Connect with us

Today News

صیہونی ریاست امریکا کی مدد سے گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے؛ حزب اللہ

Published

on


حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل خطے میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا اس کی مدد کر رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے خصوصی پیغام میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نام نہاد “گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عملدرآمد کی کوشش کر رہی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ اور پڑوسی ممالک جیسے اردن، لبنان، شام اور مصر کے بعض حصوں کو گریٹر اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

نعیم قاسم نے شکوہ کیا کہ سفارتی کوششیں اب تک کوئی مؤثر نتائج نہیں دے سکیں۔ حزب اللہ کے جنگجو اس وقت خطے میں ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسرائیل مسلسل لبنان پر حملے کر رہا ہے اور جنوبی علاقوں میں پیش قدمی کر رہا ہے جس کے لیے صیہونی ریاست کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

British Parliament acknowledges Pakistan’s role in Iran-US talks

Published

on


برطانوی پارلیمںٹ میں ایران امریکا جنگ بندی، امن کیلیے کاوشیں اور ثالثی پر پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا گیا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن محمد افضل خان نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بات کی اور ایوان کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے امریکا ، ایران کے درمیان جنگ بندی، مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، ایسے وقت میں، وزیراعظم سے پوچھتا ہوں کہ برطانوی حکومت پاکستان کی کس طرح سے ساتھ دے رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی جس پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم بتائیں کہ اتحادی ہونے کے ناطے برطانیہ نے امن کیلیے کیے جانے والے اقدامات پر پاکستان کا کتنا ساتھ دیا۔

اس پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میری وزیراعظم شہباز شریف سے آخری بار تین روز قبل بات ہوئی تھی، کوئی شک نہیں مذاکرات اور امن کے حوالے سے پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا جس پر اُن کے شکر گزار ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کے حوالے سے برطانیہ کا تعاون مانگا تھا اور ہم اس عمل میں اُن کے ساتھ ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

جو میرے نصیب میں ہوگا مل کر رہے گا، ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں؛ بابراعظم

Published

on



سابق قومی کپتان اور  معروف بیٹر بابر اعظم نے کہا ہے جو میرے نصیب میں ہوگا، مل کر رہے گا،اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ،کراچی کی  وکٹ روز تبدیل ہوتی ہے،پی ایس ایل 11 کے اگلے میچز میں بھی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔

پیر کو لیگ کے چھٹے میچ میں ملتان سلطانز کو24 رنز سے شکست دے کر پانچویں کامیابی پانے والی پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست ہونے کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

ٹیم پلان پر عمل کرنے سے کامیابیاں مل رہی ہیں ،ذاتی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے کوشاں ہوں ،مسلسل محنت پر بھرپور یقین رکھتا ہوں،  سفیان مقیم سے مستقبل میں بہت امیدیں وابستہ ہیں،توقع ہے کہ وہ  آگے چل کر پاکستان کرکٹ میں اہم کردار ادا کریں گے  ،میری کوشش ہوتی ہے کہ سفیان مقیم سمیت ہر نئے کھلاڑی کو بھرپور اعتماد دوں ،ریڈ بال کرکٹ کھیلنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی وکٹ روزآنہ تبدیل ہو رہی ہے ،ہر روز نئے گیم پلان کے ساتھ میدان میں آنا پڑتا ہے،میچ میں کنڈیشنز کی بہت اہمیت ہوتی ہے ،اگلے تین میچز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر، کراچی کنگز اور لاہور قلندرز جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ کے لیے تیار ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی سفارتی کوششیں اور امن کی امید

Published

on



عالمی سیاست میں ایران اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی اور عدم اعتماد کی کہانی سناتے آئے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد کے دور میں بھی، مشرق وسطیٰ کی سیاست میں دونوں طاقتوں کا مقابلہ مستقل طور پر شدت اختیار کرتا رہا ہے۔

ایران کی جوہری پروگرام، اس کی علاقائی اثرورسوخ کی حکمت عملی، اور امریکا کی مشرق وسطیٰ میں دفاعی و اقتصادی مفادات، ایک پیچیدہ کشمکش پیدا کرتے ہیں۔ عالمی منظرنامے میں یہ صرف دو ملکوں کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ بین الاقوامی توازنِ طاقت، تیل کی منڈیوں، اور عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک حساس مسئلہ بن چکی ہے۔

ہر چھوٹا سیاسی یا فوجی واقعہ عالمی معاشی اور دفاعی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے، اور کسی بھی تصادم کی صورت میں دنیا بھر میں اقتصادی و انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے بیانات اور اقدامات عالمی نگاہوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے دفاعی تیاریوں اور امریکا کی جانب سے فوجی مشقوں اور اقتصادی پابندیوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال میں، نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، ایشیا، اور افریقہ کے ممالک بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں، مہاجرین کی ہجرت، اور بین الاقوامی تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ کسی بھی شکل میں شدت اختیار کرے تو یہ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہے گا، بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل، اور عالمی سیاست کے تانے بانے سب متاثر ہوں گے۔

ایسی پیچیدہ عالمی صورتحال میں ہر اقدام نہایت محتاط ہونا چاہیے، اور بین الاقوامی برادری کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو بڑھنے سے روک کر سفارتی حل نکالا جائے۔ ایران اور امریکا کے تعلقات کی مستقبل کی سمت عالمی امن اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور اس بحران کو سمجھنا ہر سیاستدان، ماہر اقتصادیات، اور عام شہری کے لیے ضروری ہے۔

موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایک بار پھر توجہ حاصل کی ہے۔ ان بیانات میں مایوسی کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے تناظر میں۔ خطے میں ایران، عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدگی کے پیش نظر، ان کے الفاظ اور رویے ایک خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات کا تجزیہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دو بنیادی مقاصد، جو وہ عالمی سطح پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مکمل طور پر پورے نہیں ہو سکے، اور یہی ناکامی ان کے لہجے اور بیان بازی میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان ایران کو پہنچے گا، کیونکہ اس کے علاقے میں اگر کسی قسم کی عسکری کارروائی بڑھتی ہے تو انسانی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے یہ ملک سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

ایران کی معیشت پہلے ہی عالمی پابندیوں اور داخلی چیلنجز کی وجہ سے کمزور ہے، اور کسی بڑی فوجی کشیدگی سے اس کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، عرب ممالک اور اسرائیل پر بھی خطرات بڑھ جائیں گے، کیونکہ خطے میں موجود جغرافیائی اور سیاسی تعلقات کی پیچیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک چھوٹا تنازع بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بیانات میں جو غیر معمولی لہجہ ہے، وہ بہت جذباتی جارحانہ ہے. 

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور الٹی میٹمز نے عالمی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر نمایاں جگہ حاصل کر رکھی ہے۔ 7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف سخت ترین دھمکی دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور الٹی میٹمز کی رفتار نے کشیدگی کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

21 مارچ کو امریکی صدر نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا، ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا امریکی حملے برداشت کرنے کی دھمکی دی۔

23 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے مہلت میں 5 دن کی توسیع کر تے ہوئے ممکنہ مذاکرات کا اشارہ بھی دیا، 26 مارچ کو امریکی صدر نے 10 روز کی نئی ڈیڈ لائن دے دی جو 6 اپریل کو ختم ہونا تھی۔ 4 اپریل کو امریکی صدر نے دوبارہ 48 گھنٹوں کی وارننگ دی اور ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ 5 اپریل کو ٹرمپ نے ڈیڈ لائن کو 7 اپریل تک بڑھا دیا، ساتھ ہی ایران کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

6 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ آخری مہلت ہے اور ایران کو ’ایک رات میں ختم‘ کیا جا سکتا ہے، 7 اپریل کو امریکی صدر نے کہا آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، دنیا اس انتباہ پر کان دھر کر سن رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی توجہ ایران اور امریکا کی جانب مرکوز ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے دو اہم مقاصد: ایک ایران کی عسکری اور اقتصادی طاقت کو محدود کرنا، اور دوسرا خطے میں امریکا کے اثر و رسوخ کو بڑھانا، مکمل طور پر پورے نہیں ہوسکے۔ اس ناکامی نے نہ صرف ان کے بیانات میں بے چینی پیدا کی بلکہ عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ایسے میں ہر نیا بیان، چاہے وہ دھمکی ہو یا انتباہ، ایک عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

اگرچہ امریکی فوج کسی بھی ملک کو عسکری طور پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کے نتائج بہت خطرناک اور غیر متوقع ہوسکتے ہیں۔ عالمی تاریخ میں متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں طاقتور فوجی اقدامات نے وقتی فائدہ تو دیا لیکن طویل المدتی نقصان اور عدم استحکام پیدا کیا۔

ورلڈ وار تھری کی سمت میں بڑھتا ہوا خطرہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ حقیقی امکان ہے، کیونکہ اگر خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوگئی تو اس کا اثر دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور انسانی ڈھانچے پر تباہ کن ہوگا۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت بھی شدید بحران میں جا سکتی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ دنیا کی توانائی کی سب سے بڑی فراہمی کا مرکز ہے اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ستائش رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی کوشش کی ہے اور مختلف مواقع پر سفارتی طور پر کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اپنائی ہے، جو نہ صرف خطے میں دوستانہ تعلقات قائم رکھتی ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ بھی پاکستان کی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے۔

پاکستان کی کوششوں میں مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا، امن مذاکرات کی حمایت کرنا، اور کسی بھی عسکری کارروائی سے بچنے کے لیے سفارتی دائرہ کار استعمال کرنا شامل ہے۔

پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں رنگ لے آئیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے ایران پر بڑے حملے کی ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے کی توسیع کر دی، ایران بھی پاکستان کی تجویز مانتے ہوئے عارضی جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو 2 ہفتوں کےلیے مؤخر کر دیا گیا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی نافذ رہے گی۔
 
وزیراعظم پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتوں کےلیے کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

اگر ہم مستقبل کےلیے اقدامات کی بات کریں تو چند واضح نکات سامنے آتے ہیں:

سب سے پہلے، خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔ ایران، عرب ممالک، اسرائیل اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطے بڑھانے چاہئیں تاکہ غلط فہمیوں اور عسکری ردعمل سے بچا جا سکے۔

دوسرا، عالمی ادارے اور تنظیمیں جیسے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی نگرانی اور امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کریں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ عالمی برادری کو خطے میں توانائی کی سپلائی، انسانی ہمدردی اور اقتصادی استحکام کے نقطہ نظر سے متوازن اور واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

تیسرا، پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مستحکم اور فعال بنانا ہوگا۔ اس میں نہ صرف خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا شامل ہے بلکہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ شفاف اور کھلے مذاکرات کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان کی پوزیشن کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پیش کرنا، کشیدگی کم کرنے اور عالمی برادری کی توجہ کو پرامن حل کی جانب راغب کرنے میں مددگار ہوگا۔

چوتھا، خطے میں انسانی اور اقتصادی نقصان کو کم کرنے کے لیے مشترکہ اقتصادی منصوبے اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ معاشی تعاون اور توانائی کے منصوبے، خاص طور پر وہ جو ایران، عرب ممالک اور پاکستان کو جوڑتے ہیں، خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

آخر میں، عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کے بیانات کو تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور حکومتیں محتاط اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائیں۔ صرف عسکری طاقت پر انحصار کرنے سے عالمی امن قائم نہیں رہتا، بلکہ مستقل سیاسی، اقتصادی اور سفارتی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک سنگین خطرہ ہے، جس میں ایران سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے، عرب ممالک اور اسرائیل بھی براہِ راست خطرے میں ہیں، اور امریکا کے موجودہ صدر ٹرمپ کے بیانات میں جو بے چینی اور مایوسی جھلکتی ہے وہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم پاکستان کی سنجیدہ اور متوازن پالیسی، کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ دنیا کو بھی اس خطے میں پرامن حل کے لیے پاکستانی کردار کو تسلیم اور تعاون کرنا چاہیے تاکہ عالمی جنگ کے خطرات کم سے کم ہوں اور انسانی جانوں و معیشت پر تباہ کن اثرات سے بچا جا سکے۔
 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Trending