Today News
شادی سے متعلق وائرل انٹرویو پر علی رحمان خان کو پچھتاوا کیوں ہے؟
پاکستانی اداکار علی رحمان خان نے اعتراف کیا ہے کہ شادی سے متعلق ان کا ایک پرانا انٹرویو وائرل ہونے کے بعد انہیں افسوس محسوس ہوا۔
علی رحمان خان نے اپنے کیریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا اور بعد ازاں فلموں اور ڈراموں میں بھی کام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ اقوامِ متحدہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے نمایاں اور کنوارے اداکاروں میں شمار ہونے والے علی رحمان سے اکثر ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، جس کا وہ کھل کر جواب دیتے رہے ہیں۔
حال ہی میں نجی چینل کے پروگرام میں علی رحمان نے اپنی شادی سے متعلق ایک وائرل انٹرویو پر بات کی۔ اس سے قبل اداکار نے کہا تھا کہ ان کے نزدیک شادی ایک خوبصورت رشتہ ہے اور وہ جیسے ہی اپنی سچی محبت سے ملیں گے، شادی کے لیے تیار ہیں۔
View this post on Instagram
اس بیان کے بعد مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں کہ آیا وہ لڑکی ان کی قریبی دوست نصرت ہدایت اللہ تو نہیں، جن کے ساتھ ان کی تصاویر بھی متعدد بار سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی رحمان خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کاش وہ انٹرویو انٹرنیٹ سے ڈیلیٹ ہوجائے۔ ان کے مطابق انہوں نے وہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی تھی، مگر وہ غیر متوقع طور پر وائرل ہو گئی۔ اداکار نے وضاحت کی کہ وہ اس وقت خوشگوار موڈ میں تھے اور صرف اتنا کہا تھا کہ جب مناسب وقت آئے گا تو وہ شادی کر لیں گے۔
علی رحمان خان کی اس وضاحت کے بعد مداحوں کی دلچسپی ایک بار پھر ان کی نجی زندگی کی جانب بڑھ گئی ہے، تاہم اداکار نے واضح کیا ہے کہ وہ صحیح وقت اور صحیح انسان کے انتظار میں ہیں۔
Source link
Today News
روزے کی طبّی سائنس – ایکسپریس اردو
رمضان کے مقدس مہینے دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمان مسلسل تیس روزے رکھ کر اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کی حدود آزمانا شروع کرتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان اس بات سے تو آگاہ ہیں کہ پورے مہینے کے دوران صبح سے شام تک روزہ رکھنے سے بیش قیمت مذہبی و روحانی فوائد ملتے ہیں، لیکن انھیں کم ہی علم ہے کہ یہ روزے جسم اور دماغ پر کس قسم کے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو روزہ ایسی جسمانی و روحانی حالت ہے جس میں ایک شخص مخصوص وقت تک کیلوریز یا حراروں کی کھپت سے گریز کرتا ہے۔ نتیجے میں اس کے میٹابولزم اور جسمانی افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ یاد رہے، فاقہ کشی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تھراپیوٹک فاسٹنگ، انٹرمٹینٹ فاسٹنگ اور مذہبی روزہ شامل ہیں۔ ہر ایک کے اپنے مخصوص جسمانی و روحانی اثرات ہیں۔
ڈاکٹر محمد محروس کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال ریسرچ سینٹر، سعودی عرب میں کنسلٹنٹ اور کلینیکل ریسرچ سائنسدان ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ 30 دن تک روزہ رکھنے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔اس ضمن میں انھوں نے خاص تحقیق کی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’’روزے کا پہلا بڑا فائدہ یہ ہے، وہ ہمارے نظام انہضام کے لیے آرام کا سنہرا وقت فراہم کرتا ہے ۔اس سے جسم کو اپنی مرمت اور زہریلے مادے دور کرنے یعنی ڈیٹاکسیفیکیشن پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجے میں جسم میں انسولین اور گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے جلنے کا عمل بڑھ جاتا ہے۔ جب گلیکوجن جو گلوکوز کی ذخیرہ شدہ شکل ہے، ختم ہو جاتا ہے تو جسم توانائی پانے کے لیے چربی پر انحصار کرتا اور اسے جلاتا ہے۔ یہ عمل ’’کیٹوسس‘‘(ketosis) کہلاتا ہے۔
درج بالا خصوصیات کے پیش نظر طبّی لحاظ سے روزہ اکثر حالات میں موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور میٹابولک بیماریوں کا علاج میں بہت مفید ہے۔ 2019 ء میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ یعنی روزہ رکھنے کا عمل انسانی جسم میں میٹابولزم بڑھاتا اور انسولین کی مزاحمت کم کرتا ہے جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس روکنے کا مؤثر طریقہ سامنے آتا ہے۔
ڈاکٹر محمد محروس بتاتے ہیں’’جب رمضان میں متوازن غذا تسلسل سے کھائی جائے، تو روزہ میٹابولک کارکردگی بڑھاتا ہے جو جسم کو فوائد بخشتی ہے۔ روزوں کے فوائد صرف اس صورت حاصل ہوتے ہیں جب روزہ رکھنے کے بعد متوازن اور صحت بخش غذا استعمال کی جائے۔‘‘ یاد رہے، روزہ کھولتے وقت غیر صحت بخش کھانوں کا زیادہ استعمال جیسے پروسیس شدہ چینی، ہائیڈروجنیٹڈ چکنائیاں اور فاسٹ فوڈ فوائد کم کرنے کے علاوہ صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
روزہ انسانی خلیوں کی تجدید اور صحت مند مدافعتی نظام کی بڑھوتری میں مدد دینے والے ایک خلویاتی عمل ’’آٹو فیگی‘‘(autophagy) کو بھی بڑھاتا ہے جیسا کہ جاپانی حیاتیات داں، یوشینوری اوہسومی کی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے۔ اسی تحقیق پر انھوں نے 2016 ء میں فزیالوجی یا طب کا نوبل انعام جیتا۔
اسلام میں روزے رکھنے کا عمل جس میں ایک مسلمان سورج نکلنے سے غروب ہونے تک تمام کھانے اور پینے سے پرہیز کرتا ہے، اپنی روحانی اور نفسیاتی گہرائی کے لیے ممتاز ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے ’’یہ عمل خود پر قابو پانے کو فروغ دیتا ہے اور قوت ارادی مضبوط کرتا ہے … اس سے ذہنی صفائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ صحت کے لیے قیمتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔‘‘
ایک اہم سوال یہ ہے کہ 30 دن تک مسلسل روزہ رکھنے سے جسمانی ردعمل میں کیا فرق آتا ہے جب کہ مختصر مدت والے روزے کے دوران کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اس ضمن میں محروس بتاتے ہیں’ایک دن روزے کے دوران جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ گلیکوجن استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس کے علاوہ انسولین کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی کا جلنا آسان ہو جاتا ہے اور گروتھ ہارمونوں کا اخراج بڑھتا ہے جو بافتوں کی مرمت کرتے اور میٹابولزم بہتر بناتے ہیں ۔ اگرچہ خون میں شوگر کی سطح میں تبدیلیوں کی وجہ سے تھکاوٹ اور بھوک کے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔”‘‘
2021 ء میں جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ مختصر مدت کے روزے سے ایک پروٹین’’ برین ڈیریو نیوروٹروفک فیکٹر‘‘ کی پیداوار ہوتی ہے جو ذہنی طاقت بہتر بناتا اور الزائمر جیسی خطرناک بیماریاں چمٹنے کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔ محروس مزید کہتے ہیں، ایک دن کا روزہ بھی مضر صحت کولیسٹرول کی سطح کم کرتا اور بلڈ پریشر بہتر بناتا ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لینے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
’’جب ایک مسلمان متواتر 30 دن تک روزے رکھے تو اس کا جسم طویل مدتی انطباقی مرحلے(adaptation phase) میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے میٹابولک کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔‘‘ محروس کا کہنا ہے۔ انسولین کی حساسیت میں بھی بہتری آتی ہے جس سے ذیابیطس قسم دوم چمٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ دائمی سوزش کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے دل اور مدافعتی نظام کی صحت میں بہتری آتی ہے۔تیس روزے آٹو فیگی کو بھی متحرک کر دیتے ہیں جس سے خراب شدہ خلیے ختم کرنے اور بافتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
2014 ء میں سیل اسٹیم سیل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزہ انسان کا مدافعتی نظام کا مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ یہ سفید خون کے خلیوں کی پیداوار بڑھاتا اور بیماریوں کے خلاف جسمانی مزاحمت میں اضافہ کرتا ہے۔اگر روزے کے بعد افطار میں متوازن غذا کھائی جائے تو بتدریج وزن کم ہو سکتا ہے۔
جہاں تک روزے کے ذہنی اور روحانی پہلوؤں کا تعلق ہے، اس سے بھی ممکنہ فوائد وابستہ ہیں۔ نفسیاتی طور پر روزے منفی عادات اور رویّوں پر قابو پانے کی بہتر صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔روزے رکھنے سے ’’اسٹریس ہارمون‘‘ کورٹیزول کے اخراج میں کمی آتی ہے۔اس وجہ سے ذہنی دباؤ اور اضطراب کم ہو جاتا ہے اور انسان کو کامیابی اور خود پر قابو پانے کا احساس ملتا ہے۔
روحانی طور پر روزہ خود احتسابی اور ذہنی صفائی کے عمل میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔رکھنے والے میں شکرگزاری اور قدر کا احساس پیدا کرتا ہے۔ صبر کی دولت عطا کرتا اور ذاتی عادات کا دوبارہ جائزہ لینے اور بہتری لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر محروس کہتے ہیں ’’ یاد رہے، تاہم روزہ کچھ مخصوص حالات میں نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جب جسم کو ضروری مائعات اور غذائیت سے دوبارہ نہ بھرا جائے تو اس سے پانی اور وٹامن کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔اسی طرح افطار کے وقت زیادہ کھانا کھانا اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال وزن میں اضافے اور میٹابولک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔‘‘
’’روزہ ایک پیچیدہ فزیولوجیکل عمل ہے جو جسمانی، نفسیاتی اور روحانی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے۔ ’’تاہم اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھنے کے بعد صحت مند غذا استعمال کرنا ضروری ہے۔ خراب غذائی عادات روزوں سے حاصل شدہ فوائد الٹ سکتی ہیں یا ناپسندیدہ ضمنی اثرات کا سبب بنتی ہیں۔‘‘اس کے علاوہ جو لوگ دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس یا بلند فشار خون میں مبتلا ہیں، انہیں روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، محروس مشورہ دیتے ہیں۔
Today News
t20 world cup 2026 2nd semi final indian bating against england
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارت کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف دھواں دار بیٹنگ جاری ہے اور اوپنر سیمسن نے نصف سنچری بنالی ہے۔
وانکھڈے اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور بھارتی اوپنرز سنجو سیمسن نے جارحانہ انداز اپنایا۔
انگلینڈ کے ول جیکس دوسرے اوور میں نوجوان بیٹر ابھیشک شرما کو فل سالٹ کے ہاتھوں کیچ کروایا، ابھیشک شرما نے 7 گیندوں پر 9 رنز بنائے تھے جبکہ اگلے ہی اوور میں جوفرا آرچر نے سنجو سیمسن کو آؤٹ کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا لیکن کپتان ہیری بروک نے ایک آسان کیچ گرادیا۔
سنجو سیمسن نے ایشان کشان کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 97 رنز بنائے اور اسکور 10 ویں اوور میں 117 رنز تک پہنچایا تاہم کشان اس موقع پر 39 رنز بنا کر عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
سنجو سیمسن نے ایک آسان موقع ملنے کے بعد انگلینڈ کے بولرز کی درگت بنائی اور 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی۔
فل جیکس نے سنجو سیمسن کی 89 رنز کی دھواں دار اننگز کا خاتمہ 14 ویں اوور کی پہلی گیند پر کردیا، سیمسن نے 42 گیندوں پر مشتمل اننگز میں 8 چوکے اور 7 بلند وبالا چھکے لگائے۔
ٹی20 ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں:
بھارت؛ سوریا کمار یادیو(کپتان)، سنجو سیمسن، ابھیشک شرما، ایشان کشان، شیوم دوبے، تلک ورما، ہارڈک پانڈیا، آکشر پٹیل، ارشدیپ سنگھ، وارن چکرورتھی، جسپریت بمرا
انگلینڈ: ہیری بروک (کپتان)، فل سالٹ، جوز بٹلر، جیکب بیتھل، ٹام بینٹن، سیم کیوران، ول جیکس، لیام ڈاؤسن، جیمی اوورٹن، جوفرا آرچر
Today News
راولپنڈی؛ گھر میں چوری و نقب زنی کی واردات کا ڈراپ سین، کرایہ دار ہی چور نکلا
وارث خان پولیس نے چند روز قبل گھر میں چوری و نقب زنی کی واردات کا معمہ حل کرلیا جس میں کرایہ دار ہی چور نکلا۔
تفصیلات کے مطابق ملزم سے 10 لاکھ سے زائد مالیت کی 4 قیمتی رولکس،راڈو و دیگر گھڑیاں،مسروقہ رقم 4 لاکھ 50 ہزار روپے،آئی فون مالیتی 2 لاکھ 50 ہزار معہ ائیر بڈز برآمد ہوئے۔
زیر حراست شخص شہری کے گھر میں کرایہ دار تھا جس نے شہری کی غیر موجودگی میں گھر میں واردات کی۔
وارث خان پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے کرایہ دار کو شامل تفتیش کیا تو مزکورہ نے چوری کی واردات کا اعتراف کیا۔
ایس پی راول سعد ارشد کا کہنا ہے کہ زیر حراست شخص کے انکشاف اور نشاندہی پر برآمدگی عمل میں لائی گئی ہے۔ زیرحراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade