Today News
طاقت، مزاحمت اور بدلتا عالمی منظرنامہ
اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملے جاری ہیں، تاہم اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے اس شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ شہادت کے وقت سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے، حملے میں سپریم لیڈر کی بہو، بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوگئے ہیں۔ ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ ملک میں سات روز کے لیے چھٹی کا بھی اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی ردعمل کی صورت میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ بہتر ہوگا ایران ایسا نہ کرے لیکن اگر انھوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘ جب کہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردارکیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پرکھڑی ہے جہاں ایک لمحہ صدیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاست کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی فضا سوگوار ہے، مساجد میں دعائیں اور سڑکوں پر عوامکی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ سانحہ محض ایک سیاسی اور عسکری سانحہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی صدمہ بھی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے اثرات کس حد تک پھیلیں گے اور آنے والا منظرنامہ کیسا ہوگا۔
ایران کی ریاستی ساخت میں سپریم لیڈر محض ایک آئینی منصب نہیں بلکہ نظریاتی محور ہیں۔ 1979 کے انقلاب کے بعد تشکیل پانے والے نظام میں رہبراعلیٰ ہی اقتدار و اختیار کا محور ہے ۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کو ایران کی خود مختاری اور نظریاتی تشخص پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ حملے کے فوراً بعد اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں موجود درجنوں امریکی اڈوں اور اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ اعلان صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو چیلنج کرنے کا پیغام ہے۔
پاسدارانِ انقلاب گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ایسی قوت بن چکے ہیں جو نہ صرف ایران کی سرحدوں کے اندر بلکہ شام، عراق، لبنان اور یمن میں بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ان کی حکمت عملی روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ غیر روایتی، پراکسی اور سائبر محاذوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس لیے موجودہ بحران کو صرف دو ریاستوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے طور پر دیکھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا۔
واشنگٹن میں اس واقعے کو ایک اسٹرٹیجک ضرورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت تنبیہ کی کہ کسی بھی شدید ردعمل کی صورت میں امریکا’’ایسی طاقت ‘‘ استعمال کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ بیان سفارتی توازن سے زیادہ عسکری برتری کے اظہارکی کوشش ہے۔ تاہم امریکی پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ نہ صرف امریکی افواج بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی عوام ایک نئی طویل جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں دکھائی دیتے۔
تل ابیب میں بعض حلقے اسے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کوکمزور کرنے کی پیشگی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے سے نظریاتی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ مزید شدت اختیارکرلیتی ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی تحریک اور عراق میں مختلف ملیشیائیں اس واقعے کو اپنے بیانیے میں شامل کر کے مزاحمت کو نئی توانائی دے سکتی ہیں، اگر یہ تمام محاذ بیک وقت فعال ہوئے تو اسرائیل کو شمال، جنوب اور مشرق سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سطح پر بھی بے چینی عیاں ہے۔
انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور طاقت کا استعمال عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس جاری ہے جہاں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مؤقف سے متصادم ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک ممکنہ طور پر ایران کے حق میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، جب کہ مغربی طاقتیں اسرائیل کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ تقسیم اگر گہری ہوئی تو عالمی نظام ایک نئے سرد محاذ آرائی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
اقتصادی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، اگر ایران نے اس راستے پر دباؤ بڑھایا یا جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ یورپ پہلے ہی توانائی کے بحران کا سامنا کر چکا ہے اور ایشیائی معیشتیں بھی درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی افراطِ زرکو بڑھا سکتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو شدید مالی دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی کساد بازاری کو جنم دے سکتی ہے۔
ایران کی نئی قیادت زیادہ سخت گیر مؤقف اختیار کر سکتی ہے تاکہ داخلی اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔ بیرونی حملے اکثر قوموں میں دفاعی قوم پرستی کو تقویت دیتے ہیں، اور اصلاح پسند آوازیں وقتی طور پر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ تاہم ایران کی نوجوان نسل، جو معاشی مواقع اور عالمی روابط کی خواہاں ہے، مستقبل میں داخلی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
جوہری پروگرام اس بحران کا مرکزی پہلو بن سکتا ہے، اگر ایران یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی سلامتی کی ضمانت صرف مضبوط دفاعی صلاحیت میں ہے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیزکرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں مغرب کے ساتھ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی۔ پابندیاں سخت ہوں گی، سفارتی راستے محدود ہوں گے اور عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی واضح ہو جائے گی۔ یہ صورت حال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے بھی چیلنج ہوگی۔
عوامی سطح پر دنیا بھر میں احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ معاملہ ریاستوں کی حدود سے نکل چکا ہے۔ مسلم دنیا میں اسے مذہبی اور نظریاتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ مغربی معاشروں میں رائے منقسم ہے۔ سوشل میڈیا پر بیانیوں کی جنگ جاری ہے جہاں ہر فریق اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعاتی جنگ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ عوامی رائے سفارتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ممکنہ منظرنامے متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ پہلا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ شدید مگر محدود جھڑپوں کے بعد پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کر دی جائے۔ یورپی یونین یا علاقائی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرا منظرنامہ ایک طویل المدتی کم شدت کی جنگ کا ہے جس میں براہِ راست تصادم کم مگر پراکسی حملے زیادہ ہوں۔ تیسرا اور خطرناک ترین منظرنامہ کھلی علاقائی جنگ ہے جس میں متعدد ممالک براہِ راست شامل ہوں اور عالمی طاقتیں مختلف بلاکس میں تقسیم ہو جائیں۔ ایسی صورت میں عالمی نظام ایک نئے غیر مستحکم دور میں داخل ہوگا۔طویل المدتی طور پر یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے، اگر ایران داخلی طور پر مستحکم رہتا ہے اور اس کے اتحادی منظم رہتے ہیں تو ایک نیا مزاحمتی بلاک مضبوط ہو سکتا ہے، اگر داخلی انتشار بڑھتا ہے تو طاقت کا خلا پیدا ہوگا جسے دیگر قوتیں پُر کرنے کی کوشش کریں گی۔ دونوں صورتوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ایران کیسے آگے بڑھے گا؟ نیا عہد کیسا ہوگا، اس کا انحصار عالمی قیادت کے فیصلوں پر ہے،اور ایران قیادت کے لائحہ عمل پر ہوگا۔ ایرانی قیادت دکھ کی گھڑی سے گزر رہی ہے، ایران میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر جذبات کا بھڑکنا فطری امر ہے۔ عالمی حالات سنگین ہوچکے ہیں۔ امریکا کی قیادت کو ہوش مندی اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جارحیت، دھونس اور دھاندلی کی روش انتقام کو جنم دیتی ہے۔ موجود سنگین حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے تدبر کو ترجیح دی گئی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا، تو شاید اس آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ بصورتِ دیگر یہ شعلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور آنے والی نسلیں اس فیصلے کی قیمت ادا کریں گی۔
Today News
کراچی، کچی شراب سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ناظم آباد نمبر ایک میں مبینہ طور پر کچی شراب پینے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جاوید عالم اوڈھو نے اقلیتی تہوار کے پیش نظر کچی اور زہریلی شراب سمیت دیگر منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت دی ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
Today News
دو غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن بحال کر دیا
کراچی:
دو غیر ملکی ایئرلائنز سلام ایئر اور فلائی ناس نے پاکستان کے لیے اپنا فضائی آپریشن بحال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسقط کی سلام ایئر کی پرواز OV 507 مسافروں کو لے کر سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچی، جبکہ واپسی کی پرواز OV 508 سیالکوٹ سے مسقط کے لیے روانہ بھی ہو گئی ہے۔
اسی طرح مسقط سے کراچی کا فلائٹ آپریشن بھی بحال کر دیا گیا ہے اور مسقط سے کراچی آنے والی پرواز علی الصبح 4 بجے تک جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام ایئر نے مسقط سے پاکستان کے لیے فضائی آپریشن بحیرۂ عرب کے روٹ کے ذریعے شروع کیا ہے۔ تاہم تاحال سلام ایئر کا ایران، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے فضائی آپریشن معطل ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی نجی ایئرلائن فلائی ناس نے بھی پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بحال کر دی ہیں۔
فلائی ناس کی پرواز 315 سعودی دارالحکومت ریاض سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی اور بحیرۂ عرب کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔
Today News
سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی داستان
پہلے امریکا نے رواں برس کے طلوع ہوتے ہی وینزویلا کے صدر ( مادورو) اور اُن کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرکے امریکا پہنچا دیا ۔ ساری دُنیا امریکی سامراجیت اور امریکی زیادتی و ظلم پر ششدر رہ گئی تھی۔ دُنیا اور اقوامِ متحدہ مگر خاموش رہنے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے۔ واقعہ یہ ہے کہ رُوس ، امریکا اور اسرائیل نے مل کر دُنیا میں من پسند قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔ یہ تینوں بے لگام طاقتیں جب چاہتی ہیں ، دُنیا کے کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتی ہیں ۔
یہ طاقتیں اب تک صدر صدام حسین اور کرنل قذافی کو سزائے موت بھی دے چکی ہیں ۔ اور اقوامِ متحدہ ہر بار ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بن کر رہ جاتا ہے ۔پچھلے دو برس سے رُوس اپنے ہمسائے ، یوکرین ، پر ناجائز یلغار کیے بیٹھا ہے۔ اِس دوران ہزاروں یوکرینی شہری اور فوجی موت کے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں ۔ رُوس کا بھی کم نقصان نہیں ہُوا ہے ۔ پچھلے دو برس کے دوران صہیونی اسرائیل نے کمزور اور ناتواں ’’غزہ‘‘ کے بیگناہ مسلمانوں کا 80ہزارکی تعداد میں جو بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام کیا ہے ، اِس پر بھی طاقتور دُنیا اور اقوامِ متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اِسی عرصے میں بھارت نے بھی (مئی 2025 میں) پاکستان پر یلغار کرنے کی جسارت تو کی مگر افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت، شکست اور ذلّت اُٹھا کر بھاگ اُٹھا ۔ بھارت پچھلے چند برسوں سے BLAاور TTPکی شکلوں میں پاکستان کے خلاف جو خونریز پراکسی جنگ لڑ رہا ہے ،یہ دراصل بھارت ، افغان طالبان اور صہیونی اسرائیل کے باہمی گڑھ جوڑ کی شرمناک داستان ہے ۔اور اِس امر کا ثبوت بھی کہ یہ تینوں عناصر درحقیقت ’’حزب الشیطان‘‘ کی عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ احسان ناشناس افغان طالبان رجیم نے ایک ہفتہ قبل پاکستان کے نصف درجن سرحدی علاقوں پر ، بِلا اشتعال ، جس شرمناک جارحیت کا اقدام کیا ہے، یہ بھی ساری دُنیا نے ملاحظہ کر لیا ہے۔
یہ جارحیت بھی’’حزب الشیطان‘‘ کی کارستانی کہی گئی ہے۔ افواجِ پاکستان نے ترنت ، پلٹ کر جس عزم اور طاقت سے بے مہار اور احسان فراموش افغان طالبان کو دندان شکن جواب دیا ہے ، مثالی بھی ہے اور طالبان رجیم کے لیے عبرتناک بھی ۔ بھارت کی پراکسی افغان طالبان، کے خلاف یہ سطور لکھتے وقت بھی بھرپور کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بھارتی پراکسی ( افغان مقتدر مُلّا طالبان) نے پاکستان کے خلاف تازہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہُوئے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی بھی پروا اور حیا نہیں کی ۔
رمضان شریف ہی کے دوران صہیونی اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا (گویا طالبانی، بھارتی اور اسرائیلی ذہنیت یکساں ہے ) ُپہلے یہ خبر آئی کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے۔ پھر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے خبر جاری کی کہ ’’نہیں ، ایران پر یہ حملہ امریکا نے کیا ہے ۔‘‘اور پھر یہ خبریں منصہ شہود پر آئیں کہ اسرائیل اور امریکا ، دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے بھی ، حسبِ وعدہ، پلٹ کر، ردِ عمل میں ، اور اپنے حقِ دفاع میں ، اسرائیل پر حملے کیے ہیں ۔ یہ جوابی حملے اب بھی جاری ہیں اور اسرائیل کو خاصا نقصان پہنچا چکے ہیں ۔ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو بھی ہدف بنایا ہے ۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کے500سے زائد مقامات کو اپنے خونریز حملوںکا نشانہ بنایا ہے ۔
مغربی ایشیا تا جنوبی ایشیا ، اور مشرقِ وسطیٰ و خلیجی ممالک سے لے کر مغرب میں یوکرائن تک پھیلا آگ و خون کا یہ تازہ افسوسناک سلسلہ کیا تیسری جنگِ عظیم کا آغاز کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تیسری جنگِ عظیم کسے کہا جائے گا؟ جب ساری دُنیا خس و خاشاک کا سلگتا ڈھیر بن جا ئے گی؟ اب اس المناک خبر کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ ’’ ایرانی سپریم لیڈر ، جناب آیت اللہ خامنہ ای اب اِس دُنیا میں نہیں رہے ۔‘‘ یہ دردناک خبر ساری دُنیا کا میڈیا بھی نشر کررہا ہے ، مگر ہمیں ہنوذ یقین نہیں آرہا لیکن کیا کریں ، حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایرانی حکام نے بھی اپنے سپیریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کردی ہے اور یہ بھی خبریں ہیں کہ ایت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اُن کی فیملی کے کئی قریبی ساتھی اور ایرانی فوج کے افسر بھی شہادت کے مرتنے پر فائز ہو چکے ہیں۔ ایرانی و عراقی مقدس مقامات سرخ روشنیوں ( شہادت کی نشانی) میں نہا چکے ہیں ۔ایسا عظیم نقصان تو دوسری جنگِ عظیم میں بھی کسی دشمن کا نہیں ہُوا تھا ۔ کیا اسرائیل اور امریکا اور ان کے اتحادی رَل مل کر کامیاب و کامران رہے ہیں؟ ایران پھر بھی سامراج امریکا و صہیونی اسرائیل اور عالمی قوت کے سامنے کامل سرنڈر کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ یہ اقدام اس کے قومی سطح پر اولوالعزم ہونے کا نشان ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ایران پر اسرائیل و امریکی حملے نے پوری دنیا بالخصوص عالمِ اسلام کو ایک نئے پریشان کن اور سخت آزمائشی دَور میں داخل کر دیا ہے۔ایران مخالف سارے فریق اور پارٹیاں یکجا ہو چکی ہیں ۔
احسان فراموش افغان طالبان بھی اِس اتحاد کا ایک فعال رکن بن کر اسلامی جمہوریہ پاکستان پر، کئی رُخوں ، سے حملہ آور ہُوا ہے ۔ پاکستان پر طالبان رجیم نے ہلّہ بول کر اپنی ہی کمزوریوں اور بزدلیوں کو عیاں کیا ہے ۔ اب ساری دُنیا میں انتہاپسند افغان طالبان رسوا ہور ہے ہیں ۔ پاکستان کی جری افواجِ کے ہاتھوں 300 سے زائد دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات بھی اِن جہنمیوں کی عبرتناک اموات کی تصدیق کر چکے ہیں ۔ اگرچہ شیطانوں کا مقابلہ کرتے ہُوئے ہمارے درجن بھر جوانوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیے ہیں ۔وطن پر قربان ہونے والے ہمارے اِن جوانوں اور افسروں کو ہمارا محبت و احترام بھرا سلام و سیلوٹ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی سیلوٹ ، جن کی پُر عزم قیادت میں ’’حزب الشیطان‘‘ کو عبرتناک سبق سکھایا گیا ہے ۔ فیلڈ مارشل صاحب کی شاندار فوجی قیادت میں پچھلے برس یہ سبق بھارت کو بھی سکھایا گیا تھا۔ اب طالبان، کو بھی یہ سبق سکھا دیا گیا ہے ۔ اب خود ہی طالبان سیز فائر کا اعلان کر بھی رہے ہیں اور پاکستان سے بھی سیز فائر کی درخواستیں کررہے ہیں ۔ پاکستان نے مگر بجا طور پر اِن احسان فراموشوں کو گھر تک پہنچانے کا عہد کررکھا ہے۔ جارح اور احسان فراموش طالبان اب اپنے جلی و خفی دوستوں اور سرپرستوں کی جانب بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئی مگر اُن کے وعدوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ طالبان کی وعدہ شکنیاں ایک ثابت شدہ کہانی ہے ۔
اِسی دوران ہمارے وزیر دفاعِ خواجہ محمد آصف، کا طالبان عبوری وزیر داخلہ ( سراج الدین حقانی) کے نام ایک ٹوئٹر پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اِس پیغام میں طالبان اور حقانیوں کی کہہ مکرنیاں ، احسان فراموشیاں اور دغا بازیاں بیان کر دی گئی ہیں۔ خواجہ صاحب موصوف نے سراج الدین حقانی کو یہ کہا ہے کہ ’’ پاکستان نے تمہاری دو تین نسلوں کو پالا پوسا، تم پر احسانات کیے، ہم سے جب تمہاری لوکیشن بارے پوچھا گیا تھا تو ہم نے لوکیشن نہ بتا کر تمہاری جان بچائی۔ اور اب تم بھی ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر پاکستان اور پاکستانیوں کے درپے ہو ؟‘‘خواجہ صاحب نے کابل و قندھار پر قابض قبضہ گیر ٹولے ، طالبان، کے سنگی ساتھی، سراج الدین حقانی، کے پاکستان سے پیسے مانگنے کی داستان بھی بیان کر دی ہے۔ یہ کہانی روپے پیسے کے لالچی اور بلیک میلر طالبان کی داستان بھی بیان کرتی ہے ۔ یہ افغان طالبان کے سیاہ چہروں اور سیاہ کرتوتوں کی بھی ناقابلِ فراموش کہانی ہے ۔ شرم مگر طالبان کو نہیں آتی ۔ شائد کبھی آئے گی بھی نہیں ۔ یہ تو بھارت سے متنوع بھیک مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا