرگاہ سے ہوتی تھی۔مگر آبادان کے مقابلے میں خرگ کا ساحل بڑے اور وزنی آئل ٹینکرز کے لیے زیادہ موزوں تھا۔

جزیرہ خرگ ہزاروں برس سے آتی جاتی سلطنتوں کا عروجِ زوال دیکھ رہا ہے۔اس کے ساحل پر جانے کون کون کب کب اترا اور تاریخ کی دھند میں گم ہو گیا۔مگر آج جزیرہ خرگ کو غالباً اپنی بقا کا سب سے سنگین چیلنج درپیش ہے۔ اس بار اگر یہ جزیرہ جل گیا تو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جائے گا۔البتہ اس کا وجود سیاہ ہو کر بھی یہیں رہے گا اور اس سے ٹکرانے والی موجیں بدستور مونگے کی کھردری چٹانوں سے سر مارتی رہیں گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending