Connect with us

Today News

شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ

Published

on



خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ہوا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق میران شاہ مین روڈ چشمہ سربندکی چیک پوسٹ پر خود کش حملے کے نتیجے میں 14 عام شہری زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔

میڈیکل سپریڈنٹ ڈاکٹر آصف اقبال نے بتایا کہ ابتدائی موقع پر شہادت کی کوئی اطلاع نہیں تاہم مزید زخمیوں کو لایا جارہا ہے۔

نوٹ : یہ ابتدائی خبر ہے جس کو مزید اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارتی ہٹ دھرمی، سکھوں کاجلوس کرتارپورنہ پہنچ سکا، تقریب سرحد کے دونوں پار منعقد

Published

on



بھارت کی جانب سے کرتارپور کوریڈور بند رکھنے کے باعث سکھوں کامذہبی جلوس نگرکیرتن گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور تک نہ پہنچ سکا،تقریب سرحدکے دونوں اطراف اپنی اپنی حدودمیں منعقدکی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے پنجاب سے آنیوالے سکھوں کے مذہبی جلوس نگرکیرتن کے استقبال کیلیے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپورکے زیرو لائن گیٹ پر تقریب کاانعقادکیاگیا،تاہم بھارتی حکام کی جانب سے کرتارپورکوریڈور بند رکھنے کے باعث جلوس کو پاکستانی حدودمیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان کی جانب سے سرداراندرجیت سنگھ، سابق رکن پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی قیادت میں پاک درشن ڈیوڑھی سے زیرولائن تک ایک جلوس نکالاگیا، زیرو لائن گیٹ بندہونے کے باعث دونوں ممالک کی جانب سے مذہبی تقاریب اپنی، اپنی حدودمیں منعقدکی گئیں اور شرکاء نے نگرکیرتن کے موقع پر مذہبی رسومات اداکیں۔

نگرکیرتن میں شریک قافلہ 28 فروری کو بھارتی پنجاب کے شہرسری مکتسرصاحب سے نیرول سیواسوسائٹی کے زیر اہتمام بھائی جگدیپ سنگھ کی قیادت میں روانہ ہواتھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

صیہونیت اور ہندوتوا کا سگا پن

Published

on


کند ہم جنس باہم جنس پرواز ، کبوتر با کبوتر باز بہ باز۔یہ ضرب المثل ہم میں سے اکثر نے ہوش سنبھالتے ہی کسی نہ کسی سے ضرور سنی ہو گی۔اس کا اطلاق ریاستوں پر بھی ہوتا ہے۔ریاستیں ایک دوسرے کے اچھے برے تجربات سے نہ صرف سیکھتی ہیں بلکہ مزید آگے بھی بڑھاتی ہیں۔

اب نیتن یاہو کے اسرائیل اور مودی کے بھارت کو ہی دیکھ لیں۔دو ہزار چودہ سے پہلے بھارت فلسطینی کاز اور دو ریاستی حل کا پرجوش وکیل تھا۔ گذشتہ بارہ برس میں بھارت کی فلسطین نواز پالیسی نے ایسا یوٹرن لیا کہ اب فلسطین کا ف بھی خارجہ پالیسی کے ریڈار سے غائب ہو چکا ہے اور اسرائیل اور بھارت اب منہ بولے بھائی ہیں۔دونوں ریاستوں میں متشدد قوم پرست سرکاریں ہیں اور ان کے نزدیک ہر اندرونی اور بیرونی مسئلے کا ایک ہی حل ہے یعنی غنڈہ گرد ڈنڈہ۔

جس طرح ایک صدی پہلے فلسطین پر یورپ سے نازل ہونے والے یہودی آبادکار مقبوضہ فلسطین میں صدیوں سے آباد عربوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ اور نسل کشی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی بھی مسلح حملوں کے ذریعے ناممکن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اسی طرح بھارت میں بھی مسلمانوں کو ایک کونے میں دھکیلنے کے لیے سماجی بائیکاٹ پہلے سے کہیں زیادہ عروج پر ہے۔کرائے کا مکان نہ ملنا ، مسلمانوں کی ملکیت اونے پونے ہتھیا لینا حتی کہ مسلم خوانچہ فروشوں تک سے کوئی شے نہ خریدنا ، اقلیتی بچوں کو تعلیمی اداروں میں خوفزدہ کرنا یا الگ تھلگ کر دینا ایک قبولِ عام معمول ہے۔

جو مسلمان گھرانے تنگ آ کر عارضی طور پر بھی محلہ چھوڑ جاتے ہیں ان کا دوبارہ آبائی گھر میں بسنا تقریباً محال ہے۔چنانچہ انھیں کوڑیوں کے دام اپنی املاک بیچ کر کسی مزید پسماندہ مسلمان علاقے میں ہی سر چھپانے کی جگہ ملتی ہے۔ جیسے مقبوضہ مغربی کنارے کے ہزاروں اجڑے کسانوں کو رملہ ، تلکرم ، ہیبرون جیسے نسبستاً بڑے شہروں میں بطور پناہ گزین جبری زندگی گذارنا پڑتی ہے۔

اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں میں امریکی کیٹرپلر کمپنی کے بلڈوزروں کی مدد سے گذشتہ نصف صدی میں ہزاروں گھر منہدم کر کے لاکھوں فلسطینیوں کو بے آسرا کر دیا۔مودی حکومت کو یہ انداز اس قدر بھایا کہ اس نے ریاست گجرات میں ہی کیٹرپلر بلڈوزروں کی فیکٹری لگا لی۔بی جے پی سرکار والی ہر ریاست میں مسلمانوں کے گھر بلڈوز ہونے شروع ہو گئے۔

کبھی یہ بہانہ کہ تجاوزات صاف کی جا رہی ہیں۔ کبھی یہ عذر کہ فلاں گھر کے مکینوں نے غیر قانونی مظاہروں میں حصہ لے کر امنِ عامہ تباہ کرنے کی کوشش کی لہذا ان کے گھروں اور کاروباری املاک پر بلڈوزر تو چلے گا۔ یہ سزا جس امتیازی انداز میں دی جا رہی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بھارت میں غیرقانونی املاک صرف مسلمانوں کی ہیں اور وہی ایسے احتجاجی مظاہرے بھی کرتے ہیں جن سے امنِ عامہ خطرے میں پڑ جائے۔بالخصوص ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں تو اس پیمانے پر بلڈوزر چلایا گیا ہے کہ وزیرِ اعلی یوگی ادتیا ناتھ کا نام ہی بلڈوزر بابا پڑ گیا ہے۔

نومبر دو ہزار چوبیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی شہری کی ملکیت عدالت کو ٹھوس قانونی وجوہات بتائے بغیر منہدم نہیں کی جا سکتی بھلے اس شہری نے کوئی بھی جرم کیا ہو۔عملاً سپریم کورٹ کا یہ حکم بھی بلڈوزر تلے کچلا گیا۔

صیہونی نسل پرستی کی طرح نریندر مودی بھی خالص نسل پرست منووادی برہممن ہندوتوائی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اقلیتیں قانوناً درجہِ دوم کی شہری بن کے رہیں۔ اسرائیل بھی پہلے دن سے ایک ایسی ریاست ہے جو خالص یہودی صیہونی قوم پرستی پر استوار ہو۔ہندوتوائی اندھ بگھتوں کو بھی بتایا گیا ہے کہ اصل تاریخی بھارت کی حدود افغانستان تا سری لنکا پھیلی ہوئی ہیں۔بنی اسرائیل کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ تاریخی طور پر دریاِ نیل سے فرات کے درمیان جتنا بھی علاقہ ہے وہ عہدنامہ عتیق کے مطابق یہودیوں کی آسمانی ملکیت ہے۔

مودی حکومت نے پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی رہی سہی آئینی خودمختاری کا بھی تیاپانچہ کر کے پوری ریاست کو جیل بنا دیا۔اس حرکت کے لگ بھگ تین ماہ بعد نیویارک میں متعین بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے ایک نجی اجتماع میں کہا کہ سرکار کو کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنا چاہئیے ۔مسٹر چکرورتی غالباً کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ جس طرح اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے سنگینوں کے سائے تلے چھینی ہوئی زمین پر دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں یہودی آبادکار لا کر بسائے ہیں ۔اسی طرح کشمیر میں بھارت کی دیگر ریاستوں سے آنے والوں کو بسا کر مسلمان اکثریت کو اقلیت میں کیوں نہیں بدلا جا سکتا ، غیر کشمیریوں کو وادی میں رہائشی و تجارتی املاک خریدنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی۔ان کے لیے مقامی ملازمتوں کا دروازہ کیوں نہیں کھولا جا سکتا اور یوں آبادی کا تناسب اپنے حق میں کیوں نہیں کیا جا سکتا۔

مسٹر چکرورتی کی خواہشات حرف بحرف سچ ثابت ہوئیں۔کشمیریوں کی رہائش ، ملکیت ، ملازمت اور شناخت کے تحفظ کے لیے راجگی دور میں جو قوانین بنائے گئے ، سب اڑا دیے گئے اور نام نہاد کشمیر اسمبلی اور مقامی حکومتیں اسی طرح مرکزی گورنر کے ماتحت ہو گئیں جس طرح فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے اسرائیلی فوجی گورنر کے رحم و کرم پر ہے۔

جیسے اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کرنے والے فلسطینی مرد ، عورت اور بچے کو دھشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے ، گرفتار کرنے اور املاک پر قبضے یا انہدام کے لامحدود اختیارات حاصل ہیں ویسے ہی اختیارات بھارتی فوج کو کشمیر میں آئین کے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت ملے ہوئے ہیں۔جس طرح اسرائیل فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل کے امکان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکا ہے اسی طرح مودی سرکار کسی بھی کشمیری سے ریاستی خودمختاری کی بحالی کے معاملے پر بات چیت کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک چکی ہے۔بھلے یہ مطالبہ کوئی کٹر بھارت نواز کشمیری ہی کیوں نہ کرے۔

 گذشتہ برس پہلگام میں ایک دھشت گرد حملے میں چھبیس بھارتی شہری مارے گئے تو ریپبلک ٹی وی کے معروف اینکر ارنب گوسوامی نے اسے انڈیا کا سات اکتوبر قرار دیا جس سے ایسے ہی نپٹنا ہوگا جیسے اسرائیل اہلِ غزہ سے نپٹ رہا ہے ۔

جس طرح اسرائیل اپنے عرب شہریوں کی چوبیس گھنٹے ڈیجیٹل نگرانی کرتا ہے اسی طرح مودی حکومت کشمیریوں ، مخالف سیاستدانوں ، صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی پر نگاہ رکھنے کے لیے موبائیل فونز اور انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کرنے والے پیگاسس سافٹ وئیر سمیت ساختہ اسرائیل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بہت بڑی خریدار ہے۔

کون کہتا ہے صیہونیت اور ہندوتوا جڑواں بہن بھائی نہیں ۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

ہرمز کی لہروں سے اٹھتا ہوا 25 ارب ڈالرکا سرخ طوفان

Published

on


بیرونی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا فروری 2006 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔ برآمدات 20.46 ارب ڈالر تک محدود رہیں اور درآمدات 45.50 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں 25 فی صد تجارتی خسارہ زیادہ ہے۔ یہ قرض محض ہندسوں کا نہیں، یہ ابھی ابتدا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی لہروں سے جو پیغام آ رہا ہے، اسے نہ سمجھے تو 25 ارب ڈالر سے بڑا سرخ طوفان آ سکتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک پاکستان کیلیے صرف تیل کے کنویں نہیں بلکہ برآمدات کے دروازے بھی ہیں۔ پاکستان پٹرولیم مصنوعات کا بہت بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے درآمد کرتا ہے۔

خام تیل کی قیمت میں چند ڈالر کا بھی اضافہ ہمارے لیے اربوں ڈالر کے برابر ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق آٹھ ماہ میں برآمدات 7.3 فی صد کمی کے ساتھ مجموعی طور پر 20 ارب 46 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں۔ رواں مالی سال کے 8 ماہ میں درآمدات 8.1 فی صد بڑھیں، اس کے علاوہ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھتی ہے اور پھر کرایہ بڑھ جاتا ہے جس کے ساتھ ہی ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہو کر آبنائے ہرمز کی لہروں کی بلندی سے متاثر ہو کر پاکستان میں مہنگائی کی لہر آسمان سے باتیں کرتی نظر آئے گی۔پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی بھی اسی سمندری راستے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہاں اوور ٹائم کم ہونے کی صورت میں نوکری ختم ہو جانے کی صورت میں وطن بھیجے جانے والی رقوم میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دس فی صد کمی بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کی کمی لا سکتی ہے۔ اسی طرح ان ملکوں سے جو آرڈرز آنے ہیں یا آ چکے ہیں ان کی منسوخی کا پیغام بھی برآمدات کو سخت ترین دھچکا پہنچا سکتا ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کو بھیجی جانے والی برآمدات میں 10 فی صد کمی آئے تو بھی ڈھائی سے تین ارب ڈالر کا دھچکا لگ سکتا ہے اور برآمدات مزید سکڑ سکتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدات کی مالیت برآمدات کی مالیت سے دگنی یا تگنی کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ یہ سب مل کر 25 ارب 4 کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارے کو ایک عدد سے بڑھا کر معاشی طوفان کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس قسم کے معاشی بحرانوں سے پاکستان اس لیے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ ملک کی برآمدی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستوں کے علاوہ دیگر بہت سے ممالک بہت سی سمندری گزرگاہیں ایسی ہوں گی جہاں سے پاکستان کے برآمدی جہازوں کا گزر نہ ہوا ہوگا، انھیں تلاش کرنا ہوگا اور ہمیں اپنی برآمدات کو بہت زیادہ فوکس کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔حکومت کو چاہیے کہ برآمدات میں اضافے کیلیے فوری طور پر تاجروں کی میٹنگ بلائے کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی ریاستوں کی مجموعی صورت حال فی الوقت پاکستان کے تجارتی خسارے اور کم ہوتی ہوئی برآمدات کو مستقبل قریب میں خراب کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ تاجروں اور حکومت کی ایک دن کی بھرپور میٹنگ کراچی میں بلائے کیونکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔ مقصد واضح ہے ہرمز کے علاوہ دیگر تجارتی راستوں کی تلاش۔ ہرمز کا دباؤ ختم نہیں ہو سکتا لیکن اثرات بہت حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ آئندہ کیلیے 25 ارب ڈالر کے خسارے کو کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی ایک کوشش ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ تاجروں کو اپنی معلومات دے۔ برآمدات کے نئے راستے نئے ممالک میں برآمدات بڑھانے کی خاطر وہاں کے سفارتخانوں کو کیسے فعال کرنا ہے، ان ملکوں میں تاجروں کو جا کر کیسے کام کرنا ہے، مالی تحفظ کیلیے حکومتی کارکردگی کیا ہوگی، تاجروں کا کام ہے کہ حکومتی تعاون کس طرح انھیں درکار ہے۔

نئے راستے، نئی سوچ، نئی برآمدات اس قسم کی تقریب ایک دن والی نہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات کی نئی صبح کی امید ہوگی۔ اب ہمیں خسارے کی گونج سے نکلنا ہوگا۔ نئی راہوں کی تلاش سے خسارے کی کہانی کو بدلنا ہوگا۔ ہرمز کی لہریں ہمیں آگاہ کر رہی ہیں کہ وہاں کا ہلکا سا ارتعاش کراچی کی بندرگاہ تک پہنچ رہا ہے اور یہ تجارتی خسارہ اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ہرمز دور کی محنت، ہر تاجر کی فکر، ہر صنعتی کارخانے کی دھڑکن میں محسوس ہوتا ہے۔پاکستان کو زبردست طریقے سے مضبوط ترین معیشت بنانا ہوگا تاکہ کسی قسم کے خدشات سے چھٹکارا ممکن ہو۔ امریکا ایران کشیدگی ہمارے لیے ایک چھپا ہوا پیغام ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے لہٰذا پاکستان کی برآمدات کو ہر ممکن طریقے سے دگنا سے تین گنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہرمز کی لہروں سے اٹھتا ہوا 25 ارب ڈالر کا سرخ طوفان سمندر میں ہی رک جائے۔ اس کا رخ موڑنے کیلیے حکومت اور تاجروں کو مل کر ایسا لائحہ عمل بنانا ہوگا کہ ہم خسارے سے نکل آئیں۔





Source link

Continue Reading

Trending