Connect with us

Today News

سینیٹ قائمہ کمیٹی میں ایف بی آر ترمیمی بل بحث کے بعد منظور

Published

on



اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر  ترمیمی بل بحث کے بعد منظور کرلیا۔

چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر رانا ثنااللہ کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل پر غور  کیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے  کہا کہ سپریم کورٹ نے مصطفی امپکس کیس میں وزیراعظم سے اختیار وفاقی کابینہ کو دیا گیا۔ اسکے تحت ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔ ٹیکس پالیسی بورڈ بھی وزارت خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ترمیم سے سارا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا جا رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ایف بی آر ایک ٹیکنیکل محکمہ ہے،  اسکے محکمہ کا ہی فرد چیئرمین مقرر ہونا چاہیے۔ اس ترمیم سے موجودہ چیئرمین کو لامحدود اختیارات مل جائیں گے۔ چیئرمین ایف بی آر جس کو چاہے گا ممبر مقرر کر دے گا اور جس کو چاہے گا تبدیل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کے اثاثے ان کی تنخواہ کے مطابق نہیں ہیں۔ ٹیکس وصولی میں کمی ہو رہی ہے  ۔ لوگ 10 لاکھ روپے ٹیکس دینے کی بجائے 20 لاکھ دے کر ایف بی آر سے جان چھڑاتے ہیں۔ ملک میں ٹیکس نظام کو ٹیکس دہندہ دوست بنانا چاہیے ۔ میں اس مجوزہ ترمیمی بل کی مخالفت کروں گا ۔

وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ سارے افسران اس سال سے اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے ۔ اگر کسی سینیٹر کے پاس کسی ٹیکس حکام کیخلاف شکایات ہیں تو سامنے لائیں کارروائی کی جائے گی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر کے ممبران کے تقرر کا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا گیا ہے ۔

چیئرمین ایف بی آر نے اس موقع پر کہا کہ یہ 2007 سے ایسا ہی ہے۔ ایف بی آر کا اپنا قانون ہے ۔

سینیٹر شاہزیب درانی نے کہا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ اس میں وفاقی وزیر خزانہ کو شامل نہ کیا جائے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایف بی آر میں 78 سے زیادہ گریڈ 21 کے افسران ہیں جن کا اکثر ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے۔ ایف بی آر میں ایسا ماضی سے ہوتا چلا آ رہا ہے ۔

سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ میں ٹیکس پالیسی بورڈ کا ممبر ہوں، مگر اس کا اجلاس نہیں ہوا۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ میں بھی اس کا ممبر رہا مگر اجلاس کبھی نہیں ہوا۔

بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے مجوزہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026ء کو منظور کرلیا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان کا بنگلادیش کیخلاف ون ڈے سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان

Published

on


پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلادیش کے خلاف ون ڈے سیریز کیلیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کے خلاف تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ  کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کریں گے۔

یہ سیریز 11 سے 15 مارچ تک بنگلادیش میں کھیلی جائے گی جس کے تمام میچز شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں ہوں گے۔

اسکواڈ میں شامل چھ کھلاڑی پہلی بار قومی ون ڈے ٹیم کا حصہ بنے ہیں جن میں عبدالصمد، معاذ صداقت، محمد غازی غوری، سعد مسعود، صاحبزادہ فرحان اور شامیل حسین شامل ہیں۔

عبدالصمد، معاذ صداقت، سعد مسعود اور شامیل حسین حال ہی میں پاکستان شاہینز کی جانب سے انگلینڈ لائنز کے خلاف ابو ظہبی میں ایکشن میں دکھائی دیے تھے۔

اسکواڈ میں دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں محمد رضوان (وکٹ کیپر)، حارث رؤف، فہیم اشرف، ابرار احمد، محمد وسیم جونیئر اور سلمان علی آغا شامل ہیں۔

ٹیم انتظامیہ کو امید ہے کہ نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا امتزاج بنگلادیش کی کنڈیشنز میں مثبت نتائج دے گا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ: صاحبزادہ فرحان اور ابرار احمد پہلی پوزیشن پر قبضے کے نزدیک

Published

on


قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز صاحبزادہ فرحان اور مسٹری اسپنر ابرار احمد ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر قبضے کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رینکنگ کے مطابق بلے بازوں میں صاحبزادہ فرحان ایک درجے ترقی پاکر دوسری پوزیشن پر آگئے ہیں۔

صائم ایوب اور بابر اعظم ایک ایک درجے تنزلی سے بالترتیب 35ویں اور 37ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔

بولرز میں ابرار احمد دو درجے ترقی پاکر تیسری پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

محمد نواز کی 12ویں پوزیشن بدستور برقرار ہے جبکہ سلمان مرزا تین درجے تنزلی سے 21ویں نمبر پر چلے گئے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

جن کیسز کی لائیو اسٹریمنگ ہوئی، اس کا نتیجہ بڑا منفی آیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

Published

on



اسلام آباد:

ایک کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جن کیسز کی لائیو اسٹریمنگ ہوئی، اس کا نتیجہ بڑا منفی آیا ہے۔

مختلف جامعات کے بی پی ایس اساتذہ کی پرموشن سے متعلق کیس  کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں مقدمے کے حوالے سے ایچ ای سی کی پالیسی رپورٹ عدالت میں پیش  کی گئی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وکیل درخواست گزار سے دلائل طلب  کرلیے۔

دورانِ  سماعت موبائل ریکارڈنگ کرنے پر عدالت درخواست گزار  ٹیچر پر برہم ہو گئی اور عدالتی عملے نے متعلقہ شخص سے موبائل فون ضبط کر لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے شخص سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں اور کرتے کیا ہیں؟

درخواست گزار نے جواب دیا کہ میں استاد ہوں۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کو تو زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم عدالت میں ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ جن جن کیسز کی لائیو اسٹریمنگ  ہوئی ہے اس کا نتیجہ بڑا منفی آیا ہے۔ ٹی وی اور فلموں میں الگ ماحول ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے اس موقع پر کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، غلطی ہوگئی۔ اس موقع پر وکیل نے بھی عدالت سے معذرت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ  ٹیچر ہیں، میں خود انہیں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔ عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے شخص کی معذرت قبول کر لی اور  ایچ ای سی رپورٹ کے بعد آئندہ سماعت پر دلائل طلب  کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد ملتوی کردی۔





Source link

Continue Reading

Trending