Connect with us

Today News

سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

Published

on


عالمی ومقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 18ڈالر کی کمی سے 5ہزار ڈالر کی سطح پر آگئی۔

ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 800روپے کی کمی سے 5لاکھ 22ہزار 762روپے کی سطح پر آگئی، اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 543روپے گھٹ کر 4لاکھ 48ہزار 184روپے کی سطح پر آگئی۔

فی تولہ چاندی کی قیمت 100 روپے کی کمی سے 8ہزار 441 روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 86روپے کی کمی سے 7ہزار 236روپے کی سطح پر آگئی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سفارت کاری کی سطح پر درپیش چیلنجز

Published

on


پاکستان کو اس وقت داخلی ، علاقائی اور عالمی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں ۔ جو چیلنجز ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنگ کے عملی مناظر ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کو ایک ہی وقت میں سیاسی ، سیکیورٹی ،دفاعی ، خود مختاری اور معاشی چیلنجز کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے یا ان کو جنگوں کی حمایت اور مخالفت میں دھکیلا جا رہا ہے ۔

پاکستان بھی علاقائی اور عالمی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس کشیدگی اور جنگ سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔یہ ہی وجہ ہے ان حالات سے سفارت کاری کی سطح پر نمٹنے کے لیے خود پاکستان کو ایک مربوط طرز کی سیاسی ، سفارتی اور دفاعی حکمت عملی درکار ہے ۔پاکستان کو حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جو 28 فروری 2026کو شروع ہوئی ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور مزید افراد کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری ہے۔

اس جنگ کے نتیجہ میں خلیجی ممالک پر اس کے اثرات جیسے اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش،تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ،معاشی نقصانات اور ایرانی جوابی حملوں سے سعودی عرب ،قطر اور یو اے ای کے حالات میں خرابی سمیت پاک افغان کشیدگی ،پاکستان کی فضائی کارروائیوں اور افغا ن جوابی حملوں سے ’’اوپن وار ‘‘جیسی صورتحال میں ہمیں سفارت کاری پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔

پاکستان نے اب تک جو پالیسی امریکا اسرائیل اور ایران یا خلیجی ممالک کے بارے میں اختیار کی ہے وہ توازن پر مبنی ہے ۔کیونکہ اس وقت ہماری پالیسی کا اختیار کرنا خود ہمارے لیے ایک نازک کھیل ہے اور ہمیں بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے سفارت کاری کے کارڈز کھیلنے ہیںاور اسی میں خود ہمارے ریاستی مفاد بھی جڑا ہوا ہے کیونکہ ایک طرف حالیہ کچھ عرصوں میں پاک امریکا تعلقات میں بہتری کا پیدا ہونا اور خود امریکا کی طرف سے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مجموعی کردار کی تعریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم کے امریکا سے دو طرفہ تعلقات میں گرم جوشی ،امریکا اور آئی ایم ایف پر معاشی انحصار، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ،خلیجی ممالک سے ترسیلات زر،جب کہ ایران سے سرحدی قربت، ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر بڑھتا ہوا دباؤ جیسے سنگین مسائل ہمارے سامنے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ اب تک کی پالیسی میں ہم نے کوئی براہ راست سطح پر کسی بھی ممالک کے خلاف کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی۔ آج بھی ہماری سیاسی اور عسکری حکمت عملی فوری جنگ بندی کا خاتمہ، ایران اور سعودی سطح یا خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ کا خاتمہ اور خلیج کے ممالک پر مزید حملے نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا دورہ سعودی عرب اور وہاں کی قیادت سے براہ راست ملاقات اور دیگر خلیجی ممالک بشمول ایران کے وزرائے خارجہ سے مسلسل ٹیلی فونک باہمی رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم موجودہ صورتحال سے غافل نہیں ہیں۔

اسی طرح پاکستان افغان کشیدگی کو کم کرنے میں چین کی سہولت کاری یا ثالثی کا نیا بھرتا ہوا کردار ،سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی معاونت جیسے امور بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔ یہ بات پہلے بھی لکھی تھی کہ چین اور بڑی طاقتوں کی ثالثی کے بغیر پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہوسکے گی اور کچھ ایسے ہی حالات پاکستان کے حق میں بن بھی رہے ہیں۔خود افغان طالبان حکومت کو اندازہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہی ان کے مفاد میں ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر فوری طور پر امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی نہیں ہوتی اور جس انداز سے جنگ کا دائرہ کار یا دورانیہ میں اضافہ ہورہا ہے اس سے معاشی حالات اور سیکیورٹی کے معاملات میں غیرمعمولی خرابیاں پیدا ہونگی اور خود پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی اور پاکستان کی ترسیلات،درآمد اور توانائی خطرے میں ہیں۔بالخصوص خلیجی ممالک میں ایران کے حملے وہاں کے انتظامی ڈھانچہ کو بری طرح سے متاثر کررہے ہیں۔اسی طرح یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ہم اپنی سفارت کاری کی مدد سے امریکا کو ایران کے خلاف روک سکیں گے اور جو کچھ خلیجی ،ممالک بشمول سعودی عرب میں ہورہا ہے کیا ہم ایران کو بھی روک سکیں گے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہم بھی کوئی بہت زیادہ آپشن نہیں رکھتے اور ہمیں کمزور معیشت سمیت سیاسی داخلی اور سیکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ویسے بھی دنیا کی سفارت کاری میں بڑی طاقتوں کا ہی قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹے ممالک کو خود کو بڑی طاقتوںکے ساتھ ہی کھڑا کرنا ہوتا ہے۔اس بات کا اندازہ خود پاکستان کو ہے اور یہ جو بہت زیادہ تحمل یا احتیاط کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ہمیں ایک ہی وقت میں مشرقی وسطیٰ کا بحران، پاک افغان کشیدگی اور پاک بھارت تعلقات میں موجود بگاڑ یا بھارت افغان گٹھ جوڑ جیسے مسائل بھی درپیش ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر ایک سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو پردہ اسکرین پر ہورہی ہوتی ہے اور جب کہ دوسری پردہ کے پیچھے جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔پاکستان کو ان حالات میں بہتری کے لیے ان دونوں چینلز کو استعمال کرنا ہوگا ۔اس میں وہ لوگ جو آج یا ماضی میں بہتر سفارت کاری کے ماہر رہے ہیں ان کی خدمات سے ہمیں ان دونوں چینلز پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔جب کہا جاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں عالمی دنیا میں سفارت کاری کے میدان میں کافی پذیرائی ملی ہے تو اب وقت ہے کہ اس پذیرائی کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔

ہمیں سعودی عرب ایران اور امریکا ایران کے درمیان بات چیت کے امکانات کو بڑھانا ہوگا بالخصوص سعودی عرب اور ایران تعلقات کی بہتری ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔اس وقت ہماری موجودہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا یہ نقطہ ہے کہ اب ہم دنیا میں کسی بھی ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی توجہ علاقائی تعلقات کی بہتری اور نئے معاشی ترقی کے امکانات تک محدود رکھیں گے۔ اس لیے کسی کے ساتھ جنگ کی حمایت اور مخالفت میں الجھنے کو کم سے کم کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ یقین دہانی سعودی عرب اور ایران سے لینی ہوگی کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ریڈ لائن کراس نہ کریں اور ایک دوسرے کی خود مختاری کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اگر یہ جنگ آگے بڑھتی ہے تو کئی اسلامی ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں،پاکستان کو دیگر ممالک بالخصوص چین ،روس، برطانیہ ،جرمنی ،ترکی کی مدد سے اقوام متحدہ اور او آئی سی پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اس نازک موڑ پر جنگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

سندھ کی گورنری کا حق

Published

on


ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ کی گورنری اس کا حق ہے کیونکہ وہ سندھ کے شہری علاقوں اور خصوصاً ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی نمایندہ جماعت ہے۔ ایم کیو ایم جب شہری سندھ اور دیہی سندھ کی بات کرتی ہے یا جب دیہی سندھ کو اندرون سندھ کہا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کو سندھ کی اس تقسیم پر سخت اعتراض ہوتا ہے۔

پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اندرون سندھ کہنے پر متعدد بار اعتراض کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ سندھ صرف ایک ہے کوئی اندرون سندھ یا شہری و دیہی سندھ نہیں ہے حالانکہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت میں خود سندھ کو تقسیم کیا تھا اور صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم آئینی طور پر نافذ کرکے دیہی سندھ کے لیے ساٹھ فی صد اور شہری سندھ کے لیے چالیس فی صد کوٹہ مقرر کیا تھا جو سندھ میں پی پی کے وزیر اعلیٰ ممتاز علی بھٹو دور میں سندھ میں پہلے لسانی مفادات کے بعد مقرر ہوا تھا جب کہ کسی اور صوبے میں کوئی کوٹہ سسٹم نہیں ہے جو دس سال کے لیے تھا مگر نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ ہے جو پیپلز پارٹی ختم کرنا نہیں چاہتی۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی غلط پالیسی کے بعد ایم کیو ایم قائم ہوئی تھی اور اس سے قبل حیدر آباد کے نواب مظفر کے دور میں پہلے لسانی فسادات کے بعد سندھی اور اردو بولنے والوں کی تفریق سامنے آئی تھی۔ سندھ اگر لسانی طور پر تقسیم نہیں ہے تو پیپلز پارٹی نے کوٹہ سسٹم کیوں برقرار رکھوایا ہے کیونکہ اتنے طویل عرصے میں تو سندھ میں احساس محرومی ختم ہو جانا چاہیے تھا جس کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذ ہوا تھا۔

سندھ میں احساس محرومی کے باعث ہی ڈومیسائل سسٹم نافذ ہے اور ایم کیو ایم کا الزام رہا ہے کہ اس سلسلے میں انتظامیہ جانبدارانہ کردار ادا کرتی ہے اور کراچی میں اندرون سندھ کے لاکھوں افراد کو حکومت نے جعلی ڈومیسائل بنوا کر دیے جس سے شہری سندھ کا چالیس فی صد کوٹہ بھی نہیں مل رہا ہے اور سندھ کی شہری آبادی کو مقررہ کوٹے کے مطابق داخلے اور سرکاری ملازمتیں نہیں مل رہیں۔ اس سلسلے میں ایم کیو ایم اعداد و شمار بھی جاری کرتی رہی ہے اور اسے پی پی حکومت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا دور میں ہونے والے سرکاری اقدامات پر اعتراض رہا ہے جب کہ ملک میں آئین ہر پاکستانی کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ملک کے جس صوبے میں چاہے جا کر رہائش اختیار کر سکتا ہے جس کا ثبوت کراچی ہے کہ جہاں ملک کے ہر علاقے کے لوگ رہتے ہیں۔

2008 سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل چوتھی حکومت ہے اور سندھ میں پی پی کے علاوہ ہر پارٹی الزام لگاتی ہے کہ 18 سالہ حکومت میں پی پی حکومت نے سندھ کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا صرف کرپشن کی ہے اور کرپشن ہی کی ترقی ہوئی ہے۔

سندھ میں سیدوں کی بہت عزت کی جاتی ہے اسی لیے پی پی نے زیادہ تر سیدوں کو ہی وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جب کہ سندھ میں ممتاز بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی اور آفتاب میرانی بھی پی پی کے وزیر اعلیٰ رہے مگر ان تینوں سے زیادہ اقتدار کا موقع قائم علی شاہ، عبداللہ شاہ اور ان کے صاحبزادے موجودہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے اقتدار کا عرصہ سب سے طویل ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت ہے اور سندھ کے زیادہ تر وڈیرے، جاگیردار، سجادہ نشین اور مشہور سیاسی سید خاندانوں کے افراد ہی اندرون سندھ سے پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے آ رہے ہیں اور سندھ حکومت میں سالوں سے اقتدار میں شامل ہیں اور صرف انھی کی مالی حیثیت تبدیل ہوئی ہے اور سندھ کے عام آدمیوں کی حالت بدلی نہ سندھ میں وہ ترقی ہوئی جو ہونی چاہیے تھی۔ سندھ حکومت صرف صحت میں ترقی کے دعوے کرتی ہے مگر سندھ اب بھی مجموعی ترقی سے محروم ہی نظر آتا ہے۔

پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ وہ سندھ کی سب سے بڑی پارٹی ہے جسے عوام ہر دور میں اقتدار کا حق دیتے رہے ہیں اس لیے سندھ کی گورنری بھی اس کا حق ہے مگر 2024ء میں پی پی قیادت نے سندھ و بلوچستان کی گورنری مسلم لیگ (ن) کو دی تھی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو سندھ کے گورنر کا عہدہ دیا تھا جس کے کامران ٹیسوری ساڑھے تین سال گورنر رہے جن کی سیاسی سرگرمیوں پر پیپلز پارٹی کو اعتراض تھا کہ انھیں ہٹا کر (ن) لیگ اپنا گورنر لائے اور اگر اس کے پاس کوئی رہنما نہیں ہے تو پی پی کا گورنر مقرر کرے جو اس کا حق بھی ہے اور پی پی سے معاہدہ بھی ہے۔

سندھ کی عوامی نمایندگی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاس ہے اسی لیے سندھ کا اقتدار اکثریت کے باعث پی پی کا حق ہے اور ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہے جب کہ سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی رکن اسمبلی تک نہیں ہے کیونکہ سندھ میں (ن) لیگ کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث سندھ میں (ن) لیگ کے پاس اہم رہنما بھی نہیں ہیں۔ (ن) لیگ کا تو سندھ میں کوئی بلدیاتی چیئرمین تک نہیں ہے مگر پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی سیاسی مخالفت میں (ن) لیگ کو سندھ میں اپنا گورنر لانے پر مجبور کیا جو اصولی اور سیاسی طور پر بھی (ن) لیگ کا حق نہیں بنتا۔ حق تو کام کرنے والوں کا ہونا چاہیے مگر سندھ میں تو اس کا تصور نہیں ہے۔ یہاں کارکردگی کی بنیاد پر حق حکمرانی صرف سیاسی بنیاد پر ملتا ہے اچھی کارکردگی کی کہیں قدر نہیں اور کارکردگی کی مثال قائم کرنے پر ایم کیو ایم کے گورنر کو ہٹا کر (ن) لیگ اپنا گورنر لے آئی ہے جو اس کا حق نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات پاکستان کے شعبہ ہوا بازی پر گہرے ہونے لگے

Published

on



مشرق وسطی میں ایران،اسرائیل اورامریکا کےدرمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کےاثرات پاکستانی ہوابازی پربتدریج گہرے ہورہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کمرشل پروازوں کے ایندھن جیٹ اے ون میں 154روپے لیٹراورتربیتی جہازوں کےایندھن ایوی ایشن گیسولین میں فی لیٹر80 روپے اضافے کی وجہ سےائیرٹکٹس مہنگے ہونےکےعلاوہ پائلٹس بننےکا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کی مشکلات بڑھ گئیں کیونکہ فلائنگ ٹریننگ کےاخراجات میں 10 لاکھ روپےاضافہ ہوگیا۔

اسکائی ونگز کے چیئرمین عمران خان کے مطابق تربیتی پروازوں کا ایندھن ایوی ایشن گیسولین کے ذخائرصرف ایک ماہ کے رہ گئے اگر معاملےنےطول پکڑا تو چھوٹے طیاروں کی اڑانیں رک سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مشرق وسطی میں جنگی صورتحال کی وجہ سے گزشتہ 17روزکے دوران کراچی سمیت مختلف ملکی ہوائی اڈوں سے خلیجی ریاستوں وممالک کے  لیے 1600 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔

اب زیادہ گھمبیر صورت حال کمرشل پروازوں میں استعمال ہونےوالے جیٹ اے ون فیول کی فی لیٹرقیمت میں154 روپےکا اضافہ ہونے کی صورت پیدا ہوئی۔

یکدم سے 82 فیصد اضافے کی وجہ سے ملکی پروازوں کےکرایوں میں 10 تا 15 ہزارجبکہ بین الاقوامی ٹکٹس میں 30 ہزارتا ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

کراچی ائیرپورٹ سےمتصل شہری ہوا بازی کے ہینگرمیں تربیت پانےوالے پائلٹس کےلیے یہ صورتحال مسلسل پریشان کن ثابت ہورہی ہے۔

اسکائی ونگزایوی ایشن کےسی ای اوعمران اسلم خان نے ایکسپریس نیوزسے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ راتوں رات ہوا بازی کی صنعت میں استعمال ہونے والےمختلف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پہلےکےمقابلے میں بہت کچھ یکسرتبدیل ہوچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹیک اورانٹرنیشنل روٹس کے ائیرٹکٹس میں اضافے کےعلاوہ تربیت پانےوالے پائلٹس پربھی بہت بڑافرق پڑا، ان کےتیکنیکی مراحل کےاجراجات میں 10 لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیاہے۔

عمران اسلم کے مطابق اگر یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے تو یہ فلائنگ ٹریننگ کےاخراجات 20 تا 30 لاکھ روپے تک تجاوزکرسکتے ہیں۔

اُن کے مطابق عام کمرشل جہازوں کے برعکس چھوٹے ساخت کے تربیتی جہازوں میں ایوی ایشن، گیسولین ایندھن استعمال ہوتا ہے، جس کی دنیا بھرمیں صرف پانچ مقامات پر پیداوار ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اے وی گیس کو ان مقامات سے16 ہزار اور24 ہزارلیٹرکے علاوہ 200 لیٹرز کے ڈرم میں درآمد کیا جاتا ہے، یہ ایک بالکل ہی الگ امپورٹ ہے۔

اُن کے مطابق ایوی ایشن گیسولین کی فی لیٹرقیمت 80روپے اضافےسے670 روپے فی لیٹرہوچکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایندھن کے ذخائرصرف ایک ماہ کے رہ گئے ہیں جبکہ یہ خدشہ بھی برقرارہے کہ اگریہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو تربیتی جہازوں کی اڑان مکمل طورپررک سکتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending