Today News
سہولت کاری اور دہشت گردی
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایف سی کے قلعے پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا محض ایک دہشت گرد کارروائی نہیں بلکہ انتہائی بزدلانہ لیکن ایک منظم، کثیر الجہتی اور تکنیکی طور پر ارتقأ یافتہ جنگ کا اظہار ہے جوافغانستان کی سرزمین کو استعمال کرکے انتہاپسند دہشت گرد قوتیں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مسلسل لڑی جارہی ہے۔ ضلع کرک کے بہادر خیل کے علاقے میں پیش آنے والا دہشت گردی کا یہ واقعہ، جس میں ابتدائی ڈرون حملے کے بعد فائرنگ اور ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے جیسے سفاکانہ، جاہلانہ اور پرلے درجے کا بزدلانہ اقدامات شامل تھے۔
اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نہ صرف عسکری اہداف کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ انسانی اقدار، جنگی اخلاقیات اور ریاستی و حکومتی رٹ کو بھی براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی دوران خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں چار خارجیوں کی ہلاکت اور ان کے بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے تعلق کے انکشاف نے اس وسیع تر منظر نامے کو مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی محض داخلی بے چینی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پراکسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ اب روایتی خودکش حملوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال، سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور مقامی سہولت کاری کو یکجا کر کے ایک ہائبرڈ جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ ڈرون حملوں کا رجحان اس نئی جنگی حکمت عملی کا اہم پہلو ہے۔ کواڈ کاپٹر جیسے سستے مگر مؤثر آلات کی مدد سے قلعوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد گروہ تکنیکی معاونت اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی مقامی سطح پر آسانی سے دستیاب نہیں، اس کے لیے مالی وسائل، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیرونی ہاتھ کے شواہد سامنے آتے ہیں۔ پاکستان متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہے۔ افغانستان کی صورتحال اس تناظر میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اور اس سے قبل دوحا معاہدے میں طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔پاک افغان سرحدی علاقوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں، جرائم پیشہ مافیاز کی موجودگی، منشیات کی آزادانہ کاشت ، تیاری ، منشیات کا کاروبار، اسلحے کی آزادانہ نقل و حرکت اور نگرانی کے نظام کی کمزوری نے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔
دہشت گردوںکے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں کابل پر قابض انتہاپسند حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے ایک اسٹرٹیجک اثاثہ ہیں۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک کم لاگت مگر مؤثر حکمت عملی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مسلسل داخلی سلامتی کے چیلنج میں الجھائے رکھنا ہے۔ یہ پراکسی حکمت عملی محض عسکری نوعیت کی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی مقاصد بھی رکھتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن، مسئلہ کشمیر اور خطے میں چین کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے اسٹرٹیجک حساب کتاب کا حصہ ہیں۔ China-Pakistan Economic Corridor جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی امکانات رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں پر حملے دراصل پاکستان کی معاشی شہ رگ کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے اگر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہو اور سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہو تو معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے۔ یہی وہ ہدف ہے جو دشمن کی پراکسی جنگ کے پیچھے کارفرما دکھائی دیتا ہے۔
تاہم خارجی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی کمزوریاں بھی اس مسئلے کا اہم حصہ ہیں۔ دہشت گردی صرف اس وقت پنپتی ہے جب اسے مقامی سطح پر سہولت کاری میسر ہو۔ یہ سہولت کاری نظریاتی ہمدردی، قبائلی یا علاقائی وفاداری، مالی مفاد یا ریاستی اداروں کی کمزور گرفت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے لیے نرم ہدف بنا دیتی ہے، اگر ریاست ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور سیاسی شمولیت کے دروازے بروقت فراہم نہ کرے تو خلا کو شدت پسند قوتیں پُر کر دیتی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ انٹیلی جنس نظام کی بہتری، مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہیں۔
قومی ایکشن پلان کا تنقیدی جائزہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی اور مدارس کی اصلاحات جیسے اقدامات شامل تھے۔ ابتدا میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض پہلوؤں پر عمل درآمد کی رفتار سست پڑ گئی۔ دہشت گردی ایک متحرک خطرہ ہے جو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، اس لیے پالیسی کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔ سائبر اسپیس میں شدت پسند مواد کی روک تھام، کرپٹو کرنسی یا غیر رسمی مالیاتی نظام کے ذریعے فنڈنگ کی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔
علاقائی سفارت کاری بھی اس جنگ کا اہم محاذ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدی مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف مشترکہ اقدامات پر واضح اور دوٹوک بات کرے۔ اسی طرح عالمی برادری کو باور کرانا ضروری ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے، اگر افغانستان ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بنتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔میڈیا اور بیانیے کی جنگ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ خوف اور مایوسی پھیلانا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبروں، پراپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں ریاست کو شفاف معلومات، بروقت حقائق اور مثبت بیانیے کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ علماء، اساتذہ اور رائے ساز شخصیات کو شدت پسندی کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔دہشت گردی کے معاشی اثرات بھی گہرے ہیں۔ سیکیورٹی پر بڑھتے اخراجات، سرمایہ کاری میں کمی اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی قومی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ جب غیر یقینی فضا قائم ہو تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، جو خود شدت پسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔
اس شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے سیکیورٹی اور ترقی کو ساتھ ساتھ چلانا ہوگا۔ پسماندہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت و تعلیم کی سہولیات اور چھوٹے کاروبار کے فروغ سے مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد بڑھے گا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی فوری اقدامات درکار ہیں۔ کاؤنٹر ڈرون سسٹمز، نگرانی کے جدید آلات اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے خطرات کی پیشگی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں ہائبرڈ وار فیئر کا تصور مضبوط ہو رہا ہے جس میں روایتی جنگ، سائبر حملے، معلوماتی پراپیگنڈا اور پراکسی گروہوں کا استعمال شامل ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کو اسی تناظر میں جدید بنانا ہوگا۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں بلکہ سیاسی قیادت، اہل علم اور بزنس کلاس اور تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ کرک اور ڈی آئی خان کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دشمن اپنی حکمت عملی میں جدت لا رہا ہے اور انسانی اقدار کو بھی پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اس کے مقابلے میں ریاست کو عسکری، سفارتی، معاشی اور سماجی محاذوں پر مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ داخلی کمزوریوں کا ادراک، مقامی سہولت کاری کا خاتمہ، علاقائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، یہ سب عناصر ایک جامع پالیسی کا حصہ ہونے چاہئیں۔پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
آج ایک بار پھر اسی عزم، اتحاد اور بصیرت کی ضرورت ہے، اگر ہم نے داخلی استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر لیا، خارجہ محاذ پر فعال سفارت کاری کی اور دشمن کی پراکسی حکمت عملی کو بے نقاب کر کے مؤثر جواب دیا تو دہشت گردی کی یہ لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر وقتی ردعمل اور جزوی اقدامات اس پیچیدہ خطرے کا مکمل سدباب نہیں کر سکیں گے۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اس چیلنج کو محض سیکیورٹی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ریاستی استحکام، معاشی خود مختاری اور قومی بقا کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ایک ہمہ گیر اور مستقل حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھیں۔
Today News
طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ
اسلام آباد:
ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔
The Afghan Taliban regime initiated unprovoked firing along the Pakistan-Afghanistan Border in Torkham & Tirah sub-sectors.
Pakistan’s security forces responded immediately & effectively, silencing the Taliban aggression.
Any further provocation will be responded to…
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) February 24, 2026
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔
Today News
ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار
کراچی:
ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔
کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔
اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔
اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
Today News
معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق
پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔
اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔
اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔
یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔
اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch