Today News
صیہونی دسترخوان پر پڑے مسلمان
پاک افغان کشیدگی کی ابتداء سے لکھ رہا ہوں کہ اس جنگ میں ہار افغانستان اور پاکستان کی جب کہ فتح مشرکین اور یہود و ہنود کی ہوگی، عقل کے ترازو پر تول کر یہ اظہر من الشمس ہے یہ جنگ صرف افغانستان اور پاکستان نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے مفاد میں نہیں اور اس سے خیر برآمد نہیں ہوگی، مگر افسوس کہ افغانستان کے حکمرانوں نے حالات کی نزاکت کا ادراک نہیں کیا اور ان کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جو جنگ شروع ہوئی اس کا اختتام سب کے لیے خصوصاً ان کے لیے ہولناک، اندوہناک اوراذیت ناک ہوگا۔ بوجھل دل اور قلم کی وجہ سے پاک افغان جنگ پر جو لکھنا بنتا تھا وہ لکھ نہیں پاتا اور خانہ پری کے لیے لکھنے کی ہمت نہیں تھی مگر امریکی سرپرستی میں ایران پر صہیونی بربریت نے تن بدن میں آگ لگا دی تو قلم اٹھایا۔ امریکی اور اسرائیلی صہیونیوں کے مشترکہ حملوں نے مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کے اضطراب میں کئی گنا اضافہ اور دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے کنارے پر لا کھڑا کردیا، صہیونی درندوں نے 86 سالہ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو سرکردہ شخصیات، اہل خانہ اور تین سالہ کَلی جیسی پوتی سمیت شہید کرکے ناصرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام خصوصاً اس خطے کو آتش فشاں اور بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
آگ اگلتے میزائلوں کے شعلے صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے، ایران صرف اسرائیل پر نہیں متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن، سعودی عرب، ترکیہ اور کویت بھی ڈرون اور میزائل برسا رہا جس نے پورے خطے کی سلامتی اور طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے، مذکورہ ممالک تو حالت جنگ میں ہیں مگر ایران نے امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ سفارتخانوں اور قونصل خانوں پر بھی حملے شروع کردیئے لہٰذا ا ب تو اس خطے کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہا ،ریجن کی فضائی حدود میں کمرشل و نان کمرشل پروازیں مکمل طور پر بند، جنگی طیاروں اور میزائلوں کی گونج نے خوف و غم کا سماں باندھ دیا ہے۔ امریکی بحری بیڑے پر آگ لگی ہے اور لگتا ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو شہدا کے خون میں ڈوب جائیں گے۔
اس وقت آدھا عالم اسلام یہود و نصاریٰ اور ہنود کی مسلط کردہ بلاواسطہ اور بالواسطہ جنگوں کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ فلسطین سے ایران ،ایران سے افعانستان، افعانستان سے پاکستان اور خطے کے تمام اسلامی ممالک میں خونِ مسلم بہایا جا رہا ہے۔ ہم پر ناصرف عالم کفر براہ راست حملہ آور ہے بلکہ انکی سازشوں کا شکار ہو کر مسلمان، مسلمان کا خون بہا رہے ہیں۔ میں نے اپنی 60 سالہ زندگی میں امت پر ایسا کڑا وقت پہلے کبھی دیکھا نہ بزرگوں سے سنا۔
میں تو بحیثیت مسلمان پاکستان، افغانستان، ایران سمیت تمام مسلمان ممالک سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے خلاف تلوار نکالنے کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یعنی احادیت کے آئینے میں دیکھ کر ہوش کے ناخن لیں اور ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر امریکی سرپرستی میں صہیونی یلغار کا مل کر مقابلہ کریں ورنہ دین و دنیا کی بربادی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ امریکی سرپرستی میں صہیونی و مشرکین کی یلغار اور مسلمانوں کی بے بسی دیکھ کر یہ حدیث رولا دیتی ہے۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “قریب ہے کہ عالم کفر تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑے گا جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں”۔ ایک صحابی نے پوچھا “کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟” آپ ﷺ نے فرمایا”نہیں،بلکہ تم اس وقت بہت ہوں گے ، لیکن سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا”پھر پوچھا گیا ” اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے”۔ (ابوداود حدیث نمبر 4297) آج امت مسلمہ پر عالم کفر ایسا ٹوٹ پڑا ہے جیسے بھوکے دسترخوان پر پڑے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بے حس حکمرانوں کی وجہ سے امت مسلمہ کا ہر ملک ان بھوکوں کے لیے تر نوالہ بن چکا ہے۔ یہ بھوکے عراق کو نگل گئے، شام کو کھا گئے، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، لیبیا میں اودھم مچایا، آٹھ دہائیوں سے کشمیر و فلسطین کو بھوکے کتوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ روئے زمین پر موجود 57 اسلامی ممالک اورڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان بے بسی و لاچاری کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور حکمران اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مصلحتوں کا شکار ہیں‘ افسوس کہ پہلے عالم کفر صرف ہمارے ہی وسائل سے ہم پر حملہ آور تھا اور اب ہمیں ایک دوسرے کے ذریعے کاٹ رہے ہیں مگر پوری امت پر سکوت طاری ہے۔ آخر کیوں؟ تاریخ کے جھرکوں میں جھانک کر دیکھا تو نگینوں سے مزین ہال تلواریں تھامے سپاہیوں کے درمیان سونے سے جڑی تخت پر بیٹھے قیصرِ روم کے سامنے بیڑیوں میں جکڑا ایک قیدی نبی رحمت ﷺ کا تربیت یافتہ غلام عبداللہ بن حذیفہؓ کو پیش کیا جاتا ہے۔
قیصر روم نے کہا عیسائیت قبول کرلو، آزادی اور عزت پاؤ گے۔ جواب آیا موت قبول ہے، ایمان کا سودا نہیں۔ نصف سلطنت کی پیشکش ہوئی۔ جواب آیا، اللہ کی قسم پوری سلطنت بھی دے دو تو لمحہ بھر کے لیے بھی دینِ محمد ﷺ سے نہ ہٹوں گا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت کے ایوان لرزے اور ایک قیدی کی استقامت کے سامنے دنگ رہ گیا۔ ابلتے تیل کی دیگ منگوائی گئی اور انکے سامنے دو قیدی جلائے گئے۔ مقصد حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ پر دباؤ ڈالنا اور ڈرانا تھا لیکن رسولِ کریمﷺ کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا عبداللہ بن حذیفہؓ جن کا یقین تھا کہ “آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی (اللہ) کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے”۔ (سورۃ الحدید: آیت2)
وہ کیسے اس دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے عارضی بادشاہ قیصر روم کے ساتھ ایمان کا سودا کرتے؟ دو آدمیوں کو زندہ جلا کر مار دینے سے حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کی آنکھوں میں آنسو آئے تو قیصر روم سمجھے کہ شاید ڈر گئے، پھر اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کی آفر دی گئی، پھر انکار ہوا۔ قیصر نے کہا پھر رو کیوں رہے ہو؟ جواب سن کر دربار ساکت ہوگیا۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ رو اِس لیے رہا ہوں کہ صرف ایک جان ہے، کاش میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں اور سب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔ یہ ہے وہ ایمان جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے”آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوچکے، ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو”۔ (المائدہ: 3)
یہ سن کر قیصرِ روم ان کی بہادری اور جرآت مندی پر بہت حیران ہوا اور کہنے لگا اگر تم میرے سر کا بوسہ لے لو تو میں تمہیں آزاد کردوں گا۔
حضرت ابوحذیفہؓ نے پوچھا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو بھی رہا کردوگے؟ اس نے کہا، ہاں! میں تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردوں گا۔ تو آپؓ اس کے قریب آئے اور اس کے سر کا بوسہ لیا۔ قیصر روم نے حسب وعدہ حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کو تمام مسلمان قیدیوں کے ساتھ رہا کردیا۔ جب یہ لشکر واپس مدینہ پہنچا اورامیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو سیدنا عمر ؓ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے”ہر مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ عبداللہ بن حذیفہؓ کے سر کا بوسہ لے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں جابر و ظالم کے سامنے جبل استقامت بن کھڑے رہنے کی ہماری تاریخ اور ورثہ ہے، آج 57 اسلامی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان وسائل سے مالا مال، طاقتور افواج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے لیس ہیں لیکن نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ہماری حیثیت جھاگ سے زیادہ نہیں، ہمارا کوئی وزن نہیں اسی لیے عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے تر نوالہ ثابت ہورہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہن(دنیا کی محبت اور موت کا ڈر )دلوں میں اتر آیا ہے۔ مفاد پرست حکمران اپنی ناک سے آگے دیکھنے سے معذور اور حق کی قیمت پر بھی مفاد چاہتے ہیں اور موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے وہ انجام نہیں، فنا ہو۔ قرآن کہتا ہے”اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (الرعد: 11)
ہمیں اپنی حالت بدلنا ہوگی تاکہ ہم جھاگ سے سنگلاخ چٹان بن جائیں اور عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے ترنوالے ثابت ہو رہے ہیں۔
Today News
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت
جنگ سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے جینیوا اور پھر عمان میں مذاکرات ہوئے تھے تو عمان کے وزیر خارجہ جو امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان مصالحت کنندہ کا کردار ادا کررہے تھے کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات میں امریکا کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا۔
عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق ایران ایٹم بم کی تیاری کے مراحل کو صفر کی سطح تک لے جانے پر تیار ہوگیا تھا لیکن امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا۔ ان حملوں میں 1989ء سے سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والے آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم رہنما شہید ہوگئے، ان کے علاوہ سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک اسکول کی عمارت میں موجود 46 کے قریب طالبات بھی شامل ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے 19 میل چوڑی آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے خلیجی ممالک میں غذائی بحران پیدا ہوگا۔ خلیجی ممالک کی تیل کی ایکسپورٹ بند ہوجائے گی اور پوری دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوجائے گی جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوگئے ہیں۔
امریکا، ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے پاس اس رجیم کا متبادل سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا ہے۔ سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی معاہدہ ابراہیمی کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت کی مخالف اور بھی کئی ایرانی تنظیمیں ہیں، ان میں تودہ پارٹی اور مجاہدین خلق ہیں لیکن امریکا کے لیے سب سے پسندیدہ رضا پہلوی ہے مگر رضا پہلوی کو ایران کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ مجاہدینِ خلق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم بائیں بازو کے عناصر پر مشتمل ہے اور اپنے لبرل خیالات کے لیے معروف ہے مگر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس تنظیم کی بھی حمایت کررہے ہیں۔ اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے حمایتی گزشتہ برسوں سے ایران کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں۔ تودہ پارٹی کمیونسٹ پارٹی ہے ۔ مجاہدین خلق اور تودہ پارٹی نے شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آیت اللہ خمینی اور ان کی جماعت کی حمایت کی تھی مگر جب انقلابی حکومت قائم ہوگئی تو ان اتحادیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کیا۔ ہزاروں افراد جلاوطن ہوئے۔
ایران کی سرزمین پر یہ کھلی جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب گزشتہ ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی ثالثی سے مذاکرات جاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکا کے ایران پر وسیع فوجی حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو ختم کرنا اور ساتھ ہی ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) ہے۔
ایران نے اسرائیل اور بحرین، قطر، ابوظہبی، کویت، اردن اور سعودی عرب میں میزائل حملے شروع کیے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور عراق میں بغداد کے نزدیک علاقوں پر بھی حملے کیے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی یہ فوجی جارحیت ایک کٹھ پتلی اور آمرانہ حکومت قائم کرنے کی کوشش ہے۔جلاوطن ایرانیوں کا ایک گروپ امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کررہا ہے حالانکہ وہ موجودہ ایرانی رجیم کا بھی مخالف ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ان نازک اور فیصلہ کن لمحات میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ امن کے قیام اور اسرائیل و امریکی سامراج کی اس جارحیت کے خاتمے کے لیے متحد ہوں۔ ایران کی تباہی موجودہ رجیم سے نجات کا راستہ نہیں ہے۔ یہ مقصد صرف عوام کی جدوجہد اور قومی و آزادی پسند قوتوں کی منظم کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔ امریکا کا استعماریت کا نیا کردار ایسا ہی ہے جیسا صنعتی انقلاب کے وقت تھا۔ (18ویں صدی میں برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور یہ صنعتی انقلاب 19ویں صدی میں پایہ تکمیل ہوا۔) برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب مکمل ہونے کے بعد ان ممالک نے اپنے کارخانوں کے مال کی کھپت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنی شروع کیں، اس طرح سرمایہ داری سامراجیت میں تبدیل ہوئی۔
برطانیہ، ہالینڈ، پرتگال، اسپین اور اٹلی وغیرہ نے ایشیائی اور افریقی ممالک پر قبضے کرنے شروع کیے اور اپنی سلطنتوں کو بڑھانے کے لیے ایشیائی اور لاطینی امریکا کے عوام پر بدترین تشدد کے طریقے استعمال کیے۔ ان ممالک میں معدنیات اور خام مال کو سستے داموں خرید کر برطانیہ اور یورپی ممالک کی ملز میں ان سے نئی مصنوعات تیار کر کے دوبارہ ان ممالک کے غریب عوام کو فروخت کیں اور نوآبادیات سے لوٹی ہوئی رقم یورپی ممالک کی ترقی پر خرچ ہوئی۔ سابق سوویت یونین کے قیام کے بعد برطانیہ اور امریکا کے سامراجی کردار میں فرق آیا۔ سابق سوویت یونین کی مدد سے 40 سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے مگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پھر سامراج اپنی بدترین شکل میں سامنے آرہا ہے۔
امریکا نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے پہلے لیبیا اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹا، شام کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اب ایران کی باری ہے اور پھر لاطینی امریکا میں جس حکمران نے آزادانہ فیصلے کیے، امریکا نے ان کو قتل کرا دیا۔ وینز ویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغواء اسی منصوبے کی کڑی ہے۔ روس یوکرین کی جنگ کی بناء پر ایران کی مدد نہیں کرسکتا۔ چین اپنی پالیسی کی بناء پر دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی دے کر انھیں اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے پر اکساتا ہے مگر چین کی پالیسی میں کسی ملک سے جنگ کا ایجنڈا شامل نہیں۔ امریکا کے کردار کو شکست دینے میں آمرانہ حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔
Today News
آبنائے ہرمز، تیل کی درآمد کرب سے دوچار
جدید معاشیات کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ ہم نے ترقی کو چند فی صد جی ڈی پی گروتھ اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں قید کردیا ہے جب کہ حقیقت ان محنت کشوں کے پسینوں اور غریب لوگوں کے سامنے سے غائب ہوتی روٹی میں پنہاں ہے جو غربت کی گھاٹی میں مسلسل گرتے چلے جا رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل بڑھتے ہوئے قرضوں ، سود کی ادائیگی اور مہنگائی، بے روزگاری کی اونچی ترین شرح کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔
ان میں کچھ بیانیے ایک جیسے نظر آتے ہیں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میکرو استحکام کی بات کرتی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹیں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، ایک عجیب قسم کا معاشی استحکام آ رہا ہے جو خوشی لانے کی بجائے ایک چکر میں ڈالتا چلا جا رہا ہے جہاں سے ابھی تک نکل نہیں سکے۔ ہم بحران میں پھنسے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ ملتا ہے وقتی سکون پھر تنزلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہم کسی بھی قسم کے اصلاحات کرنے میں آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، دوسری طرف سے اتنی شرائط کو پورا کرتے کرتے غربت کا بڑھ جانا، مہنگائی کا بڑھتے رہنا، مسلسل بے روزگار رہنے کا عذاب سہتے رہنا، اب غریب عوام کا مقدر بن گیا ہے۔
پاکستان شرح ترقی کے معاملے میں کبھی منفی اورکبھی 2 سے 3 فی صد پر اکتفا کر بیٹھتا ہے جو دراصل لاکھوں افراد کو مسلسل بے روزگار رکھنے کے مترادف ہے، جہاں مسلسل مہنگائی کا عذاب سہنا مقدر بن گیا ہے۔ ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان مسلسل مستقل اور مستقبل کے لیے ایک ایسے خطرناک چکر میں گھوم رہا ہے جہاں آئی ایم ایف اپنے اصلاحی پروگرام، شرائط و ضوابط اور قرض کا جال بچھا کر امید دلاتا ہے، وقتی سکون حاصل ہوتا ہے لیکن پھر وہی بے چینی پھر معیشت کا اسی طرح سے چکر میں گھومتے چلے جانا۔ اس مسئلے کے حل کا سرا اسی وقت ہاتھ میں آئے گا جب ہم ان دیکھی طاقتوں اور دوسروں کے مشوروں کو چھوڑ کر اپنا راستہ خود منتخب کریں گے۔ اب بھی وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں کیونکہ ایک عالمی جنگ ہمارے دہانے پر کھڑی ہے اگرچہ یہ ایران، امریکا کی جنگ ہے لیکن یہاں عالمی سپلائی چین کی شہ رگ ’’آبنائے ہرمز‘‘ پر لٹکتی تلوار کا معاملہ ہے۔
تادم تحریر عملی طور پر یہ راستہ بند نہیں ہوا، لیکن اس کے خدشات کے پیش نظر تیل مہنگا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا کی ضرورت کا 20 تا 25 فی صد تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں ’’برینیٹ کروڈ آئل‘‘ کی قیمت راتوں رات 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اگرچہ اوپیک نے کہا ہے کہ مارکیٹ استحکام کے لیے پیداوار 2 لاکھ بیرل تک بڑھائی جائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے دفتر خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔
پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔ جولائی تا دسمبر 2025 ان 6 ماہ کے دوران مجموعی درآمدی بل 27 ارب 84 کروڑ ڈالر رہا جوکہ گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 6.52 فی صد زیادہ تھا اور ان 6 ماہ کے دوران پٹرولیم گروپ کی درآمدات ایک فی صد اضافے کے ساتھ 8 ارب 8 کروڑ ڈالر رہیں۔ البتہ خام تیل کی مجموعی مقدار میں 16.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے 4.29 ملین ٹن کے مقابلے میں 4.98 ملین ٹن ہو گئی۔ اگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی بات کی جائے تو 6 ماہ کی مجموعی مقدار 52 لاکھ 40 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ایل این جی کی درآمدات میں 1.95 فی صد اور ایل پی جی کی درآمدات میں 54.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اب ان تمام اعداد و شمار اور مزید تازہ ترین اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بڑے پیمانے پر فوری تیل کی درآمد کا انتظام کرنا پڑے گا۔ بصورت دیگر اس وقت ہم ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے سائے میں تیل کی درآمد کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ پاکستانی معیشت کا منظرنامہ ابھی سے لرز رہا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے سائے میں تیل کی درآمد کرب سے دوچار ہے۔
Today News
پیدائش اورموت (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘
یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے
دیر وحرم میں رہنے والو
رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو
پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔
یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے
احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند
پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے
’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘
اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔
ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے
شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند
ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش
ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔
یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ
امور مملکت خویش خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔
جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔
(جاری ہے)
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report