Connect with us

Today News

شراب کے قانون میں ترمیم کیلیے بل پیش، غیر مسلموں پر بھی پابندی کا مطالبہ

Published

on



جمعیت علما اسلام کی رکن نے ملک بھر میں شراب پر پابندی سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادیا۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے شراب سے متعلق آرٹیکل 37 میں ترمیم جمع کرادی۔

مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 37 شق ایچ میں غیر مسلم کا لفظ ختم کیا جائے۔

اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو شراب کے حوالے سے غیر مسلموں کو دیا گیا استثنیٰ ختم ہوجائے گا اور پھر مکمل پابندی ہوگی۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تاریخی موقع؛ 47 سال بعد رجنی کانت اور کمل ہاسن پردۂ اسکرین پر ایک ساتھ جلوہ گر

Published

on


مداحوں کا طویل انتطار ختم ہوا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے دو سپر اسٹارز لیجنڈری رجنی کانت اور کمل ہاسن ایک ہی فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تاریخی فلم معروف پروڈکشن ہاؤس ریڈ جائنٹ موویز بنانے جا رہی ہے اور ہدایت کار نیلسن دلیپ کمار ہیں جو اس وقت رجنی کانت کے ساتھ جیلر 2 پر بھی کام کر رہے ہیں۔

اس فلم کا نام اب تک فائنل نہیں ہوا ہے تاہم اسے ایک عارضی عنوان دونوں سپر اسٹارز کے ناموں کے پہلے پہلے حروف کو ملا کر  KHxRK دیا گیا ہے۔

ایک اور پیغام میں پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ تاریخ شاذ و نادر ہی خود کو دہراتی ہے لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ نسلوں کے لیے ایک یادگار جشن بن جاتا ہے۔

یاد رہے کہ کمل ہاسن اور رجنی کانت اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد یادگار فلموں میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان فلموں کو آج بھی تامل سنیما کے سنہری دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فلم کی موسیقی معروف موسیقار انیرودھ روی چندر ترتیب دیں گے۔ فلم کی شوٹنگ، کہانی اور ریلیز کی تاریخ کے حوالے معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

ممنوعہ مواد تک رسائی کیلئے امریکا کا نئے پورٹل پر کام جاری

Published

on



امریکا ایک ایسا آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جو صارفین کو ممنوعہ کانٹینٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس پورٹل پر ممکنہ طور پر نفرت انگیز اور دہشتگردوں کے پروپیگنڈے سے متعلقہ ویب سائٹس شامل ہو سکتی ہیں۔

Freedom.gov نامی یہ سائٹ ایک پورٹل ہوگا جو یورپ سمیت ان تمام جگہوں پر کھولا جا سکے گا جہاں پر ریگولیٹرز نے کچھ مخصوص ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس پورٹل کو آزادی اظہار رائے کو لوٹانے اور سینسرشپ سے نمٹنے کے ایک اہم طریقے کے طور پر دیکھتا ہے۔

رپورٹ کےمطابق Freedom.gov لوگوں کو ایسے براؤز کرنے کی سہولت دے گا جیسے کہ وہ امریکا میں ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی ٹریک نہیں کیا جا سکے گا۔

اس ویب سائٹ کا ایک ورژن لائیو کردیا گیا ہے جس پر ایک بینر آویزاں ہے اور اس پر لکھا ہے ’معلومات طاقت ہے۔ اپنا آزادی اظہار رائے حق واپس لیں۔ تیار ہوجائیں۔‘



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی فوج کی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر بمباری؛ 3 افراد ہلاک

Published

on


امریکی فوج نے ایک بار پھر بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کشتی بحرالکاہل کے ایک ایسے حصے میں سرگرم تھی جہاں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔

فوجی حکام نے بتایا کہ نشانہ بننے والی کشتی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھی اور مبینہ طور پر اسے ایسی تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں جنہیں امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کشتی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ امریکی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات آپریشنز تیزی سے جاری ہیں اور اسی دوران ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سدرن کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کی جانب سے کی گئی۔ جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل روکنا اور مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بحرالکاہل میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف منشیات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ گروہوں کی مالی معاونت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں میں جانی نقصان پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending