Connect with us

Today News

سیفی جیسا کوئی نہیں – ایکسپریس اردو

Published

on


گھر کی بالکونی کا دروازہ کھلا اور ایک شخص نمودار ہوا، وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھا لیکن پوری گلی اس کی ایک جھلک دیکھتے کیلیے بھری ہوئی تھی، جیسے ہی اس نے ٹرافی تھامے ہاتھ اوپر اٹھائے ہزاروں افراد خوشی سے جھوم اٹھے، فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔

وہ نوجوان سرفراز احمد تھا جس کی قیادت میں ٹیم نے چیمپئنز ٹرافی2017 جیتی تھی،اس وقت کراچی کے ہر نوجوان کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح سرفراز کے گھر بفرزون پہنچ جائے۔ 

یہ کارنامہ بھی بہت بڑا تھا پاکستان ٹیم نے لندن میں بھارت کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی تھی، عمران خان کے بعد سرفراز دوسرے کپتان بنے جنھوں نے 50 اوورز کا کوئی آئی سی سی ٹائٹل جیتا۔

اس سے پہلے سرفراز ٹیم کو2006 میں انڈر 19 ورلڈ چیمپئن بھی بنوا چکے تھے،ان کی کپتانی میں پاکستان نے مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتیں، ٹیسٹ اور ون ڈے میں بھی کارنامے سرانجام دیے،اب بھی لوگ ان کے دور قیادت کو یاد کرتے ہیں۔ 

جب سے انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا ہماری ٹیم دوبارہ سیٹ نہ ہو سکی، کئی کپتان آئے گئے لیکن سیفی والی بات کسی میں نہ تھی، خود غرض نہ ہونا ان کی سب سے بڑی خوبی رہی جو بعد میں خامی بن گئی، وہ ٹیم کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر بیٹنگ آرڈر میں تاخیر سے آنے لگے۔ 

فارم متاثر ہوئی تو مخالفین کو تنقید کا موقع مل گیا، ان کی سب سے بڑی’’غلطی ‘‘ ورلڈ کپ میں سامنے آئی، جب ایک اعلیٰ شخصیت نے کوئی مشورہ دیا جس پر عمل نہ ہوا تو انھیں کپتانی سے ہٹانے کا حکم صادر ہو گیا۔ 

سرفراز کو چیئرمین احسان مانی کے نائب وسیم خان نے ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران کہا کہ ’’ہم آپ کو قیادت سے ہٹا رہے ہیں، خود استعفیٰ دے دیں تو اچھا رہے گا‘‘ شاید وہ پہلا موقع تھا جب سرفراز نے بورڈ نے بات نہ مانی اور جواب دیا کہ وہ خود مستعفی نہیں ہوں گے، اگر ہٹانا ہے تو ہٹا دیں، اسی شام ان کی برطرفی کا پروانہ جاری ہو گیا۔ 

پاکستان کرکٹ کیلیے وہ یوم سیاہ تھا اور ٹیم اب تک اس غلط فیصلے کے نتائج بھگت رہی ہے، سرفراز کو قریبی دوست یہی مشورے دیتے رہے کہ اپنے کھیل پر بھی توجہ دو، اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرو جب تک ٹیم جیت رہی ہے کوئی کچھ نہیں کہے گا جہاں ایک سیریز ہارے سب ڈنڈا لے کر پیچھے پڑ جائیں گے۔

لیکن انھوں نے کسی کی بات نہ سنی اور یہی کہتے رہے کہ ٹیم کیلیے جو اچھا ہے وہی کروں گا،اس کا انھیں نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان میں کھلاڑیوں کو زبردستی کپتان بنایا جاتا ہے لیکن سرفراز نیچرل کپتان تھے، انھوں نے جونیئر لیول سے ہی قیادت سنبھالی ، پھر پاکستان ٹیم کو نئی بلندیوں پر لے کر گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلیے پی ایس ایل میں بھی اچھا پرفارم کیا اور ٹائٹل بھی جیتا، اگر آپ شاداب خان، حسن علی یا اس وقت ڈیبیو کرنے والے کسی اور کرکٹر سے پوچھیں تو وہ سرفراز کو ہی اپنا پسندیدہ کپتان قرار دیں گے۔

بابر اعظم کو گروم کرنے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے رہے لیکن جب مشکل آئی تو کوئی ساتھ کھڑا نہ ہوا، ’’بچے‘‘ بڑے ہو کر خود کپتان بننے کے خواب دیکھنے لگے اور سیفی بھائی کے احسان بھول گئے۔

لیکن انھوں نے کبھی کوئی شکوہ نہ کیا اور ہمیشہ مسکرا کر سب سے ملتے رہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ’’بھیا بھیا‘‘ کہنے والے لوگوں نے بھی سلیکٹر بن کر آنکھیں پھیر لیں۔ 

خیر یہ سرفراز کا بڑا پن ہے کہ آج بھی کسی کیخلاف کوئی بات نہیں کرتے، کرکٹ کی جتنی سمجھ انھیں ہے شاید ہی کسی اور کو ہو، آج کل کرکٹرز جیسے ہی تھوڑا نام بنائیں کلب کرکٹ تو دور کی بات ہے ڈومیسٹک میچز بھی نہیں کھیلتے۔ 

البتہ سرفراز نے ہمیشہ کھیل کو عزت دی، اعظم خان نے جب انھیں پاکستان کرکٹ کلب کے میچ کا بتایا وہ ہمیشہ حاضر ہوتے، کپتانی میں سرفراز کا جارحانہ انداز بھی اکثر موضوع بحث رہتا۔ 

وہ فیلڈ میں کھلاڑیوں سے ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پلیئرز ان کا مزاج سمجھتے تھے، انھیں پتا تھا کہ ابھی سیفی بھائی سے ڈانٹ پڑی ہے تو رات کو وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر گانے سناتے ہوئے کھانا کھلانے بھی لے جائیں گے،اسی لیے آج بھی ان کی عزت ہے۔

پاکستان میں کوئی کھلاڑی ایک بار اچھا پرفارم کرلے تو اس کا انداز ویراٹ کوہلی والا ہو جاتا ہے لیکن سرفراز ہمیشہ عوامی شخصیت رہے، بقرعید کے دنوں میں اکثر وہ گلیوں میں گائے ٹہلاتے نظر آتے، عام دنوں میں موٹر سائیکل پر گھومتے دکھائی دیتے۔ 

آپ نے کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا کہ سرفراز نے بدتمیزی کی، وہ سب سے خندہ پیشانی سے ہی ملتے ہیں، پاکستان میں بڑے کرکٹر اور اچھے انسان کا کمبی نیشن کم ہی نظر آتا ہے، سرفراز ان چند افراد میں سے ایک ہیں۔ 

ان کی ایک خامی جارحانہ بیٹنگ سے ہم آہنگ نہ ہونا بنی، ندیم عمر جیسی قریبی شخصیات انھیں پاور ہٹنگ میں مہارت لانے یا اوپننگ کرنے جیسے مشورے دیتی رہیں لیکن انھوں نے ان پر عمل نہ کیا، خیر سرفراز نے جتنی کرکٹ کھیلی عزت سے کھیلی، پاکستان کے بہترین کپتانوں کا جب بھی نام لیا جائے وہ نمایاں ہی ہوں گے۔ 

سرفراز نے جونیئر لیول کے کرکٹرز کی رہنمائی تو شروع کر دی تھی،اب انھیں ٹیسٹ ٹیم کا کوچ بنانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو اچھے لوگوں کی پرکھ ہے، سرفراز جیسے ایماندار اور بے لوث افراد انھیں پسند ہیں، اسی لیے وہ ان کو قومی سیٹ اپ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ 

وہ پیسے کی پیچھے نہیں بھاگتے، سادہ لائف اسٹائل ہے، پاکستان میں کسی کے پاس تھوڑا سا پیسہ آ جائے وہ ڈیفنس کی طرف بھاگتا ہے سرفراز اب بھی بفرزون کا وہی لڑکا ہے جو گلی میں بچوں کے ساتھ ٹیپ بال سے بھی کرکٹ کھیلتا ہے، ہر کرکٹر کو ایک نہ ایک دن ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے سرفراز کے کیریئر میں بھی وہ وقت آ گیا۔ 

امید یہی ہے کہ جس طرح انھوں نے بطور وکٹ کیپر بیٹر اور کپتان ملک کیلیے کارنامے سرانجام دیے اسی طرح سلیکٹر اور کوچ کی حیثیت سے بھی نام کمائیں گے اور لوگ یہی کہیں گے کہ ’’سیفی جیسا کوئی نہیں‘‘۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لیہ، ڈیوٹی کے دوران نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کا جوان شہید

Published

on



لیہ:

پنجاب پولیس کا ایک اور جوان فرض کی راہ میں قربان ہوگیا۔ لیہ پولیس کے کانسٹیبل اسد نصیر ہیرا اڈہ کے مقام پر ڈیوٹی کے دوران نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کانسٹیبل اسد نصیر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کر گئے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم نے شہید کانسٹیبل اسد نصیر کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے آر پی او ڈی جی خان اور ڈی پی او لیہ کو واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس شہید کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال اور ویلفیئر پولیس کی ذمہ داری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام  ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے  پاکستان  نے  اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی  کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر  سفارتی  کوششیں تیز کی ہیں۔

خصوصی ایلچی  اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی  نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال  کیا۔

چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔

بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد طالبان حکومت کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی اپنانے سے پہلے ہی تمام سفارتی راستے ختم کر چکا ہے۔

پاکستان نے دو طرفہ چینلز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ذریعے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ چینی ایلچی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں اسلام آباد اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان قیادت نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ۔

باخبرذرائع نے بتایا کہ  طالبان حکام نے چینی سفیر کے سامنے اپنا دیرینہ مؤقف  کو دہرایا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی ایشو ہے،  افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی تاہم پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیاجس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس کو بھی بطور ثبوت شامل کیاگیا تھا۔ 

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

ان حالات میں پاکستان نے چین کو آگاہ کیا کہ جب تک کابل اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، بامعنی سفارتی کوششوں کی بہت کم گنجائش ہے۔ 

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔ 

ان کا کہناتھا کہ جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا تعلق ہے، صورت حال جوں کی توں ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور اپنے مذاکرات کاروں  پر زور دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی چونکہ یقین دہانیاں  نہیں کرائی گئیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو جاری رکھا جائیگا۔

اس بات کا امکان ہے کہ جب کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے، عید کے دوران دشمنی میں عارضی  وقفہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

دریں اثنا ترجمان طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز پرپاکستان کی جائز کارروائیوں کے بارے بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔ 

افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف اہداف جائز ہیں،افغان سر زمین سے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں،  بھارت افغانستان سمیت خطے میں تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔

بھارت  پاکستان کیخلاف دہشتگردی کرنے سے باز آ جائے، ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیر اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔ 

بھارت اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا، اسرائیل اور ایران کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی

Published

on



کراچی:

ملک میں معیاری روئی کی محدود دستیابی اور امریکا اسرائیل ایران جنگ سے مشرق وسطی کے کشیدہ حالات دے روئی درآمدی سرگرمیاں معطل ہونے سے گزشتہ ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رحجان رہا جس سے فی من روئی کی قیمت 500روپے کے اضافے سے 17ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پولیسٹر  فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی پولیسٹر فائبر کی فی کلو قیمت میں 30روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے سوتی دھاگے کی قیمت میں تیزی کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رحجان سامنے آیا ہے۔ 

مقامی ٹیکسٹائل ملز ملیں رواں سال موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لئے گذشتہ سالوں کی نسبت معیاری روئی کی خریداری میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں جسے ابتدائی طور پر اگرچہ درآمدی روئی سے پورا کیا جارہا تھا لیکن جاری عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی روئی کی  شپمنٹس معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملوں نے مقامی کاٹن مارکیٹس سے روئی کی خریداری شروع کردی ہے۔

مقامی مارکیٹوں میں معیاری روئی کی انتہائی محمدود دستیابی کے باعث روئی کی قیمت میں 500روپے فی من اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں رواں ہفتے مزید تیزی متوقع ہے اگر قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہا تو عید الفطر کے بعد تک فی من روئی کی قیمت 18ہزار روپے کی سطح عبور کرسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نان فرینڈلی صنعتی پالیسیوں کے باعث پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں تسلسل سے کمی برقرار ہے اور توانائی کی قیمتوں میں جاری اضافے کے رحجان سے ملکی برآمدات میں مزید کمی کے خدشات پائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر (ایف سی اے) ہرسال پاکستان میں کپاس کی کاشت اور پیداواری ہدف جاری کرتی ہے لیکن یہ ہدف بالعموم زمینی حقائق کے برعکس ہوتے ہیں۔

ایف سی اے گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد کا اجراء کرتی ہے لیکن گذشتہ 10 سال مجوزہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔

ان عوامل کے سبب روئی کی کھپت یا استعمال کرنے والی صنعتوں کو اپنی پیداواری حکمت مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایف سی اے کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں درست اور حقائق پر مبنی اہداف کا تعین وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس قومی ادارے پر اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ 12دسمبر 2025 سے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کی عمارت سربمہر ہونے کے بعد سے تاحال بحال نہ  ہونے سے روئی کی اسپاٹ قیمت بھی معطل ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹوں میں پاکستانی کاٹن کی نمائندگی نہیں ہو رہی جو ملکی تاریخ میں ایک منفرد واقع ہے جس سے کاٹن ٹریڈنگ سیکٹر میں اضطراب کی لہر برقرار ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending