Today News
عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔
اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔
امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔
یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔
اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔
غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔
ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔
یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔
حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔
عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔
جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔
آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔
ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔
یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔
ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔
Today News
طبقاتی دیواریں – ایکسپریس اردو
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ کو اگرگہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ صرف فتوحات، ایجادات یا عظیم الشان عمارتوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ ان طبقاتی دیواروں کا نوحہ بھی ہے جو صدیوں سے معاشروں کو دو متوازی دنیاؤں میں تقسیم کیے ہوئے ہیں۔
ایک وہ دنیا ہے جو سطح پر نظر آتی ہے جہاں روشنی،آسائش، نفیس گفتگو کے آداب اور اقتدارکی چکا چوند ہے۔ جب کہ دوسری وہ دنیا ہے جو بنیادوں میں دبی ہوئی ہے، جہاں اندھیرا، حبس، پسینہ اور بقا کی ایک لامتناہی جنگ جاری رہتی ہے۔
یہی وہ دنیا ہے جس کی محنت اور قربانیوں پر اوپرکی دنیا کی شان و شوکت قائم ہوتی ہے، مگر اس کا ذکر تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتا ہے۔
یہ تقسیم محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچے سمجھے استحصالی ڈھانچے کا حصہ ہے جو انسانیت کو حکمران اور محکوم کے خانوں میں بانٹ کر ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ ہر دور میں طاقت اور وسائل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہے ہیں، جب کہ اکثریت محنت اور جدوجہد کے باوجود بنیادی ضروریات کے لیے ترستی رہی ہے۔
اس طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صرف معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ نچلے طبقے کو اپنی حالت کو فطری اور ناگزیر سمجھنے پر مجبورکیا جا سکے۔
اشرافیہ یا بالادست طبقے کی نفسیات کا سب سے بڑا المیہ وہ کیفیت ہے جسے ’’ ارادی غفلت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جب یہ طبقہ اقتدار اور وسائل کی پرتعیش میز پر بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتا ہے تو وہ ان لاکھوں ہاتھوں کو فراموش کردیتا ہے جنھوں نے اس میزکو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوتا ہے۔
ان کے نزدیک ان کی آسائش اور رتبہ محض ان کی ذہانت، قابلیت یا پیدائشی حق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کہ ان کی ہرکامیابی کے پیچھے ایک ایسا انسانی نظام کار فرما ہے جو نچلے طبقات کی انتھک محنت اور قربانیوں پر قائم ہے۔
یہ نفسیاتی لاتعلقی دراصل ایک دفاعی میکانزم ہے جو بالادست طبقے کے ضمیر کو بے چین ہونے سے بچاتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس مشقت اور دکھ کو تسلیم کر لیں جو ان کے طرزِ زندگی کی بنیاد ہے تو ان کا سکون غارت ہو جائے گا۔
اسی لیے معاشرتی نظام کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ طبقات کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے، جہاں ہمدردی اور احساسِ ذمے داری کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ اوپر بیٹھا ہوا طبقہ صرف منافع اور ترقی کے اعداد وشمار دیکھتا ہے، مگر اس انسانی قیمت کا حساب نہیں رکھتا جو ان اعداد و شمار کے پیچھے ادا کی جاتی ہے۔
معاشی ناانصافی اسی استحصال کی بنیادی جڑ ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بظاہر مواقع کی برابری کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عملی طور پر یہ برابری بہت حد تک ایک فریب ثابت ہوتی ہے۔
نچلے طبقے کے افراد کو اکثر ایسی اجرت دی جاتی ہے جو صرف ان کی بقا کے لیے کافی ہوتی ہے، جب کہ ان کی محنت سے پیدا ہونے والی زائد قدر طاقتور طبقات کی دولت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اس طرح غربت صرف ایک وقتی حالت نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا چکر بن جاتی ہے جو نسل در نسل جاری رہتا ہے۔
غریب کی اولاد اکثر وہی محدود مواقع حاصل کر پاتی ہے، جو اس کے والدین کو ملے تھے، جب کہ امیر طبقے کی اولاد کو تعلیم، وسائل اور سماجی روابط کی وہ سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو انھیں زندگی کی دوڑ میں بہت آگے لے جاتی ہیں۔
یوں معاشرے میں ایک ایسا غیر مرئی مگر طاقتور نظام قائم ہو جاتا ہے جس میں دولت اور طاقت ایک ہی دائرے میں گردش کرتی رہتی ہیں، جب کہ محروم طبقات اس دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔
معاشرتی انصاف کے فقدان نے اس خلیج کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ریاستی پالیسیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔
تعلیم اور صحت کے دہرے نظام اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ ایک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں عالمی معیارکی سہولتیں موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف ایسے سرکاری ادارے ہیں جہاں بنیادی وسائل تک کی کمی ہوتی ہے۔
اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی ایک واضح تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ امیر افراد مہنگے نجی اسپتالوں میں بہترین علاج حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ غریب افراد سرکاری اسپتالوں کی طویل قطاروں اور محدود سہولتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
جب معاشرے میں بنیادی خدمات تک رسائی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی وقار اور مساوات کے اصولوں کی کھلی نفی بن جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں نچلے طبقے کی ڈی ہیومنائزیشن یعنی انسانیت سے محرومی سب سے ہولناک پہلو ہے۔ جب انسان کو ایک جیتا جاگتا وجود سمجھنے کے بجائے محض ایک اقتصادی اکائی یا مشین کے پرزے کے طور پر دیکھا جانے لگے تو معاشرتی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔
مزدوروں اور ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص اہداف پورے کریں، اپنی تھکن یا مشکلات کا ذکر نہ کریں اور مسلسل پیداواری عمل کا حصہ بنے رہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں بھی محدود ہو جاتی ہیں۔
جدید کارپوریٹ کلچر بھی اسی قدیم طبقاتی نظام کا ایک مہذب اور سفید پوش روپ معلوم ہوتا ہے۔ چمکتے ہوئے شیشے کے بلند و بالا دفاتر بظاہر ترقی اور کامیابی کی علامت ہیں، مگر ان کے پیچھے لاکھوں کارکنوں کی محنت، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پوشیدہ ہوتی ہے۔
آج کا ملازم بظاہر آزاد دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ معاشی ضرورتوں کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
ڈیجیٹل دور نے اس نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان حد فاصل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت دستیاب رہیں، ای میلز اور پیغامات کا فوری جواب دیں اور مسلسل کارکردگی دکھاتے رہیں۔ یہ ایک ایسی جدید غلامی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں زنجیریں نظر نہیں آتیں مگر انسان کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جب معاشروں میں عدم مساوات حد سے بڑھ جاتی ہے تو سماجی اور سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔ جب اوپر اور نیچے کی دنیاؤں کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے تو نظام کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔
تاریخ کے کئی بڑے انقلابات دراصل اسی عدم توازن کا نتیجہ تھے، جہاں محروم طبقات نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور پورے نظام کو چیلنج کیا۔
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مستحکم نہیں رہ سکتا جب تک اس کے تمام طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل نہ ہوں۔
حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف چند لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا دے، بلکہ وہ ہے جو معاشرے کے پسماندہ ترین افراد کی زندگیوں میں بھی بہتری لائے۔ جب معاشی، سماجی اور تعلیمی مواقع سب کے لیے یکساں ہوں تو ہی ایک متوازن اور پائیدار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
انسانی تہذیب کی بقا کا دارومدار اسی توازن پر ہے، اگر طاقت اور وسائل مسلسل ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رہیں گے تو معاشرتی ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوتا جائے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب نچلے طبقے کی برداشت ختم ہو جاتی ہے تو وہی طبقہ جو صدیوں تک نظام کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے، اسی نظام کو ہلا دینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے ایک منصفانہ اور مساوی معاشرہ محض اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی بنیادی شرط بھی ہے۔
Today News
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:
کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان تین علیحدہ علیحدہ مبینہ مقابلوں کے دوران 5 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پہلا مقابلہ جمشید کوارٹرز تھانے کی حدود میں کشمیر روڈ کٹ کے قریب پیش آیا جہاں گشت پر موجود پولیس ٹیم کا مشتبہ ڈاکوؤں سے آمنا سامنا ہوگیا۔
اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت عامر زیب عرف شینا ولد گل زیب خان کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا گیا جبکہ اس کے زیر استعمال موٹرسائیکل کو بھی ضابطے کے تحت تحویل میں لے لیا گیا۔
زخمی ملزم کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔
دوسرا مبینہ پولیس مقابلہ لیاقت آباد کے علاقے تین ہٹی ندی کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت حنین اور حارث کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تیسرا مقابلہ گلشن اقبال عزیز بھٹی پارک کے قریب ہوا جہاں مبینہ طور پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 2 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
Today News
پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اولین ترجیح، وزیر خزانہ
اسلام آباد:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ ممکنہ حد تک کم رکھنا ہے۔
اپنی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگران کمیٹی کے وڈیو لنک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم سپلائی مستحکم ہے، اس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ہے۔
اجلاس میں علاقائی کشیدگی اور عالمی نرخوں میں اتار چڑھائو کا تفصیلی جائزہ، ملکی ذخائر، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ کارگوز کی بروقت آمد، ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے اور بلا تعطل سپلائی چین کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم، وزیرِ قومی غذائی تحفظ ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، گورنرسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper