Today News
صدر ٹرمپ مذاکراتی عمل میں ایران کے رویے سے ناخوش
امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں جاری جوہری مذاکرات تیسرے دور میں داخل ہوگئے لیکن تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات میں ایران کے طرزِ عمل سے خوش نہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ فوجی کارروائی نہیں چاہتے لیکن بعض اوقات ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں ایسا (ایران پر حملہ) نہیں کرنا چاہتا لیکن کبھی نہ کبھی آپ کو یہ کرنا پڑجاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران مذاکرات میں واضح طور پر یہ کہنے سے گریز کر رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کم از کم میرے دور میں تو بالکل نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ الٹی میٹم دے چکے ہیں کہ جوہری مذاکرات کے لیے ایران کے پاس 10 سے 15 دن ہیں۔
Today News
کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.3 ریکارڈ
کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے کشمیر اور گلگت بلتستان کے گردونواح میں محسوس کیے گئے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز گلگت بلتسان کا علاقہ ہے جبکہ زلزلے کا مرکز زیر زمین 12کلومیٹر تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
ڈن ڈم – ایکسپریس اردو
جووا پرارے ڈی سوزا (Joao Pereira De Souza) ایک مزدور تھا۔پوری زندگی اس نے مچھیروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ ساتھ ساتھ جہاں بھی اینٹ روڑے کا کام ہو ‘ کرتا رہتا تھا۔ 2011ء تک ریٹائر ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی‘ ساتھی مچھیروں کے ساتھ کبھی کبھی ‘ کشتی پر سوار ہو کر مچھلیاں پکڑتا تھا۔ معمولی سا گھر‘ پرووٹا ساحل (Proverta beach) کے نزدیک تھا۔بلکہ ساحل سمندر کے عین کنارے پر تھا۔ برازیل کی جس ریاست میں جووا رہتا تھا۔ اس کا نام Rio de Janeiro تھا۔ اہلیہ‘ ماریا‘ بھی ایک حد درجہ متوسط سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔ ڈی سوزا کے ساتھ‘ ایک دکھ بھرا حادثہ ہو ا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو تقریباً دس برس کا تھا۔ جس دن‘ بیٹے کی سالگرہ تھی۔ اس نے بہت ضد کی‘ اور ڈی سوزا کو مجبور کیا ‘ کہ سمندر کی سیر کروائی جائے۔
ڈی سوزا نے بہت سمجھایا کہ آج طوفانی لہریں بہت ہیں۔ لہٰذا جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ہوا۔ باپ بیٹا‘ سمندر کی سیر کر رہے تھے کہ طاقتور لہروںنے کشتی کو الٹا دیا۔ بیٹا ڈوب کر زندگی سے بہت دور نکل گیا۔ ڈی سوزا اور اس کی بیوی کے لیے‘ یہ صدمہ بہت مہیب تھا۔ جس سے پوری زندگی باہر نہیں نکل سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ دونوں بوڑھے ہوتے چلے گئے۔ ڈی سوزاء زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔ میاں بیوی میں بات کم ہی ہوتی تھی۔ مئی2011ء میں ڈی سوزا‘ اکیلا کشتی میں بیٹھا تھا ۔ارادہ‘ مچھلیاں پکڑنے کا بالکل نہیں تھا۔ خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہاتھا جس نے اس کے سب سے قیمتی اثاثے کو نگل لیا تھا۔ اچانک نظر‘ ایک پینگوئن پر پڑی‘ جو پانی میں تیرنے کی بجائی خاموشی سے سطح سمندر پر لیٹی ہوئی تھی۔
قریب جانے پر معلوم ہوا کہ کہیں سے تیل کا اخراج ہوا ہے۔ پینگوئن کی بدقسمتی‘ کہ پوری کی پوری ‘ تیل میں بھیگ گئی تھی۔ اس میں تیرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ تقریباً ڈوبنے والی تھی۔ ڈی سوزا‘ نے فوری طور پر پینگوئن کو اٹھایا ۔ اسے گھر لے گیا۔ جمی تیل کی تہہ کو صاف کرنے میں سات آٹھ دن لگ گئے۔ ڈی سوزا ‘ پینگوئن کو تولیے میں لپیٹ کر رکھتا تھا۔ اسے کھانے کے لیے چھوٹی چھوٹی خشک مچھلیاں دیتا رہتا تھا۔ دو ہفتے میں ‘ پینگوئن بالکل صحت مند ہو گئی۔ ڈی سوزا‘ ایک دن کچھ خریدنے کے لیے بازار گیا۔ تو وہ جانور‘ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا‘ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ لوگ حیران رہ گئے کیونکہ کسی نے کبھی بھی ‘ پینگوئن کو انسان کے ساتھ اتنی انسیت رکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دونوں کے اردگرد‘ ایک ہجوم جمع ہو گیا۔
مجمع میں ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی‘ جو حیرت سے پینگوئن کو دیکھ رہی تھی۔ ڈی سوزا سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ ڈی سوزا نے کہا کہ ابھی تک کوئی نام نہیں رکھا۔ بچی نے زور سے کہا کہ اس کا نام ڈن ڈم ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ پینگوئن کا نام‘ یہی پڑ گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تھوڑے عرصے میں یہ نام پوری دنیا میں گونجے گا۔ اسی بھیڑ میں‘ ایک نوجوان ‘ موبائل فون کے کیمرے سے ویڈیو فلم اور تصویر بنا رہا تھا۔ اور انھیں‘ سوشل میڈیا پر لوڈ کر رہا تھا۔
ڈی سوزا کو تو خیر معلوم ہی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا کیا ہے۔ اب آپ اتفاقات کا سلسلہ دیکھے۔ Joao Paulo krajewski نام کے ایک سائنسدان نے ڈی ڈم کی تمام تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ وہ بنیادی طور پر پینگوئنز پر تحقیق کر رہا تھا۔ گلوب ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک تھا۔ پائلو کو یقین ہی نہیںآیا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔ وہ ارجنٹینا میں ایک جزیرے میں تجربے کر رہا تھا جہاں پینگوئن افزائش نسل کے لیے ہر سال آتے تھے۔ اور پھر چند ماہ بعد نامعلوم مقامات پر واپس چلے جاتے تھے۔ پائلو نے ٹی وی کی ایک تجزیاتی ٹیم‘ ڈی سوزا کے گھر بھجوائی ۔ ڈی سوزا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی ٹی وی سے منسلک ٹیم‘ انٹرویو کے لیے اس کے گھر آئے گی۔ حد درجہ گھبرا گیا۔ بیوی کے اسرار پر ٹیم کے سربراہ کو انٹرویو دینے کی حامی بھر لی۔ سارا کچھ بتایا کہ کیسے ڈن ڈم اسے تیل میں بھیگا ہو ا ملا تھا اور کس طر ح اب گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ یہ انٹرویو پوری دنیا کے تمام چینلز پر دیکھا گیا۔
سائنسدانوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین امر تھا کہ پینگوئن جیسا شرمیلا جانور‘ کیونکر ایک انسان کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ تھوڑے دن بعد ڈن ڈم سمندر میں کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ۔ قدرت کا حسن دیکھئے کہ یہ وہی جزیرہ تھا جہاں پائلو تجربات کر رہا تھا ۔ اس کی ٹیم نے پینگوئن کوپہچانا اور اس کے جسم پر ایک ٹیگ لگا دیا ۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ ڈی سوزا کے گھر سے پانچ ہزار کلو میٹر دور تھا ۔ چار ماہ گزرنے کے بعد ڈن ڈم واپس ڈی سوزا کے گھر پہنچ گیا ۔ دنیا کے چوٹی کے سائنسدان اس غریب مزدور کے گھر پہنچے ۔ ٹیگ کے نمبر کو پڑھا اور انھیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی پینگوئن ہے جو پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے واپس آئی ہے۔اب ہوتا یہ تھا کہ ڈن ڈم ‘ ڈی سوزا کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا ۔ جب بھوک لگتی تو ڈی سوزا کو بتاتا کہ اسے کھانے کی ضرورت ہے۔
اسے فوری طور پر خشک چھوٹی چھوٹی مچھلی کھانے کے لیے چاہیں۔ پینگوئن اور انسان کے درمیان یہ رشتہ سائنسدانوں کے لیے ایک عجوبہ بن کر رہ گیا۔ چھ سال گزر گئے ۔ ڈن ڈم چھ مہینے ڈی سوزا کے گھر میں رہتا اور پھر سمندر میں چھ ماہ کے لیے اسی پرانے جزیرے پر پہنچ جاتا جہاں سائنسدان تحقیق کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں پائلو نے ڈن ڈم کو پکڑا اور ایک لیبارٹری میں تجزیئے کے لیے لے جانے کی کوشش کی مگر پینگوئن موقع پا کر جیپ سے باہر نکل گئی ۔ اسے سمندر تک پہنچنے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ حد درجہ مشکل سے وہ سمندر تک پہنچی مگر اس کوشش میں اس کا جسمانی نقصان کافی زیادہ ہوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر برازیل پہنچ جاتا تھا۔ جن دنوں میں اس کی متوقع آمد تھی ۔ اس تمام دورانیہ میں پورا قصبہ اور لاتعداد ٹی وی چینل کیمرے لے کر اس کے آنے کا انتظار کرتے رہے ۔ مگر متعین وقت پر ڈن ڈم گھر نہ پہنچ پائی۔ڈی سوزا سمجھ گیا کہ اس کے دوست کو کوئی حادثہ پیش آ چکا ہے۔ لہٰذا اس نے مچھیروں کے ساتھ مل کر سمندر میں پینگوئن کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔
بڑی مشکل سے ڈن ڈم پانی میں زخمی حالت میں ملا ۔ اس کے تیرنے کی صلاحیت زخموں کی وجہ سے ختم ہو چکی تھی۔ ڈی سوزا اسے گھر لے کر آیا اور اس کا مکمل علاج کیا ۔ پینگوئن بالکل ٹھیک ہو گئی ۔ چند ماہ دونوں دوست اکٹھے رہے ۔ اس کے بعد حسب معمول ڈن ڈم ‘ طویل سفر پر روانہ ہو گئی۔ یہ سلسلہ پورے آٹھ سال چلتا رہا۔ معینہ مدت میں ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر رہنے آ جاتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اس پورے عرصے میں سائنسدانوں کی ٹیم بڑی ریاضت سے تحقیق کرتی رہی کہ ایک پینگوئن کیسے انسان کے ساتھ رہ سکتی ہے۔سی این این نے اس کے اوپر پوری ایک ڈاکومنٹری بنائی ۔ اور وہ بھی پوری دنیا کے سامنے نشر کی گئی ۔ یہ بھی ایک سچ تھا کہ ڈن ڈم ‘ قطعاً ڈی سوزا کی قید میں نہیں رہتی تھی بلکہ گھر کے پیچھے یا صحن میں جس میں کسی قسم کی کوئی دیوار نہیں تھی۔ اس میں ایک مخصوص جگہ پر رہائش گاہ سی بنا رکھی تھی۔ وہ مکمل طور پر آزاد تھی ۔ اس طرح سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گئی کہ جانور اور پرندوں کی آزاد دنیا اور انسانوں میں رابطہ ممکن ہے۔
اس سچی کہانی نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں جانوروں اور پرندوں کو بہت کرختگی سے رکھا جاتا ہے۔ پرندوں کی تو ویسے ہی شامت آئی رہتی ہے ۔ کیونکہ چند لوگ ان کاشکار کر کے اپنی کسی نامعلوم حس کی تسکین کرتے نظر آتے ہیں۔یہی حال جانوروں کا ہے ۔ جن علاقوں میں ہرن ‘ اڑیال اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں۔ وہاں ان کا استحصال مسلسل جاری و ساری رہتا ہے ۔ دراصل ہم انسانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے تو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیا خاک اچھا ہو گا ؟ ہمارے جیسے سماج میں جہا ں انسانوں کے پاس کوئی سنجیدہ حقوق موجود نہیں ہیں ۔ جہاں قتل و غارت کا دور دورہ ہے ۔ جہاں ملک کے پیشتر حصے میں بھاری ہتھیاروں سے حملوں کی روایت موجود ہے ۔ وہاں بے زبان مخلوق کا کیا ذکر کرنا ۔پتہ نہیں کہ مجھے یہ کہنا بھی چاہیے یا نہیں ؟ کہ جو معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے عاری ہے۔ وہاں اس نے اپنے اردگرد دیگرمخلوق سے کیا بہتر برتاؤ کرنا ہو ۔ زبانی جمع خرچ تو خیر بہت ہے ۔ مگر عملاً ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں۔ جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اگر آپ کو اتفاق سے کوئی پرندہ یا جانور مل جائے تو ڈی سوزا کی طرح ڈن ڈم کے ساتھ اچھے سلوک کو یاد ضرور رکھیے گا۔
Today News
پاک افغان کشیدگی اور دہشت گردی کا چیلنج
افغان طالبان نے ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، پاک فوج کے غضب للحق کے تحت آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اب تک 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد کارندے زخمی ہیں، جب کہ متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بناکر تباہ کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سر زمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ برسوں میں اس میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں کھلے عام سرگرم ہیں، تربیتی مراکز چلا رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سفارتی سطح پر مذاکرات، مشترکہ کمیشنوں کے اجلاس اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
افغان حکام کی جانب سے مسلسل انکار یا خاموشی نے نہ صرف شکوک و شبہات کو بڑھایا بلکہ عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ اس وقت ہو جاتی ہے جب وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، معاشی بوجھ برداشت کیا اور عالمی دباؤ کے باوجود ہمسایہ ملک کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس پس منظر میں اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو اسے احسان فراموشی سے کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوستیاں یا دشمنیاں نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں، مگر ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ کم از کم ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جو پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھارت کا کردار اور پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کابل نئی دہلی کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون بڑھاتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، تو یقیناً اسلام آباد اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی یاترا کے موقع پر نیتن یاہو اور مودی کے بیانات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اگرچہ ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے، لیکن علاقائی حساسیتوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جس خطے میں واقع ہے وہاں طاقتوں کی کشمکش پہلے ہی پیچیدہ ہے، کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کا تاثر خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
افغان طالبان نے اگست 2021 میں کابل کا اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں عمومی تاثر یہ تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سرحدی نظم و نسق بہتر ہوگا، دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا اور باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھے گی، لیکن تین برس گزرنے کے بعد حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت کے قیام کے بعد عالمی برادری میں افغانستان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد کا مؤقف تھا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑ دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگا۔ پاکستان نے انسانی امداد، خوراک، ادویات اور سفارتی سطح پر سہولت کاری کے ذریعے ہمسایہ ملک کا ساتھ دیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی پاکستان میں مقیم تھے اور نئی لہر کے خدشات کے باوجود پاکستان نے سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی۔ اس پس منظر میں اسلام آباد کی یہ توقع بجا تھی کہ کابل کی عبوری حکومت پاکستان کی سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لے گی۔تاہم زمینی حقائق نے اس امید کو دھندلا دیا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور حکام کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کیا۔ پاکستان نے متعدد سفارتی رابطوں، پرچم ملاقاتوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے افغان عبوری حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی، مگر اسلام آباد کا شکوہ ہے کہ کابل نے ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ افغانستان خود بھی دہائیوں سے بدامنی اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے، اگر کوئی گروہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے تو اس کے اثرات بالآخر افغانستان کے داخلی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا غیر منطقی نہیں کہ کابل حکومت ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے تناظر میں عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ یہ بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ کشیدگی محض دو ممالک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور سماجی ڈھانچے پرگہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے میں سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت کرنا ریاست کے لیے ممکن نہیں۔
افغان عبوری حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسے داخلی استحکام، معاشی بحران، انسانی حقوق کے سوالات اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے چیلنجز درپیش ہیں، اگر وہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے تو اس کے سفارتی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور زمینی راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا کلیدی ذریعہ بھی۔ دونوں ممالک کی معیشتیں کسی نہ کسی درجے میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے تصادم کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔
عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ سرحد کے آرپار آباد قبائل، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور مذہبی ہم آہنگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دشمنی مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ سرحدی جھڑپوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نقل مکانی، مکانات کی تباہی، کاروبار کی بندش اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل انسانی المیے کو جنم دیتا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور شہریوں کا تحفظ محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔خطے کی بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنی داخلی سلامتی ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اس کے خلاف کابل حکومت کو واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہوگی۔ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی بحالی کے لیے بھی یہ قدم ناگزیر ہے۔ افغانستان کو دہشت گرد عناصر کی سرپرستی سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دینا ہوگا ۔ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہمسائیگی ایک مستقل حقیقت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس حقیقت کو دشمنی کے بجائے تعاون کی بنیاد بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال خطے میں زندگی گزار سکیں۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا