Connect with us

Today News

سلیکٹرز پر بھی جرمانہ کریں

Published

on


’’ برا نہ مانیے گا آپ نے جس طرح ورلڈکپ میں پاکستان کی شکست کا تمام تر ملبہ کوچ مائیک ہیسن پر ڈالا وہ مجھے اچھا نہیں لگا، اس شکست کے اصل ذمہ دار تو کھلاڑی اور سلیکٹرز ہیں، ان کو بھی تو کچھ کہیں‘‘

امریکا سے ایک دوست نے فون پر مجھ سے یہ شکوہ کیا تو میں نے انھیں بتایا کہ وہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک رپورٹ تھی، میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ صرف کوچ نہیں بلکہ کپتان ، تمام کھلاڑی اور سلیکشن کمیٹی بھی اس ناکامی کے یکساں ذمہ دار ہیں۔ 

کوچ صرف بتا سکتا ہے پلانز پر عمل کرنا تو کھلاڑیوں کا ہی کام ہوتا ہے،البتہ یہ بھی درست ہے کہ ہیسن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، من مانیاں کیں،میدان کے فیصلوں اور سلیکشن میں مداخلت بھی کرتے رہے۔ 

ان کے نزدیک اسلام آباد یونائٹیڈ سے اچھے کرکٹرز کہیں اور ہیں ہی نہیں، اسی لیے اب وہ بورڈ حکام کی نظروں سے اتر چکے ہیں، بنگلہ دیش سے سیریز کیلیے اسکواڈ کی تشکیل میں بھی انھوں نے دخل اندازی کی کوشش کی لیکن اس بار انھیں اہمیت نہیں ملی۔ 

ویسے ہر شکست کے بعد ہم کوچ، کپتان اور کھلاڑیوں کو تو برا بھلا کہتے ہیں لیکن سلیکشن کمیٹی کو بھول جاتے ہیں،درحقیقت چند روز قبل تک تو مجھے بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اب سلیکٹرز کون ہیں۔ 

جب پی سی بی کی ویب سائٹ پر دیکھا تو علیم ڈار اور اسد شفیق کے نام ہی موجود تھے،علیم بھائی کی بطور امپائر قابلیت پر کسی کو کوئی شک نہیں،انھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن وہ سلیکٹر بن کر غلطی کر گئے، شاید دنیا میں پہلی بار کوئی امپائر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہوا ہو۔

اسد شفیق خاموش طبع قسم کے ’’یس مین‘‘ ہیں، کیا ان دونوں نے اکیلے ورلڈکپ اسکواڈ منتخب کیا تھا؟ یقینی طور پر ایسا نہیں تھا، ہیسن نے بعض تبدیلیاں کروائیں، بابر اعظم شامل نہیں تھے کوچ کے اصرار پر انھیں لیا گیا۔

گوکہ کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں لیکن عاقب جاوید وہ چہرہ ہیں جو پس پردہ کافی متحرک رہتے ہیں، چند روز قبل علیم ڈار مستعفی ہو گئے، ان کے ’’قریبی ذرائع‘‘ یہ دعوے کر رہے ہیں کہ رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی، وہ اکثر کوچ سے بحث کرتے تھے اور تنخواہ وصول نہیں کی۔ 

البتہ اگر ایسا تھا تو ان کو پہلے ہی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا جیسا کہ ماضی میں صلاح الدین صلو،اقبال قاسم اور عبدالقادر مرحوم نے کیا تھا،ویسے تنخواہ تو علیم ڈار کو ملتی تھی، ان کے جانے پر اب عاقب کا نام بھی باقاعدہ طور پر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہو گیا، اسد شفیق برقرار رہے، مصباح الحق اور سرفراز احمد بھی باضابطہ طور پر سلیکٹر بن گئے، پہلے بھی وہ سلیکشن کے عمل میں موجود رہتے تھے۔

میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ مصباح اور سرفراز فلاپ چیمپئنز کپ پروجیکٹ میں دیگر مینٹورز کی طرح 50،50 لاکھ روپے ماہانہ لینے والوں میں شامل تھے، باقی کو تو فارغ کر دیا گیا یہ دونوں نظرثانی شدہ تنخواہ پر پی سی بی کے پے رول پر برقرار رہے۔

سرفراز تو پھر بھی جونیئر لیول کی ٹیموں کے ساتھ مصروف نظر آتے تھے لیکن مصباح کو کہیں نہیں دیکھا گیا،وہ ماضی میں بھی مختلف حیثیتوں میں بورڈ کے ساتھ وابستہ رہ چکے لیکن کامیابیاں ہاتھ نہیں آئیں۔ 

چیئرمین کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسی پوسٹ ہو جو انھیں نہیں ملی، ایک وقت میں تو وہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ دونوں پوزیشنز پر قابض تھے جس پر عاقب خوب شور مچایا کرتے تھے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ بھی ایک وقت سلیکٹر کے ساتھ عبوری کوچ بنے۔

اب وہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ہیں،مصباح پر لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے پلیئرز کو خاص ترجیح دیتے ہیں، انھیں اس حوالے سے محتاط رہنا ہوگا،ویسے اب ان کا بیٹا بھی کرکٹ کھیل رہا ہے ایسے میں انھیں سلیکشن کمیٹی سے دور ہی رہنا چاہیے تھا۔ 

سرفراز کی شمولیت بہتر فیصلہ ہے، ان کے پاس کرکٹنگ دماغ موجود ہے،البتہ ان کو بھی مصلحت پسندی سے دور رہنا ہوگا، اگر بطور سلیکٹر آپ کو کوئی بات پسند نہ آئے، رائے کو اہمیت نہ ملے تو ماہانہ چیک کی رقم دیکھے بغیر اسی وقت احتجاج ریکارڈ کرائیں بعد میں شہیدوں میں نام لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ 

عاقب بھائی جب بورڈ میں نہیں تھے تب بڑے دلیر لگتے تھے، ان کے دوٹوک تبصروں کی وجہ سے لاہور قلندرز کو کئی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، البتہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیریئر کے اس دور میں وہ بھی اب سکون چاہتے ہوں گے۔

خیر اب نئی سلیکشن کمیٹی بن ہی گئی ہے تو پی سی بی کو چاہیے کہ اسے جوابدہ بھی بنائے، پلیئرز کی طرح تمام سلیکٹرز سے بھی الگ معاہدے کریں، جس طرح ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر کھلاڑیوں پر50،50 لاکھ روپے جرمانہ ہوا ویسے ہی اگر ٹیم ہارے تو جس نے ناکام کرکٹرزکو منتخب کیا ان پر بھی جرمانہ ہونا چاہیے، کوئی آئی سی سی یا اے سی سی ٹورنامنٹ جیتیں تو انعام بھی دیں،اس سے بہتری آ سکتی ہے۔ 

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اب اتنا ٹیلنٹ باقی نہیں رہا لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں،257 ملین پاکستانیوں میں سے اگر 15 باصلاحیت کرکٹرز تلاش نہیں کر سکتے تو اس میں قصور آپ کا ہی ہے۔

موجودہ ٹیم پورے پاکستان کے ٹیلنٹ کی نمائندگی نہیں کرتی، ہر گلی محلے میں آپ کو اچھے کھلاڑی مل سکتے ہیں، انھیں تلاش کریں اور تراش خراش کر ہیرا بنائیں،اس کے لیے ہمیں صرف اپنے کام سے ایماندار سلیکٹرز کی ضرورت ہے۔ 

سلیکشن کمیٹی سے یہ درخواست ہے کہ پلیز کسی ایک فارمیٹ میں اچھا کھیل پیش کرنے والے کو زبردستی دوسرے میں نہ لائیں، یہاں کوئی ٹیسٹ میں اچھا کھیلے تو ٹی ٹوئنٹی میں لے آتے ہیں،اسی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بہتر کھیلنے والا ٹیسٹ کیپ پا لیتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ 

سلیکٹرز کی خوش قسمتی ہے کہ محسن نقوی جیسا چیئرمین ملا جو انھیں فری ہینڈ دیتا ہے، سلیکشن میں ان کا کردار نہیں ہوتا مگر ٹیم ہارے تو تنقید چیئرمین پر ہی ہوتی ہے، اب کوئی اسکواڈ منتخب ہو تو سلیکٹرز باقاعدہ پریس کانفرنس میں بتائیں کہ کسے کیوں منتخب کیا یا کیوں ڈراپ کیا۔

اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی خود لے،آف سیزن میں ٹیلنٹ ہنٹ کریں، کب تک وہی چند گنے چنے فلاپ کھلاڑی متواتر مواقع پاتے رہیں گے، اگر اگلے ورلڈکپ میں ہمیں بہتر نتائج چاہیئں تو ابھی سے کوشش کرنا ہوگی، آغاز حقدار کرکٹرز کو موقع دینے سے ہی ہو سکے گا، ورنہ سلیکٹرز کو پھر کوئی نئی نوکری ڈھونڈنا پڑے گی۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ہنری کسنجر بمقابلہ پروفیسر جیانگ

Published

on


حالیہ مشرق وسطی جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ہنری کسنجر اور چینی پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے۔

دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں لیکن تیسری پیش گوئی دونوں کی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے اور اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دونوں میں سے کون درست ثابت ہوتا ہے۔

ہم پہلے ہنری کسنجرکی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اگر آپ کے کان تیسری عالمی جنگ کے نقارے نہیں سن رہے تو آپ بہرے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی اور ایران اس کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اب مشرق وسطیٰ سے جنگ تو شروع ہوچکی ہے اور اس کا آغاز بھی ایران سے ہوا ہے لیکن یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مشرق وسطی کے حالیہ فدویانہ بلکہ غلامانہ کردار کے بعد امید نہیں تھی کہ جنگ کا آغاز مشرق وسطیٰ سے ہوگا۔ ویسے تو اسرائیل کے قیام کے بعد جنگ کبھی بھی مشرق وسطی سے کی ہی نہیں تھی لیکن ایک ایسی جنگ کہ جس میں تقریباً پورا مشرق وسطیٰ جلنے لگے، اس کے آغازکی بھی امید نہیں تھی ویسے تو امن کو جنگوں کے درمیان وقفہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور لگتا ہے کہ ’’ تجارتی وقفہ‘‘ اب ختم ہوگیا ہے۔

اندازے تو یہ بھی تھے کہ امریکا کبھی بھی ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور ہنری کسنجر نے ان دو پیش گوئیوں میں جو کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا۔ ہنری کسنجر نے اپنی پیش گوئی میں آگے یہ بھی کہا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوجائے گا۔

اب ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی پیش گوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگا؟ یا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟اب ہم پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کی طرف آتے ہیں۔ یہ پروفیسر جیانگ وہی ہے کہ جنھوں نے پچھلے امریکی چناؤ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ پوری دنیا کو امید تھی کہ کملا دیوی ہیرس جیتے گی۔

پروفیسر جیانگ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چناؤ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہاں تک تو ان کی بھی دو پیش گوئیاں درست ہوچکی ہیں لیکن مستقبل قریب کی صورتحال پیچیدہ ہے۔

پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور پیٹرو ڈالر معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہنری کسنجر نے اس جنگ میں عربوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور اسرائیل کی بڑے حصے پر قبضے کی پیش گوئی کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ میری ذاتی رائے میں ہنری کسنجر اپنی آخری پیش گوئی میں یہودی مدبر سے صرف یہودی ہوگئے تھے اور ان کی پیش گوئی کے اس حصے کو آپ ان کی پیش گوئی سے زیادہ ان کی خواہش سمجھ سکتے ہیں۔

میرے خیال سے دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ آپ موجودہ جنگ کو تیسری عالمی جنگ سے پہلے آخری بڑی جنگ قرار دے سکتے ہے۔

چین دنیا کا سپر پاور بننا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا ایشیا اس کے لیے چھوڑ دے لیکن امریکا کو بھی پتہ ہے کہ اس کی ساری عیاشی عربوں کی مرہون منت اور عربوں کو ڈرانے کے لیے پہلے وہ اسرائیل کا استعمال کرتا رہا ہے اور بعد میں اس نے ایران کو بھی استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوا۔

ہم دوبارہ چین کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین اپنے اہداف تیسری عالمی جنگ کے بغیر زیادہ بہتر اور سرعت انداز میں حاصل کر رہا ہے تو اس کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ تیسری عالمی جنگ کے جھمیلے میں پڑے۔

چین کا مقصد امریکا کو معاشی اور عسکری طور پرکمزورکرنا ہے تاکہ اس کو نہ صرف ایشیا چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ اس پر بھی آمادہ کیا جاسکے کہ وہ چین کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے اس کے لیے جگہ چھوڑے اور وہ یہ سب جنگ کے بغیر ہی حاصل کر رہا ہے اور زیادہ بہتر انداز سے حاصل کررہا ہے۔

یہ تو دنیا جانتی ہے کہ امریکا یہ بات آسانی سے مانے گا نہیں تو خطرہ امریکا سے ہے کہ کہیں وہ اپنی حماقت یا بے صبری میں ایسا کچھ کرسکتا ہے کہ جو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

اس کے لیے چین، شمالی کوریا یا روس کے کسی شہر پر پرل ہاربر جیسا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ کون کرسکتا ہے، یہ میں آپ کے قیاس پر چھوڑتا ہوں۔ ویسے چین پر حملے والا کام اسرائیل اور ہمارا پڑوسی مل کر بھی کرسکتے ہیں، اگر ہمارے پڑوسی کو اس کی مناسب قیمت دی جائے اور قیمت پاکستان کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔

اس صورتحال میں تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز یقینی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نہیں نظر آرہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟

ایک بات تو طے ہے کہ امریکا نے نہ صرف اس جنگ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا اور وہ اب تک اپنے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس کے اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔

اب تک ایران بہت ہی موثر انداز میں یہ جنگ روسی انٹیلیجنس، چینی اورکورین میزائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑرہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ جنگ میں شمالی کوریا کو شامل کرنے کے لیے امریکا کے قومی سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے الزام لگایا ہے کہ ایران شمالی کوریا سے جوہری اسلحہ یا جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔

جنگ میں اسلحہ کس ملک کا ہوتا ہے یہ تو جنگ کے بعد پتا چلتا ہے۔ ہم دوبارہ جنگ کی طرف آتے ہیں۔ امریکا نے پہلے اسے دنوں کی جنگ قرار دیا پھر ہفتوں اور اب وہ مہینوں پرآگیا ہے۔ ان حالات میں اب امریکا ایران سے نکلنا چاہے گا اور وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی فتح کو اپنی فتح قرار دیکر یہاں سے نکل سکتا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو توڑ کرکسی حصے پر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر بھاگ جائے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ چاہے گا کہ ایران کو غیر مستحکم اور افراتفری کے ماحول میں چھوڑکر بھاگ جائے لیکن روس، چین اور ایرانی قوم ایسا ہونے نہیں دیں گی کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔

مشرق وسطیٰ کا مستقبل یقینی طور پر تاریک ہے اور اس جنگ کے بعد بھی مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں بن سکے گا۔ عربوں کی باہمی چپقلش آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوگی اور عربوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو مشرق وسطی کی حکومتوں کے غیر حقیقت پسندانہ عزائم کی قیمت چکانا ہوگی۔

جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور وہ کیا ہوگا؟ پروفیسر جیانگ نے تو بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں پیش گوئی بھی کی ہے لیکن حقیقت میں کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کے لیے آنے والے دن ہر لحاظ سے بہت مشکل ہیں کیونکہ ہم نے ڈالروں کے لیے کچھ ایسے معاہدے کیے ہوئے ہیں جو ہماری سالمیت اور بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ہر مشکل صورتحال کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لیے مواقع بھی ہے لیکن ہماری اشرافیہ ابھی تک ٹینکر بیچنے اور سڑکوں کی تعمیر میں کمیشن سے آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ دنیا کو اس وقت ایک محفوظ اور مضبوط سرمایہ کاری کے خطے کی ضرورت ہے اور پاکستان یہ کردار بآسانی اور بخوبی ادا کرسکتا ہے۔

اگر ہماری قیادت اس فراست اور تدبرکا مظاہرہ کریں جو اس کا متقاضی ہے۔ اب ہماری قیادت اس کی اہل ہے یا نہیں؟ یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آنے والے دن سب کے لیے بہت مشکل ہے، مہنگائی کا جن بے قابو رہے گا۔

مشرق وسطیٰ کے حالات کے بعد ہوسکتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوجائے کہ جس کے نتیجے امن و امان کی مخدوش صورتحال مزید مخدوش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)





Source link

Continue Reading

Today News

سنک ہولز خطرے کی علامت

Published

on


چند برس پہلے ہی پڑھا تھا کہ ایران میں زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکالنے کے باعث زمین دھنس جانے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ایسا ہی کچھ ترکیہ کے بارے میں سنا جب کہ پاکستان میں بھی خاص کر کراچی میں زمین دھنس جانے کے بارے میں سنا ہے۔

زمین کی سطح پر اچانک بننے والے ایسے گڑھے سنک ہولزکہلاتے ہیں جن کی وجہ سے زمین اپنی سطح سے نیچے دھنس جاتی ہے، یہ زیر زمین چٹانوں کے پانی میں حل ہونے کے باعث یا کٹاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

جب زیر زمین پانی کو کثرت سے نکالا جائے تو چونے کے پتھر یا نمکیات کا کٹاؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں یا کان کنی اور دیگر تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی بنتے ہیں۔

حال ہی میں ترکیہ کے حوالے سے ایسے دیوہیکل سنک ہولز کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھا جہاں تیزی سے شدید گرمی میں زمین بیٹھنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس سے کسانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، ہر رات وہ اسی خوف کے ساتھ سوتے ہیں کہ ان کا گھر زمین میں نہ سما جائے۔

یہ ترکیہ کے وسطی اناطولیہ کے زرعی خطے میں خاص تعداد میں پائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مستقل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ زراعت کے حوالے سے ماہرین کسانوں کو کم پانی والی فصلوں پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان میں پانی کے حوالے سے مسائل تو رہے ہیں لیکن شہری علاقوں میں استعمال اور پینے کے صاف پانی کے لیے ذرائع نت نیا رخ اختیار کرتے چلے گئے اور حال یہ ہے کہ ہر گلی محلے میں پینے کا پانی فراہم کرنے والے آر او پلانٹ نے مسائل تو حل کر دیے ہیں لیکن بڑے مسائل مستقبل کے لیے تیار کھڑے ہیں جس کے نتائج ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان آر او پلانٹ کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے زیر زمین پانی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پانی کے حصول کو رواں رکھنے کے لیے عام عوام بھی کنویں کی کھدائی کے حصول میں جتی رہتی ہے، اب چاہے پانی کم کھارا ہو یا زیادہ کھارا، ضرورت تو رہتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں اگر قصور وار کوئی ہے تو وہ ذمے دار ادارے ہیں جو اپنے فرائض میں کوتاہی اور غفلت کے باعث ایک بڑے دیوہیکل مسئلے کو نمو دے رہے ہیں۔

آج سے دس بیس سال بعد کیا آسمان جیسے بلند و بالا اپارٹمنٹس، عمارات اور مالز اپنے وجود پر قائم رہ سکیں گے۔ زیر زمین پانی کی موجودگی قدرت کی جانب سے ایک خاص فارمولے کے تحت زمین کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے اور اس میں بگاڑ کے باعث زمین میں سنک ہولز بن جاتے ہیں جو زمین کو بٹھا دیتے ہیں۔

اب چاہے اس پر گھر بنے ہوں یا بلند و بالا عمارات اپنے ساتھ دھنسا دیتے ہیں یہ چند انچ کا زمینی دھنساؤ اپنے اندر کس قدر خطرات رکھتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، خاص کر انسانی جانوں کے حوالے سے یہ صورت حال خوفناک ہے۔

کراچی کی زیر زمین چٹانیں چونے کے پتھر، ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔ یہاں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنوؤں کی کھدائی کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے مالز اور اپارٹمنٹس میں کنویں اور میٹھے پانی کی فراہمی جاری ہے۔

کم بارش کے باعث بھی زیر زمین پانی میں کمی پیدا ہوتی ہے سنک ہولز کے پیدا ہونے میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے یا مختصر وقت میں بارش کا بہت زیادہ ہونا بھی ہے۔

دونوں صورتوں میں انتہائی کمی یا انتہائی زیادتی ہے۔ساحل سمندر کے حوالے سے بپھرتا ہوا بے باک لہروں سے اچھلتا یا خاموش لہروں سے اپنی ہی سوچ میں محو سمندر ابھرتا ہے پر حالیہ چند برسوں میں کراچی کے باسی ساحل سمندر کے ماڈل کو دیکھ رہے ہیں، سمندر تو دور بہتا انسانی فطرت کے چلبلے، حریصانہ رویے پر حیران اپنی روش پر چلا جا رہا ہے لیکن حضرت انسان قدرت کے اس انمول تحفے سے مستقل ناشکری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

’’ارے یہ کیا۔۔۔‘‘ برسوں بعد سمندری علاقے سے گزرتے سمندر کی راہ گزر پر تعمیرات دیکھی تھیں۔

’’یہ تم نے اب دیکھا ہے، اسے تو بنے کافی عرصہ ہو گیا۔ لوگ چیخ کر بھی خاموش ہو چکے ہیں۔‘‘ حیرت انگیز فکر کا انتہائی دکھی جواب۔

قدرت کی جانب سے کراچی کے پہاڑ، ساحل اور میدان ایک تحفہ ہی ہیں جسے بے دردی سے مسخ کرتے آگے بڑھا جا رہا ہے، کیا اسے ترقی کی طرف قدم بڑھانا کہا جائے گا یا اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو خطرے سے آلودہ کرنا سمجھا جائے؟

کیونکہ پہاڑ زمین پر میخوں کی طرح ہیں اور سمندر خوش بختی کی علامت جو زندگی کو رواں دواں رکھتے آگے بڑھانے میں مگن رہتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ پانی کے قریب آبادیاں نمو پاتی اور ترقی کرتی ہیں، خشک اور بنجر علاقے بیابان اور سنسان غیر ترقی یافتہ رہ جاتے ہیں پر ہمارے یہاں پانی کو دھکیلنا ہی نہیں بلکہ ساحل پر ریت کو خشک کرکے بلند و بالا عمارتیں بھی بنائی گئی ہیں، ایسے میں ریت میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتے ہیں جو سنک ہولز کا موجب ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیر زمین پانی کی مقدار خطرناک حد تک گر رہی ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو ایکوافرز کہا جاتا ہے۔ بھارت، ایران، ترکیہ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں بھی ایکوافرز کی حالت شکستگی کی جانب بڑھ رہی ہے، اس سے زمین کے دھنساؤ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور زرخیزی اثرانداز ہوتی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈیفنس، لانڈھی اور کورنگی میں آنے والے معمولی زلزلوں کی وجہ ان زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی اور تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکا کا میکسیکو سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر آباد ہے یہ بلند ترین شہر دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے۔

یہ شہر رفتہ رفتہ دھنس رہا ہے۔ 1950 میں اس شہر کے وسطی علاقے کئی فٹ بلند سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ بیس برس تک یہ زمین میں بیس فٹ تک دھنس گئے تھے۔ عمارتیں جھکنے لگیں لہٰذا منہدم کرنا پڑیں۔

1935 کا بنا پیلس آف فائن آرٹس سنگ مرمر سے تعمیر ہوا، اس قدر زمین میں دھنسا کہ اس کی دوسری منزل سطح زمین تک آ پہنچی تھی۔ایسے علاقوں میں ہنگامی صورت حال کے طور پر تدابیر کے ساتھ مختلف پودوں کو بھی کاشت کیا گیا جن کی جڑیں بہت تیزی سے زمین سے پانی جذب کرتی ہیں۔

اس طرح کے پودے کچھ عرصہ قبل کراچی کے ان علاقوں میں بھی لہلہاتے دیکھے گئے تھے جو پانی کی زیادتی نہیں بلکہ کمی کا شکار تھے۔

بہرحال ضرورت اس بات پر ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کی طرح سنک ہولز کے خطرات سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے اور ایسے حالات پر قابو پانا کس قدر ضروری ہے جو ہماری زمین کو بنجر اور دھنسانے کے عمل پر جتی ہوئی ہے اس میں شخصی کارروائیوں کی روک تھام اشد ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جس مایا کے حصول کے لیے اونچے محل تعمیر کیے جا رہے ہوں وہی بیٹھ جائیں جو مالی اور جانی نقصان کا باعث ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

طبقاتی دیواریں – ایکسپریس اردو

Published

on


انسانی تہذیب کی پوری تاریخ کو اگرگہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ صرف فتوحات، ایجادات یا عظیم الشان عمارتوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ان طبقاتی دیواروں کا نوحہ بھی ہے جو صدیوں سے معاشروں کو دو متوازی دنیاؤں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔

ایک وہ دنیا ہے جو سطح پر نظر آتی ہے جہاں روشنی،آسائش، نفیس گفتگو کے آداب اور اقتدارکی چکا چوند ہے۔ جب کہ دوسری وہ دنیا ہے جو بنیادوں میں دبی ہوئی ہے، جہاں اندھیرا، حبس، پسینہ اور بقا کی ایک لامتناہی جنگ جاری رہتی ہے۔

یہی وہ دنیا ہے جس کی محنت اور قربانیوں پر اوپرکی دنیا کی شان و شوکت قائم ہوتی ہے، مگر اس کا ذکر تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتا ہے۔

یہ تقسیم محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے استحصالی ڈھانچے کا حصہ ہے جو انسانیت کو حکمران اور محکوم کے خانوں میں بانٹ کر ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ہر دور میں طاقت اور وسائل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہے ہیں، جب کہ اکثریت محنت اور جدوجہد کے باوجود بنیادی ضروریات کے لیے ترستی رہی ہے۔

اس طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صرف معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ نچلے طبقے کو اپنی حالت کو فطری اور ناگزیر سمجھنے پر مجبورکیا جا سکے۔

اشرافیہ یا بالادست طبقے کی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ وہ کیفیت ہے جسے ’’ ارادی غفلت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ طبقہ اقتدار اور وسائل کی پرتعیش میز پر بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتا ہے تو وہ ان لاکھوں ہاتھوں کو فراموش کردیتا ہے جنھوں نے اس میزکو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوتا ہے۔

ان کے نزدیک ان کی آسائش اور رتبہ محض ان کی ذہانت، قابلیت یا پیدائشی حق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کہ ان کی ہرکامیابی کے پیچھے ایک ایسا انسانی نظام کار فرما ہے جو نچلے طبقات کی انتھک محنت اور قربانیوں پر قائم ہے۔

یہ نفسیاتی لاتعلقی دراصل ایک دفاعی میکانزم ہے جو بالادست طبقے کے ضمیر کو بے چین ہونے سے بچاتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس مشقت اور دکھ کو تسلیم کر لیں جو ان کے طرزِ زندگی کی بنیاد ہے تو ان کا سکون غارت ہو جائے گا۔

اسی لیے معاشرتی نظام کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ طبقات کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے، جہاں ہمدردی اور احساسِ ذمے داری کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ اوپر بیٹھا ہوا طبقہ صرف منافع اور ترقی کے اعداد وشمار دیکھتا ہے، مگر اس انسانی قیمت کا حساب نہیں رکھتا جو ان اعداد و شمار کے پیچھے ادا کی جاتی ہے۔

معاشی ناانصافی اسی استحصال کی بنیادی جڑ ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بظاہر مواقع کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عملی طور پر یہ برابری بہت حد تک ایک فریب ثابت ہوتی ہے۔

نچلے طبقے کے افراد کو اکثر ایسی اجرت دی جاتی ہے جو صرف ان کی بقا کے لیے کافی ہوتی ہے، جب کہ ان کی محنت سے پیدا ہونے والی زائد قدر طاقتور طبقات کی دولت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح غربت صرف ایک وقتی حالت نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا چکر بن جاتی ہے جو نسل در نسل جاری رہتا ہے۔

غریب کی اولاد اکثر وہی محدود مواقع حاصل کر پاتی ہے، جو اس کے والدین کو ملے تھے، جب کہ امیر طبقے کی اولاد کو تعلیم، وسائل اور سماجی روابط کی وہ سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو انھیں زندگی کی دوڑ میں بہت آگے لے جاتی ہیں۔

یوں معاشرے میں ایک ایسا غیر مرئی مگر طاقتور نظام قائم ہو جاتا ہے جس میں دولت اور طاقت ایک ہی دائرے میں گردش کرتی رہتی ہیں، جب کہ محروم طبقات اس دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔

معاشرتی انصاف کے فقدان نے اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔

تعلیم اور صحت کے دہرے نظام اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ ایک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں عالمی معیارکی سہولتیں موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف ایسے سرکاری ادارے ہیں جہاں بنیادی وسائل تک کی کمی ہوتی ہے۔

اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی ایک واضح تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ امیر افراد مہنگے نجی اسپتالوں میں بہترین علاج حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ غریب افراد سرکاری اسپتالوں کی طویل قطاروں اور محدود سہولتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

جب معاشرے میں بنیادی خدمات تک رسائی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کی کھلی نفی بن جاتا ہے۔

اس پورے عمل میں نچلے طبقے کی ڈی ہیومنائزیشن یعنی انسانیت سے محرومی سب سے ہولناک پہلو ہے۔ جب انسان کو ایک جیتا جاگتا وجود سمجھنے کے بجائے محض ایک اقتصادی اکائی یا مشین کے پرزے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو معاشرتی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔

مزدوروں اور ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص اہداف پورے کریں، اپنی تھکن یا مشکلات کا ذکر نہ کریں اور مسلسل پیداواری عمل کا حصہ بنے رہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی محدود ہو جاتی ہیں۔

جدید کارپوریٹ کلچر بھی اسی قدیم طبقاتی نظام کا ایک مہذب اور سفید پوش روپ معلوم ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے شیشے کے بلند و بالا دفاتر بظاہر ترقی اور کامیابی کی علامت ہیں، مگر ان کے پیچھے لاکھوں کارکنوں کی محنت، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پوشیدہ ہوتی ہے۔

آج کا ملازم بظاہر آزاد دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ معاشی ضرورتوں کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

ڈیجیٹل دور نے اس نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان حد فاصل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت دستیاب رہیں، ای میلز اور پیغامات کا فوری جواب دیں اور مسلسل کارکردگی دکھاتے رہیں۔ یہ ایک ایسی جدید غلامی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں زنجیریں نظر نہیں آتیں مگر انسان کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جب معاشروں میں عدم مساوات حد سے بڑھ جاتی ہے تو سماجی اور سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔ جب اوپر اور نیچے کی دنیاؤں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے تو نظام کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔

تاریخ کے کئی بڑے انقلابات دراصل اسی عدم توازن کا نتیجہ تھے، جہاں محروم طبقات نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور پورے نظام کو چیلنج کیا۔

اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مستحکم نہیں رہ سکتا جب تک اس کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل نہ ہوں۔

حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف چند لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا دے، بلکہ وہ ہے جو معاشرے کے پسماندہ ترین افراد کی زندگیوں میں بھی بہتری لائے۔ جب معاشی، سماجی اور تعلیمی مواقع سب کے لیے یکساں ہوں تو ہی ایک متوازن اور پائیدار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

انسانی تہذیب کی بقا کا دارومدار اسی توازن پر ہے، اگر طاقت اور وسائل مسلسل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہیں گے تو معاشرتی ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوتا جائے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب نچلے طبقے کی برداشت ختم ہو جاتی ہے تو وہی طبقہ جو صدیوں تک نظام کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے، اسی نظام کو ہلا دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ محض اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی بنیادی شرط بھی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending