Connect with us

Today News

سچ کی گواہی کون دے گا

Published

on


کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی محرومی غربت یا بے روزگاری نہیں بلکہ سچ کی کمی ہے۔ سچ جو کہیں دب جاتا ہے، کہیں ڈرا دیا جاتا ہے اورکہیں خرید لیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں بہت سی حقیقتوں سے واقف ہوتے ہیں مگر انھیں زبان دینے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں رہ گیا ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ سچ کیا ہے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ سچ کی گواہی کون دے گا؟

اپنے ملک کی طرف دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک عجیب سی اخلاقی تھکن کا شکار ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو،کسی سیاسی کارکن کی گرفتاری ہو، کسی صحافی کی زبان بندی ہو یا کسی اقلیت کے ساتھ ناانصافی، ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں، چند سطریں لکھتے ہیں اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اپنی بے بسی کا احساس ہے، شاید ہمیں قیمت کا اندازہ ہے، شاید ہم ڈرتے ہیں۔ مگر یہ ڈر جب اجتماعی عادت بن جائے تو سچ تنہا ہو جاتا ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی فاطمہ جناح نے آمریت کے سامنے کھڑے ہو کر اختلاف کی گواہی دی تھی۔ یہ وہی سماج ہے جہاں حبیب جالب نے ایوانِ اقتدار کے سامنے نظم پڑھ کر سچ کو الفاظ میں ڈھالا تھا، مگر آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے مفاد، اپنی سیاسی وابستگی یا خوف سے بلند ہو کر یہ کہہ سکیں کہ غلط غلط ہے، خواہ وہ کتنا ہی کڑوا سچ ہو۔

ہمارے ہاں سچ اکثر سیاسی وابستگیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ جو بات ہمارے پسندیدہ رہنما کے حق میں ہو، وہ ہمیں سچ محسوس ہوتی ہے جو اس کے خلاف ہو وہ سازش قرار پاتی ہے۔ ہم دلیل سے پہلے شناخت دیکھتے ہیں، بات سے پہلے بولنے والے کا نام۔ یوں سچ ایک اخلاقی قدرکے بجائے ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ میڈیا کا ایک حصہ طاقت کے قریب جا بیٹھتا ہے دوسرا حصہ سنسنی کی دوڑ میں حقیقت کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ عدالتوں پر بوجھ ہے، پارلیمان کمزور ہے اور عام آدمی کے پاس صرف اس کی خاموشی بچتی ہے۔مگر کیا خاموشی واقعی غیر جانبداری ہے یا یہ بھی ایک طرح کی شرکت ہے، جب ہم کسی ظلم پر خاموش رہتے ہیں تو کیا ہم غیر متعلق رہتے ہیں یا غیر محسوس طریقے سے اس کی توثیق کرنے لگتے ہیں؟ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم صرف ظالم کے سبب نہیں پھیلتا بلکہ اس لیے بھی کہ تماشائیوں کی اکثریت اسے معمول سمجھ لیتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں۔ عالمی منظرنامہ بھی اسی تضاد سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی طاقتیں انسانی حقوق کا پرچم اٹھائے پھرتی ہیں مگر جب مفادات کا سوال آتا ہے تو اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کسی خطے میں جنگ ہو تو اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے کسی اور جگہ ہو تو دہشت گردی۔ ایک ملک کے پناہ گزینوں کو ہمدردی ملتی ہے، دوسرے کے مہاجرین کو سرحدوں پر روک دیا جاتا ہے۔ سچ یہاں بھی یکساں نہیں رہتا بلکہ جغرافیہ اور سیاست کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ عالمی ادارے قراردادیں منظورکرتے ہیں، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں مگر زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسیاں اکثر انسانی جانوں کے بجائے معاشی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ میڈیا کے بڑے ادارے بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں۔ کسی سانحے کو گھنٹوں نشرکیا جاتا ہے کسی اورکو چند لمحوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ یوں عالمی سطح پر بھی سچ ایک مقابلہ بن جاتا ہے کون سا بیانیہ زیادہ طاقتور ہے، کون سی تصویر زیادہ اثر انگیز ہے۔اس صورتِ حال میں عام انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر متضاد خبریں دیکھتا ہے، مختلف تجزیے سنتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کس پر یقین کرے۔ سچ جیسے دھند میں لپٹ جاتا ہے مگر کیا واقعی سچ اتنا کمزور ہے یا ہم نے اسے پہچاننے کی صلاحیت کھو دی ہے؟

مجھے لگتا ہے کہ سچ ہمیشہ بہت شور کے ساتھ نہیں آتا۔ وہ اکثر دھیمے لہجے میں بولتا ہے، وہ کسی ماں کی آنکھ میں آنسو بن کر جھلکتا ہے ،کسی مزدور کے پسینے میں چمکتا ہے، کسی طالب علم کے سوال میں زندہ رہتا ہے۔ سچ کبھی کبھی ایک تنہا صحافی کی رپورٹ میں ہوتا ہے جو دباؤ کے باوجود قلم نہیں روکتا۔ کبھی وہ ایک جج کے اختلافی نوٹ میں ملتا ہے، کبھی ایک استاد کے سبق میں جو بچوں کو سوال کرنا سکھاتا ہے۔

قومی سطح پر اگر ہم واقعی سچ کی گواہی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر دیانت پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارا پسندیدہ شخص بھی غلطی کرسکتا ہے اور ہمارا مخالف بھی درست ہو سکتا ہے۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا ہوگا۔ سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ کر خاموش کردینا آسان ہے مگر یہ رویہ سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب سوال ختم ہو جائیں تو ترقی بھی رک جاتی ہے۔

عالمی سطح پر بھی ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسانی جان کی حرمت سرحدوں سے بڑی ہے، اگر ہم ایک خطے کے مظلوم کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو دوسرے کے لیے بھی اٹھانی چاہیے، اگر ہم ایک جنگ کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری کی بھی کریں۔ اصول اگر انتخابی ہوجائیں تو وہ اصول نہیں رہتے محض مفاد بن جاتے ہیں۔ سچ کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے معیار کو یکساں رکھیں۔

سچ کی گواہی دینا ہمیشہ انقلابی نعرہ لگانا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ اپنے گھر میں انصاف کرنا ہے، اپنے دفتر میں دیانت داری برتنا ہے، اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دینا ہے۔کبھی یہ کسی کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، چاہے اس سے ہمیں وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ سچ کا راستہ آسان نہیں مگر یہ واحد راستہ ہے جو سماج کو باوقار بناتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا عہد عارضی ہوتا ہے۔ تخت بدلتے ہیں حکومتیں بدلتی ہیں، پالیسیاں بدلتی ہیں مگر سچ کی بازگشت باقی رہتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے وقت میں تنہا سمجھے گئے بعد میں انھی کے نام عزت سے لیے گئے اور وہ جو اپنے عہد میں بہت طاقتور تھے مگر سچ کے خلاف کھڑے تھے تاریخ کے حاشیوں میں چلے گئے۔

آج ہمارا امتحان یہی ہے۔ کیا ہم اپنے وقت کے سچ کو پہچان سکیں گے؟ کیا ہم اپنی سہولت اپنے خوف اور اپنے مفاد سے اوپر اٹھ سکیں گے؟ یا ہم بھی ان تماشائیوں میں شامل ہو جائیں گے جنھوں نے سب کچھ دیکھا مگر کچھ نہ کہا؟یہ سوال قومی بھی ہے اور عالمی بھی۔ یہ سوال سیاست کا بھی ہے اور اخلاق کا بھی۔ اور شاید اس کا جواب کسی اورکے پاس نہیں، ہمارے اپنے ضمیر میں ہے۔ سچ کی گواہی دینے والا کوئی دیو مالائی کردار نہیں ہوتا۔ وہ ہم میں سے ہی کوئی ہوتا ہے، ایک عام انسان جو یہ طے کر لیتا ہے کہ وہ خاموشی کو اپنی تقدیر نہیں بنائے گا۔

سو آج پھر وہی سوال ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، سچ کی گواہی کون دے گا؟ اگر ہم نے یہ ذمے داری قبول نہ کی تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب وقت نے ہمیں پکارا تھا تو ہم کہاں تھے۔ اور اگر ہم نے حوصلہ دکھایا تو شاید تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جنھوں نے اندھیرے میں چراغ جلانے کی جسارت کی تھی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ جاری ہے اور مجھے ابھی کئی دن یہ جنگ جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکا ا ور اسرائیل کو ابتدائی کامیابی ملی ہے۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تاحال ایران میں رجیم کی تبدیلی ممکن نہیں ہوئی ہے۔ ایران کا نظام حکومت چل رہا ہے۔ ان کی فوج لڑ رہی ہے۔ اس لیے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ ایران کا نظام حکومت کسی ایک فرد پر منحصر نہیں تھا۔

اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں ہم نے دیکھا تھا کہ فرد واحد کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی نظام حکومت سامنے نہیں آیا۔ صدام حسین کے گرنے سے عراق کا نظام حکومت ختم ہوگیا۔ قذافی کے گرنے سے لیبیا کا نظام حکومت ختم ہوگیا۔ دونوں جگہ فرد واحد کی حکومت تھی کوئی نظام حکومت نہیں تھا۔ وہاں کی فوجیں بھی فرد واحد کی فوجیں تھیں، اس لیے فرد کے ہٹنے سے فوج کے پاس بھی لڑنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اس طرح کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ لیکن حالیہ تاریخ کی یہی دو بڑی مثالیں ہیں۔ جہاں کامیابی سے رجیم چینج ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح ونیز ویلا کی مثال بھی مختلف ہے۔ وہاں کے صدر کے خلاف اندر سے ہی بغاوت ہو گئی تھی۔ ونیز ویلا کی نائب صدر اور وہاں کا آرمی چیف امریکا کے ساتھ تھے۔ اس لیے وہاں اندر سے بغاوت ہوئی اور انھوں نے اپنا صدر خود ہی امریکا کے حوالے کر دیا اور ملک چلانا شروع کر دیا۔

 ایران میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے نہ تو ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ ہی پاسداران انقلاب میں کوئی بغاوت ہوئی ہے اور نہ ہی ابھی تک وہاں جانشینی کی کوئی لڑائی سامنے آئی ہے۔ نہ ہی ایسا نظر آیا ہے کہ ایرانیوں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں۔ نہ ہی انھوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے یہ عمومی رائے غلط ثابت ہوگئی ہے کہ ایران میں فرد واحد کی حکومت تھی۔اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اب ایران میں رجیم چینج ممکن ہوگئی ہے۔ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران میں رجیم چینج کے لیے لڑ ائی شروع کی ہے تو پھر ابھی انھیں کامیابی نہیں ملی ہے۔ ابھی وہاں وہی رجیم موجو دہے جو امریکا اور اسرائیل کی مخالف ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ وہاں ابھی نئے سپریم لیڈر کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ لیکن ایک عارضی درمیانی مدت کے لیے آئت اللہ عالی رضا عارفی کونامزد کیا گیا ہے۔ وہ ایک تین رکنی کمیٹی کے ساتھ کام کریں گے۔ اس کمیٹی میں ایرانی صدر بھی شامل ہیں۔

امریکا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے ایران میں بڑی قیادت کو شہید کر دیاہے۔ وہاں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ ایسے افراد کو چن چن کر مارا جا رہا ہے جو موجودہ ایرانی رجیم میں اہم ہیں۔ لیکن پھر بھی نظام قائم ہے۔و یسے تو سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کو بھی شہید کرنے کی اطلاعات ہیں۔ وہ تو موجودہ رجیم کے حامی نہیں تھے۔ انھیں تو اس نظام میں اب الیکشن لڑنے کی اجازت بھی نہیں مل رہی تھی۔ وہ تو کہا جا سکتا ہے کہ خامنہ ای کے مخالف تھے۔ ایک متبادل آپشن ہو سکتے تھے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ وہ تو اپنے گھر میں قید تھے۔ انھیں تو قید میں رکھا گیا تھا۔ لیکن انھیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پیغام ملتا ہے کہ بے شک وہ مخالف تھے۔ لیکن امریکا کو قابل قبول نہیں تھے۔

ایران خطہ میں موجود اسلامی ممالک پر حملے کر رہا ہے۔ بالخصوص عرب ممالک پر حملے کر رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ ممالک امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے ان پر حملے جائز ہیں۔ ویسے میں ایران کی اس پالیسی کا حامی نہیں ہوں۔ اس سے امریکا کی مدد ہو رہی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایران کی حمائت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا ایران کو بہت نقصا ن ہوگا۔ میری رائے میں ایران کو جنگ اسرائیل اور امریکا تک محدود رکھنی چاہیے تھی۔ اس کاایران کو زیادہ فائدہ ہوتا۔ ایرانی میزائل اسرائیل تک پہنچ رہے ہیں۔ اسرائل کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس لیے اگر اسرائیل اور امریکا تک فوکس رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

عالمی امور کے ماہرین چین اور روس سے بھی بہت مایوس ہیں۔ ان کی رائے میں چین اور روس نے ایران کی کوئی خاص مدد نہیں کی۔ پہلے روس او ر چین شام اور ونیز ویلا کے موقع پر بھی خاموش رہے ہیں۔ا ور امریکا کے راستے میں نہیں آئے ہیں۔ اب ایران کی دفعہ بھی راستے میں نہیں آئے ہیں۔ اس لیے اب دنیا کا کونسا ملک امریکا کے مقابلے میں روس اور چین کے ساتھ اتحاد بنانا چاہے گا۔ سب جان گئے ہیں کہ جب لڑنے کا موقع آئے گا تو روس اور چین ساتھ نہیں ہوںگے۔

ایران میں موجودہ رجیم کے خلاف چند ماہ پہلے شدید مظاہرے ہوئے تھے۔ لوگ مہنگائی اور ڈالر کی بڑھتی قدر کے خلاف سڑکوں پرآئے۔ ایرانی رجیم نے ان کو طاقت سے زیر کیا۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اب وہاں کوئی مخالف باہر نہیں آیا۔ لوگ ان کے حق میں باہر آئے ہیں۔ تہران سے جو مناظر سامنے آئے ہیں۔ وہاں لوگ سو گ میں ہیں۔ لیکن ایسا کوئی منظر ایران کے اندر سے سامنے نہیں آیا کہ لوگ خوشی منا رہے ہوں۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جنگ نے ایرانیوں کو اس قدر متحد کر دیا ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بھول گئے ہیں۔ کیا لوگ موجودہ رجیم سے اپنے گلے بھول گئے ہیں۔ ایران کے باہر سے ایسے مناظر سامنے آئے ہیں۔ لیکن اندر سے نہیں۔

ایرانی فوج کام کر رہی ہے۔ میزا ئل داغے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ بے شک ایرانی فوج اور بالخصوص پاسدران انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن ایران کے اندر ایسا کوئی ماحول ابھی نظر نہیں آرہا۔ یہ دلچسپ بات ہے۔ یہ نظام کی مضبوطی کی شاندار مثال ہے۔ اس لیے رجیم چینج ابھی ممکن نظر نہیں آرہی ۔ وہاں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آرہی ۔ شائد خامنہ ای کی شہادت نے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کر دیا ہے۔ اختلافی آوازیں بھی وقتی طور پر خاموش ہو گئی ہیں۔سب اندازے کہ لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ کل کیا ہوجائے میں نہیں کہہ سکتا۔ ابھی کی صورتحال یہی نظر آرہی ہے۔ اس لیے جنگ لمبی چلتی نظر آرہی ہے۔ جب تک ایران میزائل چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنگ چلتی رہے گی۔ ابھی یہ صلاحیت باقی ہے۔ یہی ایران کی بنیادی طاقت ہے۔ ابھی تک امریکا اس کو ختم نہیں کر سکا ہے۔ ابھی تک پاسدران انقلاب نظام کی حفاظت کر رہے ہیں، اس لیے ابھی رجیم موجود ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خود مختاری، علاقائی کشیدگی، پارلیمانی عزم

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسِ سے خطاب ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستِ پاکستان کو بیک وقت داخلی استحکام، علاقائی کشیدگی اور عالمی سفارتی دباؤ جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ خطاب محض ایک آئینی تقاضے کی تکمیل نہیں تھا بلکہ اس میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خاتمے، علاقائی امن اور معاشی استحکام کے بارے میں ایک واضح سمت کا تعین بھی کیا گیا۔ صدر مملکت نے جو نکات اٹھائے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو اس وقت سنجیدہ، مربوط اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا بھارت کو دوٹوک پیغام کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، دراصل جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی اسٹرٹیجک صورتحال کا عکاس ہے۔ صدر پاکستان کا بیان ایک طرف قومی عزم اور دفاعی تیاری کا اظہار ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی دعوت بھی۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک ذمے دار ریاست کو اختیار کرنا چاہیے۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ اعتماد اور طاقت کی علامت ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کے پیچھے مستحکم دفاعی ڈھانچہ اور سیاسی وحدت موجود ہو۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غلط فہمیوں، اشتعال انگیزی اور غیر ذمے دارانہ بیانات نے کئی بار حالات کو جنگ کے دہانے تک پہنچایا۔ ایسے میں سفارت کاری، بیک چینل رابطے اور بین الاقوامی ثالثی کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ صدر مملکت نے عالمی برادری کی ان کوششوں کو سراہا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی گئیں۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان خود کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو طاقت کے استعمال کو آخری چارہ کار سمجھتی ہے اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔

افغانستان کے حوالے سے صدر پاکستان کا مؤقف بھی نہایت واضح تھا۔ انھوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا ہوگا۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی، کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہیں اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ریاست کا یہ مطالبہ کہ افغان حکومت قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم کرے، دراصل اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی احترام اور عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے، اگر ایک ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتا ہے۔

 اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق کا ذکر ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیکڑوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے، متعدد چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں اور اسلحہ بردار گاڑیاں ناکارہ بنائی گئیں۔ بلاشبہ ریاست اس معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں بلکہ واضح حکمت عملی کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم عسکری کامیابی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی بھی ضروری ہے، کیونکہ دیرپا امن محض بندوق کی نال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، تجارتی راستے اور سفارتی صف بندیاں اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ مؤقف کہ خطے کو مزید بحران سے بچانے کے لیے امن، تحمل اور مذاکراتی حل کو ترجیح دی جائے، ایک متوازن اور ذمے دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کی رقابت نے کئی خطوں کو پراکسی جنگوں کا میدان بنا دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال نے ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں نہایت محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بلاک سیاست میں غیر ضروری طور پر الجھنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی روابط کا فروغ اور اقتصادی تعاون کے نئے راستوں کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔

داخلی سطح پر صدر مملکت نے خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کو قومی ترجیحات قرار دیا۔ یہ تینوں اہداف دراصل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سلامتی کی صورتحال بہتر نہ ہو تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اگر معیشت کمزور ہو تو دفاعی صلاحیت اور سماجی بہبود کے منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، مہنگائی، بیرونی قرضوں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔صدر مملکت کے خطاب میں جو بنیادی پیغام نمایاں تھا وہ یہ کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ یہ مؤقف داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، سرحدی خلاف ورزیوں پر مؤثر جواب اور سفارتی محاذ پر فعال کردار، یہ تینوں پہلو مل کر ایک جامع قومی حکمت عملی تشکیل دے سکتے ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اگر مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند ہو جائیں تو کشیدگی مستقل صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیک وقت سخت اور نرم دونوں پہلوؤں پر مشتمل پالیسی اپنائے، جہاں ضروری ہو وہاں سختی اور جہاں ممکن ہو وہاں لچک اور مذاکرات۔

نئے پارلیمانی سال کا آغاز اگر واقعی خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کے عزم کے ساتھ کیا گیا ہے تو اس کے لیے بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی، شفاف احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں اور معاشی طاقت کے بغیر خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔

آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سرحدی کشیدگی، دوسری جانب دہشت گردی کا خطرہ اور تیسری جانب معاشی دباؤ، یہ سب مل کر ایک پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ ایسے میں قیادت کی بصیرت، قومی اتحاد اور مؤثر حکمت عملی ہی وہ عوامل ہیں جو ملک کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ صدر مملکت کا خطاب اسی سمت میں ایک اشارہ تھا کہ ریاست اپنے چیلنجز سے باخبر ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔بالآخر قوموں کی طاقت ان کے اتحاد، حوصلے اور ادارہ جاتی استحکام میں مضمر ہوتی ہے، اگر پاکستان داخلی اختلافات کے باوجود بیرونی خطرات کے مقابلے میں متحد ہو جائے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور معیشت کی بحالی کے لیے ٹھوس اصلاحات نافذ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایک مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر نہ سکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی و ریاستی قوتیں ایک صفحے پر آئیں اور قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں، تاکہ آنے والا پارلیمانی سال محض رسمی تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی پیش رفت اور قومی استحکام کا سال ثابت ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد، گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے

Published

on



پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم نے سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بناکر ہنگامہ آرائی کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کے کارکنان کا سیکیورٹی گارڈ سے جھگڑا ہوا اور یہ واقعہ لا کالج کے سامنے پیش آیا۔

طلباء تنظیم کے کارکنوں نے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیے جبکہ اہلکاروں پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں جس سے متعدد گارڈ زخمی ہوگئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ لاء کالج بند ہونے کے بعد زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی۔ اجازت نہ ملنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شرپسندی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

اُدھر طلبا تنظیم نے کہا کہ افطار کی اجازت دینے کے باوجود پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے باعث بدنظمی اور پھر معاملہ خراب ہوگیا۔



Source link

Continue Reading

Trending