Today News
شہر قائدؒ کی شاہراہیں یا قتل گاہیں
شہر قائد، جو روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے، بدقسمتی سے اب ٹریفک حادثات، ہیوی گاڑیوں کی بے قابو رفتار اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث شہریوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سڑکیں مزید خطرناک اور گلیاں اور محلے مزید غیر محفوظ محسوس ہونے لگے ہیں۔
11 مارچ کی شب شارع پاکستان عائشہ منزل کے قریب ٹریفک کا المناک حادثہ اور 9 مارچ کی شب کشمیر روڈ چائنہ گراؤنڈ کے قریب جم سے جانے والے شہری کی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے کے واقعات نے عید کی خوشیوں کو اہلخانہ کے لیے ماتم میں بدل دیا۔
11 مارچ کی شب شارع پاکستان عائشہ منزل فرنیچر مارکیٹ کے قریب ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، جو بعد ازاں عباسی شہید اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔ ٹریفک کے اس دلخراش واقعے میں جاں بحق ہونے والے 2 سگے نوجوان بھائیوں کی شناخت 17 سالہ عاطف اور 16 سالہ تابش ولد محمود کے نام سے کی گئی، جو کہ فیڈرل بی ایریا بلاک 16 امراض قلب ہسپتال کے قریب کے رہائشی تھے۔
دونوں بھائی ہنر مند بننے کے لیے فریج اور ایئر کنڈیشن کی مرمت کا کام سیکھ رہے تھے۔ واقعے کے وقت دونوں بھائی عید کے موقع پر سلوائے گئے نئے کپڑے ٹیلر سے لینے جا رہے تھے، ٹریفک کے افسوسناک حادثے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور انھیں اپنے عید کے نئے کپڑے پہننا بھی نصیب نہ ہو سکے۔ جاں بحق بھائیوں کے والد نے بتایا کہ وہ سرکاری کالج میں گریڈ 2 کا ملازم ہیں، بچوں کی تدفین حافظ آباد میں کی جائیگی۔
انہوں نے حادثہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جاں بحق 2 سگے بھائیوں کی والدہ نے زارو قطار روتے ہوئے بتایا کہ جان لیوا ٹریفک حادثے نے میرے 2 لخت جگر مجھ سے چھین لیے، میرے بچے اسکول میں پڑھتے اور 3 سال سے اے سی اور فریج کا کام سیکھ رہے تھے جنھیں روزانہ 200 روپے ملتے تھے۔ ایک حادثے نے ہمارا سب کچھ برباد کر دیا، ماں باپ کا سہارا بننے والے بیٹے ہی ہم سے چھین لیے گئے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی متوفین بھائیوں کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب اسپتال پہنچ گئے، جہاں پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
والدین اپنے جوان سال بیٹوں کی نعشیں دیکھ کر اپنے حواس کھو بیٹھے جبکہ دیگر افراد گلے مل کر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دکھائی دیے۔ ٹریلر حادثے میں زندگی کی بازی ہارنے والے دونوں سگے بھائیوں کے بڑے بھائی نے بتایا کہ ہم 4 بھائی اور ایک بہن ہیں، دونوں چھوٹے بھائی والدہ اور والد کے ساتھ رہتے تھے۔ شہر میں مال بردار گاڑیاں شہریوں کی دشمن بن گئی ہیں، جان لیوا ٹریفک حادثے میں دونوں بھائیوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے عید سے قبل ہی گھر میں قیامت برپا کر دی۔ عید کی تیاریوں میں مصروف گھر ماتم کدہ بن گیا۔ دونوں بھائی عید کی تیاری کے لیے بہت پرجوش تھے، شہر میں روز کی بنیاد پر ٹریفک حادثات میں خواتین، بچے اور نوجوانوں سمیت دیگر افراد جان کی بازی ہار رہے ہیں۔
دوسری طرف عزیز آباد پولیس نے شارع پاکستان عائشہ منزل پر موٹر سائیکل سوار 2 سگے بھائیوں کو کچل کر جاں بحق کرنے والے ٹریلر کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔ اس دلخراش حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی، جس میں بغیر کنٹینر لدا ہوا ٹریلر موٹر سائیکل سوار بھائیوں کو روند کر گزرتے ہوئے دکھائی دیا، جبکہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تھا۔
ایس ایچ او عزیز آباد شاہد تاج سخت جدوجہد کے بعد ڈرائیور کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا جس کی شناخت محمد چاند کے نام سے کی گئی۔ ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران 11 مارچ تک ٹریفک کے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 206 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 147 مرد، 29 خواتین، 21 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 2 ہزار 80 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں سال کے صرف 70 دنوں میں ہیوی گاڑیوں کے حادثات میں 67 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں سب سے زیادہ 35 حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہر قائد کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک شہریوں کی زندگیوں کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ شہر میں موت بانٹتے بڑھتے ہوئے جان لیوا ٹریفک حادثات کے پیش نظر شہری روزانہ گھروں سے نکلتے وقت یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے واپس لوٹ آئیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل سوار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کیونکہ ہیوی گاڑیوں کے سامنے وہ بالکل غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ رات کے اوقات میں جب ہیوی ٹریفک کی شہر میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے تو ہیوی گاڑیاں جن میں واٹر ٹینکرز، ڈمپرز، آئل ٹینکرز اور ٹرکوں کی حد رفتار چیک کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور وہ شہر کی سڑکوں پر انتہائی تیز رفتاری سے ہیوی گاڑیاں چلاتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ایک جانب شہری ٹریفک حادثات میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں تو دوسری جانب شہر میں ڈاکو راج بھی کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہر قائد کے باسی دوہری مشکلات کا شکار ہیں؛ ایک جانب بے قابو ہیوی گاڑیاں سڑکوں پر موت بانٹ رہی ہیں تو دوسری طرف ڈاکو آزادانہ اور دلیرانہ لوٹ مار کی وارداتوں میں شہریوں کو موبائل فونز، نقدی، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے محروم کر رہے ہیں اور مزاحمت پر شہریوں کو زخمی اور ان کی جان تک لینے سے دریغ نہیں کر رہے۔
رواں سال کے دوران ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 15 افراد کو بے رحمانہ اور سفاکانہ فائرنگ کا نشانہ بن کر ابدی نیند سلا دیا، جبکہ درجنوں افراد ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائمز میں کمی کے دعوے سامنے آتے ہیں اور پولیس کے مبینہ مقابلوں میں زخمی سمیت دیگر گرفتار ملزمان کی ہفتہ وار رپورٹ بھی جاری کی جاتی ہے، جس میں ڈاکو، منشیات فروش اور دیگر جرائم پیشہ عناصر شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ پولیس مقابلوں میں جرائم پیشہ عناصر اپنے منطقی انجام تک بھی پہنچائے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائم کا جن کسی بھی صورت قابو میں نہیں آ رہا۔
Today News
ہمارا آج ہمیں دے دو
ایک صاحب نے بڑا خوبصورت مضمون لکھا ہے کوئی ڈاکٹر ہے مضمون پشتو میں ہے اور ’’جنات‘‘ کے حوالے سے ہے ان پیروں فقیروں اور عاملوں کے بارے میں ہے جو’’بیماریوں‘‘ کو جنات وغیرہ سے منسوب کرکے ’’علاج‘‘ کا ڈھونگ رچاتے ہیں، اس نے تفصیل سے ان بیماریوں کا بھی ذکر کیا ہے اور آخر میں مشورہ دیا ہے کہ ایسے حالات میں ان نوسربازوں کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ بیماریاں ہوتی ہیں جن وغیرہ نہیں۔اکثر ان عامل کامل پروفیسروں بابا بنگالیوں پرتگالیوں کو’’بُرا‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ ہیں بھی۔لیکن اگر گہرائی میں سوچا جائے تو ان باباؤں اور سیاسی لیڈروں میں فرق کیا ہے؟۔وہ بھی خوش خبریاں اور امیدیں بیچتے ہیں اور یہ بھی’’کل‘‘ اور’’امید‘‘ کے سوداگر ہیں۔اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے سب کچھ ہمارے سامنے ہے پون صدی سے۔بلکہ اس وقت سے یہ سلسلہ جاری ہے جب ہمارے ان عاملوں نے کہا تھا کہ اگر انگریز چلے گئے تو ہم جنت نشین ہوجائیں گے کیونکہ وہ ظالم کافر استحصالی لٹیرے ہمارا ملک لوٹ کر مال و دولت اپنے وطن پہنچا رہے ہیں۔
دماغی کثرت استعمال والوں نے دماغی عدم استعمال والوں کو حسب معمول نعروں، ترانوں، نغموں کی بانسری پر نچانا شروع کیا۔آخر کار میری دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔ہم آزاد ہوگئے لٹیرے چلے گئے۔اور’’گا۔گے۔گی‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک چل رہا ہے لیکن آج تک نہ ان ہیرے موتیوں کا پتہ چلا نہ سونا چاندی کا۔اور نہ ان خزانوں کا جو لٹیرے لے جارہے تھے اور بچالیے گئے۔ وہ ایک نجومی نے تو سائل سے کہا تھا کہ چالیس سال میں تیرے دن پھر جائیں گے یہاں ستتر سال ہوگئے۔اور وہی بیانات ویسے ہی جلوہ گرہورہے ہیں۔ان سیاسی عاملوں کاملوں کی تیسری پیڑھی بھی آگئی۔کتنے چہرے بدل گئے، پلوں کے نیچے سے کتنا پانی اور اوپر کتنے ٹیکس؟ لیکن پانی تو گزر گیا ہے ٹیکس گزرنے کی بجائے بدستور موجود ہیں بلکہ مسلسل سیلاب کی طرح بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ چڑھتے چلے جارہے ہیں۔نئے نئے عامل کامل آتے ہیں بھانت بھانت کے بابا جلوہ گرہوتے ہیں طرح طرح کے دم چف اخباروں میں۔’’بہائے‘‘ جاتے ہیں لیکن کچھ ہوا؟۔ہاں ہوا۔ پہلے کفن کش صرف کفن چراتا تھا۔اس کا بیٹا لاش کی بے حرمتی کرتا تھا اب پوتا اس لاش کو بھی بیچ رہا ہے بلکہ بیچ چکا ہے ؎
نشمین ہی کا غم ہوتا تو کیا غم تھا
یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن بیچ ڈالا ہے
آج تک نہ اس دولت کا پتہ چلا جو وہ لٹیرے انگریز لوٹ کر لے جارہے تھے، نہ اس سونے اور ہیرے موتیوں کا جو یہ دھرتی اگلتی تھی، معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین کھاگئی
بدلتا ہے رنگ یہ جہان کیسے کیسے
زمیں کھاگئی آسمان کیسے کیسے
اور آتے رہیں بیان کیسے کیسے؟بولتے رہے کوے کاں کیسے کیسے۔دکاں کیسے کیسے،ڈاکوان کیسے کیسے، نوسربازاں کیسے کیسے؟قائدکیسے کیسے ، مرد حق کیسے کیسے۔معین قریشی کیسے کیسے، شوکت عزیز کیسے کیسے،چاروں صوبوں کی زنجیر کیسے کیسے، سب پر بھاری کیسے کیسے، بانی کیسے کیسے،وژن کیسے کیسے۔اور اب کیسے کیسے
جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے
قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے
عامل کامل اور کیسے ہوتے ہیں بابا بنگالی پرتگالی اور کیسے ہوتے ہیں۔دھوکے اور نوسربازیاں اور کیا ہوتی ہیں بلکہ ہمیں تو شرما آتی ہے ان بے شرموں کی بے شرمیاں دیکھ کر اور سن کر۔ ہمارے ایک شاعر دوست تھے ایک دن ہم نے اس سے کہا چلو فلاں سے ملتے ہیں۔اس نے کہا، یار مجھے تو اسے دیکھ دیکھ کر اور باتیں سن سن کر شرم سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ دراصل جس سے ملنے کا ہم نے کہا تھا وہ ایک الگ ٹائپ کا آدمی تھا پورا مرد تھا لیکن حرکات و سکنات باتیں ساری خواتین کی طرح کرتا تھا، لہک لہک کر ہاتھ بجابجاکر لہرا لہرا کر۔ دہرا ہوکر۔ایسا کہ دیکھنے اور سننے والے کو شرم محسوس ہوتی تھی۔بخدا ہمیں بھی آج کل اخباروں میں ان عاملوں کاملوں، نجومیوں، پروفیسروں کے بیانات پر شرم سی محسوس ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جسے بیانات نہیں دے رہے ہوں گویا لہری، ننھا، منورظریف، رنگیلے کوئی ایکٹ پیش کررہے ہیں۔
کتنی صدیاں بیت گئیں، کتنے ہزارے گزر گئے لیکن وہ ’’دن‘‘ وہ’’کل‘‘ جو نجانے کہاں سے آنے والا تھا نہیں پہنچا۔جس کی خوش خبریاں تھیں، ہیں اور رہیں گی، وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل پہ لکھا ہے،جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے،جب ارض خدا کے کعبے سے سب بُت اٹھوائے جائیں گے۔جب اہل حکم کے سروں پر یہ بجلی کھڑکھڑکے گی، ہم محکموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑدھڑکے گی۔ہونہہ بکواس ۔اس میں یہ’’کل‘‘ کا دھوکے باز لفظ ہے کیونکہ جسے ہم آج۔کل سمجھ رہے ہیں وہ جب آتا ہے تو’’کل‘‘ کا نقاب اُلٹ کر آج ہوچکی ہوتی ہے اور وعدہ تو’’کل‘‘ کا ہے اب یہ کمال کون دکھائے کہ کل میں آج اور آج میں کل کو پکڑلے، وہ کم بخت’’کل‘‘ تو ’’آج‘‘ سے یوں نکل جاتا ہے جیسے پھول سے خوشبو نکل جاتی ہے۔
میں گراہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے اسے اپنے نگر جانا ہے
وہ ایک لوہار کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہوگا۔جس کے بیٹے نے ایک شخص کو جو لوہے کا ایک ٹکڑا اس کے پاس لایا تھا دارنتی بنانے کے لیے۔اور پوچھا کہ کب بن جائے گی لوہار کا بیٹا اس وقت کجھور کھارہا تھا۔اس نے کجھور کی گٹھلی ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا جب یہ گٹھلی پھوٹ جائے گی پھر درخت بن کر پھل دینے لگے گی تب ، وہ شخص وعدہ لے کر چلا گیا۔لڑکے کا باپ آگیا تو اس نے باپ کو ماجرا سنایا کہ میں نے اس طرح اس شخص کو کھجور کو اگنے اور پھل دینے کا وعدہ دیا ہے تو باپ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔بیوقوف گٹھلی تو کل اُگے گی پھر درخت بننے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی اور پھل دار بہت جلد ہوجائے گی اسے ’’کل‘‘ کا وعدہ دیا ہوتا کہ کل نہ کبھی ہے، نہ آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔
یہ کل کے وعدے’’آج‘‘ کو کھانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے یہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب پینڈورا کا بکس کھلا تھا۔ اور اس میں سے دنیا بھر کی آفات، غم، رنج دکھ اور سیاسی لیڈر وزیر مشیر اور معاو ن نکل کر عوام کو چمٹ گئے تھے اور وہ جو سب سے آخر میں ’’امید‘‘ کی بڑھیا لاٹھی ٹیکتے ہوئے گرتی پڑتی نکلی تھی، وہ تو بڈھی بھی تھی لنگڑی بھی شاید اسے دمہ بھی ہو اور گھٹنوں کا عارضہ بھی، چنانچہ جب وہ ہم تک پہنچے گی یہ آفات ہمارا تیا پانچا کرچکے ہوں گی ۔ہمارا ان’’کل‘‘ بیچنے والوں سے التجا ہے کہ بس بہت ہمارا’’آج‘‘ ہڑپ چکے ہو اب مہربانی کرکے اپنا’’کل‘‘ اپنے پاس رکھو اور ہمارا’’آج‘‘ ہمیں دے دو۔
Today News
مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
کراچی:
پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔
فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔
اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔
اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔
مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔
Today News
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی روح پرور محفل، ملکی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں
لاہور:
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی بابرکت رات کے موقع پر اجتماعی دعا کا روح پرور اہتمام کیا گیا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور شافع حسین نے خصوصی شرکت کی جبکہ مولانا عبد الخبیر آزاد، امام و خطیب بادشاہی مسجد نے اجتماعی دعا کروائی۔
اجتماعی دعا کے دوران پاکستان کی ترقی، امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
اس موقع پر ملک میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے بھی دعا کی گئی۔
لیلتہ القدر کی بابرکت ساعتوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے تاریخی بادشاہی مسجد کا رخ کیا اور عبادات کے ساتھ اجتماعی دعا میں شرکت کی، جس سے مسجد کا ماحول انتہائی روحانی اور پُرکیف ہوگیا۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income