Today News
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی !
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا’ پانی کی اس تقسیم کے معاہدہ کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں( سندھ’ جہلم اور چناب) جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی ‘ بیاس اور ستلج کا کنٹرول ملا’ مگر بھارت اس اہم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے منصوبے مثلا ( کشن گنگا) بنا رہا ہے جسے اگر آبی جارحیت کہا جائے تو بے جانہ ہو گا’ چونکہ بھارت کوان دریاؤں پر محدود بجلی بنانے کی اجازت ملی تھی اس لیے وہ پانی روکنے کا کسی صورت حق نہیں رکھتا ‘ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل پر شدید تحفظات ہیں’ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے جس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے ‘ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔
اس معاہدہ کی ضرورت 1948میں اس وقت محسوس ہوئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا تھا ‘ چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ‘ اس معاہدہ کے تحت دریائے سندھ سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی’ بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا تھاچونکہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا’ بھارت کی طرف سے ماضی میں متعدد بار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کر کے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کررہا ہے ‘ گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹرکمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور31مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا سندھ طاس معاہدہ کے تحت سال میں دونوں ممالک کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے ‘ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہیں توڑسکتا حتیٰ کہ حالت جنگ ہو یا حالت امن اس معاہدہ کی دونوں ممالک پر پاسداری ضروری ہے ‘ پانی کو ہتھیار بنانا جنگی جرم اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ معاہدہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے اور زرعی آبپاشی’ بجلی کی پیداوار’ ماہی گیری’ نقل و حمل اور کئی وجوہات کی بناء پر پاکستان کی معیشت میں یہ اہم اوروسیع دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر پلاسٹک اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس دریا کی آبی حیات اور دریا سے متصل مختصر آبادیوں اور ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ماحول اور اس عظیم دریا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا مل کر گرین الائنس کے تحت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمنٹنے اور قابل تجدید توانائی’ زراعت اور پانی کے انتظام میں تعاون کوفروغ دینے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
موجودہ حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحول کو پرفضا اور پرکشش بنانے کے لیے مختلف میگا پراجیکٹس کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اس حوالہ سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے نے ہمیشہ ہر اچھے اور بہتر کام میں رکاوٹیں اور رخنے ڈال کر معاملات کو بری طرح بگاڑنے ‘ جنگ و جدل کا ماحول پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں تیار کرنے میں اپنا بھونڈا’ منفی اور ضرر رساں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول اور تشویش کا باعث ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر ایک بار پھر پانی پر جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے ‘ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس گھناؤنی حرکت کے جواب میں پاکستان اسے دندان شکن شکست سے دوچارکر سکتا ہے ‘ہماری پاک مسلح افواج جو اپنی بہادری ‘ ہنر مندی اور بے مثال عسکری صلاحیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ‘ بھارت سرکار کی عقل ٹھکانے لگا سکتی ہیں’ عالمی سطح پر بھی وقت کی مہذب اور حق پرست اقوام بھارت کو اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی ‘ اس لیے بھارت پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے ۔
کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا سنگین جرم ہے ‘ یہ وہ دریا ہے جو مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ‘ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا کر اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز رہے اور محدود پانی اپنے پاس رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرے ‘ بجلی اور دیگر معاملات میں پانی کا زیادہ ذخیرہ کرنے سے گریز کرے ‘ یہ سراسر نا انصافی ہٹ دھرمی اورہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف بات ہو گی ‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت جنگی جنون سے گریز کرے ‘ ورنہ اسے شکست فاش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑے گا’ ہم اسے اپنا پانی روکنے کی ذرا بھر اجازت نہیں دیں گے کیونکہ دریاؤں کے جس پانی پر پاکستان کا زیادہ حق ہے جسے عالمی بینک سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
Today News
برطانیہ فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک میں رجیم چینج پر یقین نہیں رکھتا؛ وزیراعظم
برطانو وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کسی ملک پر فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) کے نظریے پر یقین نہیں رکھتا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں براہِ راست حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
برطانوی وزیرِاعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی جس میں فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک کی حکومت گرانے کی کوشش کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ برطانیہ کی کسی بھی کارروائی کے لیے واضح قانونی جواز موجود ہو۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ برطانوی فوجیوں کو کسی فوجی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں کریں گے جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔
تاہم برطانوی حکومت نے امریکا کی درخواست پر اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کے مطابق امریکی افواج کو برطانوی اڈوں سے ایران کے میزائل مقامات کے خلاف دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ امریکی جنگ میں شامل نہ ہونے کے ابتدائی اعلان کو سراہا البتہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت پر تنقید کی۔
یاد رہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر امریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی وزیراعظم کا رویہ مایوس کن ہے۔
Today News
ایک پرانا قصہ – ایکسپریس اردو
مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔ اول تو اس کی تھوڑی بہت خاندانی زرعی زمین تھی، اس میں کاشت و برداشت کرنے کا ارادہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اس نے درزی کا کام سیکھا تھا کیونکہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا، گاؤں کی مسجد کا پیش امام جو کسی کوہستانی علاقے کا تھا، فوت ہوگیا تو گاؤں والوں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ امامت کے لیے رضامند نہیں ہوگیا لیکن امامت شروع کرکے بھی وہ اپنی زمین میں کاشت و برداشت خود کرتا تھا۔رمضان کی آمد تھی، دس پندرہ دن رہ گئے تھے کہ اس کے پاس ایک سردار کا بلاوا آگیا۔ سردار گاؤں کے قریب ایک گڑھی کا رہائشی تھا۔ بہت بڑی جائیداد کا مالک اور دولت مند آدمی تھا۔ مولانا خان رشید نے اسے صرف دور سے دیکھا تھا اور سنا تھا کہ اچھا آدمی نہیں ہے، ہر ایسا کام جسے لوگ برا سمجھتے تھے ، وہ دھڑلے سے کرتا تھا۔
اس کے ڈیرے میں ہر وقت کھیل تماشے ہوا کرتے تھے اور بے شمار جرائم پیشہ لوگ اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ پولیس اور سرکار دربار میں بھی اس کی پہنچ تھی اور بڑے لوگوں سے بھی یارانے تھے۔نہ وہ کبھی مسجد آیا تھا اور نہ مولانا خان رشید اس سے کبھی ملا تھا۔ اس طاقتور شخص کے بلانے پر اس کا جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر گیا کہ شاید اس میں کچھ سدھار آگیا ہو۔ وہ جب موصوف کے وسیع و عریض ڈیرے میں پہنچا تو بہت سارے لوگ ڈیرے کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ صفائی کررہے تھے ،کچھ چونا سفیدی اور کچھ رنگین کاغذوں کے پھریرے لگا رہے تھے۔ ڈیرے دار بیچ میں ایک سجے ہوئے پلنگ پر بیٹھا تھا۔آس پاس گاو تکیے تھے۔اس وقت ایک نوکر اسے حقہ پلارہا تھا۔مولانا خان رشید کو دیکھ کر وہ زور سے چلاتے ہوئے بولا،آہاہاہا ’’ملا صیب‘‘ آگئے ہیں ، آؤ آؤ ملا صیب۔مولانا
اس کے پاس گیا، طاقتور شخصیت نے مصافحے کے لیے صرف ایک ہاتھ بڑھایا، مصافحہ کرتے ہوئے مولانا کو اس سے نہایت ہی ناگوار بدبُو محسوس ہوئی، مولانا نے چادر کے پلو کو ناک پر رکھا۔ وڈیرے نے اپنی پائنتی کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا،بیٹھو ’’ملاصیب‘‘۔ مولانا بیٹھ گیا، بدبُو اور تیز ہوگئی لیکن اس نے اپنی ناگواری کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔آپ نے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا۔’’ہا ں ہاں میں نے اس لیے بلایا تھا کہ روزے پھر آرہے ہیں،ویسے ان روزوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے، ابھی گئے نہیں ہوتے کہ پھر آجاتے ہیں، ٹک سلامالیکم
ہاں رمضان المبارک آنے والا ہے
یہ رمضان اور مبارک کون؟
میں روزوں کی بات کررہا ہوں بہت برکتوں والا مہینہ ہے خان۔ہوگا مجھے برکتوں کی کوئی ضرورت نہیں خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے بس آپ کسی طرح ان روزوں سے چھٹکارا دلا دو۔یہ آپ کیا کہہ رہے روزے فرض ہیں میں کون ہوتا ہوں چھٹکارا دلانے والا۔سنا ہے تم بہت کچھ پڑھ کر آئے ہو۔ مجھے تو ان روزوں سے چھڑاؤ۔دیکھو میں سحری بھی خوب کرتا ہوں اور افطاری کے وقت تو یہاں پوری عید ہوتی ہے لیکن نشئی آدمی ہوں روزے نہیں رکھ سکتا۔روزے تو فرض ہیں خان۔کوئی اس سے معافی نہیں دلاسکتا۔ارے تم ملا لوگوں کے پاس وہ جو کتاب ہوتی ہے اس سے مسئلہ نکالونا۔ کتاب تو قرآن ہے اور اس میں روزے فرض ہیں۔نہیں میں قرآن کی نہیں اس دوسری کتاب کی بات کررہا ہوں دوسری کتاب؟
ہاں وہ جس سے تم ملا لوگ خاص لوگوں کے لیے مسئلے نکالتے ہو۔میں ایسی کسی کتاب کے بارے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میرے داداجی خدا ان کو بارہ جنتیں نصیب کرے۔جنتیں بارہ نہیں آٹھ ہیں۔جتنی بھی ہیں سب ان کو نصیب کرے میرے داداجی کو جب اپنی بیوہ بہو سے شادی کرنے کی خواہش ہوئی تو اس وقت ملا نے اسی کتاب سے مسئلہ نکالا تھا اور میرے باباجی جب اپنی بھانجی سے…۔ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔
ہے ہے ہے تم نئے ہو تم کو پتہ نہیں ہوگا غم نہ کرو جتنے بھی روپے میں ملتی ہو میں دے دوں گا تم وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ اور اس میں سے مسئلہ نکال کر مجھے ان روزوں سے چھٹکارا دلادو ۔میں نے کہا نا کتاب صرف قرآن ہے۔ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر مولانا خان رشید کھڑا ہوگیا۔معافی چاہتا ہوں خان۔اور جانے کو قدم بڑھایا۔ٹھہرو، خان نے کہا پھر زور سے آواز دی منشی۔ آواز پر اندرسے ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا اور خان کے پاس دوڑ کر پہنچا۔جی خان جی۔دس ہزار روپے لاؤ۔منشی نے واسکٹ کی جیب سے بنڈل نکالا۔ملا صیب کو دے دو۔اور بولا۔ ملاصیب یہ پیسے لو اور آج ہی جہاں سے بھی ہو وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ۔مولانا خان رشید نے نوٹوں کے لینے سے انکار کیا۔بولے خان مجھے معاف کرنا کسی اور سے یہ کام کراوئیں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے سنا کہ پاس کے گاؤں کے مولانا نے خان کو روزے معاف کردیے۔
خان رشید اس مولانا کو جانتا تھا کافی عالم فاضل اور نیک آدمی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے؟اس نے سوچا اور سیدھا اس مولانا کے پاس پہنچا۔استاذجی کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اس سردار کو روزے نہ رکھنے کا کہہ دیا؟ ہاں مولانا نے ہنستے ہوئے کہا۔مگر کیسے؟خان رشید حیران تھا۔وہ ایسے کہ اسے کلمہ آتا ہے نہ نماز، دنیا میں ایسا کوئی صغیرہ کبیرہ گناہ نہیں جو وہ نہ کرتا ہو بغیر نکاح کے بیویاں رکھے ہوئے ہے۔اس میں مسلمان ہونے کا عمل ہے کیا، جو میں اس مبارک مہینے کی اس سے توہین کراؤں۔
Today News
جنگ کے بادل اور امن کی فاختائیں
بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ غزہ کی بربادی میں بھی امریکا کی خاموش امداد کو بڑا دخل تھا۔ وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتا رہا، اسے غزہ پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں بھی اس کا ہاتھ رہا اور اب جب کہ غزہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کے باسی اب خیمہ نشیں ہو چکے ہیں تو امریکا کو ان پر ترس آ گیا ہے اور ان کی تعمیر نو کے لیے اس نے آواز بلند کی ہے۔
یہ تعمیر نو اس طرح ہو گی کہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے اور اس طرح اسرائیلی مملکت کی سرحدوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا تعمیر نو میں یہ بات شامل ہوگی؟ اسرائیل سے حالیہ مقبوضات کو چھڑایا جا سکے اور فلسطین کی واحد ریاستی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اگر یہ نہ ہو سکے تو غزہ کی تعمیر نو اسرائیل کے لیے نئے دسترخوان کی طرح ہوگی۔
غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں روس، چین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبران کی اکثریت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ جو ممالک اس اجلاس میں شریک ہوئے انھوں نے 7 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس بورڈ میں شرکت کا اعلان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان ایک اور صرف ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور وہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا، لیکن اب یہ تو وقت بتائے گا کہ یہ موقف تسلیم بھی کیا جائے گا یا یہ سب باتیں آگے چل کر ہوا ثابت ہوں گی۔
اپنی صدارتی تقریر میں صدر ٹرمپ اپنے کارناموں کی تفصیل پر خود ہی روشنی ڈالتے رہے۔ کہا کہ انھوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں جن میں ایک جنگ ایسی بھی تھی جو سالہا سال سے جاری تھی اور خوں ریزی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہ تھا، میں نے اسے بھی رکوایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو بھی انھوں نے رکوایا۔ اس جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے مگر پاکستانی قیادت نے میرے کہنے پر جنگ سے گریز کیا اور اس طرح دونوں ممالک مزید تباہی سے بچ گئے۔اسی سلسلے میں انھوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف و توصیف بھی کی، جو ان کی طرف سے سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ایک معاملہ فہم انسان ہیں، انسانی اقدار کو سمجھتے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے آشنا ہیں، اس لیے انھوں نے میری جنگ بندی اپیل کو تسلیم کیا اور یوں یہ جنگ صرف تین روز میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔
انھوں نے پاکستانی افواج کے سپہ سالار اعلیٰ کو غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ کہا وہ جرأت مند انسان، بہادر فوجی اور نڈر سپہ سالار ہیں اور ان کی فیلڈ مارشل کی حیثیت میں خدمات لائق تحسین ہیں ان کی جنگی قیادت بہت اہم رہی مگر وہ بھی امن کے شناسا تھے اس لیے انھوں نے بھی میری امن کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ پاکستان کی مدح سرائی کچھ بے معنی نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے قیام امن کی یہ تحریک جو شروع کی ہے یہ دراصل سلامتی کونسل کا کام تھا مگر خود سلامتی کونسل کے ممبران ہی اس تحریک میں ان کے ہم نوا نہیں بن سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر سرسری سا تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کام ان کے کرنے کا تھا تو مگر اب یہ ذمے داری گویا ان کے سر آ پڑی ہے اور وہ اسے نبھا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کی فاختائیں اڑائی ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے اور یہ صرف توقع نہیں بلکہ ایران پر لازم کر دیا ہے کہ وہ چند دن کے اندر اندر امریکا سے معاہدہ امن کرے ورنہ۔۔ ۔ ۔اسی طرح انھوں نے حماس سے بھی ’’ توقع‘‘ ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی۔ اور یہ پھینکنا اس طرح ہوگا کہ امریکا کو اطمینان ہوجائے کہ حماس اب ہتھیاروں سے پاک ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی اور اگر پوری نہ ہوئیں تو ان کی ان امن کی کوششوں کا کیا ہوگا جو انھوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے خود اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔
دریں اثنا خود صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے عالمی استحکامی فورس کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اپنی فوج اور پولیس غزہ بھیجیں گے اور مصر اور اردن وہاں متعین فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔ ترکیہ نے بھی بین الاقوامی امن فوج کے لیے اپنی فوج ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ قطر نے قیام امن کے اقدامات کے لیے ایک ارب ڈالرکی امداد دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی نیک خواہشات اور تعاون سے قیام امن تو ممکن ہو سکے گا مگر اہل غزہ کو اس جنگ میں لگنے والے زخم کون مندمل کر سکے گا۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا