Today News
صدر ٹرمپ نے اختیارات سے تجاوز کیا؛ عالمی ٹیرف کالعدم؛ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ
امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ سنا دیا جن نے عالمی سطح پر کھلبلی مچادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالتِ عظمیٰ نے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال سے نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیرف قانونی بنیادوں پر درست نہیں تھے اور صدر نے انہیں نافذ کرتے وقت اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرنے کے لیے جس اکانومی ایمرجنسی کا سہارا لیا وہ بالکل غلط اور بے بنیاد توجیہہ پر تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ قانون صرف قومی ہنگامی حالات میں مخصوص معاشی اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور اس کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد نہیں کیے جا سکتے۔
امریکی عدالت نے واضح کیا کہ ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس ہے جسے صدر ٹرمپ تن تنہا استعمال نہیں کرسکتے۔
اس فیصلے کے حق میں 6 ججز جب کہ 3 نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اکثریتی فیصلے سے عدم اتفاق کیا۔
خیال رہے کہ فیصلے سے ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے ٹیرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ ٹیرف نہ ہوتے تو سب کچھ دیوالیہ ہو جاتا۔
صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے طویل انتظار پر اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ بطور صدر ان کا یہ حق ہے کہ وہ ٹیرف مقرر کریں۔
تاہم عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
Today News
ٹرمپ کی تعریفیں – ایکسپریس اردو
غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انھوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
امریکا کی دوستی اور امریکی صدر کی پسندیدگی عالمی سفارتکاری میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اسی طرح امریکا جس کے ساتھ ہے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم دونوں کے لیے امریکی صدر کی پسندیدگی پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں اہمیت کو مہر لگاتی ہے۔
ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کوئی پہلی دفعہ اس طرح تعریف نہیں کی ہے، وہ مسلسل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی جہازوں کو گرانے کی توثیق بھی کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ بند کروانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کو ان کے دونوں موقف پسند ہیں۔ پاکستان جنگ بند کروانے اور سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ کو دیتا ہے بلکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت ایٹمی جنگ رکوائی، اس لیے ہم اس جنگ کو رکوانے پر ٹرمپ کو نوبل پرائز کی نامزدگی کی بھی حمائت کر چکے ہیں۔
بھارت کا موقف ہے کہ اس نے امریکی دباؤ میں جنگ بندی نہیں کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی د رخواست پر جنگ بندی کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی کی گئی۔ اس لیے اس وقت ٹرمپ کا اور پاکستان کا موقف ایک ہے، صرف بھارتی جہازوں کی تباہی کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ ٹرمپ ہر بار جہازوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہیں تب ہی تحریک انصاف اور بالخصوص اوور سیز تحریک انصاف میں غم اور صدمہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی جاتی تھی۔ لیکن اب شاید سب تھک گئے ہیں۔اس بار کوئی باقاعدہ احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کے امریکی دوست امریکا کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے امریکی تعلقات کی طاقت سے پاکستان میں اپنی من مانی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کے دوست اس زعم میں مبتلا تھے کہ چند کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس کا ٹوئٹ پاکستان کے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس لیے کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ پر بہت توجہ دی جا رہی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی کانگریس کے ار کان نے تحریک انصاف جوائن کرلی ہے۔ انھیں عمران خان کی رہائی کے لیے ٹوئٹ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب محسن نقوی امریکا گئے تو وہ جس کانگریس رکن سے ملے اس نے ملاقات کے بعد عمران خان کی رہائی کا ٹوئٹ کر دیا۔ تحریک انصاف کے دوست امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس کو ایسے دوبارہ شئیر کرتے تھے کہ جیسے بہت مقدس چیز ہے۔ اس لیے آج ٹرمپ فیلڈ مارشل اور شہبازشریف کی تعریف کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کی شکست بھی ہے۔ انھیں امریکا میں لابنگ کے میدان میں بری شکست ہوئی ہے۔ وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
بھارت بھی پریشان ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ سال بھارت نے امریکا کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت پریشان رکھا ہے۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن آج واضح ہو رہا ہے کہ اس سب کی بنیاد امریکا کی خوشنودی تھی۔
امریکی صدور بھارت کے لمبے لبے دورے کرتے تھے جس سے بھارت کا عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا امیج بن جاتا تھا۔ پاکستان کے خلاف امریکا سے بیانات آتے تھے۔ ڈو مور کا مطالبہ رہتا تھا۔ بھارت ہر وقت پاکستان کو سایڈ لائن کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ وہی امریکا اب پاکستان کے گن گا رہا ہے۔ جو مشکلات پہلے پاکستان کو درپیش تھیں ، وہی مشکلات اب بھارت کو درپیش ہیں۔
ٹرمپ کے بیانات مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بھارت میں ان پر دباؤ ہے کہ وہ ٹرمپ کو جواب دیں۔ لیکن ٹرمپ کے مسلسل گفتگو کا آج تک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مودی نے خاموشی کی پالیسی بنائی ہوئی ہے، وہ ٹرمپ کو جواب نہیں دے رہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارت ٹریڈ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔بھارت ٹریڈ ڈیل اور ٹیرف ڈیل کے دباؤ میں تھا۔ اب وہ ٹیرف ڈیل ہو گئی ہے لیکن بھارت ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ اگر بھارت جیسا ملک اپنے مالی مفادات کے لیے امریکی دباؤ میں ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں پاکستان کے بھی کس قدر امریکا سے مالی مفادات ہونگے۔
Today News
رمضان کے آتے ہی ڈاکٹر عامر لیاقت کی یاد اور تازہ ہوجاتی ہے؛ سابق اہلیہ آبدیدہ
مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال یکم رمضان کو ایک ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئیں اور یادیں تازہ کیں۔
بشریٰ اقبال نے اداکار و میزبان فیصل قریشی کے پروگرام میں ڈاکٹر عامر لیاقت پر تیار کردہ ویڈیو پیکج دیکھتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد وہ کسی بھی رمضان ٹرانسمیشن میں شریک نہیں ہوئیں تاہم کئی برس بعد آج اس پروگرام میں صرف اس لیے آئیں کیونکہ یہاں عامر لیاقت کو بانی اور پیش رو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
بشریٰ اقبال نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈاکٹر عامر لیاقت کے تعلیمی دور سے لے کر کامیابی تک ان کی ساتھی رہیں اور ان کے ساتھ بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ ویڈیو پیکج دیکھتے ہی ساری یادیں ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہو گئیں اور خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔
بشریٰ اقبال نے کہا کہ رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز بھی ڈاکٹر عامر لیاقت نے کیا تھا جو آج ایک کامیاب روایت بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 2022 میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
مبینہ طور پر اس کی وجہ ان کی تیسری اہلیہ تھیں جن سے شادی کے بعد ہی ایک نہایت نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس سے ڈاکٹر صاحب دل برداشتہ تھے۔
عامر لیاقت کی پہلی شادی بشریٰ اقبال سے ہوئی جن سے دو بچے ہیں اور یہ شادی طویل عرصے چلی۔ انھوں دوسری شادی طوبیٰ اور پھر ان سے طلاق کے بعد تیسری شادی دانیہ شاہ سے کی۔
Today News
حکومتی پیشکش کے باوجود دباؤ میں آکرعمران خان سے ملاقات نہ کرنا غلطی ہے، رہنما پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں لیکن جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے لیکن اگر میں ہوتا تو ضرور ان سے ملاقات کرتا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں علیمہ خان کے جذبات کا احساس کرنا چاہیے، وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، ان کی سخت بات بھی ہمیں برداشت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ہمیں اسپیس دینی چاہیے، ہمیں احتیاط سے چلنا ہے کہ بہنوں کی دل آزاری بھی نہ ہو اور بانی کی رہائی بھی ہو، چیف جسٹس نے عمران خان کے حوالے سے 3 چیزوں پر کلیئر ہدایات دیں، چیف جسٹس نے بانی کی صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایات دیں، سپریم کورٹ نے واضح ڈائریکشن دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم از کم بانی پی ٹی آئی سے ذاتی معالج کی ملاقات تو کروا دے، ذاتی معالج تو سیاسی بات نہیں کرتے، فیصل سلطان سے عمران خان کا ایک طویل ساتھ ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں، جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو میں ضرور بانی پی ٹی آئی سے ملنے جاتا، میں ان سے پوچھتا کہ آپ کی صحت کیسی ہے، میں ہوتا تو ان کی صحت کی تصدیق بانی سے جیل میں مل کر کرتا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے فورس بنانے کا اعلان کیا تو میں پارلیمنٹ میں تھا، عمران کی رہائی کے معاملے پر سہیل آفریدی کی سوچ اچھی ہے، وزیر اعلیٰ نے یہ کہا کہ ہم پر امن کوششیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی کہ فورس کی جگہ لفظ رضا کار کر لیں، تجویز دی کہ بانی رہائی فورس کی جگہ بانی رہائی رضا کار کا نام دے دیں، اس سے مخالفین کو کسی تنقید کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
Source link
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims