Connect with us

Today News

ضرورت پڑنے پر ایران میں اپنی فوج بھی اتار سکتے ہیں؛ ٹرمپ کی نئی دھمکی

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی برّی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی صدور کی طرح قطعی اعلان نہیں کرتے کہ کسی بھی صورت میں برّی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر حال میں برّی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت ہوئی تو اسے خارج از امکان بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف سب سے بڑی شدت کے فضائی حملے ابھی نہیں کیے گئے۔ اصل بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے جو جلد آئے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اب تک کی بڑی لہر ہوگی جس میں بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں ایک اجلاس میں موجود تھے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت کے افراد بھی شامل تھے۔

عرب ممالک کی شمولیت پر حیرت

امریکی صدر نے کہا کہ اس جنگ میں ایک بڑی غیر متوقع پیش رفت یہ رہی کہ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ممالک خود جنگ میں زیادہ سرگرم ہوگئے۔

ٹرمپ کے مطابق ابتدا میں ان عرب ممالک کا کردار محدود رہنے کا امکان تھا، تاہم حملوں کے بعد وہ خود اس تنازع میں شامل ہونے پر اصرار کر رہے ہیں۔

خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟

ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ملک کا اگلا رہنما کون ہوگا۔

البتہ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کی موجودہ قیادت جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اب کافی دیر ہوگی۔ انھیں یہ فیصلہ ایک ہفتے پہلے کرلینا چاہیے تھا۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایک پرانا قصہ – ایکسپریس اردو

Published

on


مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔ اول تو اس کی تھوڑی بہت خاندانی زرعی زمین تھی، اس میں کاشت و برداشت کرنے کا ارادہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اس نے درزی کا کام سیکھا تھا کیونکہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا، گاؤں کی مسجد کا پیش امام جو کسی کوہستانی علاقے کا تھا، فوت ہوگیا تو گاؤں والوں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ امامت کے لیے رضامند نہیں ہوگیا لیکن امامت شروع کرکے بھی وہ اپنی زمین میں کاشت و برداشت خود کرتا تھا۔رمضان کی آمد تھی، دس پندرہ دن رہ گئے تھے کہ اس کے پاس ایک سردار کا بلاوا آگیا۔ سردار گاؤں کے قریب ایک گڑھی کا رہائشی تھا۔ بہت بڑی جائیداد کا مالک اور دولت مند آدمی تھا۔ مولانا خان رشید نے اسے صرف دور سے دیکھا تھا اور سنا تھا کہ اچھا آدمی نہیں ہے، ہر ایسا کام جسے لوگ برا سمجھتے تھے ، وہ دھڑلے سے کرتا تھا۔

اس کے ڈیرے میں ہر وقت کھیل تماشے ہوا کرتے تھے اور بے شمار جرائم پیشہ لوگ اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ پولیس اور سرکار دربار میں بھی اس کی پہنچ تھی اور بڑے لوگوں سے بھی یارانے تھے۔نہ وہ کبھی مسجد آیا تھا اور نہ مولانا خان رشید اس سے کبھی ملا تھا۔ اس طاقتور شخص کے بلانے پر اس کا جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر گیا کہ شاید اس میں کچھ سدھار آگیا ہو۔ وہ جب موصوف کے وسیع و عریض ڈیرے میں پہنچا تو بہت سارے لوگ ڈیرے کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ صفائی کررہے تھے ،کچھ چونا سفیدی اور کچھ رنگین کاغذوں کے پھریرے لگا رہے تھے۔ ڈیرے دار بیچ میں ایک سجے ہوئے پلنگ پر بیٹھا تھا۔آس پاس گاو تکیے تھے۔اس وقت ایک نوکر اسے حقہ پلارہا تھا۔مولانا خان رشید کو دیکھ کر وہ زور سے چلاتے ہوئے بولا،آہاہاہا ’’ملا صیب‘‘ آگئے ہیں ، آؤ آؤ ملا صیب۔مولانا

 اس کے پاس گیا، طاقتور شخصیت نے مصافحے کے لیے صرف ایک ہاتھ بڑھایا، مصافحہ کرتے ہوئے مولانا کو اس سے نہایت ہی ناگوار بدبُو محسوس ہوئی، مولانا نے چادر کے پلو کو ناک پر رکھا۔ وڈیرے نے اپنی پائنتی کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا،بیٹھو ’’ملاصیب‘‘۔ مولانا بیٹھ گیا، بدبُو اور تیز ہوگئی لیکن اس نے اپنی ناگواری کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔آپ نے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا۔’’ہا ں ہاں میں نے اس لیے بلایا تھا کہ روزے پھر آرہے ہیں،ویسے ان روزوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے، ابھی گئے نہیں ہوتے کہ پھر آجاتے ہیں، ٹک سلامالیکم

ہاں رمضان المبارک آنے والا ہے

یہ رمضان اور مبارک کون؟

میں روزوں کی بات کررہا ہوں بہت برکتوں والا مہینہ ہے خان۔ہوگا مجھے برکتوں کی کوئی ضرورت نہیں خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے بس آپ کسی طرح ان روزوں سے چھٹکارا دلا دو۔یہ آپ کیا کہہ رہے روزے فرض ہیں میں کون ہوتا ہوں چھٹکارا دلانے والا۔سنا ہے تم بہت کچھ پڑھ کر آئے ہو۔ مجھے تو ان روزوں سے چھڑاؤ۔دیکھو میں سحری بھی خوب کرتا ہوں اور افطاری کے وقت تو یہاں پوری عید ہوتی ہے لیکن نشئی آدمی ہوں روزے نہیں رکھ سکتا۔روزے تو فرض ہیں خان۔کوئی اس سے معافی نہیں دلاسکتا۔ارے تم ملا لوگوں کے پاس وہ جو کتاب ہوتی ہے اس سے مسئلہ نکالونا۔ کتاب تو قرآن ہے اور اس میں روزے فرض ہیں۔نہیں میں قرآن کی نہیں اس دوسری کتاب کی بات کررہا ہوں دوسری کتاب؟

ہاں وہ جس سے تم ملا لوگ خاص لوگوں کے لیے مسئلے نکالتے ہو۔میں ایسی کسی کتاب کے بارے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میرے داداجی خدا ان کو بارہ جنتیں نصیب کرے۔جنتیں بارہ نہیں آٹھ ہیں۔جتنی بھی ہیں سب ان کو نصیب کرے میرے داداجی کو جب اپنی بیوہ بہو سے شادی کرنے کی خواہش ہوئی تو اس وقت ملا نے اسی کتاب سے مسئلہ نکالا تھا اور میرے باباجی جب اپنی بھانجی سے…۔ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔

ہے ہے ہے تم نئے ہو تم کو پتہ نہیں ہوگا غم نہ کرو جتنے بھی روپے میں ملتی ہو میں دے دوں گا تم وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ اور اس میں سے مسئلہ نکال کر مجھے ان روزوں سے چھٹکارا دلادو ۔میں نے کہا نا کتاب صرف قرآن ہے۔ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر مولانا خان رشید کھڑا ہوگیا۔معافی چاہتا ہوں خان۔اور جانے کو قدم بڑھایا۔ٹھہرو، خان نے کہا پھر زور سے آواز دی منشی۔ آواز پر اندرسے ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا اور خان کے پاس دوڑ کر پہنچا۔جی خان جی۔دس ہزار روپے لاؤ۔منشی نے واسکٹ کی جیب سے بنڈل نکالا۔ملا صیب کو دے دو۔اور بولا۔ ملاصیب یہ پیسے لو اور آج ہی جہاں سے بھی ہو وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ۔مولانا خان رشید نے نوٹوں کے لینے سے انکار کیا۔بولے خان مجھے معاف کرنا کسی اور سے یہ کام کراوئیں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے سنا کہ پاس کے گاؤں کے مولانا نے خان کو روزے معاف کردیے۔

خان رشید اس مولانا کو جانتا تھا کافی عالم فاضل اور نیک آدمی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے؟اس نے سوچا اور سیدھا اس مولانا کے پاس پہنچا۔استاذجی کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اس سردار کو روزے نہ رکھنے کا کہہ دیا؟ ہاں مولانا نے ہنستے ہوئے کہا۔مگر کیسے؟خان رشید حیران تھا۔وہ ایسے کہ اسے کلمہ آتا ہے نہ نماز، دنیا میں ایسا کوئی صغیرہ کبیرہ گناہ نہیں جو وہ نہ کرتا ہو بغیر نکاح کے بیویاں رکھے ہوئے ہے۔اس میں مسلمان ہونے کا عمل ہے کیا، جو میں اس مبارک مہینے کی اس سے توہین کراؤں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کے بادل اور امن کی فاختائیں

Published

on


بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ غزہ کی بربادی میں بھی امریکا کی خاموش امداد کو بڑا دخل تھا۔ وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتا رہا، اسے غزہ پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں بھی اس کا ہاتھ رہا اور اب جب کہ غزہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کے باسی اب خیمہ نشیں ہو چکے ہیں تو امریکا کو ان پر ترس آ گیا ہے اور ان کی تعمیر نو کے لیے اس نے آواز بلند کی ہے۔

یہ تعمیر نو اس طرح ہو گی کہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے اور اس طرح اسرائیلی مملکت کی سرحدوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا تعمیر نو میں یہ بات شامل ہوگی؟ اسرائیل سے حالیہ مقبوضات کو چھڑایا جا سکے اور فلسطین کی واحد ریاستی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اگر یہ نہ ہو سکے تو غزہ کی تعمیر نو اسرائیل کے لیے نئے دسترخوان کی طرح ہوگی۔

غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں روس، چین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبران کی اکثریت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ جو ممالک اس اجلاس میں شریک ہوئے انھوں نے 7 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس بورڈ میں شرکت کا اعلان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان ایک اور صرف ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور وہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا، لیکن اب یہ تو وقت بتائے گا کہ یہ موقف تسلیم بھی کیا جائے گا یا یہ سب باتیں آگے چل کر ہوا ثابت ہوں گی۔

اپنی صدارتی تقریر میں صدر ٹرمپ اپنے کارناموں کی تفصیل پر خود ہی روشنی ڈالتے رہے۔ کہا کہ انھوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں جن میں ایک جنگ ایسی بھی تھی جو سالہا سال سے جاری تھی اور خوں ریزی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہ تھا، میں نے اسے بھی رکوایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو بھی انھوں نے رکوایا۔ اس جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے مگر پاکستانی قیادت نے میرے کہنے پر جنگ سے گریز کیا اور اس طرح دونوں ممالک مزید تباہی سے بچ گئے۔اسی سلسلے میں انھوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف و توصیف بھی کی، جو ان کی طرف سے سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ایک معاملہ فہم انسان ہیں، انسانی اقدار کو سمجھتے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے آشنا ہیں، اس لیے انھوں نے میری جنگ بندی اپیل کو تسلیم کیا اور یوں یہ جنگ صرف تین روز میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔

انھوں نے پاکستانی افواج کے سپہ سالار اعلیٰ کو غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ کہا وہ جرأت مند انسان، بہادر فوجی اور نڈر سپہ سالار ہیں اور ان کی فیلڈ مارشل کی حیثیت میں خدمات لائق تحسین ہیں ان کی جنگی قیادت بہت اہم رہی مگر وہ بھی امن کے شناسا تھے اس لیے انھوں نے بھی میری امن کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ پاکستان کی مدح سرائی کچھ بے معنی نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے قیام امن کی یہ تحریک جو شروع کی ہے یہ دراصل سلامتی کونسل کا کام تھا مگر خود سلامتی کونسل کے ممبران ہی اس تحریک میں ان کے ہم نوا نہیں بن سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر سرسری سا تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کام ان کے کرنے کا تھا تو مگر اب یہ ذمے داری گویا ان کے سر آ پڑی ہے اور وہ اسے نبھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کی فاختائیں اڑائی ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے اور یہ صرف توقع نہیں بلکہ ایران پر لازم کر دیا ہے کہ وہ چند دن کے اندر اندر امریکا سے معاہدہ امن کرے ورنہ۔۔ ۔ ۔اسی طرح انھوں نے حماس سے بھی ’’ توقع‘‘ ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی۔ اور یہ پھینکنا اس طرح ہوگا کہ امریکا کو اطمینان ہوجائے کہ حماس اب ہتھیاروں سے پاک ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی اور اگر پوری نہ ہوئیں تو ان کی ان امن کی کوششوں کا کیا ہوگا جو انھوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے خود اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔

دریں اثنا خود صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے عالمی استحکامی فورس کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اپنی فوج اور پولیس غزہ بھیجیں گے اور مصر اور اردن وہاں متعین فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔ ترکیہ نے بھی بین الاقوامی امن فوج کے لیے اپنی فوج ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ قطر نے قیام امن کے اقدامات کے لیے ایک ارب ڈالرکی امداد دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی نیک خواہشات اور تعاون سے قیام امن تو ممکن ہو سکے گا مگر اہل غزہ کو اس جنگ میں لگنے والے زخم کون مندمل کر سکے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

دہشت گردی کی علانیہ جنگ

Published

on


پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ اور دوسری طرف بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر سامنے کھڑا ہے ۔اسی بنیاد پر حالیہ دنوں میں پاک افغان سطح پر دونوں اطراف سے جنگ اور کشیدگی کا ماحول یا جنگ جاری ہے۔ حالیہ جنگی ماحول دونوں ممالک سمیت خطہ کے لیے نئے خطرناک رجحانات کو جنم دیتا ہے ۔روسی وزارت خارجہ کی ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے23ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں ۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریبا تین ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔اسی طرح القائدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلارہے ہیں ،افغانستان القائدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔القائدہ کے تربیتی مراکز غزنی،لغمان،کنٹر، ہار، نورستان ،پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔ داعش خراسان سمیت دیگر افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاو کے زریعے نام نہاد خلافت کا قیام ہے ۔

بنیادی طور پر اس وقت پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں سخت بداعتمادی کی لہر پائی جاتی ہے ۔حالیہ دنوں میں جس طرح سے دہشت گردوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے علاقوں پر حملے کیے ہیں اور جس انداز میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کھیل کے پیچھے جہاں اس کے سیاسی مقاصد ہیں وہیں یہ کام دہشت گردوں کی بغیر سہولت کاری کے ممکن نہیں ۔اس کا مقصد جہاں پاک افغان تعلقات کو متاثر کرنا ہے وہیں خطہ کی مجموعی صورتحال میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔اس کے لیے بطور ہتھیار افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے ۔لیکن ان معاملات میں افغان طالبان حکومت کا مسلسل پاکستان کی حمایت نہ کرنا یا اس کے تحفظات کو نظرانداز کرکے تحریک طالبان پاکستان کی عملی سرپرستی کی وجہ سے معاملات میں اور زیادہ کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستان نے معاملات کی بہتری کے لیے سعودی عرب، قطر،ترکی ،چین ،روس سمیت امریکا کی جو سفارتی سطح پر مزاکرات کی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی جو کوشش کی اس کے بھی ابھی تک بہتر نتائج نہیں مل سکے ہیں۔پاکستان کی کوشش تھی کہ افغان حکومت تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی ،مگر افغان حکومت نے اس طرز کی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے پاکستان دشمنی پر مبنی تعلقات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی قیمت پر دہلی کی طرف دیکھ رہی ہے اور اس کا مقصد مسلسل ہمیں غیر مستحکم رکھنے کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ایک طرف پاکستان کو اپنے سیاسی دشمنوں کے ساتھ روائتی جنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اب جو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اس میں جدیدیت کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔اسی طرح جب دشمن اکیلاہی نہ ہوبلکہ اس کے ساتھ اس کی معاونت میں پاکستان دشمنی میں بڑے بڑے سہولت کار ہو ں جو ان کی مکمل سرپرستی کررہے ہوں تو جنگ لڑنا اور بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔

اس وقت اگر ہم پاک افغانستان تناظر میں دیکھیں تو ہمیں چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ان میں سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ڈیورنڈ لائن کی متنازع سرحد اور اس کی موثر نگرانی،اب تک صورتحال میں مسلسل ہمارے جوانوں کی شہادتیں،سرحد پار بندشیں، علاقائی اسٹرٹیجک صورتحال میں بڑھتا ہوا تناؤ اور کشیدگی یا بداعتمادی کا ماحول جیسے امور شامل ہیں ۔ یہ بات تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ اس خطہ میں دہشت گردی کی جنگ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر خطہ اور خطہ میں شامل تمام ممالک کا مشترکہ مسئلہ یا ایجنڈا ہونا چاہیے۔اس لیے اس جنگ سے نمٹنے کے لیے تمام علاقائی اور عالمی ممالک اور ان کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے جو اعتماد سازی اور ایک دوسرے پر بھروسہ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ علاقائی ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے اور بالخصوص اس میں اس وقت بھارت اور افغانستان کا مجموعی کردار دوستی سے زیادہ دشمنی پر مبنی نظر آتا ہے ۔

اسی طرح ہمیں اس محاذ پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔بھارت ایک طرف ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتا ہے تو دوسری طرف اس بات کے شواہد بھی ہیں کہ بی ایل اے کو بھی بلوچستان کے تناظر میں بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔یہ جو حال ہی میں پاکستان کی سینیٹ سے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ قرار داد منظور ہوئی ہے اسے بھی اسی تناظر میں جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور وہاں اربوں ڈالر کے جنگی معاہدوں کے امکانات بھی ان کے خطہ میں جنگی عزائم کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان کو اس وقت داخلی سطح کی سیاست میں خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سرحد پار کاروائیوں کا سامنا ہے اور اس پر پاکستان کو عملی طور پر دو محاذی خطرات یعنی بھارت اور افغانستان کی صورت میں موجود ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے وفاقی حکومت اور کے پی حکومت میں اعتماد کا پہلو دیکھنے کو ملا ہے اور وزیر اعظم، وزیر اعلی ملاقات ،اپیکس کمیٹی میں سب کی شرکت کچھ مثبت اشارے ہیں لیکن اس پر مزید سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر کام کرکے اعتماد سازی کے ماحول کو اور زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ حالیہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا بلکہ اس میں زیادہ تدبر اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ٹکراو سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ یہ ہی حکمت عملی ہمیں کسی نہ کسی سطح پر بلوچستان میں بھی اختیار کرنا ہوگی اور اس میں کچھ نئی جہتوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عالمی دنیا یا علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان پر کوئی بڑا دباو ڈالنے میں ناکامی سے دوچار ہیں مسئلہ محض ناکامی کا ہے یا ان کی طرف سے سخت دباو کی پالیسی کے نہ ہونے کا بھی ہے ۔یہ نقطہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اس جنگ سے نمٹنے میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذپر نہ صرف سرگرم اور متحرک ہونا ہوگا بلکہ کچھ غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر سفارت کاری کے محاذ پر اپنا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ہمارے لیے یہ بات زیادہ تشویش کا پہلو ہے کہ ماضی کے مقابلے میں گزرے برس2025میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 34فیصد اضافہ ہوا ہے ۔یہ ہی وہ چیلنج ہے جو مسلسل پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کررہا ہے اور اس کا براہ راست اثر سیاست اور معیشت کے عدم استحکام کی صورت میںسامنے آرہا ہے ۔کیونکہ بنیادی بات ہے جس ریاست میں دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہویا ہمارے سروں پر کھڑی ہوتو وہاں بیرونی سرمایہ کار تو کجا خود ہمارے اپنے سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہونگے ۔ایک طرف معیشت کا بحران اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام یا سیاسی رسہ کشی یا سیاسی کشیدگی یا سیاسی دشمنی کے کھیل نے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں اور زیادہ چیلنجز کو مشکل بنادیا ہے۔اس لیے ہمیں موجودہ دہشت گردی کی صورتحال میں جو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اس کے لیے سیاست اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر غیر معمولی سیاسی ،انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا ۔کیونکہ یہ جنگ ہماری داخلی سلامتی کے لیے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending