Connect with us

Today News

عراق؛ امریکا سفارت خانے اور متحدہ عرب امارات کے قونصلیٹ پر فضائی حملے

Published

on


عراق میں متحدہ عرب امارات اور امریکی سفارتخانوں کی عمارتوں پر میزائل حملے کیے گئے جس سے آگ بھڑک اُٹھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد کمپاؤنڈ سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ یہ سفارت خانہ بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں واقع ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک میزائل سفارتخانے کے احاطے میں موجود ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ کے قریب آ کر گرا جس کے نتیجے میں عمارت کے اندر دھواں اٹھتا نظر آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ڈرون حملہ تھا۔ حملے کی نوعیت کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔

ادھرعراقی کردستان میں متحدہ عمارت کے قونصل خانے پر بھی ایک ہفتے میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے جس میں 2 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

اماراتی  وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی مشنز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف خطرناک اشتعال انگیزی ہیں بلکہ یہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور حملے کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پڑوسی ممالک اپنی سرزمین سے امریکی فوجیوں کو نکال دیں؛ ایران کا مطالبہ

Published

on


امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس پر پڑوسی ممالک نے شکوہ بھی کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان مشرق وسطیٰ کے ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یہی مطالبہ دہراتے ہوئے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے امریکی فوج کو فوری طور پر نکال دیں۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے برادر ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کو اپنے علاقوں میں موجودگی کی اجازت نہ دیں، خاص طور پر اس وقت جب ان کا بنیادی مقصد صرف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جوابی حملوں کے تناظر میں اب وقت آ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک غیر ملکی جارح قوتوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا نام نہاد سکیورٹی امبریلا ناکام ثابت ہوچکا ہے جو خطے میں امن قائم رکھنے کے بجائے مزید مسائل کو دعوت دے رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اب خود آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دوسرے ممالک حتیٰ کہ چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی حکمت عملی خطے میں استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

اسرائیلی حملے میں پورا خاندان اجڑ گیا؛ لبنانی شخص نے امریکی یہودی عبادت گاہ پر حملہ کردیا

Published

on


امریکی ریاست مشی گن میں واقع ایک بڑی یہودی عبادت گاہ پر کار سوار نے فائرنگ کے بعد حملہ آور نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی شناخت ایمن محمد غزالی کے نام سے ہوئی ہے جو لبنانی نژاد امریکی شہری تھا۔

41 سالہ حملہ آور نے ڈیٹرائٹ کے نواحی علاقے ویسٹ بلوم فیلڈ ٹاؤن شپ میں واقع ٹیمپل اسرائیل نامی عبادت گاہ کے باہر تقریباً دو گھنٹے تک گاڑی میں انتظار کیا۔

بعد ازاں حملہ آور نے اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور عمارت پر دے ماری جس میں آتش گیر مواد اور آتش بازی کا سامان بھی موجود تھا۔

کار عمارت سے ٹکرانے کے بعد حملہ آور نے گاڑی کے اندر سے فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد عبادت گاہ کے مسلح سیکیورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

ایف بی آئی حکام نے بتایا کہ حملہ آور کی گاڑی یہودی عبادت گاہ کی عمارت کے اندر پھنس گئی اور انجن میں آگ لگ گئی جس کے بعد اس نے گرفتاری دینے کے بجائے خود کو گولی مار لی۔

حکام کے مطابق واقعے کے وقت عبادت گاہ کے اندر 140 بچے، اساتذہ اور عملہ موجود تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک سیکیورٹی گارڈ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا جبکہ دھوئیں کے باعث 63 پولیس اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ حملے کو یہودی کمیونٹی کے خلاف تشدد قرار دیا گیا ہے تاہم فی الحال اسے باقاعدہ دہشت گردی قرار دینے کے لیے شواہد ناکافی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

حملہ آور کون تھا

حکام کے مطابق ایمن غزالی 2011 میں لبنان سے امریکا منتقل ہوئے اور ڈیئربورن ہائٹس میں رہتا تھا۔ 2016 میں امریکی شہریت ملی تھی۔

حملے سے ایک ہفتہ قبل لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے خاندان کے چار جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اس کے دو بھائی بھی شامل تھے۔

لبنان کے مقامی میڈیا کے مطابق ایمن محمد غزالی کے بھائیوں کا تعلق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

​گورنر کی تبدیلی، استعفیٰ دے کر ریکارڈ خراب نہیں کریں گے، خالد مقبول صدیقی

Published

on



متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران شریک تھے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی اسطرح خدمت کی تاریخ ہماری سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایمرجنسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے بعد یہاں کسی نئی جامعہ کی بنیاد نہ رکھنا اس شہر کے مستقبل سے دشمنی ہے، مردم شماری اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2023ء کی مردم شماری میں پہلے 30 لاکھ آبادی کم کی گئی اور پھر ہماری جدوجہد سے 70 لاکھ لوگ بڑھا دیے گئے۔

گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں۔

انہوں نے گورنر کی تبدیلی پر وفاق سے علیحدگی یا وزارتیں چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ہماری روایت رہی ہے ہر بار استعفیٰ دیتے ہیں مگر اس بار اپنا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔

خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا یہ پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ ان سفید پوشوں کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے جو اس شہر کا فخر ہیں اور لینے والے ہاتھ نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ ہیں، ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک ہم موجود ہیں اس شہر کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔



Source link

Continue Reading

Trending