Connect with us

Today News

سندھ میں 12سال گزرنے کے باوجود تھیلیسیمیا ایکٹ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا

Published

on



سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ  کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی اج تک نافذ نہیں ہوسکا۔

سندھ اسمبلی نے 2013 میں سندھ پریونیشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا جس کا مقصد سندھ خون کے مرض تھیلیسیمیا کا خاتمہ کرنا تھا، تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، والدین اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو دو یا تین میں سے ایک بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مرض لے کر پیدا ہوتا ہے، اس بیماری میں  تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کو ہر ماہ انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔

تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ یقینی بنایا جائے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ کو نکاح نامہ کے ساتھ منسلک کیا جائے لیکن بدقسمتی 12 سال گزرنے کے باوجود اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔

ملک میں کسی بھی بل یا ایکٹ کو منظور کروانے میں حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں کیونکہ بل کی منظوری کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، حکومت اسمبلی سے بل منظور کروالیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

خیال رہے کہ تھیلیسیمیا کے بل پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی پیدائش اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے بلڈ بینکوں میں خون کی ڈیمانڈ ہولناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سالانہ 24 لاکھ سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہر بچے کو ماہانہ 2خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں 25 ہزار سے زائد بچے اس مرض میں مبتلاہیں، ہرسال 5 ہزار بچے یہ مرض لے پیدا ہو رہے ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ماہ انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے،کراچی میں جناح، سول اور چند ادارے موجود ہیں جو تھیلیسیمیا کے مرض پر کام کررہے ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں تھیلیسیمیا سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اور اس کے متعلقہ علاقوں سے بھی تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کراچی اپنا علاج کروانے کراچی آتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں ہر ماہ 12سے 15 ہزار تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح صرف سندھ میں ہر ماہ 22سے 25ہزار خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ سالانہ 2 لاکھ 40 ہزار بوتل بنتی ہے۔

سندھ میں بیشتر تھیلیسیمیا سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں اور یہ سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت خون کے عطیات کے لیے مختلف کیمپس لگاتے ہیں، خون جمع کرنے کے کیمپس مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں لگائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کے علاوہ ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ایک تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کی ادویات کا سالانہ خرچہ 2لاکھ 40ہزار جبکہ ٹیسٹ کے 2لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کی صورتحال بہت خراب ہے، حال ہی میں حکومت سندھ نے کچھ تھیلیسیمیا سینٹر کی مدد کرنا شروع کی لیکن یہ ناکافی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ سمیت پاکستان میں سرکاری سطح پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، ملک میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کوئی نیشنل رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے درست اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

درین اثنا، دیگر طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے کوئی مستند اعدادوشمار موجود نہیں ہیں لیکن 2022 میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 9.8 ملین افراد تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار ہیں جو کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی وجہ کزن میرج ہے، سندھ پریوینشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیاایکٹ 2013 کی منظوری میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ اس مرض کی جینیٹک کونسلنگ اور تشخیصی سہولیات متعارف کروائی جانی تھی۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے اور اس ٹیسٹ کے نتائج کی رجسٹری بنائی جائے تاکہ صوبے میں اس مرض کے حوالے سے اعداد وشمار مرتب کیے جاسکیں لیکن قانون پر عمل درامد نہ ہونے کی وجہ سے اب تک اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جس کی وجہ سے تھیلیسیمیا کے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں پر بھی مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ اس مرض کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہے۔

اسی طرح حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں منظور کرایا تھا لیکن ابھی تک اس قانون پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا اور آج بھی بچوں کے لیے مصنوعی ڈبے کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں۔

صوبائی اسمبلی سے منظورشدہ سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں واضح طور پر  کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام میڈیکل اسٹوروں پر بچوں کے لیے مصنوعی دودھ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیے جاسکے گا، اگر کوئی ڈاکٹر کسی بچے کو غیر ضروری طور پر مصنوعی دودھ تجویز کرتا ہے تو اس ڈاکٹر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی سزا دی جائے گی۔

قانون کے مطابق اسپتالوں میں مصنوعی دودھ کے تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے، اگر نوزائیدہ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصنوعی دودھ دیا گیا تو اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر چند دن کے لیے یہ دودھ دیا جاسکتا ہے، اس قاںو ون کا مقصد بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کو فروغ دینا اور بریسٹ فیڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

قومی ادارہ برائے اطفال برائے صحت کے سابق ڈائریکٹر اور نیونیٹل چائلڈ انسٹیٹوٹ کے سربراہ  ماہر امراض اطفال پروفیسر جمال رضا، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر خالد شفیع نے بتایا کہ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی شرح 48 فیصد ہے جبکہ 52 فیصد مائیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہیں کراتیں جس کی وجہ انہیں وہ تمام غذائیت نہیں ملتی جو کہ بریسٹ فیڈنگ سے ملتی ہے اور نہ ہی بچوں میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ کرتا ہے، مصنوعی دودھ پینے کی وجہ سے بچے کم عمری میں خسرہ، اسہال، نمونیہ، ٹائیفائیڈ سمیت مختلف انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمارے ملک میں بیشتر مائیں مصنوعی یا فارمولا ملک کو ترجیحی دیتی ہیں، مارکیٹ میں ملنے والے مصنوعی دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کم عمری میں بچے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت فارمولا دودھ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئیں ہیں، مصنوعی دودھ کو فروغ دینے والے ڈاکٹروں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا ہوگی، اس کے علاوہ، اسپتالوں اور کلینکس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات یا پروموشنل مواد کا ڈسپلے نہیں کیا جائے گا۔

مزید بتایا کہ فارمولا دودھ صرف ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہنگامی استعمال کے لیے اجازت دی جائے گی اور ایسے معاملات میں بھی، یہ محدود وقت کے لیے استعمال کرایا جائے گا، یہ قانون سندھ میں بچوں کی صحت کی بہتری اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں تعمیل کو یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں عمل درآمد یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت وافادیت کے بارے میں فریم ورک دیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

میٹا کی ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی تیاری

Published

on



ٹیکنالوجی کمپنی میٹا مبینہ طور پر ہزاروں ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اپنے 20 فی صد تک ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو تقریباً 16 ہزار کی تعداد بنتی ہے۔

اگر کمپنی رپورٹ کے عین مطابق کرتی ہے تو یہ 2022 کے بعد سے یہ ملازمین کو فارغ کرنے کا سب سے بڑا دور ہوگا۔ 2022 میں کمپنی کی جانب سے 11 ہزار افراد کو نوکری سے نکالا گیا تھا جبکہ اس کے اگلے برس 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔

دو سینئر ملازمین نے اس متعلق بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ ملازمین کی برطرفیوں کا عمل ایک مہینے میں شروع ہو سکتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چائے یا کافی دماغی بیماری کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے: تحقیق

Published

on



ایک طویل المدتی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی مشروبات پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔

جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ مطالعے کے آغاز پر یہ افراد کینسر، پارکنسن کی بیماری یا ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھے۔

اس مطالعے میں 1980 سے 2023 تک نرسز ہیلتھ اسٹڈی میں 86 ہزار سے زائد خواتین اور 1983 سے 2023 تک ہیلتھ پروفیشنلز فالو اپ اسٹڈی میں 45 ہزار سے زائد مرد شرکا کو شامل کیا گیا۔ خواتین شرکا کی اوسط عمر 46 سال تھی، جبکہ مرد شرکاء کی اوسط عمر 54 سال تھی۔

کافی اور چائے کے استعمال اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے شرکا سے دو سے چار سال میں ایک مرتبہ غذائی سوالنامے جمع کیے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا میں 11 ہزار سے زیادہ ڈیمینشیا کے کیسز سامنے آئے، لیکن زیادہ کیفین والی کافی پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی اور ذہنی زوال کے سبجیکٹیو علامات میں کمی دیکھنے کو ملی۔

اس کے علاوہ، نرسز ہیلتھ اسٹڈی کے شرکا میں زیادہ کافی پینے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی سے بھی تھا۔ اسی طرح، کیفین والی چائے کے زیادہ استعمال کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سے جوڑا گیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

افغان طالبان کا وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات

Published

on



اسلام آباد:

وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کا فیکٹ چیک جاری کردیا جس میں افغان طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع کے وانا میں کامیاب حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے اوپر ایک ڈرون تباہ کیا گیا، ڈرون کو سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا جس کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کسی بھی فوجی تنصیب یا انفرااسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔

وزارت اطلاعات نے طالبان حکومت کے دعوے کو پروپیگنڈا اور من گھڑت قرار دے دیا اور کہا کہ طالبان ماضی میں بھی غلط اور گمراہ کن دعوے کرتے رہے،  پاکستان ایئر فورس کے طیارے گرانے اور پائلٹس گرفتار کرنے کے دعوے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔

وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس ہیں، سچ ہمیشہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر غالب آتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending