Connect with us

Today News

سوشل میڈیا پر جنگ: میڈیا تھیوریز کے تناظر میں

Published

on


حال ہی میں اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں اے آئی کی فیک نیوز بہت زیادہ حد تک سوشل میڈیا پر نظر آئیں، بعض ماہرین اسے ”Information War” یا ”Narrative War” کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ میں AI-enerated ویڈیوز اور تصاویر کا سیلاب آیا ہے، جو پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض جعلی ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے، حالانکہ وہ ویڈیو گیم یا مصنوعی فوٹیج تھیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بڑی جنگ ہے جس میں AI کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا گیا۔ فیک نیوز اب معمولی نہیں رہیں بلکہ جنگ کا باقاعدہ ہتھیار بن چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ اسرائیلی وزیراعظم مارے گئے ہیں، حالانکہ وہ زندہ تھے بعد میں انھوں نے ویڈیو بنا کر خود اس خبر کی تردید کی۔ اسی طرح ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں دکھایا گیا کہ امریکی فوجی ایران کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں، بعض ویڈیوز دراصل ویڈیو گیم کی تھیں۔ جعلی سیٹلائٹ تصویر شیئر کی گئی جس میں امریکی تنصیبات تباہ دکھائی گئیں، لیکن بعد میں یہ غلط ثابت ہوئی۔

سب فریق کسی نہ کسی حد تک میڈیا کی جنگ (information warfare) کر تے نظر آئے۔ بعض ریاستی ادارے اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس منظم طریقے سے پروپیگنڈا چلا رہے ہیں یوں ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنا کر عوامی رائے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔سوال یہ ہے کہ اس قدر جدید دور میں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور لوگ جانتے بوجھتے بھی ان ویڈیوز کو کیوں فالو کر رہے ہیں، لائیک کر رہے ہیں۔

آئیے اس کا میڈیا تھیوری کے تناظر میں جائزہ لیں۔

میڈیا سے متعلق چند تھیوریز مذکورہ مسئلہ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

(علم وعمل میں عدم مطابقت) 1.Cognitive Dissonance Theory 

(ترجیحی انتخاب) 2.Selective Exposure

(ترجیحی ادراک) 3. Selective Perception

(ترجیحی یاد داشت) 4.Selective Retention

Cognitive Dissonance Theory کے مطابق انسان ایسی معلومات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی موجودہ سوچ سے ٹکراتی ہو یعنی اس کے برخلاف ہو جب کہ ایسی معلومات کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی سوچ سے ملتی ہو،یہی خیال بعد میں دیگر بیان کردہ تھیوریز کی بنیاد بنا۔

ماہرین ابلاغیات کے ان پیش کردہ نظریات کے مطابق ’’ترجیحی انتخاب ‘‘کے تحت دراصل میڈیا پر جو پیغامات آتے ہیں خواہ وہ تحریر کی شکل میں ہوں یا کسی ویڈیو وغیرہ کی شکل میں ان کو دیکھنے سننے یا پڑھنے کا فیصلہ لوگ اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات یا خیالات یا عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں یعنی اگر ان کے نظریات خیالات یا عقیدے سے ہم آہنگ ہوں گے تو وہ انھیں ضرور سنیں گے اور پڑھیں گے لیکن اگر وہ اس کے برعکس ہوں گے تو اس کو رد کر دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں عموماً لوگ مخالف معلومات کو دیکھنے اور پرکھنے سے بچتے ہیں۔

اسی طرح ’’ترجیحی ادراک‘‘ کی تھیوری کے تحت لوگ میڈیا پر آنے والے ایسے پیغامات جو تحریری شکل میں ہوں یا ویڈیوز وغیرہ کی شکل میں ہوں، بالکل بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو ان کے پہلے سے قائم شدہ نظریات خیالات یا قائد کے برعکس ہوں ،لہٰذا ایسے پیغامات خواہ کتنے ہی مضبوط اور حقائق پر مبنی ہوں اپنا اثر نہیں رکھتے، لوگ ان پر یقین نہیں کرتے نہ یہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں کہ حقائق کس حد تک صحیح یا غلط ہیں۔

اسی طرح ’’ترجیحی یادداشت‘‘ تھیوری کا معاملہ ہے جس کے تحت میڈیا سے لوگ جو کچھ بھی صبح و شام پیغامات وصول کرتے ہیں یعنی مختلف تحریریں اور ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کے بعد، اپنے ذہن میں سے صرف وہی محفوظ رکھتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات اور عقائد کو مضبوط کرتے ہیں یا اس سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ گویا عام لوگوں کے ذہن میں یادداشت بھی صرف اپنے مطلب کے پیغامات کو محفوظ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہی یادداشت ان کے پرانے خیالات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو یہ مختلف نظریات جو مختلف ماہرین نے 1940 اور 1950 کی دہائی میں پیش کیے تھے آج بھی بہت حد تک درست نظر آتے ہیں ۔خاص طور پہ جب ہم حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے جنگ کے معاملے کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر عوام کی ایک اکثریت اپنے اپنے عقائد نظریات کے مطابق مصروف نظر آتی ہے۔ ہر گروپ یا گروہ اپنے خیالات کی ہم آہنگی کے لیے خبروں اور ویڈیوز کی تلاش میں نظر آتا ہے اور جوں ہی کوئی انھیں اپنے خیالات کے مطابق خبر یا ویڈیو مل جائے وہ فوراً اس کو بغیر جانچے اور پرکھے فارورڈ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جس کے سبب فیک ویڈیوز، جعلی خبروں اور اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوشل میڈیا پہ چھائی ہوئی نظر آتی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو آسانی ہو جاتی ہے۔

اے آئی سے بنائی گئیں ویڈیوز اس قدر خطر ناک یعنی حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں کہ عام لوگ ہی نہیں، بڑی بڑی شخصیات بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں اور انھیں بعد میں معذرت کرنا پڑتی ہے۔ حال ہی میں بانی تحریک انصاف کے بیٹے سے متعلق ایک ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا جس کی بعد میں عمران خان کی ہمشیرہ نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی کہ یہ ویڈیو فیک ہے۔

ایک صحافی نے بعد میں معذرت کی کہ انھوں نے اس پر سخت تنقید کی، انھیں معلوم نہ چل سکا تھا کہ یہ ویڈیو فیک ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ سوشل میڈیا خاص کر واٹس ایپ گروپ پر لوگ آپس میں الجھ جاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور نظریے کے مطابق جو بھی پوسٹ کریں سب اس کی واہ واہ کریں چاہے وہ فیک ہی کیوں نہ ہو۔ آج کل کے حالات کے حوالے سے بے شمار واٹس ایپ گروپس میں لوگ محض ان جعلی ویڈیوز اور خبروں کی بنیاد پر آپس میں اپنے اچھے تعلقات خراب کر چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک جنگ تو ایران اور امریکا و اسرائیل لڑ رہے ہیں جب کہ ایک جنگ سوشل میڈیا پر اس کے صارفین لڑ رہے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل کسی باشعور فرد کا ہو سکتا ہے؟

غور کیا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ کوئی بھی باشعور شخص کسی بھی خبر کو حقائق کی بنیاد پر پرکھے گا نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھے گا۔ہمارے ایک پروفیسر ساتھی کا بالکل درست کہنا ہے کہ شعور یہ نہیں ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے مخالف نظریات رکھنے والے لوگوں یا جماعت میں کیا برائیاں اور کیا خامیاں ہیں بلکہ اصل شعور تو یہ ہے کہ آپ اپنی ہم نظریاتی جماعت میں دیکھیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں اور خرابیاں ہیں۔

یہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم صرف مخالف میں خامیوں کو دیکھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں جب کہ اپنی طرف نہیں دیکھتے۔ ہم اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کرتے۔ جذبات کی رو میں بہنے کی وجہ ہی سے آج ایک جنگ سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو فیک اطلاعات اور اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز پر مشتمل ہے جس میں جذبات میں ڈوبے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسرائیل کے سیاہ فام یہودی

Published

on


یہ درست ہے کہ اسرائیل آئینی طور پر خالص یہودی ریاست ( جیوش ہوم لینڈ ) بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی انیس فیصد عرب آبادی سے درجہِ دوم کا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے درجہ سوم اور چہارم کا سلوک سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر اسی اسرائیلی آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ملک ان تمام یہودیوں کی محفوظ آماجگاہ ہے جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں۔وہ جب چاہیں اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔انھیں اسرائیل میں اترتے ہی بلا امتیازِ رنگ و نسل و خطہ مساوی سماجی و قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ کیا واقعی یہ سچ بھی ہے ؟

اسرائیل میں دو طرح کے یہودی آباد ہیں۔ایک وہ جو روس ، مشرقی و مغربی یورپ اور شمالی امریکا سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے۔انھیں اشکنازی یہودی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ جنھوں نے افریقہ ، عرب اور بھارت و پاکستان و وسطی ایشیا سمیت غیر مغربی دنیا سے ہجرت کی۔انھیں سفاری یہودی کہا جاتا ہے۔

اسرائیل کے قیام سے پہلے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرجوش نوجوان رہنما زیوو جیبوٹنسکی نے یہودی مراجعت کے نظریے کے تحت ارگون نامی مسلح آباد کار گروہ کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اسرائیل کے قیام سے آٹھ برس قبل اگست انیس سو چالیس میں جیبوٹنسکی کا انتقال ہو گیا۔مگر ان کا شمار اسرائیلی ریاست کے ’’ فاؤنڈنگ فادرز ‘‘ میں ہوتا ہے۔

جیبوٹنسکی ان تمام رہنماؤں کا نظریاتی گرو سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بن گوریان کی لیبر پارٹی کیبرعکس صیہونیت ، الٹرا نیشنل ازم اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے لبریز لیخود جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس انتہا پسند مذہبی قوم پرستی نے مینہم بیگن ، ایتزاک شمیر اور نیتن یاہو جیسے رہنما پیدا کیے۔مگر یہ امر محض حسنِ اتفاق نہیں ہے کہ اسرائیل میں آج تک کوئی بھی غیر اشکنازی وزیرِ اعظم نہ بن سکا ۔

جیبوٹنسکی نے نوے برس پہلے کہا تھا کہ ’’ خدا کا شکر ہے کہ تہذیبِ مشرق سے ہم یہودیوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ہمارے بہت سے ناخواندہ بھائی ( عرب ، ایشیائی و افریقی یہودی ) صدیوں پرانے فرسودہ رسوم و رواج کو مشرقیت کا نام دیتے ہیں مگر ہمیں ان کا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم انھیں ابھی سے اچھی تعلیم بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی نام نہاد مشرقی دقیانوسی سے نجات پا کر اچھے شہری بن سکیں ( یورپی یہودیوں کی طرح )۔

ہم بہت پہلے کسی مضمون میں صراحت کر چکے ہیں کہ صیہونیت کے نظریے نے روس ، مشرقی و مغربی یورپ میں آباد اشکنازیوں کے ہاں جنم لیا۔اس نظریہ کو دستاویزی شکل دینے والے تھیوڈور ہرزل کا تعلق ہنگری سے تھا اور اس کی صدارت میں سوئس شہر باسل میں اگست اٹھارہ سو ستانوے میں منعقد ہونے والی پہلی صیہونی کانگریس کے دو سو مندوبین میں غالب اکثریت اشکنازیوں کی تھی۔یعنی ابتدائی زمانے سے ہی صیہونیت کا غیر یورپی دنیا میں آباد یہودیوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

مشرق میں آباد یہودیوں کے برعکس یورپی یہودی نہ صرف دولت مند تھے بلکہ اس دولت کے سبب ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی یورپ کے ہر دربار اور حکومت میں تھا۔بینکاری نظام پر ان کی گرفت کے سبب ہر یورپی حکومت ان کی مقروض یا احسان مند تھی۔حتی کہ سترہ سو چھہتر میں جب ریاستہائے متحدہ امریکا کا جنم ہوا تو اس کی معاشی رگوں میں بھی یہودی قرضہ گردش کر رہا تھا۔ اس بارے میں بھی ہم سابقہ مضامین میں تفصیلی روشنی ڈال چکے ہیں۔

یورپ میں نازی ہالوکاسٹ سے متاثر ہونے والے یہودی بھی اشکنازی تھے۔چنانچہ اسرائیل میں روزِ اول سے ہی اشکنازیوں نے اپنی مظلومیت اور صیہونی نظریے کے پھیلاؤ میں سرگرم حصہ لینے کی بنیاد پر جس مملکت کی بنیاد رکھی وہاں نسلی تفریق کی غیر اعلانیہ پالیسی پر سنجیدگی سے عمل ہونا باعثِ حیرت نہ تھا۔

برسوں بعد ڈی کلاسیفائی ہونے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے سفاری یہودیوں کے ہزاروں بچے ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے مشنری جذبے کے تحت پیدائش کے فوراً بعد اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے چرا کر متمول اسرائیلی و بیرونِ ملک مقیم اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیے گئے۔اس منصوبے کا سب سے بڑا نشانہ یمنی نژاد یہودی بنے۔

مئی انیس سو اڑتالیس تا انیس سو چون کے دوران چار برس سے کم عمر کا ہر آٹھواں یمنی بچہ غائب کر کے اسے لاولد یا ضرورت مند اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

ایتھوپیائی یہودی اپنی شناخت ’’ بیتا اسرائیل ‘‘ گروہ کے طور پر کرتے ہیں مگر ایتھوپیا میں یہودی کمیونٹی کو مقامی امہاری زبان میں فلاشا کے توہین آمیز نام سے پکارا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے آوارہ گرد۔

انیس سو ستر کی دہائی میں ہزاروں فلاشاز کو سوڈان کے راستے اسمگل کر کے اسرائیل پہنچایا گیا۔اس وقت اگرچہ فلاشا اسرائیل کی یہودی آبادی کا دو فیصد ہیں مگر ان میں سے نصف خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ان کے محلے خستہ حال ہیں۔ نئی نسل منشیات کے استعمال ، متشدد رویے اور اسکول سے بکثرت اخراج کے سبب پہچانی جاتی ہیں۔انھیں ادنی درجے کی ملازمتوں یا فوج کے نچلے رینکس میں بھرتی کے لیے ہی موزوں سمجھا جاتا ہے۔فلاشا یہودیوں میں ڈیپریشن اور خود کشی کا تناسب کسی بھی دیگر اسرائیلی یہودی کمیونٹی سے زیادہ ہے۔

 ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی خاتون ایکٹوسٹ عورت یارس کے بقول ’’ ہمارا خون فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تو ٹھیک ہے مگر کسی اور کام کے لیے نہیں ‘‘۔

انیس سو نوے کی دہائی میں متعدد اسرائیلی اسپتالوں نے ایچ آئی وی کے خدشے کے پیشِ نظر افریقی یہودیوں کی جانب سے خون کے عطیات ضایع کر دیے۔دو ہزار بارہ میں تل ابیب میں سیاہ فام یہودیوں کا احتجاجی مظاہرہ طاقت استعمال کرکے منتشر کیا گیا۔دو ہزار پندرہ میں دو پولیس والوں نے ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی فوجی کو نسلی گالیاں دیتے ہوئے زدوکوب کیا۔اس واقعہ کی وڈیو نے آگ لگا دی اور ہزاروں سفاری یہودیوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔دو ہزار انیس میں بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوا۔مگر صیہونیت چونکہ ایک نسل پرست یورپی نظریہ ہے لہذا اشکنازی یہودیوں کی برتری ریاستِ اسرائیل کا بنیادی نصب العین ہے۔

سوچئے اگر رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنے ہم مذہبوں سے یہ سلوک ہے تو عربوں اور دیگر سے نفرت کا کیا عالم ہو گا ؟ نفرت بربریت کی شکل میں یہی صیہونیت پورے خطے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

ایران، امریکا مذاکرات … پہلا قدم !

Published

on


تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر کے جنگی جنوں کی تسکین اور تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ جنگ میں شامل ہر دو فریق ایک دوسرے پر قابض ہونے، اپنا تسلط قائم کرنے اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے امکانات دیکھتے ہیں تو پھر آخری حربہ جسے انگریزی اصطلاح میں (Face Saving) کہتے ہیں یعنی اپنی عزت بچانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آجاتے ہیں۔

ایسے موقع پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت پڑتی ہے جو دونوں فریق سے اپنے اچھے مراسم کو استعمال کرتے ہوئے جنگ رکوانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں جب بھارت نے پاکستان پر غیر ضروری طور پر جنگ مسلط کی تو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منت سماجت کر کے پاکستان سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر جنگ رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تھی اور پاکستان نے اپنا دفاع، بالٓاخر صدر ٹرمپ کی ثالثی کے بعد پاک بھارت جنگ کا خاتمہ ہوا۔امریکا کے صدر ٹرمپ آج بھی بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ وہ کھلے دل سے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور بروقت دانشمندانہ فیصلوں کی اعلانیہ تعریفیں کرتے ہیں۔

غالباً اسی پس منظر میں امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اب دوست اور قابل اعتماد ملک پاکستان پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ثالثی کے کردار کو کھلے دل سے خوش آمدید کرتے ہوئے یہ امیدیں باندھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو دونوں فریق کو قابل قبول ہو۔ مذاکرات کی راہیں ہموار کرنے میں برادر ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ خلیج میں امن قائم ہو اور مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے مذموم ارادوں کے آگے بند باندھا جاسکے۔

 پاکستان کی سیاسی و قومی قیادت نے باہمی تعاون و اشتراک سے بڑی ذہانت ، سمجھداری، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر جان دار انداز میں پیش قدمی کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان میں پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال سے بھی نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب اسی خلوص و محنت کے ساتھ وہ امریکا ، ایران جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھی ٹیلی فونک سفارت کاری کے ذریعے امریکا، ایران، خلیجی ممالک کے سربراہوں، مصر، اردن، ترکیہ کی قیادت اور چین کے ساتھ مسلسل رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے ثالثی کے اس کردار کو نہایت مثبت اور قابل تحسین انداز میں دیکھا اور سراہا جارہا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائم کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کی خفیہ سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسلام آباد امریکا، ایران مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔ممکنہ ثالثی اور مذاکرات کی امید کے پیش نظر امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے مزید 10روز کے لیے موخر کردیے جو خوش آیند بات ہے لیکن دوسری جانب وہ مشرق وسطی میں اپنی فوج بھی بھیج رہے ہیں جس سے ان کے مستقبل کے عزائم کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ تمام تر کوشش اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے جنگ بندی کے لیے امریکا نے پاکستان کی معرفت ایران کو جو 15نکاتی فارمولا بھیجا ہے اسے ایرانی قیادت نے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اپنی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتے ہیں۔

امریکا کی خواہش ہے بلکہ بھرپور مطالبہ اور شرط ہے کہ ایران اپنی جوہری صلاحیتوں کو ختم کردے۔ جمع شدہ یورینیم اور دیگر ایٹمی مواد عالمی جوہری توانائی ایمبسی کے حوالے کردے اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد علاقہ قرار دیا جائے جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے حملے روکے جائیں، دوبارہ جنگ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ، خلیج میں امریکی اڈے ختم کیے جائیں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔ مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں کامیابی کا دارومدار لچک دار رویوں اور کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتا ہے۔ امریکا بڑا ملک اور عالمی سپرپاور ہے اسے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ لچک دکھانا چاہیے اور ٹرمپ عالمی امن قائم کرنے اور جنگیں رکوانے کے وعدے کرتے ہیں۔ ایران جنگ کا آغاز امریکا نے کیا تھا اور ختم کرنے کا پہلا قدم بھی امریکا ہی کو اٹھانا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لبنان: اقوامِ متحدہ امن مشن کے دو اہلکار ہلاک

Published

on



جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مزید دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

یونائیٹڈ نیشن انٹیرم فورس اِن لبنان (یونیفل) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ پیر کے روز جنوبی لبنانی گاؤں بنی حیان کے قریب ’نامعلوم نوعیت کے دھماکے نے ان کی گاڑی کو تباہ کر دیا‘، جس کے نتیجے میں دو امن اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ کے اس مشن کے مطابق ایک تیسرا اہلکار شدید زخمی ہوا جبکہ چوتھا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا۔

یونیفل کا  کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امن کے لیے کام کرتے ہوئے کسی کی بھی جان نہیں جانی چاہیے۔

یہ اعلان اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب یونیفل نے بتایا تھا کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان کے گاؤں عادشیت القُصیر کے قریب ایک الگ واقعے میں یونیفل کی پوزیشن پر ایک گولہ گر کر پھٹا جس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار ہلاک ہو گیا۔

مشن کا کہنا ہے کہ اس گولے کے اصل ماخذ کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending