Connect with us

Today News

سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی کا مؤقف سامنے آگیا

Published

on



بنگلا دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی کا مؤقف سامنے آگیا

تفصیلات کے مطابق بنگلا دیش کے شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران سلمان علی آغا کو ایک متنازع انداز میں رن آؤٹ قرار دیا گیا جس پر شائقین اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے بحث چھڑ گئی تھی۔

Marylebone Cricket Club  (ایم سی سی) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قوانین کے مطابق سلمان علی آغا واضح طور پر آؤٹ تھے کیونکہ وہ کریز سے باہر موجود تھے اور اس وقت گیند کھیل میں تھی۔ بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ کسی بھی بیٹر کو فیلڈنگ سائیڈ کی اجازت کے بغیر گیند اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

ایم سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ کھلاڑیوں کے درمیان ٹکراؤ ہونے کی صورت میں گیند خود بخود ڈیڈ نہیں ہو جاتی، اس لیے کھیل جاری تصور کیا جاتا ہے۔

ایم سی سی بیان کے مطابق اگرچہ "اسپرٹ آف کرکٹ" کے تحت بنگلا دیش اپیل واپس لے سکتا تھا، تاہم قوانین کی روشنی میں آن فیلڈ امپائرز کے پاس سلمان علی آغا کو آؤٹ دینے کے سوا کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں پاکستانی بلے باز سلمان علی آغا کا رن آؤٹ ایک متنازع صورت اختیار کرگیا، جس پر میدان میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے علی لاریجانی شہید کون تھے؟

Published

on


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔

علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔

علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔

بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں ان کی ہلاکت یا زندہ بچ جانے کے بارے میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عراق میں پیدا ہوئے

علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے

اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار

2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا

امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت

علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

ایران کی سیاست میں اہم کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا

Published

on



ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا۔

ایشین کوالیفائنگ راونڈ سے چھٹی کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر جرمانہ بھی ہوگیا، ملائیشیا نے سات غیرملکی کھلاڑیوں کو جعلی دستاویزات بناکر شہریت دےکر ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق  ایشین فٹبال کیفیڈریشن  نے ملائشین فٹبال فیڈریشن کو اپنے فیصلے سےآگاہ کردیاہے جس کے تحت ملائیشیا نے اے ایف سی ڈسپلنری اور ایتھکس  رولز  چھپن کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس بنا پر نیپال اور ویتنام کے خلاف اے ایف سی کوالیفائر میں جن میچز میں ملائیشیا نے کامیابی پائی تھی، اس کے نتائج کو بدل کر فیصلہ تین صفر سے  ویتنام اور نیپال کو فاتح قرار دے دیا گیاہے۔

میچز سے محروم کرنے کے ساتھ ملائیشیا کی فٹبال فیدریشن کو ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ایک انیس ملائیشین رنگٹ جرمانہ بھی کیاگیاہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار

Published

on


سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

پی آئی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر  رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دی۔

صائمہ حفیظ سومرو کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔ درخواستگزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں, ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔

انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کو جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ ملازمہ کیخلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔

عدالت نے این آئی آر سی کا ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔

عدالت نے ریمارلس دیئے کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending