Today News
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کےاجلاس میں پیٹرولیم و گیس کے شعبے میں جاری اور مکمل منصوبوں، کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور بجلی کے شعبے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ملک میں موجود ذخائر کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کے لیے کافی تھے۔
چیئرمین کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔
انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ منصوبہ عدم پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے 0.04 ملین امریکی ڈالر سود کی مد میں ادا کر چکی ہے۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے قرضے کے عدم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔
اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ یہ صورتحال منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے ایس ایس جی سی ایل کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکےاجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن ایفیشنسی امپروومنٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔
ارکان کمیٹی نے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری میں تاخیر اور کنسلٹنٹس کی تقرری کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر 18 ماہ لگے کمیٹی نے زور دیا کہ خریداری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جائے اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کے عمل اور کنسلٹنٹ کی تقرری کی تفصیلات پر مشتمل ایک صفحے کی۔
رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائےکمیٹی نے 765 کے وی اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے میں ٹھیکیدار کو ٹیکسز کی مد میں کی جانے والی ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے متعلق اپنی سابقہ سفارش پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔
نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کیا جبکہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آ چکا ہے اور آئندہ اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔
رقم کی مسلسل عدم وصولی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے رقم کی وصولی کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عید سے قبل رقم وصول کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا جائے گا۔
وزارت کو ہدایت کی گئی کہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی کمیٹی کو فراہم کی جائےاجلاس میں اے ڈی بی 401B-2022 لاٹ ٹو اے (اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر) سے متعلق سفارش پر بھی غور کیا گیا اور وزارت توانائی کے سیکریٹری کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے اور آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق جاری منصوبہ ایکشنز ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار اِنکلوسیو اینڈ رسپانسیو ایجوکیشن (سے ایس پی آئی آر ای) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پسماندہ اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے صوبوں کو 24 ارب روپے فراہم کیے ہیں صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
کمیٹی نے پنجاب میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کی غیر تکنیکی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیاجس پر بتایا گیا کہ ایس ایم سی پالیسی میں حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور محفوظ کلاس رومز کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔
خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے صوبے میں (سے ایس پی آئی آر ای) منصوبے کی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کیاکمیٹی نے تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان کے نمائندے کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
Source link
Today News
PM Shahbaz Sharif address nation
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم برادر مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت میں ملک دیوالیہ ہونے والا تھا مگر ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معشیت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے
ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا، حکومت کی کوشش ہوگی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس حوالے سے دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں اور انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں، اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھا، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلیے آگے بڑھ کر قربانی دی، اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔
حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔
- آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
- ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے۔
- دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
- وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی۔
- تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
- وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی۔
- سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی۔
- سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد
- سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی
ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں
- انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی۔
- بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
- وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔
Today News
بحرین کی توانائی کمپنی باپکو کا فورس میجر کا اعلان، معاہدوں کی تکمیل مشکل
ایران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو نے فورس میجر کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو انرجیز نے ایرانی حملوں کے بعد اپنے معاہدوں کی تکمیل سے معذرت کرلی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں بحرین کی 90 سال پرانی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جس کے بعد پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اس ریفائنری کی استعداد بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ تک کی گئی تھی جبکہ پلانٹ میں جدید یونٹس نصب کیے گئے تھے جو جیٹ فیول اور ڈیزل کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث کمپنی کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں تاہم مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔
معاملہ صرف باپکو کا ہی نہیں، ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں قطر انرجی نے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹ سے متعلق بھی فورس میجر کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب کویت نے بھی اپنے آئل فیلڈز اور ریفائنریز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے۔
فورس میجر کیا ہوتا ہے؟
فورس میجر ایک معاہداتی شق ہوتی ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات جیسے جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی صورتحال میں کمپنی کو عارضی طور پر معاہدوں کے تحت ترسیل یا سپلائی روکنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
Today News
فرانس کا تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلیے آبنائے ہرمز میں بحری اسکواڈ بھیجنے کا منصوبہ
ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیش نظر فرانس نے بڑا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دفاعی نوعیت کے مشن کی تیاری جاری ہے جس میں یورپی اور دیگر اتحادی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ اس مشن کا مقصد جنگ کی شدید ترین صورتحال ختم ہونے کے بعد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے کے لیے بحری اسکواڈ فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ 8 جنگی جہازوں، دو ہیلی کاپٹر کیریئرز اور طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک بھی تعینات کیا جائے گا جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ دیا جاسکے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے یہ بیان اس وقت دیا جب گزشتہ ہفتے قبرص پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر قبرص پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے یورپ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کے آئل ٹینکرز دنیا بھر کی جانب جاتے ہیں۔ ایران نے اس گزرگاہ کو بند کردیا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Entertainment2 weeks ago
Celebrities Make Fun of Fiza Ali’s Over Emotional Acting for Views
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper