Today News
سونے کی قیمت میں آج بھی ہزاروں روپے کا اضافہ
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 34ڈالر کے اضافے سے 5ہزار 172ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب فی تولہ سونے کی قیمت بھی 3ہزار 400روپے کے اضافے سے 5لاکھ 39ہزار 962روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 915روپے بڑھ کر 4لاکھ 62ہزار 930روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرھ، فی تولہ چاندی کی قیمت 192 روپے کے اضافے سے 9ہزار 286 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 165روپے کے اضافے سے 7ہزار 961روپے کی سطح پر آگئی۔
Source link
Today News
رات گئے کھانا دل اور شوگر کےلیے خطرہ، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
رات کے اوقات میں اسنیکس یا کھانے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
ایک عالمی طبی جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات کو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق رکھنے سے نہ صرف نیند اور بیداری کے نظام میں بہتری آتی ہے بلکہ دل اور میٹابولزم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کارڈیو میٹابولک نظام کی خرابی کئی دائمی بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے، جن میں دل کے امراض، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور نان الکوحلک فیٹی لیور شامل ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کھانے کے اوقات کو منظم کرلیا جائے تو اس کے فوائد بعض صورتوں میں کیلوریز کم کرنے والی روایتی ڈائٹ کے برابر ہوسکتے ہیں۔
اس تحقیق میں 36 سے 75 سال کی عمر کے 39 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھے۔ سات سے ساڑھے سات ہفتوں کے دوران ایک گروپ کو رات کے وقت کھانے سے 13 سے 16 گھنٹے کا وقفہ رکھنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے اپنی معمول کی خوراک اور اوقات برقرار رکھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے رات گئے کھانے سے پرہیز کیا، ان کی دل کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کا رات کے وقت بلڈ پریشر تقریباً 3.5 فیصد کم ہوگیا جبکہ دل کی دھڑکن میں بھی تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو صحت مند قلبی نظام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند جسم میں دن کے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر قدرتی طور پر زیادہ ہوتے ہیں جبکہ رات کے وقت ان میں کمی آتی ہے۔ یہ حیاتیاتی ردھم بہتر دل کی صحت سے جڑا ہوتا ہے، اور رات گئے کھانے کی عادت اس توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دن کے اوقات میں خون میں شوگر کنٹرول کرنے کی صلاحیت بہتر رہی۔ جب شرکا کو گلوکوز دیا گیا تو ان کے لبلبے نے زیادہ مؤثر انداز میں انسولین خارج کی، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح متوازن رہی۔
ماہرین کے مطابق رات گئے اسنیکس سے گریز اور کھانے کے اوقات کو منظم کرنا مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید ہے، خاص طور پر دل اور شوگر کے مریضوں کے لیے یہ عادت طویل مدت میں نمایاں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
Source link
Today News
NASA scientist makes surprising claim of existence of aliens
امریکی خلائی ادارے NASA کے ایک سینئر سائنسدان نے کہا ہے کہ وسیع و عریض کائنات میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو۔
1968 سے ناسا سے وابستہ ڈاکٹر جینٹری لی نے ایک سائنسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج تک کسی بھی تحقیق یا مشاہدے میں ایسی شہادت نہیں ملی جو یہ ظاہر کرے کہ کسی خلائی مخلوق یا اس کی کسی ٹیکنالوجی نے زمین پر قدم رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بیشتر باتیں غلط فہمی یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر لی کا کہنا تھا کہ کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ کہیں نہ کہیں زندگی ضرور موجود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انسان کسی نہ کسی شکل میں زمین سے باہر زندگی کے آثار دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر بارک اوباما کی ایک پرانی گفتگو دوبارہ زیر بحث ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے کئی راز موجود ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے دورِ صدارت میں انہیں زمین پر کسی غیر زمینی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ یو ایف اوز اور ممکنہ خلائی سرگرمیوں سے متعلق سرکاری فائلوں کی تفصیلات عام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین فلکیات کے مطابق خلائی حیات کی تلاش کے لیے ایسے سیاروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں زمین جیسی فضا اور ماحول موجود ہو۔ اسی تناظر میں زمین کے حجم سے ملتے جلتے ایک سیارے کو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
Today News
ہم ہمسائے کی اوقات جانتے ہیں، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہو گی، خواجہ آصف
اسلام آباد:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتےہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام می کہا کہ پاک فوج سمندر پار کسی ملک کی نہیں ہے، یہ ہماری بہادر افواج ہے جو بھارت کی مرضی و منشا سے چلنے والی پراکسی اور افغان جارحیت رگڑنا جانتی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عالمی ممالک نیٹو افواج کی افغانستان سے انخلا کے بعد یہ امید کر رہے تھے کہ اب امن ہو گا اور اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے طالبان مفاد عامہ کے لیے کام کریں گے، مگر طالبان بھارت کا بغلی بچہ بن گیا۔
طالبان نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے ملک میں جمع کیا اور پھر اس کی آبیاری کے بعد ایکسپورٹ شروع کر دی، طالبان نے خود اپنی عوام کو بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج جب ہمیں جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو پاک فوج نے بھرپور اور موثر جواب دیا
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE